ایک آیت
Al-Risala, August 1983, pp. 45–47
By Maulana Wahiduddin Khan
سورہ لقمان کے آخر میں ارشاد ہوا ہے : بیشک قیامت کا علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ اور وہی بارش اتارتا ہے۔ اور وہ جانتا ہے جو کچھ رحموں میں ہوتا ہے۔ اور کسی کو بھی علم نہیں کہ وہ کل کیا کمائی کرے گا۔ اور کسی کو یہ علم نہیں کہ وہ کس سرزمین میں مرے گا۔ بے شک اللہ علیم و خبیر ہے۔ جو لوگ قیامت کے بارے میں شک کرتے ہیں اس کی وجہ زیادہ تر یہ ہوتی ہے کہ قیامت کی ساری تفصیلات انسان کے علم میں نہیں۔ مگر زندگی کی بہت سی حقیقتیں ہیں جن کے وقت اور ان کی نوعیت کا کسی کو علم نہیں ۔ ہم اپنی بشری محدودیت کی وجہ سے ان کا احاطہ نہیں کر پاتے۔ پھر بھی کوئی شخص ان کا انکار نہیں کرتا۔ زندگی کے تمام معاملات اسی قسم کی ” ناکافی“ معلومات کی بنیاد پر چلائے جاتے ہیں۔ پھر اسی قسم کی معلومات کو قیامت کے انکار کے لئے معقول وجہ مان لینا کیونکر درست ہو سکتا ہے۔
بارش آتی ہے اور آنے والی ہے ، مگر انسان کو قطعیت کے ساتھ معلوم نہیں ہوتا کہ کب آئے گی آج بھی محکمہ موسمیات اس معاملہ میں اتنا ہی عاجز ہے جتنا قدیم دور کا انسان اپنے کو عاجز محسوس
عورت حاملہ ہوتی ہے ۔ ہر شخص جانتا ہے کہ یہ جننے والی ہے۔ مگر کیا جنے گی کسی کو نہیں معلوم۔ پیدا ہونے والا کتنی مدت تک دنیا میں رہے گا اور کب مر جائے گا ۔ وہ کیا کمائے گا۔ وہ برا نکلے گا یا وہ دوسروں کو کیا دے گا اور خود کیا حاصل کرے گا ۔ اندر کا انسان باہر آ کر کیا ثابت ہو گا ۔ سب باتیں لا معلوم رہتی ہیں ۔ پھر بھی انسان یقین رکھتا ہے کہ عورت کے پیٹ سے ایک جان ظاہر ہونے والی ہے ۔ وہ مذکورہ عدم واقفیت کو اس کے انکار کی وجہ نہیں بنا لیتا۔ کسی آدمی کو یہ نہیں معلوم کہ وہ آئندہ کیا کچھ حاصل کرے گا ۔ آدمی پروگرام بناتا ہے مگر اس کی تکمیل ہمیشہ غیر یقینی رہتی ہے۔ وہ بڑے بڑے منصوبے بناتا ہے۔ مگر اس کا منصوبہ بالآخر کیا صورت اختیار کرے گا ، اس کو کوئی نہیں جانتا۔
موت ہر ایک کے لئے یقینی ہے ۔ مگر کون شخص کہاں مرے گا اور کہاں اپنی کتاب زندگی کا آخری صفحہ لکھے گا ، اس کے بارے میں کوئی بھی قطعی پیشین گوئی نہیں کی جا سکتی۔ کب ، کیا ، کتنا اور کہاں کے سوالات جن کو لوگ قیامت کے انکار کے لئے بنیاد بناتے
ہیں ، ٹھیک انہیں سوالات کی موجودگی میں دوسری باتوں کو مان لیتے ہیں اور ان کی بنیاد پر اپنی زندگی کا نظام چلاتے ہیں ۔ پھر اسی قسم کی کمتر واقفیت کی بنا پر قیامت کے بارے میں کیوں شبہہ کیا جانے لگے ۔
اور اللہ ہی جانتا ہے کہ رحموں میں کیا ہے ۔ (وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ) اس آیت کی تفسیر عام طور پر یہ مشہور ہو گئی ہے کہ یہ خدا ہی کے علم میں ہے کہ حاملہ عورت کے پیٹ میں لڑکا ہے یا مگر آیت کے الفاظ میں اس تفسیر کی کوئی بنیاد موجود نہیں ۔
آیت کے الفاظ بالکل عام ہیں ۔ " رحم کے اندر کیا ہے ، یہ خدا ہی کو معلوم ہے" ۔ الفاظ میں ہر وہ بات آسکتی ہے جو پیدا ہونے والے کی زندگی اور مستقبل سے متعلق ہو ۔ ایسا کوئی قرینہ موجود نہیں ہے جس کی بنا پر اس کو مذکر اور مونث کے ساتھ خاص کیا جائے۔ جہاں تک قرآن کی قدیم تفسیروں کا تعلق ہے ۔ اس سلسلہ میں عام طور پر دو باتیں کہی جاتی رہی ہیں ۔ یہاں ہم صرف ایک تفسیر کا حوالہ نقل کرتے ہیں ۔
(ويعلم ما فی الارحام) ای من ذکر او انثی ، خدا ہی جانتا ہے کہ رحموں میں کیا ہے ، یعنی مذکر شقی او سعید صفوۃ التفاسیر ، محمد علی الصابونی یا مونث ، برا یا بھلا ۔ اس آیت میں مذکر اور مونث کا قصد زیادہ تر عوامی ذوق کی وجہ سے پیدا ہوا ہے ۔ عوام کو چونکہ اس سے بہت زیادہ دلچسپی ہوتی ہے کہ ان کے یہاں پیدا ہونے والی اولاد لڑکا ہے یا لڑکی ، اس لئے یہ تفسیر مشہور ہو گئی ۔ ورنہ خود قدیم تفاسیر میں شقی اور سعید کے الفاظ بھی موجود ہیں ۔ یعنی یہ خدا ہی کو معلوم ہے کہ پیدا ہونے والا برا ہو کر برا نکلے گا یا بھلا ثابت ہوگا ۔ "برا اور بھلا" کے الفاظ انتہائی عام اور وسیع ہیں۔ ان میں انسان کی زندگی سے متعلق ہر بات موجود ہے ۔ انسان زیادہ عمر کو پہنچ کر جو کچھ بنتا ہے وہ سب ان دو لفظوں میں شامل ہے ۔
مذکر اور مونث کے بارہ میں پہلے بھی انسان اندازہ کرتا تھا اور موجودہ زمانہ میں مزید اضافہ کے ساتھ اس کا اندازہ کرنا ممکن ہو گیا ہے ۔ تا ہم اصل بات بدستور انسان کے لئے لامعلوم ہے ۔ اور وہ یہ کہ مکمل معنوں میں پیدا ہونے والے کے بارہ میں پیشین گوئی کی جائے کہ وہ کیسا عورت یا مرد ثابت ہوگا اور کیسا عورت یا مرد ثابت نہیں ہوگا ۔ کا یہ راز اب بھی انسان کے لئے لامعلوم ہے ۔
THE INTRODUCTION TO ISLAM The INTRODUCTION TO ISLAM SERIES is the rendering into English of the Urdu Ta'arufi Set by Maulana Wahiduddin Khan. It provides the general public with an understanding of the basic teachings of divinely The titles in this series:
1. The Way to Find God 2. The Teachings of Islam 3. The Good Life 4. The Garden of Paradise 5. The Fire of Hell Jamiat Building, Qasimjan Street, Delhi 110 006