Al-Risala · September 1983

کلمہ اسلام کی حقیقت، اخلاص اور تقویٰ ہے

Al-Risala, September 1983, pp. 41–42

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرت عثمان بن عفان کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ جو بندہ بھی اس کو واقعی اپنے دل سے کہے وہ آگ پر حرام ہو جائے گا حضرت عمر فاروق نے کہا کہ میں تم کو بتاؤں کہ وہ کلمہ کیا ہے۔ وہ اخلاص کا کلمہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب پر لازم کیا تھا۔ وہ تقویٰ کا کلمہ ہے جس کی تلقین اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ابو طالب کو موت کے وقت کی تھی۔ وہ اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اخرج احمد عن عثمان بن عفان قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يقول: انی لاعلم كلمة لا یقولھا عبد حقا من قلبه الا حرم علی النار - قال عمر بن الخطاب اکلا احد شك ماهی۔ ہی كلمة الاخلاص التی الزمھا الله تعالى محمداً صلى الله عليه وسلم واصحابا وهى كلمة التقوى التي اخلص عليها نبی الله صلى الله عليه وسلم عمه ابا طالب عند الموت شهادة ان لا اله الا الله)

ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی غیبی حقیقتوں کو دیکھنے لگے حضرت مالک بن انس کہتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ نے پوچھا کہ اے معاذ، تم نے کیسے صبح کی (كيف اصبحت يا معاذ) انھوں نے کہا کہ میں نے اللہ پر ایمان کے ساتھ صبح کی۔ آپ نے فرمایا کہ ہر قول کا ایک مصداق ہوتا ہے اور ہر قول کی ایک حقیقت ہوتی ہے۔ پھر جو کچھ تم کہتے ہو اس کا مصداق کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول میں نے کبھی کوئی ایسی صبح نہیں کی جس میں مجھے یہ خیال نہ لگا ہوا ہو کہ اب میں شام نہ کر سکوں گا۔ اور کبھی میں نے کوئی ایسی شام نہیں کی جس میں مجھے یہ خیال نہ ہو کہ میں صبح نہ کر سکوں گا۔ اور میں نے کوئی قدم ایسا نہیں اٹھایا جس میں مجھے یہ خیال نہ ہو کہ میں دوسرا قدم نہ اٹھا سکوں گا۔ اور گویا کہ میں گھٹنوں کے بل گری ہوئی ان تمام امتوں کو دیکھ

رہا ہوں جن کو اپنے اعمال نامہ کی طرف بلایا جارہا ہے اور ان کے ساتھ ان کا پیغمبر ہے۔ اور ان کے ساتھ وہ بت ہیں جن کو وہ خدا کے سوا پوجتی تھیں۔ اور گویا کہ میں اہل دوزخ کی سرائو اور اہل جنت کے ثواب کو دیکھ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم معرفت کو پہنچ گئے، اب ا پر جمے رہو ، (معرفت فالنزم، حلیۃ الاولیا لا بی نعیم ، جلد اول)

Printed page