” جہان میں آگ لگنے کا ڈر ہے “
Al-Risala, August 1983, pp. 22–24
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ سن کر میں سمجھا کہ شاید کوئی بات گڑ بڑ ہوگئی ہے اور ہوائی جہاز میں آگ لگنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ میں دل ہی دل میں دعا کرنے لگا ۔ مگر دریافت کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ اصل بات یہ تھی کہ میں نے پورا اعلان نہیں سنا ۔ پورا اعلان یہ تھا :
ٹائلٹ میں سموکنگ نہ کریں ۔ اس سے جہان میں آگ لگنے کا ڈر ہے ۔
ہمارے سماج میں پچاس فی صد سے زیادہ باتیں اسی قسم کی ادھوری معلومات کی بنا پر ہوتی ہیں ۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو رائے قائم کرنے سے پہلے تحقیق کی ضرورت محسوس کرتے ہوں ۔ انجمن خدام القرآن (لاہور) ایک خالص غیر سیاسی ادارہ ہے جو ہر سال محاضرات قرآنی (قرآنی سیمنار) کے نام سے لاہور میں اجتماع کرتا ہے ، اس میں ملک اور بیرون ملک کے علماء اور دانشور قرآن کے مختلف پہلوؤں پر مقالات پیش کرتے ہیں ۔
سال رواں میں انجمن خدام القرآن کا یہ اجتماع یکم اپریل تا ۵ اپریل ۱۹۸۳ء منعقد ہوا۔
اس اجتماع میں شرکت کے لئے میرے نام دعوت نامہ آیا تھا۔ انجمن نے اپنے اعلانات میں میرا نام بھی شائع کر دیا تھا۔ مگر افسوس کہ میں اس اجتماع میں شریک نہ ہو سکا۔ میں نے ۲ مارچ ۱۹۸۳ کو نئی دہلی کے پاکستانی سفارت خانہ میں درخواست دی تھی مگر پاکستان کی ’’اسلامی حکومت‘‘ نے مجھے ویزا نہیں دیا۔
عجیب بات یہ ہے کہ مارچ کے پہلے عشرہ میں ہندوستان میں نا وابستہ ممالک کے سربراہان مملکت کی کانفرنس تھی۔ اس سلسلے میں پاکستان کے صدر جناب ضیاء الحق صاحب نئی دہلی آئے ہوئے تھے۔ نئی دہلی کے دوران قیام انہوں نے ایک روز پاکستانی سفارت خانہ کا معائنہ وہاں ہندوستانی لوگوں نے بتایا کہ ان کو پاکستان کے سفر کے لئے ویزا حاصل کرنے میں سخت مشکل پیش آتی ہے ۔ جناب ضیاء الحق صاحب نے حکم دیا کہ آج کی تاریخ تک جتنی درخواستیں آ چکی ہیں ان سب کو ویزا جاری کر دیا جائے ۔ چنانچہ پاکستانی سفارت خانہ نے اس دن ۲۲۴ گھنٹہ کام کر کے تقریباً دو ہزار درخواستوں کا ویزا جاری کر دیا۔
امید تھی کہ اس مجموعی فیاضی میں ہم کو بھی حصہ ملا ہوگا۔ کیونکہ انہیں تاریخوں میں ہماری درخواست بھی پاکستانی سفارت خانہ میں موجود تھی ۔ مگر ایسا نہ ہو سکا ۔ ۲۲ مارچ کو ہمارا آدمی پاکستانی سفارت خانہ گیا تو وہاں سے یہ جواب ملا کہ ویزا جاری کرنے کے بارہ میں صدر پاکستان کا جو حکم تھا وہ ان لوگوں کے لئے تھا جو اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لئے پاکستان جا رہے ہوں ۔ آپ چونکہ کانفرنس میں شرکت کے لئے جا رہے ہیں اس لئے آپ کے ویزہ کے لئے اسلام آباد سے منظوری ملنا ضروری ہے۔ ان کو بتایا گیا کہ میں اگلے دن لندن کے لئے روانہ ہو رہا ہوں۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آپ لندن کے پاکستانی سفارت خانہ میں معلوم کر لیں ۔ اسلام آباد سے اجازت نامہ آتے ہی ہم لندن کے پاکستانی سفارت خانہ کو ٹیلیکس کر دیں گے ۔
لندن میں میرے قیام کے آخری دن ۲۸ مارچ کو لندن کے پاکستانی سفارت خانہ میں ٹیلیفون کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ہم کو نئی دہلی کے پاکستانی سفارت خانہ سے ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ ویزا نہ ملنے کی وجہ سے میں لاہور کے قرآنی سیمینار میں شریک نہ ہو سکا۔ کیسی عجیب ہوگی وہ اسلامی حکومت جس کو نہ صرف غیر اسلامی پارٹیوں سے خطرہ ہو بلکہ خود اسلام سے بھی خطرہ ہو۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یورپ اور امریکہ کی حکومتوں کو اسلام سے اتنا اندیشہ نہیں جتنا ان مسلم حکومتوں کو ہے جنہوں نے اپنے دعوے کے مطابق اپنے یہاں مکمل اسلام قائم کر رکھا ہے۔
اس تصویر میں دہلی کے مسلمان عید الفطر (۱۲ جولائی ۱۹۸۳ء) کی اجتماعی نماز ادا کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ کتنا مقدس اور شاندار ہے یہ منظر۔ ہر سال عید کے موقع پر اس قسم کی تصویریں دارالسلطنت کے بڑے بڑے اخبارات میں صفحہ اول پر نمایاں طور پر شائع ہوتی ہیں۔ گویا مسلمانوں کے عزت و وقار کی علامت ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ اس ملک میں مسلمانوں نے اگرچہ اپنی نادانی سے بہت کچھ کھو دیا ہے مگر انھوں نے سب کچھ نہیں کھویا ہے۔ اگر وہ ناممکن“ سے اپنا سر نہ ٹکرائیں بلکہ ممکن“ سے اپنی کوششوں کا آغاز کریں تو ان کے لئے مایوسی کا کوئی سوال نہیں۔ کے لئے آج بھی وہ سب کچھ ہے جو وہ چاہتے ہیں بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ۔