Al-Risala · October 1983

دوبارہ زمین پر

Al-Risala, October 1983, pp. 9–16

By Maulana Wahiduddin Khan

۲۸ فروری ۱۹۸۲ کو مجھ پر ایک انوکھا تجربہ گزرا۔ مجھے ایسا معلوم ہوا جیسے میں جسم سے جدا ہو کر دوسری دنیا میں چلا گیا تھا۔ پھر دوبارہ میں زمین پر واپس آیا۔ یہ تجربہ ایسا انوکھا تجربہ تھا جس کو انسانی لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ تا ہم اس کی ظاہری کہانی کو کسی حد تک ضرور بیان کیا جا سکتا ہے۔

نئی دہلی (کرزن روڈ) پر راقم الحروف کا ماہانہ درسِ قرآن ہوتا ہے۔ اس کا سلسلہ اولا ۲۹ جون ۱۹۸۰ کو شروع ہوا تھا۔ یہ درس پابندی کے ساتھ جاری ہے اور اس کا وقت ہر مہینے کے آخری اتوار کو بعد نمازِ مغرب ہے۔

۲۸ فروری کو اسی قسم کے درس کا دن تھا۔ میں حسب معمول اپنے گھر سے کرزن روڈ گیا۔ بعد قرآن کا درس دیا۔ یہ درس وہی تھا جو بعد کو تفصیلی صورت میں تحریر ہوکر احیاء اسلام نامی کتاب میں " احیاء اسلام “ کے عنوان سے شامل ہے۔ اس روز دہلی میں بارش ہوئی تھی۔ سڑکوں پر جگہ جگہ پانی تھا۔ رات کے تقریباً ۹ بجے تھے۔ میں حسب معمول درسِ قرآن سے فارغ ہو کر باہر نکلا تو ہلکی ہلکی بوندیں پڑ رہی تھیں۔ ساتھیوں نے روکا کہ آج رات کو یہیں رہ جائیں۔ اور صبح کو یہاں سے آپ کے گھر پر ٹیلی فون سے مطلع کر دیا جائے گا۔ مگر میں بارش کی پروا کئے بغیر ان سے معذرت کر کے نکل پڑا۔ سڑک پر پہنچا تو کوئی سواری دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ میں آگے چلتا رہا کہ جہاں کوئی سواری ملے گی اس کو پکڑ لوں گا۔ مگر اتفاق سے کوئی سواری دکھائی نہ دی۔ اتوار اور بارش کی وجہ سے سڑکوں پر اس وقت سناٹا چھایا ہوا تھا۔

میں اس وقت تنہا تھا۔ کرزن روڈ سے گزر کر میں کناٹ پلیس کے علاقہ میں آیا۔ اس کے بعد پیدل چلتے ہوئے اس سڑک پر پہنچا جس کو منٹو روڈ کہا جاتا ہے۔ میں ہلکی بارش میں بھیگتا ہوا برابر چل رہا تھا۔ وقت طبیعت میں نامعلوم طور پر ایک عجیب سرور تھا۔ یہ سفر میرے لئے ایک قسم کا روحانی سفر بن گیا جس نے موسم کی نامساعدت کو میرے لئے غیر اہم بنا دیا تھا۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ میں خدا کے فیضان میں نہاتا ہوا آگے بڑھ رہا ہوں۔ تنہائی کے باوجود مجھے یہ احساس ہو رہا تھا کہ کوئی عظیم قوت میرے ساتھ ہے۔ کوئی اپنی خصوصی رحمتوں کے ساتھ مجھے چاروں طرف سے گھیرے ہوئے

مجھے اس وقت نہ تھکان کا احساس تھا اور نہ بھیگنے کا۔ مجھ کو نہ رات کا سناٹا ستا رہاتھا اور نہ تنہا پیدل سفر کرنا ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی مجھے نامعلوم طور پر کسی خاص منزل کی طرف کھینچے چلا جار ہا ہے ۔

