Al-Risala · January 1983

دعا

Al-Risala, January 1983, pp. 41–46

By Maulana Wahiduddin Khan

دعا کا تصور عام لوگوں کے ذہن میں تقریباً وہی ہے جو عاملین کے یہاں پر اسرار کلمات کا ہوتا ہے۔ عامل یہ سمجھتے ہیں کہ فلاں فلاں الفاظ کسی خاص ترتیب یا خاص تعداد میں زبان سے ادا کر دیئے جائیں تو اس کا لازمی نتیجہ فلاں صورت میں برآمد ہوگا۔ اسی طرح لوگوں کا خیال ہے کہ دعا الفاظ کے کسی مجموعہ کا نام ہے جس میں خاص تاثیرات چھپی ہوئی ہیں۔ اگر آدمی دعا کے ان الفاظ کو صحیح تلفظ کے ساتھ ادا کر دے تو اس کے نتیجہ میں وہ تمام تاثیرات لازماً ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گی۔

مگر یہ خیال صحیح نہیں۔ دعا اپنی حقیقت کے اعتبار سے کسی خاص قسم کے لفظی مجموعہ کا نام نہیں ہے بلکہ ان کیفیات کا نام ہے جو احساس احتیاج کے تحت آدمی کے اندر پیدا ہوتی ہیں اور پھر لفظوں کی صورت میں ڈھل جاتی ہیں ۔

قرآن میں بہت سے انبیار اور صلحار کی دعائیں مذکور ہیں (مثلاً حضرت موسیٰ کی دعا، اصحاب کہف کی دعا، امرأۃ فرعون کی دعا یہ ثابت ہے کہ ان لوگوں کی زبان عربی نہیں تھی۔ انبیار کے متعلق قرآن میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ وہ مختلف علاقوں میں آئے اور وہ جہاں آئے وہیں کی مقامی زبان میں کلام کرتے اس سے ظاہر ہے کہ ان کی دعا ان کی اپنی مادری زبان (مقامی زبان) میں ہوتی تھی نہ کہ عربی زبان میں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن میں ان کی دعا صرف معناً مذکور ہے نہ کہ لفظاً۔

اسی طرح حدیث میں بہت سے انبیار کی دعائیں مذکور ہیں۔ مثلاً حضرت عیسیٰ کی یہ دعا جو انہوں نے اپنے ایک شاگرد کو سکھائی:

اللهم فارج الهم دكاشف الغم ومجيب دعوة المضطرين رحمن الدنيا الآخرة رحيمهما انت ترحمني فارحمني برحمة تُغنيني بها عن رحمة من سواك (رواه البزار والحاكم والاصبهاني)

اے غم کو دور کرنے والے اور مجبور کی پکار کو سننے والے، دنیا اور آخرت کے رحمان اور رحیم، تو ہی مجھ پر رحم کرتا ہے۔ مجھ پر ایسی رحمت کر جس کے بعد میں تیرے سوا دوسرے کی رحمت سے بے نیاز ہو جاؤں۔ ظاہر ہے کہ حضرت مسیح کی زبان عربی نہیں تھی اس لئے یقینی طور پر یہ دعا انھوں نے اس زبان میں بتائی جو ان کی اور حواریوں کی پیدائشی زبان تھی۔ حدیث میں یہ دعا اگرچہ عربی زبان میں نقل ہوئی ہے مگر یہ نقل بالمعنیٰ ہے نہ کہ نقل بالالفاظ۔

قرآن میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے :

لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة تمھارے لئے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے، لمن كان يرجوا الله واليوم الآخر وذکو ہر اس شخص کے لئے جو اللہ کا اور آخرت کے دن الله كثيرا (الاحزاب (۲۱) کا امیدوار ہو اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرے ۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہر انسان کے لئے مکمل نمونہ مگر اس کے ساتھ یہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ یہ نمونہ صرف اس شخص کے لئے ہے جو اللہ کو بہت زیادہ یاد کرنے والا ہو ، جو اللہ اور آخرت کا امیدوار بن چکا ہو۔

گویا رسول کی زندگی کا نمونہ، پوری طرح موجود ہونے کے باوجود، اپنے آپ ہر آدمی کے لئے نمونہ نہیں بن جائے گا۔ وہ صرف اس بندہ خدا کے لئے نمونہ بنے گا جس نے اللہ کو اتنی گہرائی کے ساتھ پایا ہو کہ وہ اس کی یادوں میں سما جائے۔ اللہ جس کی تمناؤں کا سرمایہ بن چکا ہو۔ جس کا حال یہ ہو کہ وہ اللہ کے عذاب سے ڈرنے لگے اور آخرت کا انعام جس کی نظر میں اتنا اہم بن جائے کہ وہ دل و جان سے اس کا آرزو مند ہو۔

