روحانی تہذیب
Al-Risala, September 1983, pp. 14–30
By Maulana Wahiduddin Khan
بچوں کا ایک کھیل ہوتا ہے جس کا نام جگسا پزل (Jigsaw Puzzle) ہے اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ کسی چیز کی مکمل تصویر کو الگ الگ ٹکڑوں میں کاٹ دیتے ہیں۔ یہ گتے یا پلاسٹک یا لکڑی کے ٹکڑے یہ مختلف انداز کے ٹکڑے بچوں کو دے دئے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ان کو اس طرح جوڑو کہ فلاں چیز (مثلاً اونٹ) کی صورت بن جائے۔ جو بچہ ٹکڑوں کو جوڑ کر مطلوبہ صورت بنا لے وہ کامیاب کہا جاتا ہے اور جو بچہ مطلوبہ صورت نہ بنا سکے وہ ناکام قرار پا تا ہے۔
ایک اسکول میں بچوں کو جانچنے کے لئے اسی قسم کا ایک کھیل دیا گیا۔ اس میں موٹے گتہ کے بہت سے ٹکڑے تھے۔ ان کو جوڑ کر ہندوستان کا نقشہ بنانا تھا۔ بچے ٹکڑوں کو ادھر ادھر جوڑتے رہے۔ ہندوستان کی مکمل تصویر کسی طرح نہ بن پاتی تھی۔ آخر ایک طالب علم کے ذہن میں ایک خیال آیا، ممکن ہے ان ٹکڑوں میں کہیں کوئی اشارہ موجود ہو! یہ سوچ کر اس نے ایک ٹکڑے کو الٹ کر دیکھا تو اس کے پیچھے ہلکی سیاہی سے ” آسام “ لکھا تھا۔ اب اس کو ایک سراغ مل گیا۔ اس کے بعد اس نے مزید ٹکڑے الٹے تو ہر ایک پر ملک کی کسی نہ کسی ریاست کا نام دھندلے حروف میں درج تھا۔ اب وہ راز کو سمجھ گیا۔ اس نے جان لیا کہ ہر ٹکڑا کسی نہ کسی متعین ریاست کی نمائندگی کر رہا ہے۔
بچہ کے ذہن میں ہندوستان کے مجموعی نقشہ کا تصور پہلے سے موجود تھا۔ اس نے اس اجمالی تصور کے مطابق ٹکڑوں کو جوڑنا شروع کیا۔ اب فوراً ہی ہندوستان کا نقشہ بن کر تیار تھا۔ یہ طالب علم کامیاب ہوا اور بقیہ تمام طالب علم ناکام قرار دیدے گئے۔
ایسا ہی کچھ معاملہ اس دنیا کا ہے جس کے بنانے والے نے اس کو بنا کر انسان کو یہاں رکھا ہے۔ یہ دنیا بھی ایک قسم کا جگسا پزل کا کھیل ہے۔ انسان کا امتحان یہی ہے کہ وہ یہ کھیل کھیلے اور اس میں کامیابی
انسان کو مشین کی ضرورت تھی۔ اس کو خود کار سواریوں کی ضرورت تھی۔ اس کو آرام دہ مکانات کی اس کو بے شمار دوسری مادی چیزیں درکار تھیں۔ مگر قدرت نے ایسا نہیں کیا کہ ان چیزوں کو بنا بنایا آسمان سے اتار دے۔ اس دنیا میں ہوا اور پانی اور روشنی جیسی چیزیں تو موجود ہیں مگر ٹائپ رائٹر موٹر کار اور رہائشی بنگلے کہیں تیار شدہ حالت میں موجود نہیں۔ ان چیزوں کو آدمی خود بنا کر تیار
ان کو بنانے کی صورت کیا ہوتی ہے، وہ یہ کہ قدرت نے ان کے تمام اجزار خام شکل میں زمین پر پھیلادیے۔ کچھ چیزوں کو زمین کے نیچے دفن کر دیا۔ یہ گویا ایک عظیم جگسا پزل کے بہت سے ٹکڑے ہیں جو دنیا کے مختلف حصوں میں بکھرے ہوئے ہیں۔ اب انسان کے ذمہ یہ کام ہے کہ وہ ان کو تلاش کر کے حاصل کرے اور ان کو جوڑ کر بامعنی چیزیں بنائے۔
جدید مادی تہذیب کی صورت میں انسان نے بے شمار نئی چیزیں بنائی ہیں۔ یہ سب چیزیں اگرچہ مکمل طور پر ہماری اس دنیا کے سامانوں سے بنی ہیں مگر ان میں سے کوئی چیز بھی اپنی موجودہ تکمیلی صورت میں کہیں موجود نہیں تھی۔ انسان نے ان کے مختلف بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو جمع کیا اور لمبے تجربے کے بعد ان کو جگسا پزل کی طرح جوڑ کر با معنی چیزوں کی صورت میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوا۔ اسی عمل کے نتائج ہیں جن کو ٹیلی فون، ،کار اور فرنیچر کہتے ہیں۔
یہ ہماری مادی تہذیب کا معاملہ تھا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ ہماری روحانی تہذیب کا بھی ہے۔ قدرت نے ایک ہی نمونہ کو ہمارے لئے پسند کیا ہے۔ روحانی دنیا کی تعمیر کا معاملہ بھی ایک قسم کے جگسا پزل کا معاملہ ہے۔ مادی دنیا کی تعمیر کے لئے قدرت نے ہمارے چاروں طرف مادی ٹکڑے بکھیرے تھے ۔ یہاں قدرت نے اسی طرح بہت سے معنوی ٹکڑے ہمارے چاروں طرف بکھیر دیئے ہیں۔ اسی کے ساتھ ہر ٹکڑے پر مخفی اشارات بھی درج ہیں۔ انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ ان اشارات کو پڑھے اور ان کے مطابق مختلف ٹکڑوں کو اپنے اپنے مقام پر جوڑ کر صحیح اور با معنی تصویر بنائے۔ یہی موجودہ دنیا میں آدمی کا اصل امتحان ہے۔ آدمی کو بہر حال یہاں اس امتحان میں کھڑا ہونا ہے کہ وہ ان ٹکڑوں پر لکھے ہوئے مخفی اشاروں کو پہچانے اور ان کے مطابق بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو جوڑ کر مطلوبہ تصویر بنائے۔ مادی تہذیب کی تعمیر میں اگر انسان قدرت کے اس نہج کی پیروی نہ کرتا تو اس کو کبھی جدید طرز کا جگمگاتا ہوا شہر دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔ اسی طرح اگر وہ روحانی تہذیب کی تعمیر میں سنجیدگی کے ساتھ اس منہج کی پیروی نہ کرے تو اس کے لئے یہاں ناکامی کے سوا کوئی اور چیز مقدر نہیں۔ انسان کی تمام گمراہیاں اسی مخصوص جانچ میں ناکام ہونے کا نتیجہ ہیں۔ انسان مادی تہذیب کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو جوڑ کر ان کا جگسا پزل بنانے کے معاملہ میں انتہائی سنجیدہ تھا اس لئے وہاں وہ پوری طرح کامیاب ہوا۔ اس کے برعکس روحانی تہذیب کے معاملہ میں وہ پوری طرح سنجیدہ نہیں ۔ لئے اس دوسرے میدان میں ہم دیکھتے ہیں کہ انسان صحیح طور پر اپنا جگسا پزل بنانے میں کامیاب
شرک، الحاد اور دوسرے تمام غلط قسم کے فکری نظام اسی لیے وجود میں آئے کہ انسان قدرت کے مختلف ٹکڑوں پر لکھے ہوئے اشارات کو پڑھ نہ سکا اور ان کو ادھر کا ادھر اور ادھر کا ادھر جوڑ دیا۔ کے طور پر مظاہر کائنات میں تنوع کو دیکھ کر اس نے خدائی میں تنوع کا عقیدہ قائم کر لیا۔ اس لیے کہا کہ جب چیزیں کئی ہیں توان کے خدا بھی کئی ہی ہونے چاہئیں۔ حالانکہ مظاہر کائنات میں تنوع خدا کی صفات میں تنوع کی علامت تھی نہ کہ خود خدائی میں تنوع کی علامت۔ اسی طرح کائنات میں نظام تعلیل ( Causation ) کی دریافت کو اس نے خدا کی دریافت کے ہم معنی سمجھ لیا۔ حالانکہ وہ خدا کے طریق کار کی دریافت کے ہم معنی تھا نہ کہ خود خدا کی دریافت کے ہم معنیٰ وغیرہ۔
