Al-Risala · September 1983

ایمان والے

Al-Risala, September 1983, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کے لیے جب مکہ کے حالات سخت ہو گئے تو آپ اپنے ساتھیوں کو لے کر مدینہ چلے گئے جس کو ہجرت کہا جاتا ہے۔ مکہ سے جو لوگ آئے تھے وہ مدینہ میں بالکل اجنبی تھے۔ چنانچہ ان کے لئے یہ انتظام کیا گیا کہ مکہ کے مسلمانوں ( مہاجرین) اور مدینہ کے مسلمانوں (انصار) کے درمیان مواخاۃ قائم کی گئی۔ یعنی مکہ سے آنے والے ہر شخص کو مدینہ میں رہنے والے کسی شخص کا بھائی بنا دیا گیا۔

حضرت عبد الرحمن بن عوف ایک مہاجر تھے۔ ان کی مواخاۃ حضرت سعد بن ربیع انصاری سے ہوئی۔ سعد بن ربیع مدینہ میں اس وقت کے لحاظ سے ایک مالدار شخص تھے۔ انہوں نے پوری فراخ دلی کے ساتھ اپنے مہاجر دینی بھائی کو واقعی بھائی کی طرح قبول کر لیا۔

حضرت سعد بن ربیع انصاری نے اپنے مہاجر بھائی سے کہا کہ میرے پاس جو مال ہے وہ سب میرے اور تمہارے درمیان مشترک ہے۔ میں اس کو دو برابر حصوں میں تقسیم کر دیتا ہوں۔ اور میں تم کو قسم دیتا ہوں کہ دونوں میں سے جو حصہ تم کو زیادہ اچھا معلوم ہو اس کو تم لے لو (والستحلفك ان تاخذ خير

حضرت عبد الرحمن بن عوف نے اپنے انصاری بھائی کی زبان سے یہ سنا تو انہوں نے ان کو دعا دی اور اس کے بعد کہا کہ تمہاراجذبہ بہت مبارک ہے ، اللہ تعالی تمہیں اس کی جزائے خیر دے۔ میں ایک ایسا شخص ہوں جس کو تجارت کرنا آتا ہے۔ اس لئے تم میرے لئے صرف یہ کرو کہ مجھ کو بازار کا راستہ بتا دو انی رجل له حظ في التجارة فدلني الى السوق)

حضرت سعد بن ربیع انصاری کے لئے موقع تھا کہ وہ اپنے مال کا زیادہ حصہ کسی نہ کسی تدبیر سے اپنے لئے مخصوص کر لیتے اور کچھ حصہ اپنے مہاجر بھائی کو دے دیتے۔ اسی طرح حضرت عبد الرحمن بن عوف ایسا کر سکتے تھے کہ ان کے انصاری بھائی نے جب اپنا نصف مالانہیں پیش کر دیا تو وہ فوراً اس کو لے لیتے۔ مگر دونوں نے وہ کیا جوان کا ایمان اور تعلق باللہ ان سے تقاضا کر رہا تھا۔ انصاری مسلمان نے اپنے مال کا نصف حصہ مہاجر مسلمان کو پیش کر دیا۔ دوسری طرف مہاجر مسلمان نے اپنے انصاری بھائی کو دعا دیتے ہوئے اپنی محنت پر بھروسہ کیا۔ ایک کا جذ بہ ایمان ہمدردی کی صورت میں ظاہر ہوا اور دوسرے کا خود اعتمادی کی صورت میں۔

Printed page