میں چلتے چلتے ریلوے پل اور اجمیری گیٹ کے درمیان پہنچا۔ یہاں میرے بائیں طرف بجلی کا ایک کھمبا تھا۔ اس کھمبے کے نچلے حصہ میں بائیں طرف بجلی کے تاروں کا وہ مشتر کہ خانہ تھا جس کو جنکشن باکس (Junction Box) کہا جاتا ہے ۔ جنکشن باکس کا ڈھکن غائب تھا اور وہ بالکل کھلا اگر چہ سڑک پوری خالی تھی۔ مگر میں اپنی عادت کے مطابق بالکل کنارے پر چل رہا تھا۔ بجلی کے کھمبے کے پاس پہنچ کر اس کے بائیں طرف مجھے پانی نظر آیا۔ میں نے اس کو کوئی اہمیت کیونکہ بارش کی وجہ سے سڑک پر جگہ جگہ اس قسم کا معمولی پانی تھا اور میں برابر ان سے گزر رہا میں نے سمجھا کہ یہ ایک دو انچ سے زیادہ گہرا نہیں ہو گا اور تیزی سے چلتے ہوئے اس پانی پر اپنا پاؤں رکھ دیا۔ مگر وہ کمر برابر گہرا گڑھا تھا۔ اچانک میں اس میں گر پڑا۔ اب میرا جسم گڑھے کے اندر تھا اور میرا دایاں ہاتھ جنکشن باکس میں۔

فی الفور بجلی نے مجھے پکڑ لیا۔ یہ پکڑ ہتھیلی اور کلائی کے درمیان تھی۔ ایک لمحہ میں میرا سارا جسم بالکل بے حرکت ہو گیا۔ میرا دایاں ہاتھ بجلی کے تاروں کے گچھے پر تھا۔ اور بقیہ جسم بے حس وحرکت ہو کر پانی میں ڈوبا ہوا تھا۔ گویا کہ میں بجلی کے سمندر میں نہار ہا تھا۔ ایسی حالت میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ آدمی یا تو فوراً مر جاتا ہے یا گھبراہٹ میں کچھ چیخیں نکال کر بے ہوش ہو جاتا مگر بجلی کے حادثات کی تاریخ کا یہ انوکھا واقعہ ہے کہ جس وقت مجھے بجلی پکڑے ہوئے تھی اس وقت بھی میں ہوش میں تھا۔ بظاہر اگر چہ میں مر چکا تھا مگر میرا ذہن اب بھی پوری طرح حاضر تھا۔ میں تمام باتوں سے اسی طرح باخبر تھا جس طرح میں عام حالت میں باخبر رہتا۔ شاید یہ کوئی مطلوب منزل تھی۔ شاید میں وہیں پہنچ گیا تھا جس کی طرف جھکا کر مجھ کو لایا جا رہا تھا۔

یہ حالت میرے خیال کے مطابق پانچ منٹ سے زیادہ دیر تک جاری رہی۔ یہ ذہن اور جسم کی علیحدگی کا ایک لمحہ تھا۔ میں اپنے جسم سے اوپر اٹھ کر واقعات کو دیکھ رہا تھا۔ کر رہا تھا کہ کرنٹ کا ایک بے حد تیز رفتار دھارا ہے جو میرے جسم کے اندر موجیں مار رہا ہے۔ میرے بھائی، بجلی کے انجینئر ہیں۔ ان کی بتائی ہوئی یہ بات مجھے یاد تھی کہ اگر میں اپنے دوسرے

ہاتھ کو اٹھا کر زور سے پہلے ہاتھ پر ماروں تو وہ چھوٹ جائے گا ۔ مگر اس وقت میں ایسا کرنے پر قادر نہ تھا ۔ کیونکہ سارے جسم کی طرح اس وقت میرا دوسرا ہاتھ بھی بالکل بے حرکت تھا ۔ میرا ذہن اس وقت بالکل معتدل حالت میں تھا اور میں کسی گھبراہٹ کے بغیر مختلف قسم کی باتیں سوچ رہا تھا ۔ مثلاً یہ کہ اب میں موت کے بالکل آخری کنارے پر پہنچ چکا ہوں ۔ اگلے چند لمحے کے اندر میں موجودہ دنیا سے گزر کر دوسری دنیا میں داخل ہو جاؤں گا ۔ اگر چہ میں آخرت کو نہیں دیکھ رہا تھا مگر یہ احساس مجھ پر فرض و طاری تھا کہ میرے اور آخرت کے درمیان اب ایک قدم سے زیادہ کا فاصلہ نہیں ۔