اب دیکھئے کہ ان ٹکڑوں پر کس قسم کے اشارات لکھے ہوئے ہیں اور کس طرح انہیں بامعنی طور پر جوڑا جب ہم اس نظر سے انسان اور کائنات کے معاملہ پر غور کرتے ہیں تو مختلف رہنما چیزیں ہمارے سامنے آتی ہیں۔ اس کائنات میں صرف ایک انسان ہے جو ہنستا ہے۔ ہنسنے کی طاقت ہوا اور پانی ، جنگل اور پہاڑ، چاند اور ستارے کسی چیز میں نہیں۔ حتیٰ کہ جانوروں اور پرندوں میں بھی نہیں۔ ہنسنا انسان کی انتہائی امتیازی خصوصیت ہے۔ ہنسنا شعوری لذت کی علامت ہے اور لذت کا شعور انسان کے سوا اور کسی کو حاصل نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری معلوم کائنات میں انسان ہی ایک ایسی ہستی ہے جس کے لئے ہنسی (بالفاظ دیگر خوشی) مقدر کی گئی ہے۔ انسان کے سوا کوئی بھی دوسری مخلوق ایسی نہیں جو ہنسے اور خوشی منائے۔
اس کے بعد جب ہم مزید غور کرتے ہیں تو ہمیں اس جگسا پزل کا ایک اور شارلتی ٹکڑا ہاتھ آتا ہے۔ اور وہ لذت ہے۔ یہاں بھی ہم پاتے ہیں کہ انسان ہی ایک ایسی مخلوق ہے جو لذت کو جانتا ہے۔ ازدواجی تعلقات وغیرہ، بظاہر انسان اور جانوروں میں مشترک ہیں۔ مگر جانوروں کے لئے ان چیزوں میں کوئی لذت نہیں۔ وہ جو کچھ کرتے ہیں جبلت اور ضرورت کے لئے کرتے ہیں نہ کہ لذت لینے کے لئے۔ اس کے برعکس انسان جب کھاتا پیتا ہے، جب وہ ازدواجی تعلق قائم کرتا ہے تو وہ اس سے لطف اندوز لطف و لذت انسان کی امتیازی خصوصیت ہے۔ کسی بھی دوسری مخلوق کو یہ چیز حاصل نہیں۔ مذکورہ اشارات نے ہمیں کائناتی جگسا پزل کے دو ٹکڑوں کی طرف رہنمائی کی۔ ایک ہنسی اور اس سے ہم نے جانا کہ انسان کی فطرت کے اعتبار سے اس کی کامیابی یہ ہوگی کہ اس کو خوشی ملے وہ لذت کا مالک بن سکے۔
اس کے بعد، ہم مزید مطالعہ کرتے ہیں تو ہمارے علم میں ایک اور ٹکڑا آتا ہے۔ اور وہ یہ کہ ہنسی
اور لذّت کے احساسات اگرچہ صرف انسان کو ملے ہیں۔ مگر موجودہ دنیا میں کوئی انسان ان کو پورے طور پر حاصل کرنے پر قادر نہیں۔ یہاں کی محدودیتیں (Limitations) فیصلہ کن طور پر انسان کی راہ میں بیماری، حادثہ، بڑھاپا، موت اور اسی طرح اپنے اندر اور باہر کی دوسری کمیاں ہماری دنیا کی زندگی کو بے مسرت اور بے لذت کر دیتی ہیں۔ ہم جو کچھ چاہتے ہیں ان کو ہم موجودہ دنیا میں حاصل نہیں کر پاتے۔
یہاں پہنچ کر جب ہم مزید غور کرتے ہیں تو ایک اور اشاراتی ٹکڑا ہمارے ہاتھ آتا ہے۔ وہ انسان کی یہ خصوصیت ہے کہ تمام معلوم چیزوں میں وہی ایک ایسی مخلوق ہے جو کل (Tomorrow) کا تصور رکھتا ہے۔ سورج آج ڈوبتا ہے اور کل طلوع ہوتا ہے۔ مگر سورج کو کل کا شعور نہیں۔ اگلے موسم کے لئے خوراک جمع کرتی ہے اور بیا اپنی آئندہ نسل کے لئے گھونسلے بناتا ہے۔ مگر چیونٹی یا بیا یہ سب کچھ جبلت (Instinct) کے تحت کرتے ہیں نہ کہ ”کل“ کے تصور کے تحت۔
تمام موجودات میں ”کل“ کا تصور صرف انسان کے اندر پایا جاتا ہے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ کل کی کامیابی صرف انسان کے لئے خاص ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو چیز ہم چاہتے ہیں اور اپنی محدودیتوں کی وجہ سے اس کو حاصل نہیں کر سکتے وہ ہمارے لئے کل کے دن بالفاظ دیگر مستقبل میں مقدر کی گئی ہے۔ موجودہ دنیا میں ہم اپنی اس طلب کا صرف جزئی تعارف حاصل کرتے ہیں۔ اس کو ہم کا مل طور پر صرف کل کے دور میں پائیں گے۔
یہاں پہنچ کر ایک اور اشاراتی ٹکڑا ہماری رہنمائی کرتا ہے اور وہ نیند ہے۔ ہر آدمی پر نیند طاری ہوتی ہے۔ وہ بے خبر ہو کر سو جاتا ہے۔ مگر عین اس وقت جب کہ آدمی کا جسم ایک قسم کی موت کی آغوش میں ہوتا ہے اس کا ذہن دیار روح، پوری طرح زندہ ہوتا ہے۔ آدمی کا ذہن اس وقت بھی سوچتا ہے۔ وہ سفر کرتا ہے۔ وہ فیصلے کرتا ہے۔ گویا جسمانی موت کے باوجود انسان کا ذہنی وجود پوری طرح زندہ رہتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آدمی نہ صرف کل کا تصور رکھتا ہے بلکہ وہ کل کے دن تک زندہ موجود بھی رہتا ہے۔ موت کے باوجود وہ ختم نہیں ہوتا۔ آدمی کی زندگی ایک ایسا تسلسل ہے جو ”آج“ سے لے کر ”کل“ تک چلا گیا ہے۔
اب ہماری تصویر حیات ایک حد تک پوری ہو چکی ہے۔ تاہم ایک چیز ابھی باقی ہے۔ یہ کہ کل کا دن کس کے لئے کیا ہوگا اور کس کے لئے کیا نہیں ہوگا۔ یہاں جب ہم اپنی تلاش جاری کرتے ہیں تو دوبارہ ہم کو جگسا پزل کا ایک اور اشاراتی ٹکڑا ملتا ہے، جو ہماری تصویر کو مکمل کر دیتا
یہ ٹکڑا ہے انسان کے اندر خیر اور شر (صحیح اور غلط) کا تصور۔
معلوم کائنات میں یہ صرف انسان کی انفرادی خصوصیت ہے کہ وہ کسی چیز کو صحیح سمجھتا ہے اور کسی چیز کو غلط ۔ حقیقت واقعہ کا اعتراف اس کے نزدیک سب سے بڑی نیکی ہے اور حقیقت واقعہ کا انکار اس کے نزدیک سب سے بڑی برائی اسی طرح امانت اور خیانت احسان مندی اور احسان فراموشی سچ اور جھوٹ‘ وعدہ خلافی اور بے وفائی، انصاف اور ظلم تواضع اور سرکشی، حق کی ادائیگی اور حق کی پامالی کے درمیان وہ فرق کرتا وہ ایک کو صحیح اور دوسرے کو غلط سمجھتا ہے۔ یہ واقعہ انسان کے معاملہ کو دوسری مخلوقات کے معاملہ سے الگ کر دیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی کامیابی اخلاقی معیار پر جانچی جائے گی جب کہ دوسری چیزوں کی کامیابی صرف مادی اعتبار سے دیکھی جاتی ہے۔