رسول کے اسوہ حسنہ کو پانے کے لئے یہ شرط کیوں لگائی گئی، اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی حقیقت کے ادراک کے لئے اس کے بارے میں سنجیدہ ہونا بشرط لازم ہے۔ خدا اور آخرت سے مذکورہ قسم کا تعلق ہونا آدمی کو خدا اور آخرت کی باتوں میں سنجیدہ بناتا ہے۔ یہی سنجیدگی اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو صحیح نظر سے دیکھے اور اس سے مطلوبہ سبق

اس مسئلہ کی وضاحت کے لئے ایک مثال لیجئے۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

من قتل دون ماله فهو شہید ۔ ومن قتل جو شخص اپنے مال کی حفاظت میں مارا جائے وہ شہید دون دمه فهو شهید ومن قتل دون دینہ ہے۔ جو شخص اپنے خون کی حفاظت میں مارا جائے

ومن قتل دون اهله فهو شہید وہ شہید ہے۔ جو شخص اپنے دین کی حفاظت میں مارا (ترندی، نسائی، ابو داؤد)

جائے وہ شہید ہے۔ جو شخص اپنے گھر والوں کی حفاظت میں مارا جائے وہ شہید ہے۔

جیسا کہ الفاظ سے ظاہر ہے، یہ حدیث "لڑنے" کے بارے میں نہیں ہے بلکہ "مارے جانے" کی صورت میں مومن کے انجام کو بتانے سے متعلق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ نہیں ہے کہ جب بھی کہیں کوئی مال یا خون یا دین یا اہل و عیال کا مسئلہ پیش آئے، تم فوراً لڑ جاؤ، خواہ اس کے نتیجہ میں یہی کیوں نہ ہو کہ تم قتل کر دیئے جاؤ۔ بلکہ اصل مطلب یہ ہے کہ اگر کبھی ایسا ہو کہ مذکورہ اسباب سے کوئی شخص مومن کو قتل کر دے تو اس کا قتل قتل نہیں بلکہ شہادت ہوگا۔ گویا یہ حدیث اصلاً لڑائی پر اکسانے کے لئے نہیں ہے بلکہ قتل کر دئے جانے کی صورت میں شہادت کا درجہ پانے سے متعلق ہے۔

اب جو شخص دین کے بارے میں سنجیدہ نہ ہو، جس کو اپنے ذاتی ذوق کے لئے رسول اللہ کا جواز مطلوب ہو وہ بس حدیث کے الفاظ کو لے لے گا اور اپنے نفسانی جھگڑوں اور قومی لڑائیوں کو حق بجانب ثابت کرنے کے لئے اس کو بطور دلیل پیش کرے گا۔ وہ کہے گا کہ اسلام آدمی کو مردانگی کی تعلیم دیتا ہے، وہ کہتا ہے کہ اپنے دین و ایمان ، جان و مال ، زمین و جائیداد ، بیوی بچوں اور خویش و اقارب کی حفاظت کے لئے لڑ جاؤ۔ اگر تم جیت گئے تو تم نے اپنا مقصد پالیا۔ اگر تم ہار گئے تو تم شہید ہوئے اور شہادت وہ رتبہ بلند ہے جو خوش قسمت انسانوں ہی کو ملتا ہے۔

مگر جو آدمی اللہ سے ڈرتا ہو وہ اس کو نہایت سنجیدہ ہو کر دیکھے گا۔ اس کی سنجیدگی اس کو اس سوال تک پہنچائے گی کہ جب مال اور خون اور دین اور خاندان کے دفاع میں لڑنا مرنا مطلوب ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس قسم کی برعکس مثالیں کیوں ہیں کہ آپ بہت سے مواقع پر صریع قلم کے باوجود صبر کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی صبر کی تلقین کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر ابن ہشام نے ابو عثمان النہدی کے حوالہ سے یہ واقعہ نقل کیا ہے : بلغنى ان صهيباً حين اراد الهجرة قال له مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت صہیب نے جب مکہ کفار قريش اتينـا صعد كا حقير افكثر مالك سے ہجرت کا ارادہ کیا تو کفار قریش نے ان سے کہا عند نا ویلغت الذى بلغت ثم تدرید ان تخرج کہ تم ہمارے یہاں آئے تو بالکل غریب تھے۔ بمالك ونفسك، والله لا يكون ذلك . فقال تمھارے پاس یہاں بہت مال ہو گیا اور تم اس درجہ کو