یہ وہ زمانہ تھا جب کہ اسلامی مرکز کے پہلے اجتماع (بھوپال ، ۱۴ - ۱۸ اپریل ۱۹۸۳) کا اعلان الرسالہ میں شائع ہو چکا تھا ۔ چنانچہ اس وقت میرے ذہن میں بار بار یہ بات آ رہی تھی کہ اعلان کے مطابق بہت سے اللہ کے بندے مذکورہ تاریخ کو بھوپال آئیں گے ۔ میری موت کی خبر سن کر واپس چلے جائیں گے ۔ یہ خیال بھی ہوتا تھا کہ میں نے قرآن کی ایک تذکیری تفسیر شروع کی تھی ، اب وہ شاید ہمیشہ کے لئے نا تمام رہ جائے گی ۔ میں یہ بھی سوچ رہا تھا کہ میں نے ایک مشن شروع کیا تھا مگر میں اس مشن کی تکمیل سے پہلے اس دنیا سے چلا جاؤں گا ۔ یہ یاد بھی آتی تھی کہ اس وقت میری جیب میں ایسا کوئی کاغذ نہیں جس میں میرا نام و پتہ لکھا ہوا ہو ، اور یہ علاقہ سب غیر مسلموں کا ہے ، وہ لوگ کیسے مجھے پہچانیں گے کہ میں کون ہوں ۔ پھر اپنی بے بسی کی طرف خیال جاتا تھا کہ انسان کس قدر بے بس ہے ، اس وقت بھی میں پورے شعور کے ساتھ زندہ موجود تھا ۔ مگر میرے جسم کے اوپر سے میرا کنٹرول بالکل ختم ہو چکا تھا ۔

تاہم سارے جسم میں ایک استثناء تھا ۔ اور وہ زبان کا تھا ۔ میرا جسم اگر چہ پورا کا پورا بے حرکت تھا ۔ مگر زبان حیرت انگیز طور پر حرکت میں تھی ۔ وہ برابر بالکل معتدل انداز میں یا اللہ ، یا اللہ کہے جا رہی تھی ۔ میری زبان اس وقت یا اللہ کہہ رہی تھی اور میرا ذہن بے بسی کے ساتھ یہ سوچ رہا تھا کہ اب میں کس طرح اس سے بچ سکتا ہوں ۔

مگر ۵ منٹ گزرے تھے کہ اچانک نامعلوم طور پر بجلی نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا ۔ میرا ہاتھ تاروں سے الگ ہو کر جنکشن باکس کے باہر آ گیا ۔ مجھے ایسا محسوس ہوا گویا اب تک میں کسی اور عالم میں تھا ، اب دوبارہ اپنی سابقہ دنیا میں واپس آ گیا ہوں ۔ میں نے اپنے آپ کو پانی کے گڑھے

سے باہر نکالا قریب ہی زمین پر بیٹھ گیا ۔ میرا ہاتھ کلائی سے لے کر ہتھیلی تک گہرا جل چکا تھا ۔ میرا دل حیرت انگیز طور پر اس وقت بھی بے حد پرسکون تھا ۔

اتنے میں کچھ مقامی غیر مسلم صاحبان وہاں آ گئے ۔ انہوں نے مجھ کو اٹھایا اور سہارا دے کر مجھ کو قریب کے مکان میں لے گئے ۔ اس وقت حال یہ تھا کہ میرے تمام کپڑے بھیگے ہوئے تھے ۔ پاؤں تک میں پانی سے تر تھا اور میرے جسم سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے ۔ پیدل چل کر گھر پہنچنے کے قابل نہ تھا ۔ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ میرے گھر پر ٹیلی فون کر کے مطلع کر دیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں ہم میں سے کسی کے پاس ٹیلی فون نہیں ہے ۔ پھر میں نے کہا کہ میرے لئے کوئی سواری بلا دیں ۔ وہ لوگ اس کے لئے آمادہ ہو گئے اور ڈھونڈھ کر کہیں سے ایک سائیکل رکشالے آئے ۔ میں اس پر تنہا سوار ہو کر اپنے گھر آ گیا ۔ وہ لوگ رکشہ کا کرایہ دینے میں نے منع کیا کہ اس کی ضرورت نہیں ، میں خود ادا کر دوں گا ۔

میں گھر پہنچا تو میرے سارے کپڑے پانی میں تر تھے اور مجھے کپکپی ہورہی تھی ۔ فوری طور پر کپڑا بدلنا ضروری تھا مگر الیکٹرک برن اور فریکچر کی وجہ سے میرا دایاں ہاتھ سیدھا لٹک رہا تھا اور میں اس کو اٹھانے پر قادر نہ تھا ۔ چنانچہ اوپر کا کوٹ تو کسی طرح سالم اتار لیا اور بقیہ کپڑے قینچی سے کاٹ کر میرے جسم سے الگ کئے گئے ۔ ایک بنیان اور ایک سوئٹر کٹا ہوا اب بھی میری الماری میں بطور یادگار موجود ہے ۔