ہمارے جگسا پزل کا یہ آخری ٹکڑا ہماری تصویر کو بالکل مکمل کر دیتا ہے۔ اس کو ملانے کے بعد حیات انسانی کا جو کامل تصور بنتا ہے وہ یہ ہے کہ انسان ہی واحد مخلوق ہے جس کے لئے اس کے پیدا کرنے والے نے خوشی اور لذت کو مقدر کیا ہے۔ مگر یہ خوشی اور لذت اس کو آج کی زندگی میں ملنے والی نہیں۔ یہ اس کو صرف کل کی زندگی میں ملے گی۔ تا ہم یہ لازوال نعمت ہر آدمی کو اپنے آپ نہیں مل جائے گی۔ اس کے لئے اسے ایک امتحان میں کامیاب ہونا پڑے گا۔ وہ یہ کہ آدمی آج کی زندگی میں اس کے واقعی استحقاق کا ثبوت دے۔ وہ انکار حق سے بچے اور اقرار حق کی میزان پر پورا اترے۔ وہ غلط روش کو چھوڑے اور صحیح روش کو اختیار کرے۔ وہ وقتی سطح پر جینے کے بجائے ابدیت کی سطح پر جئے ۔ وہ صرف آج والا بن کر رہنے کے بجائے کل والا بن کر رہے ۔ جو شخص ایسا کرے گا وہ آنے والی کل کی زندگی میں کامل انسان کے روپ میں ظاہر ہوگا۔ وہ اس خوشی اور لذت کو ابدی طور پر پالے گا جس کا موجودہ زندگی میں اس نے صرف ابتدائی تعارف حاصل کیا تھا۔
مادی تہذیب وقتی دنیا کی تعمیر ہے اور روحانی تہذیب ابدی دنیا کی تعمیر۔ تا ہم دونوں دنیاؤں میں کامیابی کا ایک ہی اصول ہے۔ قدرت کے متفرق اشاروں کو پڑھ کر ان سے ایک کامل نقشہ بنانا۔ موجودہ دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جن قوموں نے قدرت کے اشاروں کو نہیں پڑھا اور قدرت کے چھپے ہوئے مواقع کو اپنے حق میں استعمال نہیں کیا وہ پھیڑی ہوئی قومیں بن کر رہ گئیں۔ ان کے حصہ میں صرف یہ آیا کہ وہ دوسری ترقی یافتہ قوموں کی سیاسی اور معاشی غلام بن کر رہ جائیں۔
اسی طرح آنے والی دنیا میں وہ لوگ کامیاب رہیں گے جنھوں نے اپنے اندر روحانی تہذیب کی تشکیل کی اور وہ لوگ برباد ہو کر رہ جائیں گے جو اپنے اندر روحانی تہذیب کی تشکیل نہ کر سکے۔ موجودہ زندگی ہماری اگلی زندگی کا تعارف ہے۔ انسان کا آج کا انجام اس کے کل کے انجام کو بتا
قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي وَرَزَقَنِي مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا ۚ وَمَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَى مَا اَنْهٰكُمْ عَنْهُ ۚ إِنْ أُرِيدُ إِلَّا الْإِصْلَاحَ مَا اسیْتَطَعْتُ ۚ وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ ۚ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ ﴿۸۸﴾ وَيَاقَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِي أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صٰلح ۚ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِنْكُمْ بِبَعِيدٍ وَاسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ ۚ إِنَّ رَبِّي رَحِيمٌ وَدُودٌ شعیب نے کہا کہ اے میری قوم! بتاؤ، اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہوں اور اس نے اپنی جانب سے مجھ کو اچھا رزق بھی دیا۔ اور میں نہیں چاہتا کہ میں خود وہی کام کروں جس سے میں تم کو روک رہا ہوں ۔ میں تو صرف اصلاح چاہتا ہوں، جہاں تک ہو سکے۔ اور مجھے توفیق تو اللہ ہی سے ملے گی ۔ اس پر میں نے بھروسہ کیا ہے۔ اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔ اور اے میری قوم! ایسا نہ ہو کہ میری ضد کرکے تم پر وہ آفت آپڑے جو قوم نوح یا قوم ہود یا قوم صالح پر آئی تھی، اور لوط کی قوم تو تم سے دور بھی نہیں۔ اور اپنے رب سے معافی مانگو پھر اس کی طرف پلٹ آؤ۔ بے شک میرا رب مہربان اور محبت والا ہے۔ ماننے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک ہے تقلیدی طور پر ماننا۔ دوسرا صحیح سمجھ کر ماننا۔ پہلی صورت میں آدمی کسی بات کو اس لئے مانتا ہے کہ لوگ اس کو مانتے ہیں۔ دوسری صورت میں وہ اس کو اس لئے مانता है कि اس نے خود دلیل کی بنیاد پر پایا ہے کہ وہ بات صحیح ہے۔ اول الذکر اگر رسمی ا قرار ہےتو ثانی الذکر
حق کو دلیل (یا شعور) کی سطح پر پانا ہی مومن کا اصل سرمایہ ہے۔ اسی سے وہ زندہ یقین حاصل ہوتا ہے جب کہ آدمی ہر چیز سے بے پروا ہو کر لوگوں کے درمیان کھڑا ہو اور حق کی نمائندگی کر سکے۔ شعوری یافت ہر دوسری چیز کا بدل ہے۔ جس کو یہ نعمت حاصل ہو جائے اس کو پھر کسی اور چیز کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
عام آدمی "روٹی" پر جیتا ہے۔ مومن وہ انسان ہے جو دلیل حق پر جیتا ہے۔ اس طرح کا رزق (شعوری یافت) ملنے کے بعد آدمی کے لئے نا ممکن ہو جاتا ہے کہ وہ اس کے خلاف رویہ اختیار کرے۔
قول و عمل کا تضاد رسمی ایمان کا نتیجہ ہے اور قول و عمل کی یکسانیت شعوری ایمان کا نتیجہ۔ "شقاق" کی تشریح میں حضرت حسن بصری کا قول ہے کہ میری دشمنی تم کو ایمان کا راستہ چھوڑ دینے پر نہ ابھارے کہ اس کے بعد تم کو وہ سزا ملے جو کافروں کو ملی (لا يحملنكم معاد اتى على ترك الايمان فيصيبكم ما أصاب الكفار، القرطبی)
داعی چونکہ اپنے زمانہ کے لوگوں کو ایک عام انسان کی مانند نظر آتا ہے۔ اس لئے اس کی ناقدانہ باتوں سے وہ لوگ بگڑا اٹھتے ہیں جن کو ماحول میں اونچی حیثیت حاصل ہو۔ ایک معمولی آدمی کی یہ جرات ان کے لئے ناقابل برداشت ہو جاتی ہے کہ وہ ان پر اور ان کے بڑوں پر تنقید کرے۔ اس وجہ سے ان کے اندر داعی کے خلاف ضد اور نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔
کسی آدمی کے اندر اس قسم کی نفسیات کا پیدا ہونا اس کا نہایت کڑے امتحان میں مبتلا کیا جانا ہے۔ کیونکہ ایسا آدمی ایک شخص کو حقیر سمجھنے کی وجہ سے اس کی طرف سے آنے والی خدائی بات کو بھی حقیر سمجھ لیتا ہے۔ وہ ایک انسان کو نظر انداز کرنے کے نام پر خود خدا کو نظر انداز کر دیتا ہے۔
