تذکیر القرآن
Al-Risala, August 1983, pp. 41–44
By Maulana Wahiduddin Khan
تر ان کے اوپر دوڑ رہا ہے ۔ ایسی دوڑ آدمی کو صرف خدا سے دور کرنے والی ہے ، وہ اس کو خدا کے قریب نہیں پہنچا سکتی ۔
فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ مَا أُرْسِلْتُ بِهِ إِلَيْكُمْ وَيَسْتَخْلِفُ رَبِّي قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّونَهُ شَيْئًا إِنَّ رَبِّي عَلَى كُلِّ شَيْءٍ حَفِيظٌ وَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا هُودًا وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا وَنَجَّيْنَاهُمْ مِنْ عَذَابٍ غَلِيظٍ وَتِلْكَ عَادٌ جَحَدُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَعَصَوْا رُسُلَهُ وَاتَّبَعُوا أَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ وَأُتْبِعُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ أَلَا إِنَّ عَادًا كَفَرُوا رَبَّهُمْ أَلَا بُعْدًا لِعَادٍ قَوْمِ هُودٍ اگر تم اعراض کرتے ہو تو میں نے تم کو وہ پیغام پہنچا دیا جس کو دے کر مجھے تمہاری طرف بھیجا گیا تھا۔ اور میرا رب تمہاری جگہ تمہارے سوا کسی اور گروہ کو جانشیں (خلیفہ) بنائے گا۔ تم اس کا کچھ نہ بگاڑ بے شک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے۔ اور جب ہمارا حکم آپہنچا ، ہم نے اپنی رحمت سے بچا دیا ھود کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے ۔ اور ہم نے ان کو ایک سخت عذاب سے بچا دیا۔ اور یہ عاد تھے کہ انہوں نے اپنے رب کی نشانیوں کا انکار کیا۔ اور اس کے رسولوں کو نہ مانا اور ہر سرکش اور مخالف کی بات کی اتباع کی۔ اور ان کے پیچھے لعنت لگادی گئی اس دنیا میں اور قیامت کے دن ۔ سن لو ، عاد نے اپنے رب کا انکار کیا۔ سن لو ، دوری ہے عاد کے لئے جو ھود کی قوم تھی ۔ ٦٠ – ٥٧ جو لوگ خدا کی بات کو نظر انداز کردیں ، خدا بھی انہیں نظر انداز کر دیتا ہے۔ یہ واقعہ جو موجودہ دنیا میں جزئی طور پر پیش آتا ہے یہی قیامت میں کلی اور آخری طور پر پیش آئے گا۔ اس وقت تمام سرکش لوگ خدا کی رحمتوں سے دور کردئے جائیں گے ۔ اور خدا کی رحمت صرف ان لوگوں کا حصہ ہوگی جو دنیا کی زندگی میں خدا کے تابع اور وفادار بن کر رہے تھے ۔
اس دنیا میں خدا نے ”استخلاف“ کا اصول رائج کیا ہے۔ یعنی ایک قوم کو ہٹانے کے بعد دوسری قوم کو اس کی جگہ زمین پر تمکن کرنا۔ دنیا میں یہ تمکن امتحان کی غرض سے وقتی طور پر ہوتا ہے۔
آخرت میں خدا کی معیاری دنیا میں یہ تمکنِ انعام کے طور پر مستقل طور پر سچے اہل ایمان کو حاصل
موجودہ امتحانی دنیا کا نظام کچھ اس طرح بنا ہے کہ یہاں آدمی ہمیشہ خیر اور شر کے درمیان اس کو آزادی ہوتی ہے کہ دونوں میں سے جس راہ کو چاہے اختیار کرے ۔ مزید یہ کہ اکثر حالات میں اس دنیا میں شر کا غلبہ ہوتا ہے۔ خیر کی جانب صرف نشانیوں (نظری دلائل) کا زور ہوتا دوسری طرف شر کی جانب مادی طاقت موجود ہوتی ہے ، وہ بھی اتنی بڑی مقدار میں کہ اس کے علم بردار سرکشی اور گھمنڈ میں مبتلا ہو کر ماحول کے اندر ایسی دباؤ کی فضا پیدا کرتے ہیں کہ عام آدمی حق کی طرف بڑھنے کی جرات ہی نہ کرے۔
وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحاً قَالَ يَقَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ هُوَ أَنْشَأَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا فَاسْتَغْفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ إِنَّ رَبِّي قَرِيبٌ مُجِيبٌ قَالُوا يَصَالِحُ قَدْ كُنْتَ فِينَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هَذَا أَتَنْهَانَانِ أَنْ نَعْبُدَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا وَإِنَّنَا لَفِي شَكٍّ مِمَّا تَدْعُونَا إِلَيْهِ مُرِيبٍ قَالَ يَقَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي وَآتَانِي مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ يَنْصُرُنِي مِنَ اللَّهِ إِنْ عَصَيْتُهُ فَمَا تزیدوننی غَيْرَ تَخْسِيرٍ اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ اس نے کہا، اے میری قوم، اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اسی نے تم کو زمین سے بنایا، اور اس میں تم کو آباد کیا۔ معافی چاہو، پھر اس کی طرف رجوع کرو بے شک میرا رب قریب ہے ، قبول کرنے والا ہے۔ کہا کہ اے صالح اس سے پہلے ہم کو تم سے امید تھی۔ کیا تم ہم کو ان کی عبادت سے روکتے ہو جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے۔ اور جس چیز کی طرف تم ہم کو بلاتے ہو اس کے بارے میں ہم کو سخت شبہہ ہے اور ہم بڑے خلجان میں ہیں۔ اس نے کہا کہ اے میری قوم، بتاؤ، اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہوں اور اس نے مجھ کو اپنے پاس سے رحمت دی ہے تو مجھ کو خدا سے کون بچائے گا اگر میں اس کی نافرمانی کروں۔ پس تم کچھ نہیں بڑھاؤ گے میرا سوائے نقصان کے
حضرت صالح نے اپنی قوم کو ایک خدا کی عبادت کی طرف بلایا۔ یہی ہر زمانہ میں تمام پیغمبروں کا مقصد تھا۔ مگر حضرت صالح کی قوم آپ کے پیغام کو قبول نہ کر سکی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ اس کو براہ راست خدا سے جوڑنے کی بات کرتے تھے، جب کہ قوم کا حال یہ تھا کہ وہ خدا کے نام پر صرف اپنے اعاظم کا برے سے جڑی ہوئی تھی۔
ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مخصوص مزاج کی وجہ سے کسی چیز کی اہمیت اور معنویت صرف اس وقت سمجھ پاتے ہیں جب کہ ان کے قومی بزرگوں کے قول و عمل میں اس کی تصدیق مل جائے۔ اب چونکہ حضرت صالح کے پاس صرف دلیل کا زور تھا، ان کی قوم ان کی بات کی اہمیت کو محسوس نہ کر سکی۔ حضرت صالح جس دین کی طرف بلا رہے تھے اس کی اہمیت خدا کی وحی اور زمین و آسمان کی نشانیوں میں غور کرنے سے واضح ہوتی تھی۔ جب کہ ان کی قوم صرف اس دین کی اہمیت سے باخبر تھی جو اکابر قوم کے ملفوظات اور معمولات سے ثابت ہوتا ہو۔ کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی قوم آپ کے دلائل کے مقابلہ میں لاجواب ہو کر بھی بس ایک قسم کے شبہہ کی حالت میں پڑی رہی۔
حضرت صالح ، دوسرے تمام پیغمبروں کی طرح ، شخصیت اور ذہانت میں اپنی قوم کے ممتاز فرد لوگ امید رکھتے تھے کہ بڑے ہو کر وہ قوم کے ایک کار آمد فرد ثابت ہوں گے۔ مگر وہ بڑی عمر کو پہنچے تو انہوں نے قوم کے مروجہ مذہب پر تنقید شروع کر دی۔ یہ دیکھ کر قوم کے لوگوں کو ان کے بارہ میں سخت مایوسی ہوئی ۔ انہوں نے کہا ، ہم تو یہ سمجھے ہوئے تھے کہ تم ہمارے قائم شدہ مذہبی نظام کے ایک ستون بنو گے۔ اس کے برعکس ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ تم ہمارے مذہبی نظام کو بے بنیاد ثابت کرنے پر اپنا سارا زور لگائے ہوئے ہو۔ یہی معاملہ ہر دور میں خدا کے سچے داعیوں کو اپنی قوم کی طرف سے پیش آیا ہے ۔
