شری کشا بھاؤ ٹھاکرے کی تقریر
Al-Risala, September 1983, pp. 44–45
By Maulana Wahiduddin Khan
آدرنیہ مولانا صاحب، آج اس کاریہ کرم میں جو بھاشٹر ہمارے سامنے ہوا اس سے ہم کو بڑی میں اردو جانتا نہیں لیکن ہمارے ساتھی سارنگ جی صاحب الرسالہ پڑھتے ہیں اور کہتے رہتے ہیں کہ بھائی یہ تو بڑا مانسک میگزین ہے۔ اور آج اس میگزین کے سپا دک مہودے سے تفصیل سے بات سنتے کو ملی۔
واستو میں آج ساری دنیا میں ہر جگہ جھگڑے کی بات سنائی دیتی ہے۔ گھڑنراں کی بات سنائی پرایسے وانٹا ڈژن میں جب اس پر کار کی تقریر سننے کو ملتی ہے تو آدمی کو پر درشن ہو تا آدمی کے جلے ہوئے زخم میں جب کوئی تیل لگاتا ہے تو ایک پر کار کا آنند آتا ہے، اسی پر کار کا آنند آج آیا۔ واستو میں مولانا صاحب نے جو کہا وہ تو جتنا سننے جاؤ اتنا ہی آنند آئے گا۔ اس پر کار سننے کو بہت کم ملتا ہے لیکن جتنا بھی سنو کم ہے۔ جتنا انھوں نے کہا اس میں سے تھوڑا بھی حصہ ہم اپنی زندگی میں اتار لیں تو بہت بڑا کام ہے۔ آج اس پر کار کے سنسکار دینے والے بہت آج ہمیں اس پر کار کے ویکتیوں کا سبھاشٹر سننے کو ملا۔ بہت خوشی ہوئی، میں اس سے بہت خوش ہوں کہ مولانا صاحب نے ہمارے بیچ میں اپنا کسے بتایا میں اس کا بہت آگھاری ہوں اور میں چاہوں گا کہ ہمیں بار بار یہ بات سننے کو ملے۔
۸ نومبر کی شام کو ٹی ٹی نگر کی مسجد میں نماز مغرب کے بعد ایک اجتماع ہوا۔ اس میں زیادہ تر
سروس کرنے والے لوگ شریک ہوئے۔ اس موقع پر میں نے آخرت کے بارہ میں تقریر کی۔ دن ایک اور اجتماع ایک صاحب کے مکان پر ہوا۔ اس اجتماع میں میں نے اپنے حالیہ سفر ایشیا یورپ اور افریقہ) سے متعلق اپنے تاثرات اور واقعات بیان کئے ۔
۱۹ نومبر کی شام کو مسجد قدسیہ بیگم میں نماز مغرب کے بعد ایک اجتماع ہوا۔ تعلیم یافتہ افراد کی اچھی تعداد اکٹھا ہو گئی تھی۔ کچھ غیر مسلم حضرات بھی شریک تھے۔ میں نے اسلام کی تعلیمات کے موضوع پر تقریباً ایک گھنٹہ تقریر کی۔ بعد کو لوگوں نے غیر معمولی تاثرات کا اظہار کیا۔ بھوپال کی تقریں شاید الرسالہ میں شائع نہ ہو سکیں۔ تاہم ان سب کا ٹیپ بھوپال والوں کے پاس موجود ہے۔ تمام تقریریں ٹیپ کی مدد سے دوبارہ سنی جاسکتی ہیں۔
بھوپال کا سنجیدہ طبقہ اہتمام کے ساتھ الرسالہ کا مطالعہ کر رہا ہے۔ ایک صاحب جو گورنمنٹ میں سیکرٹری کے عہدہ پر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں الرسالہ کو اس لئے پسند کرتا ہوں کہ اس نے میری لڑکی کو الحاد سے بچایا ہے۔ اس خاتون نے انگریزی سے ایم اے کیا ہے اور آج کل وہ ڈاکٹریٹ کر رہی ہیں وہ ایک مدت تک روسیوں کے ساتھ رہی ہیں اور روسی زبان بہت اچھی طرح جانتی ہیں۔ یہ خاتون کمیونسٹ لٹریچر پڑھ کر مذہب سے بیزار ہو گئی تھیں ۔ ان کے والدین نے ان کو اسلامی لٹریچر پڑھانے کی کوشش کی مگر انھوں نے دل چسپی نہ لی ۔ اس قسم کی کتابوں کو دیکھ وہ الگ رکھ دیتی تھیں۔ اس کے بعد ان کو الرسالہ پڑھنے کے لئے دیا گیا۔ اس سے انہیں دل چسپی ہوئی۔ اب وہ الرسالہ کو باقاعدہ طور پر پڑھتی ہیں۔ انہوں نے اپنے والد سے الرسالہ کے بارے میں اپنا تاثر ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ مجھ کو اپیل کرتا ہے۔