قَالَ يَاشُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيرًا مِمَّا تَقُولُ وَإِنَّا لَنَرَاكَ فِينَا ضَعِيفًا ۖ وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنَاكَ ۖ وَمَا أَنْتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزٍ قَالَ يَاقَوْمِ أَرَهْطِي أَعَزُّ عَلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَاتَّخَذْتُمُوهُ وَرَاءَكُمْ ظِهْرِيًّا ۖ إِنَّ رَبِّي بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِيطٌ وَيَاقَوْمِ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ ۖ سَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَمَنْ هُوَ كَاذِبٌ ۖ وَارْتَقِبُوا إِنِّي مَعَكُمْ رَقِيبٌ انھوں نے کہا کہ اے شعیب! جو تم کہتے ہو اس کا بہت سا حصہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔ اور ہم تو دیکھتے ہیں کہ تو ہم میں کمزور ہے۔ اور اگر تیری برادری نہ ہوتی تو ہم تم کو سنگسار کر دیتے۔ اور تم ہم پر کچھ بھاری نہیں۔ نے کہا کہ اے میری قوم! کیا میری برادری تم پر اللہ سے زیادہ بھاری ہے۔ اور اللہ کو تم نے پس پشت ڈال دیا۔ بے شک میرے رب کے قابو میں ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ اور اے میری قوم! تم اپنے طریقہ پر کام کئے جاؤ اور میں اپنے طریقہ پر کرتا رہوں گا۔ جلد ہی تم کو معلوم ہو جائے گا کہ کس کے اوپر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور کون جھوٹا ہے۔ اور انتظار کرو، میں بھی تمہارےساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں ۹۳ - ۱۹ حضرت شعیب کو حدیث میں خطیب الانبیاء کہا گیا ہے۔ آنجناب اپنی قوم کو اس کی اپنی قابل فہم زبان میں نہایت موثر انداز میں سمجھاتے تھے۔ پھر آپ کی بات اس کی سمجھ میں کیوں نہیں آئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قوم کا ذہنی
سانچہ بگڑا ہوا تھا۔ اس کے سوچنے کا انداز اور تھا اور حضرت شعیب کے سوچنے کا انداز اور۔ اس بنا پر آنجناب کی بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی تھی۔
قوم انسانوں کی تعظیم میں گم تھی۔ آپ اس کو ایک اللہ کی تعظیم کی طرف بلاتے تھے۔ وہ خوش عقیدگی کو نجات کا ذریعہ سمجھے ہوئے تھی آپ کا کہنا تھا کہ صرف عمل کے ذریعہ نجات ہو سکتی ہے۔ قوم کا خیال تھا کہ وہ اپنے کو مومن سمجھتی ہے اس لئے وہ مومن ہے۔ آپ نے کہا کہ مومن وہ ہے جو خدا کی میزان میں مومن قرار پائے۔ قوم کے نزدیک نماز کی حیثیت بس ایک غیر موثر قسم کے رسمی ضمیمہ کی تھی۔ آپ نے اعلان کیا کہ نماز آدمی کی زندگی اور اس کے آمد و خرچ کی محاسب قوم سمجھتی تھی کہ ایمان بس ایک بے روح اقرار ہے، آپ نے بتایا کہ ایمان وہ ہے جو ایک زندہ شعور کے طور پر حاصل ہوا ہو۔
اس طرح حضرت شعیب اور ان کی قوم کے درمیان ایک قسم کا فصل (Gap) پیدا ہو گیا تھا۔ یہی ذہنی فصل قوم کے لئے آپ کی سیدھی اور سچی بات کو سمجھنے میں رکاوٹ بنارہا۔
" اگر تمھارا قبیلہ نہ ہوتا تو ہم تم کو سنگسار کر دیتے " یہ جملہ بتاتا ہے کہ حضرت شعیب کی قوم کس قدر بے حس اور ظاہر پرست ہو چکی تھی۔ قصہ یہ تھا کہ حضرت شعیب نے جب قوم کے دینی بھرم کو بے نقاب کیا تو قوم کے لوگ ان کے دشمن اس وقت حضرت شعیب کے ساتھ نہ عوام کی بھیڑ تھی جو لوگوں کو روکے اور نہ آپ دولت اور حیثیت کے مالک تھے جس کو دیکھ کر لوگ مرعوب ہوں۔ آپ کے پاس صرف صداقت اور معقولیت کا زور تھا اور ایسے لوگوں کے نزدیک صرف صداقت اور معقولیت کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔
ایسی حالت میں وہ یقیناً آپ پر قاتلانہ حملہ کر دیتے ۔ تاہم جس چیز نے انھیں اس قسم کے اقدام سے روکا وہ قبیلہ کے انتقام کا اندیشہ تھا۔ قبائلی دور میں قبیلہ کے کسی فرد کو مارنے کا مطلب یہ تھا کہ قبائلی دستور کے مطابق پورا قبیلہ اس سے خون کا بدلہ لینے کے لئے اُٹھ کھڑا ہو جائے۔ یہ اندیشہ قوم شعیب کے لئے آپ کے خلاف کسی انتہائی اقدام میں مانع بن گیا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے موجودہ زمانہ میں شر پسند افراد کی شرارت سے اکثر اوقات لوگ اس لئے محفوظ رہتے ہیں کہ ان کو اندیشہ ہوتا ہے کہ اگر انہوں نے کوئی جارحیت کی تو ان کو پولیس اور عدالت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبًا وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا ۖ وَأَخَذَتِ الَّذِينَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دِيَارِهِمْ جَاثِمِينَ ﴿٩٤﴾ كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا فِيهَا ۗ أَلَا بُعْدًا لِمَدْيَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُودُ ﴿۹۵﴾ اور جب ہمارا حکم آیا، ہم نے شعیب کو اور جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے اپنی رحمت سے بچا لیا اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو کڑک نے پکڑ لیا۔ پس وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ گویا کہ کبھی ان میں بسے ہی نہ
سنو ، پھٹکار ہے مدین کو جیسے پھٹکار ہوئی تھی ثمود کو ۔ ۹۵ - ۹۳ حضرت شعیب کی قوم کے لوگ سمجھتے تھے کہ وہ مدین کے مالک ہیں جو چیز انہیں امتحان کی مصلحت کے تحت دی گئی تھی اس کو انھوں نے اپنا مستقل حق سمجھ لیا۔ اس احساس کے تحت انھوں نے آپ کے خلاف جارحانہ تدبیریں کیں۔ انھوں نے آپ کو یہ دھمکی بھی دی کہ ہم تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو اپنی سر زمین سے نکال دیں گے ( الاعراف ۸۸) مگر وہی زمین جس کو وہ اپنی زمین سمجھتے تھے اور جس کے وہ مالک بنے ہوئے تھے۔ وہاں خدا کے حکم سے ہولناک گڑگڑاہٹ کے ساتھ زلزلہ آیا۔ جس کے نتیجہ میں یہ پورا علاقہ تباہ ہو گیا۔ وہ خود اپنی دنیا میں اس طرح مٹ کر رہ گئے جیسے کبھی ان کا وجود ہی نہ تھا۔ البتہ قوم کے وہ افراد جنھوں نے حضرت شعیب کی بات مانی تھی اور آپ کے ساتھ ہو گئے تھے ان کو خصوصی نصرت سے بچا لیا گیا۔
