نا قابل معافی
Al-Risala, September 1983, p. 3
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث میں آیا ہے کہ ایک لڑائی میں ایک مسلمان کے سر پر زخم آگیا۔ وہ زخمی حالت میں تھا کہ اگلی صبح کو اسے غسل کی حاجت ہوئی۔ پانی سر پر ڈالنا سخت مہلک تھا۔ اس نے دوسرے مسلمان ساتھیوں سے انھوں نے کہا کہ پانی کی موجودگی میں ہم تیرے لئے کوئی گنجائش نہیں پاتے۔ مسلمان نے جب دیکھا کہ دوسری کوئی راہ نہیں ہے تو اسی حالت میں اس نے غسل کر لیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی حالت نازک ہوگئی اور وہ مر گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس واقعہ کی خبر ہوئی تو آپ کو بے حد دکھ ہوا۔ آپ نے فرمایا: قتلود قتلهم الله (انہوں نے اس کو ہلاک کر ڈالا، خدا انہیں ہلاک کرے)۔
مذکورہ مسئلہ واضح طور پر اجتہادی تھا۔ اس کے باوجود آپ نے ان کے بارہ میں اتنے سخت الفاظ اس سے معلوم ہوا کہ اجتہاد میں غلطی کی معافی کی بھی ایک حد ہے۔ عام حالات میں اجتہادی خطا پر پکڑ مگر جب معاملہ زیادہ نازک ہو جب ایسا مسئلہ درپیش ہو جس سے آدمی کی زندگی اور موت وابستہ ہو جائے تو ایسی حالت میں اجتہادی رائے پیش کرنے سے بچنا چاہئے۔ ایسے موقع پر اجتہادی رائے دینا اور اس پر اصرار کرنا بے حسی کی بات ہے اور بے حسی ایمان کی موت کی نشانی ہوتی ہے۔ اوپر کی حدیث صرف ایک ایسی اجتہادی غلطی سے متعلق ہے جس کا نقصان انفرادی سطح پر ظاہر پھر یہی بات مزید شدت کے ساتھ ان واقعات کے بارہ میں صادق آتی ہے جب کہ کوئی قائد ملت کو ایسی اجتہادی رائے پر دوڑا دے جس کا نتیجہ ملت کے لئے اجتماعی ہلاکت کی صورت میں بر آمد
"غسل کے وقت آدمی کا رخ قبلہ کی طرف ہو یا نہ ہو، اس مسئلہ میں مفتی اگر غلط فتویٰ دیدے تو اس میں کسی کے لئے جان و مال کے نقصان کا اندیشہ نہیں۔ مگر ایک شخص جو شدید طور پر زخمی ہے وہ غسل کرے یا نہ کرے، اس معاملہ میں غلط فتویٰ سے آدمی کی جان خطرہ میں پڑ جاتی ہے۔ اس لئے دونوں قسم کے مسائل پر غلطی کا معاملہ یکساں نہیں ہے۔ پہلی قسم کا مسئلہ وہ مسئلہ ہے جس میں اجتہادی غلطی پر بھی آدمی کو حسن نیت کا ثواب مل سکتا ہے۔ مگر دوسری قسم کے مسئلہ میں اجتہادی غلطی کرنا ناقابل معافی جرم ہے۔ نازک معاملات جن کے ساتھ فرد اور قوم کی قسمتیں ہوں، ان میں مفتی کے لئے لازم ہے کہ وہ آخر وقت تک چپ رہے۔ اور اگر بولے تو اس وقت بولے جب کہ فی الواقع وہ خدا کے سامنے اس کے لئے بری الذمہ ہو چکا ہو۔