لھم صہیب ارأیتم ان جعلت لكم مالی اتخذون پہنچے جس درجہ میں تم اب ہو۔ تم چاہتے ہو کہ اپنے قال فانی جعلت لكم مالی ۔ جان و مال کے ساتھ یہاں سے چلے جاؤ تو خدا کی قال فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم قسم ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ حضرت صہیب نے ان سے فقال ربح صہیب ربح صہیب۔ کہا، اگر میں اپنا مال تمھارے حوالے کر دوں تو تم (سيرة النبی لابن هشام، الجزئوالثانی، صفحه ۸۹) مجھ کو جانے دو گے۔ انھوں نے کہا، ہاں۔ صہیب نے کہا پھر میں نے اپنا مال تمھارے حوالے راوی کہتے ہیں کہ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے فرمایا: صہیب کی تجارت کامیاب رہی، صہیب کی تجارت کامیاب رہی۔

مذکورہ حدیث میں مال کے مقابلہ میں لڑ کر جان دینا اگر مطلق معنوں میں ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چاہتے تھا کہ حضرت صہیب کو ناکامی کا الزام دیں نہ کہ انھیں کامیابی کا کریڈٹ عطا فرمائیں۔ ہجرت کے چھٹے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کے ارادہ سے مدینہ سے روانہ مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو قریش نے آگے بڑھ کر روکا۔ اس موقع پر فریقین کے درمیان صلح کی گفت و شنید ہو رہی تھی کہ وہاں ابو جندل بن سہیل آگئے۔ انھوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ اس کی وجہ سے مکہ والے ان کو سخت تکلیفیں دے رہے تھے اور ان کے پیروں میں لوہے کی زنجیریں ڈال انھوں نے جب سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب حدیبیہ میں ہیں تو وہ کسی طرح بھاگ کر مکہ سے حدیبیہ پہنچے۔ اس وقت بھی ان کے پیروں میں بیڑیاں تھیں اور ان کا جسم خون آلود ہو رہا تھا۔ ان کو دیکھ کر قریش کے سردار سہیل بن عمرو (ابو جندل کے والد) نے کہا کہ ابو جندل کو ہمیں واپس کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے بہت چاہا کہ انھیں دوبارہ مکہ نہ بھیجا جائے۔ مگر سہیل بن عمرونے کہا کہ اگر آپ نے ابو جندل کو ہمارے حوالے نہ کیا تو ہم آپ سے کسی طرح کی کوئی صلح نہیں کریں گے۔

یہ بڑا جذباتی لمحہ تھا۔ ابو جندل بیڑیوں میں خون آلود سامنے کھڑے تھے۔ انھوں نے کہا: کیا میں مشرکین کی طرف لوٹا دیا جاؤں گا، حالانکہ میں اسلام قبول کر چکا ہوں۔ لوگ دیکھتے نہیں کہ ان لوگوں نے مجھے کس قدر عذاب پہنچایا ہے۔ اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مکہ کی طرف لوٹا دیا اور ان سے کہا:

یا ابا جندل اصبر و احتسب فان اللہ اے ابو جندل ، صبر کرو، اللہ تمہارے لئے جا عل لك ولمن معك من المستضعفين اور دوسرے کمزور مسلمانوں کے لئے گنجائش فرجا و مخرجا (سيرة النبی لابن هشام، الجزء الثالث، صفحه ۳۷)

مذکورہ حدیث میں لڑنا اور شہید ہو جانا اگر مطلق معنوں میں ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پر حضرت ابو جندل کو صبر و رضا کی نصیحت نہ فرماتے۔ بلکہ انہیں شہادت کا راستہ بتاتے اور خود بھی اپنے اصحاب سمیت قریش سے لڑ جاتے۔

اسی حدیبیہ کا واقعہ ہے کہ قریش نے آپ کو روکا اور کہا کہ ہم اس سال آپ کو عمرہ کے لئے مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ آپ اس پر راضی ہو کر واپس مدینہ چلے آئے۔ کے لئے مکہ جانے پر اصرار نہیں کیا۔ حالانکہ یہ خالص دینی معاملہ تھا اور آپ خدائی بشارت کی بنیاد پر اپنے اصحاب کو لے کر زیارت حرم کے لئے جا رہے تھے۔ اگر مذکورہ حدیث میں دین کے لئے لڑ کر شہید ہونا مطلق معنوں میں ہو تو آپ کو چاہئے تھا کہ اسی سال عمرہ کرنے کے لئے اصرار کریں، خواہ اس کے نتیجہ میں عمرہ ملے یا شہادت ۔