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَى بِايَتِنَا وَسُلْطَنٍ مُّبِينٍ إِلَى فِرْعَوْنَ و ملاہ فَاتَّبَعُوا أَمْرَ فِرْعَوْنَ وَمَا أَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيدٍ يُقَدُّمُ قَوْمَهُ يَوْمَ الْقِيُّمَةِ فَأَوْرَدَهُمُ النَّارَ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ وَأُتْبِعُوا فِي هَذِهِ لَعْنَةً وَيَوْمَ الْقِيُّمَةِ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُودُ اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں اور واضح سند کے ساتھ بھیجا، فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔ پھر وہ فرعون کے حکم پر چلے حالانکہ فرعون کا حکم راستی پر نہ تھا۔ قیامت کے دن وہ اپنی قوم کے آگے ہوگا اور ان کو آگ پر پہنچائے گا۔ اور کیسا بُرا گھاٹ ہے جس پر وہ پہنچیں گے۔ اور اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگادی گئی اور قیامت کے دن بھی۔ کیسا بُرا انعام ہے جو اُن کو ملا۔ حضرت موسیٰ نے حق کی دعوت آخری ممکن حد تک پیش کردی۔ انھوں نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو نہ صرف نظری طور پر بے ہیں کر دیا۔ بلکہ عصا کے معجزے کی صورت میں اپنی صداقت کا کھلا ہوا ظاہری ثبوت بھی انھیں دکھا دیا۔ پھر بھی فرعون کی قوم فرعون ہی کے ساتھ رہی، وہ حضرت موسیٰ کا ساتھ دینے پر تیار نہ ہوئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں کے نزدیک ساری اہمیت اقتدار اور دنیوی ساز و سامان کی تھی اور یہ چیزیں وہ حضرت موسیٰ کے اندر نہ دیکھتے تھے۔ وہ آپ کی باتوں پر حیران ضرور ہوتے تھے۔ مگر جب وہ حضرت موسیٰ کا مقابلہ فرعون سے کرتے تو ان کو ایک طرف یہ سرو سامانی دکھائی دیتی اور دوسری طرف ہر قسم کا مادی جاہ و جلال۔
یہ تقابل ان کے لئے فیصلہ کن بن گیا۔ اور وہ دلائل اور معجزات دیکھنے کے باوجود اس کے لئے تیار نہ ہوئے کہ فرعون کو چھوڑ دیں اور اس سے الگ ہو کر حضرت موسیٰ کے ساتھ ہو جائیں۔
جو لوگ دنیا میں کسی کا ساتھ صرف اس لئے دیں گے کہ اس کے پاس مادی بڑائی کی چیزیں تھیں، وہ آخرت میں بھی اس کےساتھ کردئے جائیں گے۔ مگر دنیا کے برعکس یہ بہت برا ساتھ ہوگا۔ کیونکہ اس دن اس آدمی سے اس کا تمام سامان چھن چکا ہوگا۔ اب اس کا وجود صرف ذلت اور بربادی کا نشان ہوگا۔ وہ اپنے ساتھیوں کو بھی اسی آگ میں پہنچا دے گا۔ جو خود اس کے لئے اس کی گمراہ قیادت کے نتیجہ میں خدا کی طرف سے مقدر کی جا چکی ہے۔
ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْقُرَى نَقُصُّهُ عَلَيْكَ مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِيدٌ وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَكِنْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ لَمَّا جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍ یہ بستیوں کے کچھ حالات ہیں جو ہم تم کو سنا رہے ہیں۔ ان میں سے بعض اب تک قائم ہیں اور بعض مٹ گئیں۔ نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ بلکہ انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔ پھر جب تیرے رب کا حکم آگیا تو ان کے معبودان کے کچھ کام نہ آئے جن کو وہ اللہ کے سوا پکارتے تھے۔ اور انہوں نے ان کے حق میں بربادی کے سوا اور کچھ نہیں ۱۰۱ - ۱۰۰ قدیم تاریخوں میں بادشاہوں اور فوجی جنرلوں کے حالات درج ہیں مگر نبیوں اور ان کی اقوام کے حالات کسی تاریخ میں درج نہیں۔ دوسری طرف قرآن کو دیکھئے تو اس میں سب سے زیادہ اہتمام کے ساتھ نبیوں اور ان کی قوموں کے حالات ملتے ہیں۔ بقیہ باتیں اس نے اس طرح نظر انداز کر دی ہیں جیسے اس کی نظر میں ان کی کوئی اہمیت نہیں۔ انسان نے جو تاریخ لکھی اس میں اس نے وہی بات چھوڑ دی جو خالق کے نزدیک سب سے زیادہ قابل تذکرہ تھی۔
دور نبوت کی ان ہلاک شدہ بستیوں میں سے بعض بستیاں ایسی ہیں جو ابھی تک آباد ہیں۔ جیسے مصر جو فرعون کا مقام تھا۔ دوسری طرف قوم ہود اور قوم لوط جیسی اقوام ہیں جن کی بستیاں ان کے باشندوں سمیت البتہ کہیں کہیں ان کے کچھ نشانات کھنڈر کی صورت میں کھڑے ہیں یا زمین کی کھدائی سے برآمد کئے گئے ہیں۔
ان بستیوں کا ہلاک کیا جانا بظاہر ایک ظالمانہ واقعہ معلوم ہوتا ہے۔ مگر جب یہ دیکھئے کہ کیوں ایسا ہوا
تو وہ عین مطابق حقیقت بن جاتا ہے۔ کیونکہ یہ ان کی اپنی بدعملی کے نتائج تھے۔ جو کچھ ہوا وہ ان کی بدکرداری کے بعد ہوا نہ کہ ان کی بدکرداری سے پہلے۔
جب بھی آدمی سرکشی اور ظلم کرتا ہے تو وہ کسی برتے پر کرتا ہے۔ وہ کچھ چیزوں کو اپنا سہارا سمجھ لیتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ مشکل وقتوں میں اس کے مددگار ثابت ہوں گے۔ مگر یہ سہارے اسی وقت تک سہارے ہیں جب تک خدا ڈھیل دے رہا ہو۔ جب خدا کے قانون کے مطابق ڈھیل کی مدت ختم ہو جائے اور خدا اپنا آخری فیصلہ ظاہر کر دے اس وقت آدمی کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ سب محض جھوٹے مفروضے تھے جن کو اس نے اپنی نادانی کی وجہ سے سہارا سمجھ لیا تھا۔ وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ ۚ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ۚ ذَلِكَ يَوْمٌ مَجْمُوعٌ لَهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَشْهُودٌ (١٠٣) وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَعْدُودٍ (١٠٤) يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ اور تیرے رب کی پکڑ ایسی ہی ہے جب کہ وہ بستیوں کو ان کے ظلم پر پکڑتا ہے۔ بہ شک اس کی پکڑ بڑی دردناک اور سخت ہے۔ اس میں ان لوگوں کے لئے نشانی ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈریں۔ وہ ایک ایسا دن ہے جس میں سب لوگ جمع ہوں گے۔ اور وہ حاضری کا دن ہوگا۔ اور ہم اس کو ایک مدت کے لئے ٹال رہے ہیں جو مقرر ہے۔ جب وہ دن آئے گا تو کو ئی جان اس کی اجازت کے بغیر کلام کر سکے گی۔ پس ان میں کچھ بدبخت ہونگے اور کچھ نیک بخت ۱۰۲ - ۱۰۵۔ موجودہ دنیا میں انسان کو رہنے اور بسنے کا موقع صرف امتحان کی بنا پر حاصل ہے۔ پیغمبروں کے ذریعہ اتمامِ حجت کے بعد بھی جو لوگ منکر بنے رہیں وہ خدا کی زمین میں مزید ٹھہرنے کا حق کھو دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبروں کے منکرین کو خدا نے ہلاک کر دیا (عنکبوت (۴۰) یہ ہلاکت زیادہ تر اس طرح ہوئی کہ عام زمینی آفتوں میں شدّت پیدا کر دی گئی مثلاً آندھی، سیلاب، یا زلزلہ جو عام حالات میں ایک حد کے اندر رہتے ہیں، ان کو غیر محدود طور پر نیند کر دیا گیا۔ ماضی میں اس طرح قوموں کی تباہی کے واقعات کو جغرافیائی تاریخ کے علماء موسمی تغیرات (Climatic Pulsations) کا نام دیتے ہیں۔ گویا جو کچھ ہوا وہ محض جغرافیائی انقتل تپش کے نتیجہ میں ہوا۔ اگر چہ وہ اس واقعہ کی کوئی تو جیہہ نہیں کر پاتے کہ اس قسم کے شدید موسمی تغیرات صرف ماضی میں کیوں پیش آئے۔ وہ اب ختم نبوت
کے بعد) کیوں نہیں پیش آتے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعات سادہ معنوں میں صرف جغرافی واقعات نہ تھے بلکہ یہ حکم خداوندی کا ظہور تھا۔ ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام عدل پر قائم ہے۔ یہاں خود قانون قدرت کے تحت لازماً ایسا ہونے والا ہے کہ ظالم اپنے ظلم کی سزا پائے اور عادل کو اپنے عدل کا انعام ملے۔ ان واقعات کو محض تغیرات کہنا ان کو جغرافیہ کے خانہ میں ڈال دینا ہے۔ اس کے برعکس اگر ان کو خدائی تغییرات مانا جائے تو وہ آدمی کے لئے خوف خدا اور فکر آخرت کا زبر دست سبق بن جائیں گے۔
پیغمبروں کے زمانہ میں جو واقعات پیش آئے وہ گویا بڑی قیامت سے پہلے اس کی ایک چھوٹی نشانی تھے۔ ان میں ایسا ہوا کہ منکرین کو ایک مدت تک ڈھیل دی گئی۔ اس کے بعد خدا کا فیصلہ ظاہر ہوا تو سب کے سب ہلاک کردئے گئے۔ صرف وہ لوگ بچ سکے جو حق کا ساتھ دینے کی وجہ سے خدا کے نزدیک نیک بخت قرار پا چکے تھے۔ کے علاوہ جو لوگ خدا کی میزان میں سرکش اور بد بخت تھے وہ لازمی طور پر عذاب کی زد میں آئے۔ حتیٰ کہ پیغمبروں کی سفارش بھی ان کو بچا نہ سکی ، جیسا کہ حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کی مثال سے ثابت ہوتا ہے۔ فَأَمَّا الَّذِينَ شَقُوا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَشَهِيقٌ ( خَالِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ ) وَأَمَّا الَّذِينَ سُعِدُوا فَفِي الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ فَلَا تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِمَّا يَعْبُدُ هَؤُلَاءِ مَا يَعْبُدُونَ إِلَّا كَمَا يَعْبُدُ آبَاؤُهُمْ مِنْ قَبْلُ وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوصٍ )
پس جو لوگ بد بخت ہیں وہ آگ میں ہوں گے۔ ان کو وہاں چیخنا ہے اور دھاڑنا۔ وہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں، مگر جو تیرا رب چاہے۔ بے شک تیرا رب کر ڈالنا ہے جو چاہتا ہے۔ اور جو لوگ نیک بخت ہیں تو وہ جنت میں ہوں گے وہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں، مگر جو تیرا رب چاہے بخشش ہے بے انتہا۔ پس تو ان چیزوں سے شک میں نہ رہ جن کی یہ لوگ عبادت کر رہے ہیں۔ یہ تو بس اسی طرح عبادت کر رہے ہیں جس طرح ان سے پہلے ان کے باپ دادا عبادت کر رہے تھے۔ اور ہم ان کا حصہ انہیں پورا پورا دیں گے بغیر کسی کمی کے ۔ ۱۰۶ - ۱۰۷۔
قرآن میں سب سے زیادہ اہمیت اور سب سے زیادہ تکرار کے ساتھ جس چیز کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ انسان اپنی موجودہ حالت پر چھوڑ نہیں دئے جائیں گے۔ بلکہ موت کے بعد وہ خدا کی عدالت میں حاضر کئے جائیں گے ۔ وہاں ہر ایک اپنی کار کردگی کے مطابق جنت یا دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ اس اہمیت اور تکرار کی وجہ لوگوں کا "شک" ہے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ زمین پر بے شمار انسان ایسے ہیں جو خدا کی ہدایت کو نہیں مانتے ۔ بے شمار انسان ایسے ہیں جو خدا کی ہدایت سے آزاد ہو کر عمل کرتے ہیں۔ بیشتر انسان خدا پسند زندگی کے بجائے خود پسند زندگی گزار رہے ہیں۔ پھر بھی ان کا کچھ نہیں بگڑتا پھر بھی سارے لوگ کامیاب ہیں۔ بظاہر یہاں کہیں دکھائی نہیں دیتا کہ خدا کے وفاداروں کو کوئی خصوصی انعام مل رہا ہو۔ یا خدا کے نافرمانوں کو کوئی خاص سزا بھگتنی پڑتی ہو۔
اس بنا پر لوگوں کو شک ہونے لگتا ہے۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ انسانوں کا جو انجام مسلسل وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اس کے سوا بھی کوئی انجام ان کے لئے مقدر ہے۔ یہاں قرآن بتاتا ہے کہ لوگوں کا مسلسل غیر حق پر چلنا اس لئے نہیں ہے کہ انھوں نے مسئلہ کے تمام پہلوؤں پر غور کیا اور پھر اس کو معقول پا کر اسے اختیار کر لیا۔ اس کا سبب در اصل رواج کی پیروی ہے نہ کہ دلیل اور معقولیت
