جہاد کے نام پر
Al-Risala, October 1983, pp. 6–8
By Maulana Wahiduddin Khan
اٹھارویں صدی عیسوی کے آخر میں روہیل کھنڈ (شمالی ہند) میں روہیلہ خاندان کے نواب رحمت خاں کی حکومت تھی۔ افغانی نسل سے تعلق رکھتے تھے اور ہوش سے زیادہ جوش کے مالک تھے۔ اس مزاج کی وجہ سے ایسٹ انڈیا کمپنی سے ان کی مخالفت ہو گئی۔ کمپنی نے اودھ (لکھنو) کے نواب شجاع الدولہ کو نواب رحمت خاں سے لڑا دیا۔ اس جنگ میں نواب شجاع الدولہ کو ایسٹ انڈیا کمپنی کی مدد حاصل تھی چنانچہ ان کو کامیابی ہوئی اور ۱۷۷۴ء میں میرن پور کٹرہ کی جنگ میں نواب رحمت خاں مارے گئے۔ اس کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کے تحت نواب شجاع الدولہ کی حکومت اودھ اور روہیل کھنڈ (لکھنو سے لے کر بریلی) تک قائم ہو گئی۔ حکومت صرف ۲۷ سال باقی رہی۔ ۱۸۰۱ء میں ادائیگی قرض کے نام پر ایسٹ انڈیا کمپنی نے روہیل کھنڈ کو براہ راست اپنے قبضہ میں لے لیا۔
اس زمانہ میں ایک مفتی محمد عیوض بدایونی تھے جو بریلی میں افتاء کے فرائض انجام دیتے تھے۔ کا تقرر نواب رحمت خاں کے زمانہ میں ہوا تھا۔ تاہم بعد کے زمانہ میں بھی وہ بدستور اپنے عہدہ پر باقی رہے طویل خاندانی روایت کی وجہ سے عوام کے اندر ان کو بڑا ادب واحترام حاصل تھا۔ عوام کے علاوہ حکومت کے حلقے بھی ان کی عزت کرتے تھے۔ اس دو طرفہ مقبولیت کو اگر وہ حکمت کے ساتھ استعمال کرتے تو وہ کوئی بڑا دینی کام کر سکتے تھے۔ مگر اس کو انھوں نے بے معنی تصادم میں ضائع کر دیا۔
۱۸۱۴ کا واقعہ ہے جب کہ روہیل کھنڈ میں انگریزی حکومت قائم ہو چکی تھی۔ انھوں نے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کے لئے ایک اقدام کیا۔ انھوں نے ایک قانون پاس کیا جو ”چوکیداری ٹیکس“ کے نام سے مشہور ہے۔ اس قانون کا مقصد یہ تھا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے تحت بڑے بڑے شہروں میں پولیس کی تنظیم قائم کی جائے اور اس خرچ کو چوکیداری ٹیکس وصول کر کے پورا کیا جائے۔
چوکیداری ٹیکس کا یہ قانون روہیل کھنڈ کے علاقہ کے دوسرے مقامات پر کسی احتجاج یا مزاحمت کے بغیر نافذ ہو گیا۔ لیکن بریلی میں صورت حال برعکس تھی۔ بریلی نوابی دور سے مسلمانوں کا مرکز تھا۔ سابق نواب رحمت خاں کے بچے ہوئے افراد خاندان موجود تھے۔ انھوں نے چوکیداری ٹیکس کو بہانہ بنایا اور اس کے نام پر انگریزی حکومت کے خلاف شورش پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اس معاملہ میں مفتی محمد عیوض نے ان کا پورا ساتھ دیا۔
اب سیاست اور مذہب دونوں ایک ہو گئے۔ مفتی محمد عیوض نے فتوی دیا کہ چوکیداری ٹیکس
سراسر نا جائز ہے کیونکہ یہ مسلمانوں کے اوپر جزیہ لگانے کے ہم معنی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس علاقے کے مسلم عوام اس ٹیکس کے خلاف ہو گئے۔ خاص طور پر افغانی پٹھان بڑی تعداد میں اٹھ کھڑے ہوئے جو پہلے سے انگریزوں سے بگڑے ہوئے تھے، کیونکہ انگریزوں نے ان کی افغان حکومت کو اس علاقے سے ختم کیا تھا۔ مفتی محمد عوض کے فتوے کے بعد مسلمانوں کے دبے ہوئے جذبات ابھر آئے۔ شہر بریلی میں زبردست ہڑتال کی گئی۔
مسٹر ڈمبلٹن اس وقت یہاں ضلع مجسٹریٹ تھے۔ مسٹر ڈمبلٹن نے چوکی داری ٹیکس کی وصولی کے لئے ۱۶؍ اپریل ۱۸۱۶ء کی قطعی تاریخ مقرر کر دی اور اس کا اعلان کرا دیا۔ جب یہ تاریخ آئی تو بریلی کے مسلم عوام بڑی تعداد میں مفتی محمد عوض کے مکان کے سامنے جمع ہو گئے۔ مفتی صاحب نے اس مجمع کی قیادت سنبھال لی۔ ان کو معلوم ہوا کہ انگریز مجسٹریٹ گھوڑے پر سوار ہو کر ان کی طرف آرہا ہے۔ انھوں نے عوام کو ہدایت کی کہ انگریز مجسٹریٹ کو آگے بڑھنے سے روکیں اور اس کو یہاں نہ آنے دیں۔ اس کے بعد جو ہونے والا تھا وہی ہوا۔ مجسٹریٹ نے بھی آگے بڑھنے پر اصرار کیا جس کی وجہ سے انگریزی پولیس اور مفتی محمد عوض کے حامیوں کے درمیان تصادم ہو گیا۔ اس کا نقصان مفتی محمد عوض اور ان کے حامیوں کو پہنچا کیوں کہ ان کے پاس لاٹھی ڈنڈے کے سوا اور کوئی ہتھیار نہ تھا جب کہ انگریز پولیس بندوقوں سے مسلح تھی۔ اس نے مجمع پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں بہت سے افراد ہلاک ہو گئے اور اس سے زیادہ زخمی ہوئے۔ تاہم مفتی محمد عوض نے ہمت نہیں ہاری۔ انھوں نے حسینی باغ (بریلی) میں مسلمانوں کو جمع کیا اور یہاں پر جوش تقرير کرتے ہوئے جہاد کا اعلان کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ انگریزی حکومت سے اسلام کو خطرہ اس لئے اس سے لڑنا تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔ اب اطراف کے علاقوں سے بھی لوگ آنے لگے اور چند دن کے اندر تقریبا پانچ ہزار روہیله پٹھان تلواروں اور آتشیں ہتھیاروں سے مسلح ہو کر مفتی محمد عوض کی سرداری میں جمع ہو گئے۔
انگریزوں نے مصالحت دکھائی اور گفت و شنید سے مسئلہ کو حل کرنا چاہا۔ مگر مفتی محمد عوض صاحب جھکنے کے لئے تیار نہ تھے۔ دوسری طرف بریلی، رامپور، پیلی بھیت، بجنور، بدایوں، شاہ جہاں پور تک کے پٹھان جہاد کا اعلان سن کر آتے رہے ۔ یہاں تک کہ ان کی تعداد تقریباً ۱۵ ہزار ہو گئی۔ مفتی محمد عوض کے حوصلے اب بہت بڑھ گئے۔ انھوں نے صلح کے لئے انگریز مجسٹریٹ کے سامنے مندرجہ ذیل چار شرطیں پیش کیں۔
چوکیداری ٹیکس کو منسوخ کیا جائے۔
بریلی کے انگریز کو توال کو ہمارے حوالے کیا جائے تاکہ ہم اس کے اوپر شرعی سزا نافذ کریں۔
پولیس فائرنگ میں ہلاک ہونے والوں کے وارثین کو معقول معاوضہ دیا جائے۔
چوکیداری ٹیکس کے تمام مظاہرین کی عام معافی کا اعلان کیا جائے۔
انگریز حکومت تمام شرطوں کو مان سکتی تھی۔ مگر وہ دوسری شرط کو کسی قیمت پر نہیں مان سکتی تھی۔ دوسری طرف مفتی محمد عیوض کے حامیوں کے حوصلے اتنے بڑھے ہوئے تھے کہ گفت و شنید کے دوران بھی وہ پرامن نہ رہے۔ عین اس زمانہ میں ان میں سے کچھ لوگوں نے ڈسٹرکٹ جج مسٹر کولیٹر کے لڑکے کو قتل کر دیا۔ بالآخر انگریز سپاہیوں کی بڑی تعداد نے ۱۸ اپریل ۱۸۱۶ کو مفتی محمد عیوض کے حامیوں پر حملہ کر دیا۔ سخت جنگ ہوئی مگر انگریزی بندوقوں کے مقابلہ میں روہیلے افغانوں کے روایتی ہتھیاروں نے شکست کھائی۔ تقریباً تین سو روہیلے جان سے مارے گئے۔ اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوئے۔ اس کے بعد روہیلے افغانوں کے حوصلے پست ہو گئے۔ وہ میدان چھوڑ کر بھاگے۔ مفتی محمد عیوض کا تیاری کے بغیر جہاد ایک ہی دن کے مقابلہ میں ختم ہو گیا۔ اس کے بعد مفتی محمد عیوض بریلی چھوڑ کر رامپور چلے گئے جہاں صرف ایک سال میں ان کا انتقال ہو گیا۔ _______ چوکیداری ٹیکس کو برداشت نہ کرنے والا بالآخر ملت کو اس سے بہت زیادہ بڑی بربادی کے حوالے کر کے اس دنیا سے چلا گیا۔ اس قسم کی بے معنی لڑائیاں جو ایک سو سال سے بھی زیادہ عرصہ سے ملت کے اندر جاری ہیں وہ ہرگز جہاد نہیں ہیں۔ یہ جہاد کے نام پر اپنے جان و مال کو ضائع کرنا ہے۔
جہاد دراصل اللہ کی راہ میں کوشش کرنا ہے۔ اور اللہ کا کام دعوت الی اللہ ہے۔ اہل ایمان کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنی تمام ممکن قوتوں کو دعوت الی اللہ کے میدان میں لگائیں۔ وہ دوسری قوموں کو ہدایت خداوندی کے راستہ پر لانے کی کوشش کریں۔ یہی اہل ایمان کا اصل جہاد ہے۔ مسلمانوں کو اس اصل جہاد کا صحیح احساس نہیں۔ اگر ان کو اس کا احساس ہو تو چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھنے کو اپنے لئے حرام سمجھ لیں۔ کیونکہ چھوٹی چھوٹی غیر متعلق باتوں میں الجھنے سے داعی اور مدعو کے درمیان معتدل فضا ختم ہوتی ہے اور معتدل فضا کے بغیر کسی کو کوئی دعوت نہیں دی جا سکتی۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ چھوٹی چھوٹی ناخوشگواریوں کو برداشت کریں۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو وہ یقینی طور پر خدا کے نزدیک مجرم ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر مدعو اقوام سے لڑ پڑنا اور اس کو جہاد بتانا صرف ان کے جرم میں اضافہ کرتا ہے۔ وہ کسی بھی حال میں ان کو بری الذمہ قرار نہیں دیتا۔ یہ یقینی طور پر نفسانیت ہے نہ کہ خدائی جہاد۔