فطرت کی خلاف ورزی
Al-Risala, October 1983, pp. 4–5
By Maulana Wahiduddin Khan
خنزیر کا لفظ اکثر زبانوں میں برا مفہوم رکھتا ہے۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ خنزیر عام طور پر گندگی اس بنا پر اس کے نام کے ساتھ گندگی کا تصور وابستہ ہو گیا۔ انگریزی میں کہتے ہیں : Pig turns man into a pig. یعنی سور (کا گوشت) آدمی کو بھی سور بنا دیتا ہے۔ وبسٹر ڈکشنری میں لفظ پگ (Pig) کا چوتھا مفہوم حسب ذیل الفاظ میں لکھا ہوا ہے۔
a person regarded as acting or looking like a pig., a greedy or a filthy person. (Clloq.)
یعنی سور جیسا آدمی، لالچی اور گندہ آدمی۔ فرانسیسی میں خنزیر کو کوشوں (couchon) کہتے ہیں۔ یہ لفظ فرانسیسی زبان میں پگ سے بھی زیادہ برے معنی رکھتا ہے۔
خنزیر کو گندہ خوراک سے بچانے کے لئے موجودہ زمانہ میں اعلیٰ قسم کے بڑے بڑے فارم بنائے گئے پگ کیپنگ (Pig-keeping) اب ایک مستقل فن بن گیا ہے۔ پگ فارموں میں ان کے لئے خاص طور پر صاف ستھری غذاؤں کا انتظام کیا جاتا ہے اور دوسری سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔ تاہم خنزیر کے فارم مغربی دنیا میں اب تنقید کا موضوع بن رہے ہیں۔ لندن کے اخبار گار جین (۲۹ مئی ۱۹۸۳) میں دو کالم کا ایک مضمون شائع ہوا ہے جس کا عنوان ہے ــ کیا خنزیر ختم ہونے والے ہیں؟ Are pigs doomed ? مضمون نگار (Ralph Whitlock) نے دکھایا ہے کہ مغرب میں خنزیر کے جدید فارم اب دن بدن ناقابل برداشت ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ خنزیر؛ مضمون نگار کے الفاظ میں انسان کا مدِّمقابل (Competitor) ہے۔ وہی خوراک کھاتا ہے جو انسان کھاتا ہے۔ خنزیر نہ گھاس کھاتا ہے اور نہ گوشت۔ اس کو غلہ کی بنی ہوئی چیزیں (ڈبل روٹی وغیرہ) کھلانی پڑتی ہیں۔ مزید یہ کہ خنزیر بہت پیٹو جانور ہے۔ وہ غیر معمولی طور پر زیادہ غذا چند خنزیر اگر کسی بیکری میں داخل ہو جائیں تو وہ وہاں کی تمام ڈبل روٹی اور پنیر کھا کر ختم کر دیں گے۔ موجودہ زمانہ میں خنزیر کی خوراک میں کفایت کی خاص کوشش کی جا رہی ہے۔ خنزیر کے فارموں میں کمپیوٹروں کے ذریعہ ان کی خوراک پر کنٹرول کیا جاتا ہے تاکہ وہ ضرورت سے زیادہ نہ کھا سکیں۔ ساری کوششوں کے بعد بھی خنزیر کا یہ حال ہے کہ اس کے لاشہ میں ایک پونڈ کا اضافہ کرنے کے لئے اس کو ۵ پونڈ خوراک کھلانی پڑتی ہے،
مضمون نگار کے الفاظ میں یہ خنزیر کی بنیادی کمزوری (Fundamental Weakness) ہے۔ اور گائے گھاس کو گوشت میں تبدیل کرتے ہیں۔ گویا جس چیز کو انسانی معدہ براہ راست ہضم نہیں کر سکتا اس کو خود کھا کر دودھ اور گوشت کی صورت دیتے ہیں اور ہمارے لئے کھانے کے قابل بناتے ہیں۔ مگر خنزیر کے اندر یہ صلاحیت نہیں۔ وہ خود انسان کی غذا (ڈبل روٹی وغیرہ) کھاتا ہے۔ اور وہ بھی اس طرح کہ ۵ پونڈ انسانی غذا کھا کر صرف ایک پونڈ گوشت انسان کو واپس کرتا ہے۔ خنزیر صرف یہ کرتا ہے کہ سستی خوراک کو مہنگی خوراک بنا دے :
مضمون نگار نے لکھا ہے کہ موجودہ زمانہ کا سب سے بڑا مسئلہ آبادی کا انفجار ہے۔ حتی کہ وہ ایٹمی جنگ سے بھی زیادہ بڑا خطرہ ہے۔
زمین انسانی آبادی ہندسی نسبت (Geometrical Progression) سے بڑھ رہی ہے۔ اندازہ کے مطابق ۲۰۱۵ء میں دنیا کی موجودہ آبادی دگنا ہو جائے گی۔ ایسی حالت میں خنزیر کا مستقبل، مضمون نگار کے نزدیک، اکیسویں صدی میں یہ نظر آتا ہے کہ ان کی بہت تھوڑی تعداد کو چھاچھ اور ٹکڑوں کی خوراک مل سکے گی۔ اور بقیہ تمام خنزیر پر غذائی اشیاء کی قلت کے سبب دوبارہ گندگی کھانے والے جانور (Scavenger) بن کر رہ جائیں گے۔
معلوم ہوا کہ خنزیریا تو گندگی کھاتا ہے یا انسانی خوراک۔ خنزیر کو خدا نے اس لئے بنایا تھا کہ وہ گندگی کو اپنی خوراک بنا کر "صفائی گرم چاری" کا کام انجام دے۔ مگر انسان نے اس کو اپنی خوراک بنایا اور اس کی خاطر جدید طرز کے بڑے بڑے فارم بنائے۔ قدرت کے نظام میں یہ مداخلت صرف اس قیمت پر ہوئی کہ انسان اپنی خوراک کا زیادہ حصہ اس کو کھلا کر اس سے اپنے لئے کم خوراک حاصل کرے ۔ خدا نے اپنی دنیا کا جو نظام بنایا ہے وہ حد درجہ حکمت پر مبنی ہے۔ اس میں مختلف پہلوؤں کی جامع انسان کے لئے واحد درست راستہ یہ ہے کہ وہ قدرت کے نظام کی پیروی کرے۔ وہ اس نظام کے بدلنے کی شش کرے گا تو وہ صرف اس قیمت پر ہوگا کہ اس کے بعد ماحول میں کوئی نئی خرابی پیدا ہو جائے۔