اس کے باوجود لوگوں کے عمل کا انجام ان کے سامنے نہیں آتا تو اس کا سبب مہلت امتحان ہے۔ زمین پر موت سے پہلے کی زندگی جانچ کی زندگی ہے۔ اس لئے موت تک انسان کو یہاں ڈھیل دی جارہی ہے کہ وہ جو چاہے بولے اور جو چاہے کرے۔ موت اس مقررہ مدت کا خاتمہ ہے۔ موت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو مقام امتحان سے اٹھا کر مقام عدالت میں پہنچا دیا جائے۔ وہاں ہر ایک کو وہی ملے گا جس کا وہ فی الواقع مستحق تھا اور ہر ایک سے وہ چھن جائے گا جس کو اس نے استحقاق کے بغیر اپنے گرد جمع کر رکھا تھا۔ وَلَقَدْ اَتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِيْهِ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ وَاِنَّهُمْ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيْبٍ * وَاِنَّ كُلًّا لَمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ اِنَّهُ بِمَا يَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ * اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی۔ پھر اس میں پھوٹ پڑ گئی۔ اور اگر تیرے رب کی طرف سے پہلے ہی ایک بات نہ آچکی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ کر دیا جاتا۔ اور ان کو اس میں شبہ ہے کہ وہ مطمئن نہیں ہونے دیتا اور یقیناً تیرا رب ہر ایک کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ دے گا۔ وہ باخبر ہے اس سے جو وہ کر رہے ہیں۔
"موتی کی کتاب میں اختلاف" کا مطلب یہ ہے کہ اس کے مخاطبین اس کے بیانات کے بارے میں کئی رائے ان میں سے کچھ لوگوں نے جھٹلایا اور کچھ لوگوں نے تسلیم کیا فاختلف فِى ذَالِكَ الْكِتَابِ۔ فَكُذِّبَ بِهٖ بَعْضُهُمْ وَصُدِّقَ بِهٖ بَعْضُهُمْ، الطَّبَرِی)
جب بھی کوئی بات کہی جائے تو آدمی اس کے بارے میں ہمیشہ دو چیزوں کے درمیان ہوتا ہے۔ دوسرے، غلط تعبیر۔ اگر سننے والے فی الواقع سنجیدہ ہوں تو وہ ہمیشہ ایک ہی صحیح تعبیر تک پہنچیں گے ان کی سنجیدگی ان کے لئے اتحاد رائے کی ضامن بن جائے گی۔ اس کے برعکس اگر وہ بات کے بارے میں سنجیدہ نہ ہوں تو وہ اس کو کوئی اہمیت نہ دیں گے اور اپنے اپنے خیال کے مطابق اس کی مختلف تعبیریں کریں گے۔ بات کہے گا، کوئی دوسری بات۔ اس طرح ان کی غیر سنجیدگی انہیں اختلاف رائے تک پہنچادے گی۔ یہ صورت تمام پیغمبروں کے ساتھ پیش آئی۔ اس کے باوجود خدا اس کو گوارا کرتا رہا اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا نے موجودہ دنیا کو عمل کی جگہ بنایا ہے اور اگلی آنے والی دنیا کو بدلہ پانے کی جگہ۔ خدا کی یہی سنت ہے جس کی بنا پر لوگوں کو مکمل آزادی ملی ہوئی ہے۔ موجودہ صورت حال اسی مہلت امتحان کی بنا پر ہے نہ کہ خدا کے عجز یا لوگوں کے کسی استحقاق کی بنا پر۔
فَاسْتَقِمْ كَمَا اُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا ۚ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيْرٌ وَلَا تَرْكَنُوۡا اِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ ۙ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللَّهِ مِنْ اَوْلِيَاءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللیل ۙ اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ ۚ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّكِرِينَ وَاصْبِرْ فَاِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ پس تم جمے رہو جیسا کہ حکم کو حکم ہوا ہے اور وہ بھی جنھوں نے تمہارے ساتھ توبہ کی ہے اور حد سے نہ بڑھو بیشک وہ دیکھ رہا ہے جو تم کرتے ہو۔ اور ان کی طرف نہ جھکو جنھوں نے ظلم کیا، ورنہ تم کو آگ پکڑ لے گی اور اللہ کے سوا تمہار اکوئی مددگار نہیں، پھر تم کہیں مدد نہ پاؤگے اور نماز قائم کرو دن کے دونوں حصوں میں اور رات کے کچھ حصہ میں۔ بے شک نیکیاں دور کرتی ہیں برائیوں کو۔ یہ یاد دہانی ہے یاد دہانی حاصل کرنے والوں کے لئے اور صبر کرو اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا ۱۵ - ۱۱۲ دعوت حق کا ابتدائی استقبال نظر انداز کرنے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے بعد مخالفت شروع ہوتی ہے، یہاں تک کہ مخالفت اپنے آخری نقطہ پر پہنچ جاتی ہے۔ یہ داعیوں کے لئے بڑا نازک وقت ہوتا
اس وقت ان کے درمیان دو قسم کے ذہن ابھرتے ہیں۔ کچھ لوگ جھنجھلا کر یہ چاہنے لگتے ہیں کہ مخاطبین ٹکرا جائیں اور ان لوگوں سے قوت کے ذریعے پمیٹیں جن کے لئے نظری دلائل بے اثر ثابت ہوئے ہیں۔ دوسرا ذہن وہ ہے جو یہ سوچتا ہے کہ مخاطبین کے لئے قابل قبول بنانے کی خاطر اپنی دعوت میں کچھ ترمیم کر لی جائے۔ کے ان اجزا کا ذکر نہ کیا جائے جن کو سن کر مخالفین بگڑ جاتے ہیں۔
پہلا رویہ اگر حد سے تجاوز کرنا ہے تو دوسرا رویہ باطل سے مصالحت کرنا۔ اور یہ دونوں ہی اللہ کی نظر میں یکساں طور پر غلط ہیں۔ خاص طور پر دوسری چیز (قابل قبول بنانے کی خاطر تبدیلی) تو جرم کا درجہ رکھتی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے وہ حق کا اعلان ہے۔ کی صورت میں حق کا واضح اعلان نہیں ہو سکتا۔
دعوت کی راہ میں جب بھی کوئی مشکل پیش آئے تو داعی کو چاہئے کہ خدا کی طرف زیادہ سے زیادہ رجوع کرے کیونکہ سب کچھ کرنے والا وہی ہے۔ خدا کی مدد ہی تمام مشکلات کے حل کا واحد یقینی ذریعہ ہے۔ فَلَوْلَا كَانَ مِنَ الْقُرُونِ مِنْ قَبْلِكُمْ اولوا بَقِيَّةٍ يَنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الْأَرْضِ إِلَّا قَلِيلًا مِمَّنْ أَنْجَيْنَا مِنْهُمْ ۖ وَاتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مَا أُتْرِفُوا فِيهِ وَ كَانُوا مُجْرِمِينَ وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ ) پس کیوں نہ ایسا ہوا کہ تم سے پہلے کی قوموں میں ایسے اہل خیر ہوتے جو لوگوں کو زمین میں فساد کرنے سے روکتے۔ ایسے تھوڑے سے لوگ نکلے جن کو ہم نے ان میں سے بچا لیا۔ اور ظالم لوگ تو اسی عیش میں پڑے رہے جو انہیں ملا تھا اور وہ مجرم تھے۔ اور تیرا رب ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ناحق تباہ کر دے حالانکہ اس کے باشندے سے اصلاح کرنے والے ہوں ۱۱۶ - یہاں پچھلوں سے مراد پچھلی امتیں بالفاظ دیگر پچھلی مسلم قومیں ہیں۔ قوم کا بگاڑ ہمیشہ اس طرح ہوتا ہے کہ دنیوی سامان جو خدا کی طرف سے انہیں اس لئے دیا گیا تھا کہ اس سے ان کے اندر شکر کا جذبہ ابھرے، وہ ان کے لئے سرمستی اور دنیا پرستی پیدا کرنے کا ذریعہ بن گیا۔