وَيَقَوْمِ هَذِهِ نَاقَةُ اللَّهِ لَكُمْ آيَةً فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِي أَرْضِ اللَّهِ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِيبٌ (۲) فَعَقَرُوهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثلٰثۃ أَيَّامٍ ذَلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا صَالِحاً وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا وَمِنْ خِزْيِ يَوْمِئِذٍ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ وَأَخَذَ الَّذِينَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دِيَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ ٦٧ كَأَنْ لَمْ يَغْنَوْا فِيهَا
اَلَا اِنَّ ثَمُوْدَا كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ ؕ اَلَا بُعۡدًا لِّثَمُوْدَ اور اے میری قوم ، یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لئے ایک نشانی ہے۔ پس اس کو چھوڑ دو کہ وہ اللہ کی زمین میں کھائے۔ اور اس کو کوئی تکلیف نہ پہنچاؤ ورنہ بہت جلد تم کو عذاب پکڑلے گا۔ انہوں نے اس کے پاؤں کاٹ ڈالے۔ تب صالح نے کہا کہ تین دن اور اپنے گھروں میں فائدہ اٹھالو۔ یہ ایک وعدہ ہے جو جھوٹا نہ ہوگا۔ پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے صالح کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے بچالیا اور اس دن کی رسوائی سے (محفوظ رکھا)۔ تیرا رب ہی قوی اور زبردست ہے۔ اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو ایک ہولناک آواز نے پکڑلیا پھر صبح کو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ جیسے کہ وہ کبھی ان میں بسے ہی نہیں۔ ثمود نے اپنے رب سے کفر کیا۔ سنو، پھٹکار ہے ثمود کے لئے ۶۸ - ۶۷ حضرت صالح اپنی قوم سے کہتے تھے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم خدا کی پکڑ میں آجاؤ گے۔ ان کی قوم اگرچہ خدا اور رسالت کی منکر نہ تھی مگر اس نے حضرت صالح کی بات کو ایک مذاق سمجھا۔ کیونکہ حضرت صالح کے پاس اپنی پیغمبری کو ثابت کرنے کے لئے صرف نظری دلیل تھی اور یہ انسان کی کمزوری ہے کہ وہ صرف نظری دلیل کی بنیاد پر بہت کم اس کے لئے تیار ہوتا ہے کہ ایک مانوس چیز کو چھوڑے اور دوسری غیر مانوس چیز کو اختیار کرلے۔ حضرت صالح کی قوم جب نظری نشانیوں کے آگے جھکنے پر تیار نہ ہوئی تو آخری مرحلہ میں اس کے مطالبہ کے مطابق اس کے لئے حسی نشانی بھی ظاہر کردی گئی۔ یہ ایک اونٹنی تھی جو لوگوں کے سامنے ٹھوس چٹان کے اندر سے نکل آئی۔ ایسی نشانی کے بارہ میں خدا کا قانون ہے کہ جب وہ ظاہر کی جاتی ہے تو اس کے بعد لوگوں کے لئے امتحان کی مزید مہلت باقی نہیں رہتی۔ چنانچہ حضرت صالح نے اعلان کر دیا کہ اب تم لوگ یا تو توبہ کر کے میری بات مان لو، ورنہ تم سب لوگ ہلاک کر دئے جاؤگے۔ مگر جو لوگ نظری دلائل کی قوت کو محسوس نہ کرسکیں وہ حسی دلائل کو دیکھ کر بھی اس سے عبرت پکڑنے میں ناکام چنانچہ اس کے بعد بھی حضرت صالح کی قوم اپنی سرکشی سے باز نہ آئی۔ حتیٰ کہ اس نے خود اونٹنی کو مار ڈالا۔ اس کے بعد ان لوگوں کے لئے مزید مہلت کا سوال نہ تھا۔ چنانچہ وہ مٹا دی گئی۔ قوم صالح (ثمود) کا علاقہ شمال مغربی عرب (الحجر) تھا۔ حضرت صالح کو حکم ہوا کہ تم یہاں سے باہر چلے جاؤ۔ چنانچہ وہ اپنے مخلص ساتھیوں کو لے کر شام کی طرف چلے گئے۔ اس کے بعد ایک سخت زلزلہ آیا اور ساری قوم اس کی لپیٹ میں آکر بری طرح ہلاک ہوگئی۔