غیر علمی طریقہ
Al-Risala, September 1983, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
فون کریمر اور گولڈزیہر نے لکھا ہے کہ مسلمانوں نے ایک عجیب و غریب موضوع پر بحث کی۔ اور وہ یہ کہ کیا عجمی لوگ جنت میں عرب عورتوں سے نکاح کریں گے ؟ “ یہ مستشرقین اس سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اسلامی فتوحات کے پیچھے صرف یہ جذبہ تھا کہ عربوں کی سیادت غیر عرب اقوام پر قائم ہو۔ ان کا یہ جذبہ اتنا بڑھا ہوا تھا کہ انہیں یہ پسند نہیں آیا کہ جنت میں کوئی عرب خاتون کسی عجمی مسلمان کی بیوی بنے۔ یہ قصہ المبرد نے کتاب الکامل میں نقل کیا ہے۔
جو شخص اس عبارت کو پڑھے گا وہ بادی النظر میں یہی سمجھے گا کہ مسلمانوں میں سے ایک بڑے گروہ نے اس موضوع پر بحث کی۔ اور جن لوگوں نے یہ بحث کی وہ یقیناً فقہاء ہوں گے۔ کیوں کہ یہ موضوع فقہ سے تعلق
لیکن اگر آپ مستشرق کے بیان کو کافی نہ سمجھیں بلکہ خود اس کے مآخذ کی تحقیق کریں تو آپ پر ایک عجیب انکشاف ہوگا، اب آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ ”لوگ‘‘، جنھوں نے اس موضوع پر بحث کی کہ غیر عرب مرد اور عرب عورتوں کے درمیان جنت میں نکاح ہوگا یا نہیں، وہ صرف ایک اعرابی تھا جو بادیہ سے آیا تھا۔ ایک معمولی شخص نہ کہ کوئی جماعت۔
اصمعی جو لغت کی تحقیق کے سلسلہ میں اہل بادیہ سے خاص دلچسپی لیتا تھا، اس نے ایک اعرابی کو ایسا کہتے ہوئے سنا۔ وہ دوسرے آدمی سے کہہ رہا تھا کہ تمھارا کیا خیال ہے ، کیا یہ اعاجم جنت میں عرب عورتوں سے نکاح کریں گے۔ دوسرے آدمی نے جواب دیا: خدا کی قسم ہاں ، عمل صالح کے ذریعہ (اتوى هذہ العجم تنكح نساء نافي الجنة - فقال ارئى ذلك والله بالعمل الصالح ) اس قصہ کو مبرد نے اپنی کتاب میں تفنن کے طور پر نقل کر دیا۔ (الکامل للمبرد ، جلد ۲، فصل الموالى عند العرب ) اس قسم کا استدلال واضح طور ایک انفرادی واقعہ کو عمومی بنانا ہے۔ موجودہ زمانہ کے تمام علماء جانتے ہیں کہ کسی واحد واقعہ کو عمومی بنا کر پیش کرنا سرا سر غیر علمی طریقہ ہے۔ مگر اسی غیر علمی طریقہ کو انھوں نے اس وقت علمی سمجھ لیا جب کہ اس سے ان کا نام نہاد مقصد حاصل ہورہا تھا۔