مکہ میں عمار بن یا سر اور ان کے والدین بنو مخزوم کے غلام تھے۔ یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر اسلام میں داخل ہو گئے۔ بنو مخزوم کو ان کا اسلام لانا سخت نا پسند تھا۔ وہ ان کو عین دوپہر کے وقت صحرا میں لے جاتے اور تپتی ہوئی ریت پر لٹا کر انہیں سخت عذاب حتیٰ کہ عمار کی والدہ کو انہوں نے قتل کر دیا۔ ابن ہشام اس واقعہ کو نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: فیمر بھم رسول الله صلى الله عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم ان کے پاس سے وسلم فیقول فيما بلغنی : صبرا آل یاسر گزرتے اور جیسا کہ مجھے روایت پہنچی ہے ان موعد كم الجنة (الجزء الاول صفحه ۳۴۲) سے کہتے: اے خاندان یا سر ، صبر کرو، تمھارے لئے جنت کا وعدہ ہے۔

مذکورہ حدیث اگر مطلق معنوں میں ہو تو ایسا کہنا، نعوذ باللہ، بزدلی کی تعلیم دینا ہوگا۔ پھر تو آپ کو آل یاسر سے کہنا چاہئے تھا کہ تم لوگ لڑ کر شہید ہو جاؤ اور خود بھی اس مقدس جنگ میں ان کے ساتھ شریک ہو جاتے۔ خواہ آل یا سر کو بچا سکیں یا اسی راہ میں شہادت کا درجہ حاصل کر لیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اسوہ رسول ان چیزوں میں سے ہے جن کی ایک سے زیادہ تعبیر ممکن ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسوہ رسول کے معاملہ میں آدمی ہمیشہ صحیح تعبیر اور غلط تعبیر کے درمیان رہتا ہے۔ اور جو چیز کسی کو غلط تعبیر سے بچاتی ہے وہ صرف ایک ہے۔ خوف خدا نے آدمی کو حقیقت پسندی کی اُس سطح پر پہنچا رکھا ہو جس کو سنجیدگی کہا جاتا ہے۔ آدمی اگر فی الواقع سنجیدہ ہو تو اس کی سنجیدگی اس کو اسوہ رسول کے بارے میں مذکورہ سوالات سے دوچار کرے گی۔ اس کو چونکہ صرف مفید مطلب بات نہیں لینی تھی بلکہ یہ معلوم کرنا تھا کہ حقیقی طور پر اسوہ نبوت کیا ہے۔ اس کا یہ ذہن اس کو غلط تعبیر سے بچائے گا۔ وہ بے آمیز ذہن کے تحت اس مسئلہ پر غور کرے گا اور خدا کی توفیق سے بات کی تہہ تک پہنچ جائے گا۔ اس کو معلوم ہوگا کہ اس کا راز ہے۔ بڑے فائدے کی خاطر چھوٹے نقصان کو

اہل ایمان کے لئے سب سے اہم چیز دعوتی مصلحت ہے نہ کہ شخصی مصلحت۔ مصلحت اور شخصی مصلحت میں ٹکراؤ ہو تو شخصی مصلحت کو قربان کر کے دعوتی مصلحت کو حاصل کیا جائے گا۔ مذکورہ واقعات میں رسول کی طرف سے صبر کی تلقین کی وجہ یہی دعوتی مصلحت ہے ۔ دعوتی کام کو مؤثر طور پر جاری رکھنے کے لئے خدا کے رسول نے جان ، مال اور خاندان کی قربانیاں برداشت کیں ۔ حتیٰ کہ دشمنوں کی طرف سے "دین میں مداخلت" کو بھی وقتی طور پر گوارا کر لیا۔ دعوت کا کام جاری رہے جو اہل ایمان کے لئے ہر قسم کی کامیابیوں کا واحد ذریعہ ہے ۔ جب آدمی کے سامنے کوئی مقصد ہو تو وہ مقصد کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے ۔ وہ دوسرے تمام نقصانات کو نظر انداز کرتا رہتا ہے تاکہ اصل مقصد ہاتھ سے نہ جانے پائے۔ اور جب کوئی مقصد سامنے نہ رہے تو وہ ہر چیز میں الجھتا ہے۔ وہ ہر بات کے لئے دوسروں سے لڑتا ہے ۔ خواہ اس کے نتیجہ میں یہی کیوں نہ ہو کہ چھوٹے نقصان کو برداشت نہ کرنے کی بنا پر اس کو زیادہ بڑا نقصان برداشت کرنا پڑے۔ داعی اس دنیا کا سب سے زیادہ با مقصد انسان ہے، اس لئے وہ ہمیشہ پہلے رویہ کو اختیار کرتا ہے نہ کہ دوسرے رویہ کو۔ اس کلیہ سے مستثنیٰ صرف وہ امور ہیں جب کہ معاملہ خالص دفاعی ہو، اس کا دعوتی مقصد سے کوئی تعلق نہ ہو۔ اس تمہید کے بعد یہاں ہم مختلف پہلوؤں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ واقعات نقل کرتے ہیں جن میں ہماری زندگی کے لئے زبردست سبق اور نصیحت موجود ہے۔

Printed page