میرے لڑکے ثانی اثنین خان نے ٹیلی فون کر کے جناب اطہر صدیقی صاحب اور جناب محمد شمیم صاحب کو صورت حال کی خبر دی ۔ وہ لوگ فوراً آگئے ۔ اور رات کو تقریباً ساڑھے گیارہ بجے مجھے ہمدرد نرسنگ ہوم ( نئی دہلی ) پہنچا دیا گیا ۔ وہاں اگرچہ مجھے ایک خصوصی کمرہ نمبر دیا گیا تھا ، تاہم نرسنگ ہوم کے صدر حکیم عبدالحمید صاحب نے نرسنگ ہوم کے انتظامی انچارج سے یہ کہہ دیا تھا کہ ” مولانا جب تک چاہیں یہاں رہیں ، ان سے کسی قسم کی کوئی فیس نہیں لی جائے گی ۔ “ یہ بات انتظامی افسر نے آخری دن اس وقت بتائی جبکہ ہمارا آدمی حساب دینے کے لئے ان کے دفتر میں گیا ۔

یہ ایک ایسا تجربہ تھا جو نہ کبھی میرے ساتھ گزرا اور نہ کسی اور کے بارہ میں اب تک سننے یا پڑھنے میں آیا ۔ بجلی کی مکمل گرفت میں آنے کے باوجود زندہ رہنا ۔ جسم اور روح کا الگ ہو کر پھر مل جانا ، حادثہ کے دوران جسم کے مکمل طور پر بے حرکت ہو جانے کے باوجود ذہن کا مکمل طور پر

حاضر رہنا ، پھر نہایت پر سکون رہ کر یا اللہ یا اللہ کرتے رہنا اس بات کی علامت ہے کہ یہ عام معنوں میں محض ایک حادثہ نہ تھا بلکہ ایک تجربہ تھا۔ گویا کہ انسان کی کامل بے اختیاری کو مجھے اپنی آنکھوں سے دکھایا گیا۔ میں نے انسان کی اس ہستی کو دریافت کیا جو مادی قوانین کے پرے ہے۔ ساتھ میں نے گویا اس خدا کو براہ راست دیکھا جو قادر مطلق ہے۔ بجلی کا سوچ دُنیا میں خواہ بند نہ ہو مگر وہ اوپر سے اس کو بند کر سکتا ہے۔ شاید بجلی کے حادثات کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ تھا کہ اتنے کامل طور پر بجلی کی گرفت میں آجانے کے با وجود میں موت سے بچ کر نکل آیا۔ مجھ کو جو لطیف تجربات ہوئے اس کے اعتبار سے دیکھئے تو گویا کہ میں روحانی دنیا میں جاکر مادی دنیا میں واپس آگیا۔ میں آسمان کے اوپر پہنچ کر دوبارہ زمین کی طرف لوٹ آیا۔ میں نے انسان کے فانی وجود کے اندر ایک باقی وجود کا تجربہ کیا۔

۲۸ فروری کی شام سے لے کر ۵ مارچ ۱۹۸۲ کی شام تک میں ہمدرد نرسنگ ہوم میں رہا۔ کی زندگی کا یہ میرا پہلا تجربہ تھا۔ میرے گھر والوں کے لئے بھی یہ نئی افتاد تھی ۔ میرے لڑکے ثانی اتنین خان کا پہلے دن یہ حال تھا کہ وہ میرے کمرہ کے تخت پر ساری رات سر جھکائے بیٹھے رہے۔ با وجود بستر پر لیٹنے کی نوبت نہیں آئی۔

اسپتال خواہ کتنا اچھا اور صاف ستھرا ہو ، بہر حال وہ مریضوں اور آفت زدہ لوگوں کی دنیا میں اپنے علیحدہ کمرے میں اگرچہ دوسرے مریضوں سے بالکل دور تھا ۔ مگر خود یہ تصور میرے لئے وحشت ناک تھا کہ ” میں اسپتال میں ہوں ، یہاں کے زمانہ قیام میں مشکل سے کوئی دن ایسا گزرا ہو گا جب کہ میں نے شوق سے کچھ کھایا پیا ہو۔ جناب رام رتن کپسلا(KAPSONS) ازراہ عنایت روزانہ گائے کا خالص دودھ اور تازہ گھی اہتمام کے ساتھ بھیجتے تھے۔ مگر ان کو بھی استعمال کرنے کی نوبت کم ہی آتی تھی ۔

