اختلاف کا سبب دنیا
Al-Risala, September 1983, p. 2
By Maulana Wahiduddin Khan
ہر قسم کے جھگڑوں کے پیدا ہونے کا واحد سبب دنیا کو اہمیت دینا ہے۔ لوگ اگر آخرت کو اہمیت دینے لگیں تو کوئی جھگڑا پیدا نہ ہو اور اگر پیدا ہو تو فوراً ختم ہو جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ مسلمانوں کا امیر کون ہو۔ یہ بے حد اختلافی مسئلہ تھا۔ مہاجرین کا خیال تھا کہ امیر کسی مہاجر کو ہونا چاہئے۔ انصار کہتے تھے کہ انصار میں سے کسی شخص کو امیر بنایا جائے۔ اس کے بعد ذی ہوش افراد نے لوگوں کے سامنے یہ بات رکھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری وقت میں حضرت ابوبکر کو نماز کا امام بنایا تھا۔ نماز کی امامت انتظام دین کا معاملہ ہے، اور امارت اور خلافت انتظام دنیا کا معاملہ۔ پھر اللہ کے رسول نے جس شخص کو انتظام دین کے لئے اہل سمجھا ہو وہ بدرجہ اولیٰ انتظام دنیا کا اہل ہوگا۔ اس سلسلے میں یہاں دو روایتیں نقل جاتی ہیں: آخري، صرورت ہے، اور اخرجہ النسائی عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ لما قبض النبی صلی اللہ علیہ وسلم قالت الانصار منا امیر ومنکم امیر فاتاهم عمر رضی اللہ عنہ فقال الستم تعلمون ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قد امر ابا بکر ان یصلی بالناس فايکم تطیب نفسه ان یتقدم ابابکر - فقالوا نعوذ بالله ان نتقدم ابابکر (جمع الفوائد) عن علی رضی اللہ عنہ قال لقد امر النبی صلی اللہ علیہ وسلم ابابکر ان یصلی بالناس وانی لشاهد وما انا غائب وما بی مرض فرضينا لدنیانا ما رضی به النبی صلی اللہ علیہ وسلم لدیننا
حضرت ابن مسعود کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی تو انصار نے کہا کہ ایک امیرہم میں سے ہو اور ایک امیر تم میں سے ہو۔ تو حضرت عمر ان کے پاس آئے اور کہا کہ کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر کو حکم دیا تھا کہ وہ لوگوں کو نماز پھر تم میں سے کون یہ پسند کرے گا کہ وہ ابو بکر کے آگے بڑھے۔ انھوں نے کہا کہ ہم اس بات سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں کہ ہم ابو بکر کے آگے بڑھیں۔ حضرت علی نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ وقت موجود تھا میں غائب نہیں تھا۔ مجھے کوئی بیماری بھی نہیں تھی۔ لہذا ہم اپنی دنیا کے لئے اس شخص پر راضی ہیں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے دین کے لئے راضی ہوگئے تھے۔