A brave journey through the dark.
Al-Risala, September 1983, pp. 31–32
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ مضمون آرتھر کوئسلر (Arthur Koestler) کے بارہ میں ہے۔ آرتھر کوئسلر انگلستان کا ایک مشہور ادیب اور مفکر تھا۔ اس نے اور اس کی بیوی سنتھیا (Cynthia) نے مارچ ۱۹۸۳ میں اپنے لندن کے مکان میں خود کشی موت کے وقت آرتھر کوئسلر کی عمر ۷۷ سال تھی۔
آرتھر کوئسلر بہت سی کتابوں کا مصنف تھا۔ اس کی ایک کتاب کا نام ہے ۔ دوپہر میں تاریکی (Darkness at Noon) یہ کتاب ۳۲ زبانوں میں شائع ہو چکی ہے۔ یہ کتاب کمیونزم کے خلاف ہے۔ مصنف نے دکھایا ہے کہ نام نہاد عوامی نظام میں بھی کس طرح انسان کے اوپر انسان کا ظلم جاری رہتا ہے۔ ایک انسان دوسرے انسان کا استغلال کرتا ہے۔
آرتھر کوئسلر کو ذاتی طور پر وہ تمام دنیوی چیزیں حاصل تھیں جن کی ایک انسان تمنا کرتا ہے۔ مشہور عالم تھا۔ اپنے پیچھے اس نے چار لاکھ پونڈ چھوڑے ہیں جن کے بارہ میں اس نے وصیت کی کہ وہ ایک برطانی یونیورسٹی کو دے دیے جائیں جو اس رقم کو (Parapsychology) کی تحقیق میں لگائے۔ آرتھر کوئسلر نے کیوں خود کشی کر لی۔ اس کی وجہ اس کی مایوسی تھی۔ وہ دنیا میں بُرا ئیاں دیکھ کر بے حد اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ان بُرائیوں کی کیا توجیہہ کرے۔ ۱۹۷۴ میں اس کے مقالات کا ایک مجموعہ چھپا تھا جس میں اس نے کہا تھا کہ تکنیکی ترقیوں اور اخلاقی سلوک کے درمیان بہت نمایاں قسم کی علامتی نابرابری پائی جاتی ہے:
There is a striking, symptomatic disparity between the growth-curves of technological achievement on the one hand and of ethical behaviour on the other. اس کے بعد وہ جدید تہذیب سے اپنی مایوسی کا اظہار ان لفظوں میں کرتا ہے کہ ہم دور سیاروں کے گرد گھومنے والے خلائی جہازوں کی حرکت کو کنٹرول کر سکتے ہیں مگر شمالی آئرلینڈ کے حالات پر کنٹرول کرنا ہمارے لیے
جانور اپنی نوع کو ہلاک نہیں کرتے۔ مگر انسان خود اپنے ہم جنسوں کو ہلاک کرتا ہے۔ اس کی وجہ کیا اس سوال کی تحقیق کرتے ہوئے آرتھر کوئسلر اس نتیجہ پر پہنچا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی دماغ کے مختلف حصوں میں از نت ار کے دوران عدم توازن (Imbalance) پیدا ہوگیا ہے۔ یہی عدم توازن مردم کشی کے بڑے بڑے واقعات کا اصل سبب ہے۔
تاہم یہ تحقیقات اس کو سکون نہ دے سکیں۔ وہ بالآخر اس رائے پر پہنچا کہ انسان کے لئے موجودہ حالات میں سب سے بہتر بات یہ ہے کہ وہ خود کشی کرلے۔ اس کا آخری فلسفہ یہ تھا کہ موت اس شخص کے لئے قابل استقبال اور قدرتی ریلیف ہو سکتی ہے جس کا واحد بدل غم اور مصیبت ہو۔
آر تھر کو تسلر نے اپنے اس نظر یہ پر خود عمل کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس دنیا سے الگ کر لیا جو نہ اس کی مرضی کے مطابق تھی اور نہ وہ اس کو بدلنے کی قدرت رکھتا تھا۔ اس نے دیکھا کہ انسان ایک روشن فضا میں آنکھ کھولتا ہے پھر وہ موت کی اندھیری دنیا میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس نے دیکھا کہ ٹکنالوجی میں غیر معمولی ترقی کے باوجود انسان کی اخلاقی ترقی ممکن نہ ہوسکی۔ اس نے دیکھا کہ آدمی خلا میں گھومنے والی مشین کو کنٹرول کر لیتا ہے۔ مگر انسان کو کنٹرول کرنا اس کے لئے ممکن نہیں۔ اس نے دیکھا کہ جانور تک اپنے ہم جنسوں کو ہلاک نہیں کرتے مگر انسان خود اپنے ہم جنسوں کو ہلاک کرنے کے منصوبے بناتا ہے۔ اس نے دیکھا کہ انسان اپنے سارے وسائل کو استعمال کر کے فلاحی نظام بناتا ہے مگر وہ نظام روشنی میں تاریکی کے ہم معنی ہو جاتا ہے۔ ان حالات نے اس کو مایوس کر دیا اور اس نے خود کشی کرلی۔
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آدمی کے سامنے آخرت کا تصور نہ ہو تو اس کی زندگی کتنی بے معنی ہو جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا کی معنویت اسی وقت سمجھ میں آتی ہے جب کہ اس کو آخرت کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے ۔ آخرت کے بغیر یہ دنیا اتنی بے معنی معلوم ہوتی ہے کہ ایک حساس مفکر یہی کر سکتا ہے کہ وہ خود کشی کر لے تاکہ اس کے خیال کے مطابق اس کو موجودہ نا قابل فہم دنیا سے چھٹی مل جائے۔