نرسنگ ہوم میں روزانہ کئی ڈاکٹر مجھ کو دیکھنے آتے تھے۔ صبح و شام دوائیں کھلائی جاتی تھیں۔ اور دونوں وقت زخم کی صفائی اور ڈریسنگ ہوتی تھی۔ مگر تمام تر توجہ کے با وجود یہاں کے علاج سے مجھے کوئی خاص فائدہ نہ ہوسکا۔ ڈاکٹر عزیز (ایف آرسی ایس) نے گریٹنگ کا مشورہ دیا مگر میں اس کے لئے راضی نہ ہوا۔ ڈریسنگ سے صرف یہ ہوا کہ زخم کے مردہ خلیا ت یہاں تک کہ یہ نوبت آئی کہ زخم اتنا گہرا ہو گیا کہ اندر کی رگیں نظر

میری انگلیاں بڑی حد تک سن ہو چکی تھیں۔ اعصاب کی نسیں جل گئی تھیں جس کا نتیجہ تھا کہہ دائیں ہاتھ کا انگوٹھا اور اس سے ملی ہوئی شہادت کی انگلی قلم پکڑنے کی طاقت کھو چکی تھیں۔ قلم ہاتھ میں لے کر لکھنے کی کوشش کرتا تو انگلیوں کی پکڑ اتنی کمزور رہتی کہ قلم ہاتھ سے چھوٹ کر گر تا۔ اپنا یہ حال دیکھ کر اکثر میری آنکھوں سے بے بسی کے آنسو نکل پڑتے اور زبان پر یہ الفاظ آجاتے۔ ”یہ انگلیاں کیا دوبارہ قلم نہ پکڑ سکیں گی “ اسی درمیان میں مسٹر جان محمد بٹ (انگریز نو مسلم) انگلینڈ سے آئے اور ۲ مارچ کی شام کو مجھ سے نرسنگ ہوم میں ملے۔ انہوں نے مجھے ایک قلم ہدیہ پیش کیا جو وہ انگلینڈ سے خرید کر میرے لئے لائے تھے ۔ قلم کے بارہ میں انہیں میرے ذوق کا علم تھا۔ انہوں نے لندن میں میری پسند کا قلم تلاش کیا مگر وہاں ان کو نہیں ملا۔ پھر انہوں نے اکسفورڈ سے ایک قلم خریدا۔ بلانک (Mont Blanc) تھا جو جرمن کمپنی تیار کرتی ہے۔

اس وقت مسٹر محمد اطہر صدیقی نرسنگ ہوم میں میرے کمرہ میں موجود تھے۔ انہوں نے جان محمد صاحب سے اچانک ایک سوال کیا۔ ”یہ قلم آپ نے وہاں کس روز خریدا “، انہوں نے بتایا کہ سنیچر کے روز۔ اس کے بعد اطہر صدیقی صاحب نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا: دیکھئے، یہ حادثہ آپ کو اتوار کی شام کو دہلی میں پیش آیا۔ اور اس سے ایک دن پہلے سنیچر کو خدا آپ کے لئے انگلینڈ میں قلم خرید وار ہا تھا۔ یہ اس بات کا شگون ہے کہ علم خدا وندی میں یہ مقدر ہے کہ آپ کی انگلیاں دوبارہ ٹھیک ہوں۔ اور وہ دوبارہ اسی طرح قلم پکڑیں جس طرح وہ پہلے قلم پکڑتی تھیں ۔

یہ بات یقینی طور پر میرے لئے بہت خوش کن تھی ۔ مگر اس وقت میری انگلیوں ، خاص طور پر انگوٹھ کی حالت ایسی تھی کہ مجھے محسوس ہوا کہ موصوف شاید میری تسلی کی خاطر ایسا کہ رہے ہیں ۔ اس زمانہ میں میرا حال یہ تھا کہ میں کسی کو کوئی چیز ہاتھ میں لئے ہوئے دیکھتا اور اس کے انگوٹھ کی پکڑ پر نگاہ پڑ جاتی تو اس کے اوپر مجھ کو عجیب قسم کا رشک آتا۔ اس کی خوش قسمتی اور اپنی بے بسی کو سوچ کر دل کی عجیب حالت ہو جاتی۔