ایسی حالت میں مسلم قوم کی اصلاح کے لئے جو کام کرنا ہے اس کا عنوان شریعت کی اصطلاح میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔ یہ حکم ایک مسلمان کی اس ذمہ داری کو بتاتا ہے جو اپنے قریبی ماحول کی اصلاح کے سلسلے میں اس پر عائد ہوتی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مسلم معاشرہ میں ہمیشہ ایسے افراد موجود رہنے چاہئیں جو مسلمانوں کو خدا اور آخرت کی یاد دلائیں۔ وہ ان کے اخلاق کی نگرانی کریں۔ وہ معاملات میں
ان کو راہ راست پر قائم رکھنے کی کوشش کریں۔
کسی قوم میں ایسے اہل خیر کا نہ نکلنا ہمیشہ دوسبب سے ہوتا ہے۔ یا تو پوری قوم بگڑ چکی ہو اور اس میں کوئی صالح انسان باقی نہ رہا ہو۔ یا صالح افراد موجود تو ہوں مگر عمومی بگاڑ کی وجہ سے وہ زبان کھولنے کی ہمت نہ کرتے ہوں۔ انھیں اندیشہ ہو کہ اگر انھوں نے سچی بات کہی تو قوم کے درمیان وہ بے عزت ہو کر رہ
مذکورہ دونوں صورتوں میں قوم خدا کی نظر میں اپنا اعتبار کھو دیتی ہے اور اس کی مستحق ہو جاتی ہے کہ ایک یا دوسری صورت میں وہ عتاب خدا وندی کی زد میں آ جائے۔
وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَّاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ ﴿۱۱۸﴾ إِلَّا مَّنْ رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبُّكَ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ﴿۱(۱۱۹۔ اور اگر تیرا رب چاہتا تو لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا مگر وہ ہمیشہ اختلاف میں رہیں گے، سو ان کے جن پر تیرا رب رحم فرمائے۔ اور اس نے اسی لئے ان کو پیدا کیا ہے۔ اور تیرے رب کی بات پوری ہوئی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سے اکٹھے بھر دوں گا ۱۹ - ۱۱۸ ہماری دنیا میں انسان کے سوا دوسری بے شمار مخلوقات بھی ہیں۔ یہ سب ہمیشہ فطرت کے ایک ہی مقرر راستہ پر چلتی ہیں۔ اسی طرح انسان کو بھی خدا ایک ہی صراط مستقیم کا پابند بنا سکتا تھا۔ مگر انسان کے بارہ میں خدا کی یہ اسکیم ہی نہیں۔ انسان کے سلسلہ میں خدا کا منصوبہ یہ تھا کہ ایک ایسی مخلوق پیدا کی جائے جو خود اپنے آزادانہ اختیار کے تحت ایک چیز کو لے اور دوسری چیز کو چھوڑ دے۔ انسان کی دنیا میں اختلاف (کسی کا ایک راستہ پر چلنا اور کسی کا دوسرے راستہ پر) دراصل اسی خاص خدائی منصوبہ کی بنا پر ہے۔ یہ منصوبہ یقیناً ایک پر خطر منصوبہ تھا کیونکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ بہت سے لوگ آزادی کا غلط استعمال کر کے اپنے آپ کو جہنم کا مستحق بنا لیں گے۔ مگر اسی پر خطر منصوبہ کے ذریعے وہ اعلی روحیں بھی چنی جاسکتی تھیں جو خدا کی رحمت خاص کی مستحق قرار پائیں۔ خدا نے اپنی رحمتیں ساری کائنات کو بطور عطیہ دے رکھی اب خدا نے یہ منصوبہ اس لئے بنایا تا کہ اپنی رحمت وہ اپنی ایک مخلوق کو یہ کہہ کر دے کہ یہ تمھارا حق ہے۔ خدا کی رحمت اس شخص کو ملتی ہے جس کا شعور اتنا بیدار ہو گیا ہو کہ وہ امتحانی اختیار کے اندر اپنی حقیقی بے اختیاری کو جان لے۔ وہ انسانی فطرت کے پردہ میں خدا کی قدرت کو دیکھ لے۔ یہ شعور ایسے
آدمی سے سرکشی کی طاقت چھین لیتا ہے۔ حتیٰ کہ اس کا یہ حال ہو جاتا ہے کہ جب خدا اپنی رحمت کو اس کا حق کہہ کر پیش کرے تو اس کا شعور حقیقت پکار اٹھے ـــــ خدایا یہ بھی تیری رحمتوں ہی کا ایک کرشمہ ہے۔ میرا عمل تو کسی قیمت کا مستحق نہیں۔
وَكُلًّا نَّقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنْبَاءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِ فُؤَادَكَ ۚ وَجَاءَكَ فِي هَذِهِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌ وَذِكْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ ﴿﴾ وَقُلْ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَامِلُونَ ﴿﴾ وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ ﴿﴾ وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ ۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ﴿﴾ اور ہم رسولوں کے احوال سے سب چیزیں سنا رہے ہیں۔ جس سے تمھارے دل کو مضبوط کریں اور اس میں تمھارے پاس حق آیا ہے اور مومنوں کے لئے نصیحت اور یاد دہانی۔ اور جو لوگ ایمان نہیں لائے ان سے کہو کہ تم اپنے طریقہ پر کرتے رہو اور ہم اپنے طریقہ پر کر رہے ہیں۔ اور انتظار کرو، ہم بھی منتظر ہیں۔ اور آسمانوں اور زمین کی چھپی بات اللہ کے پاس ہے اور وہی تمام امور کا مرجع ہے۔ پس تم اس کی عبادت کرو اور اسی پر بھروسہ رکھو اور تمھا را رب اس سے بے خبر نہیں جو تم کر رہے ہو، ۲۳ - ۱۲۰ قرآن میں رسولوں کے احوال اس لئے سنائے گئے ہیں کہ بعد کے داعیوں کو اس سے سبق حاصل ہو ۔ رسولوں کے احوال میں داعی دیکھتا ہے کہ ان کی مخاطب قوموں نے ان سے جھگڑے کئے، سیدھی بات کو غلط رخ دے کر انہیں مطعون کیا۔ ان کو طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائیں۔ ان کو اس طرح رد کر دیا جیسے ان کی کوئی قیمت
مگر بالآخر اللہ نے ان کی مدد کی۔ ان کی بات سب سے برتر ثابت ہوئی۔ مخالفین کی تمام کارروائیاں ناکام ہو کر رہ گئیں۔ دونوں گروہوں کا یہ مختلف انجام اپنی ابتدائی صورت میں موجودہ دنیا ہی میں پیش آیا اور آخرت میں وہ اپنی کامل ترین صورت میں پیش آئے گا۔
ان مثالوں سے داعی کو یہ تاریخی اعتماد حاصل ہوتا ہے کہ اس کو دعوت حق کی راہ میں جو مشکلیں پیش آرہی ہیں ان میں اس کے لئے نہ مایوسی کا سوال ہے اور نہ گھبراہٹ کا۔ دعوت حق کی راہ میں یہ چیزیں ہمیشہ پیش آتی ہیں۔ اور اس کو بھی بالآخر اسی طرح کامیابی حاصل ہوگی جس طرح اس سے پہلے خدا کے بچے داعیوں کو