اسی دوران ایک روز ایسا ہوا کہ اچانک مجھ پر ایک عجیب تجربہ گزرا۔ ایک لمحہ کے اندر ایک کتاب (God Arises) کی پوری تھیم میرے ذہن میں آگئی ۔ جبکہ ابھی میرا ہاتھ لکھنے کے قابل نہیں ہوا تھا۔ یہ تجربہ میں نے اپنی ڈائری کے صفحہ ۵۵ پر اپنے اسی ہاتھ سے لکھا۔

تحریر کا عکس یہاں دیا جا رہا ہے۔ اس کو دیکھئے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی انسانی تحریر نہ ہو بلکہ کوئی چڑیا کا غضر چلی ہو اور اس کے چلنے سے کاغذ پر نشانات بن گئے ہوں : Monday April God Arises 19 اپریل ۱۹۶۲ کو اچانک کالی دیعی تمہم دمن مرا آگ تیراسی سرا ہائم لکھنے سکتے حامل ہیں سرا کہا۔

ایسے وقت میں ایک نئی کتاب کی تمیم ذہن میں آنا گویا خدائی اشارہ تھا کہ ابھی میری مدت کار ختم نہیں ہوئی۔ ابھی مجھ کو مزید لکھنے کی توفیق ملے گی ۔

میں ۲۸ فروری ۱۹۸۲ کی شام کو ہمدرد نرسنگ ہوم (نئی دہلی) میں داخل ہوا اور ۱۸ مارچ ۱۹۸۲ کی شام کو وہاں سے ڈسچارج ہو کر واپس اپنے مکان پر آیا۔ وہاں اکسرے کے ذریعہ معلوم ہوا کہ میرے داہنے شانہ پر فریکچر ہے۔ گڑھے میں میں اسی کے بل گرا تھا۔ ہمدرد نرسنگ ہوم میں میری کیفیت یہ تھی کہ میرا اپنا ہلانا ہاتھ شانے سے لیکر انگلیوں تک تقریباً بیکار ہو رہا تھا۔ ہاتھ سے اپنا کمر بند بھی نہیں باندھ سکتا تھا اور نہ کرتا پہن سکتا تھا۔ نماز بھی بستر پر لیٹے لیٹے پڑھتا ہمدرد نرسنگ ہوم میں روزانہ میرے فریکچر پر اور ہاتھ کے زخم پر پٹی کی جاتی تھی اور اینٹی بایوٹک دوائیں کھلائی جاتی تھیں ، اسی حال میں صبح و شام گزر رہے تھے۔

ایک روز ایسا ہوا کہ عیادت کی غرض سے آنے والے لوگ نرسنگ ہوم میں میرے کمرہ میں جمع کسی نے کہا کہ آپ کا یہ حادثہ حکومت کی غفلت سے ہوا ہے۔ سڑک کے محکمہ نے سڑک کے کنارے گڑھا کھودا اور اس کو بھرے بغیر چھوڑ دیا۔ بجلی کے محکمہ نے بجلی کے کھمبے کے جنکشن باکس پر ڈھکن آپ حکومت میں اپنے لئے معاوضہ کی درخواست دیدیں۔ حکومت میں بعض بڑے عہدیدار آپ کے قدر دان ہیں اور آپ کی تحریر میں نہایت پابندی سے پڑھتے ہیں۔ وہ آپ کی سفارش کر دیں گے اور آپ کے لئے معقول رقم منظور ہو جائے گی ۔ میں اس وقت چپ رہا۔ وہ لوگ چلے گئے اور مجھے تنہائی ہوئی تو میں نے سوچا کہ اس قسم کی تجویز پیش کرنے والے شاید اس بات سے مایوس ہو چکے ہیں کہ میرا ہاتھ دوبارہ پہلی حالت کی طرف واپس آئے۔ اس لئے وہ اس طرح کی تجویز پیش کر رہے ہیں۔ مگر کیا میں بھی اس کو تسلیم کر کے معاوضہ کی درخواست پیش کر دوں۔ یہ سوچتے ہوئے میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ اور میں نے کہا کہ خدایا اگر وہ لوگ ایک کرور

روپیہ بھی دیں تو مجھے منظور نہیں ہے۔ مجھے تو اپنی وہ انگلیاں چاہئیں جن سے میں دوبارہ قلم پکڑلوں اور آپ کے دین کی خدمت کروں۔ انسان کی دی ہوئی کوئی بھی رقم میرے اس ہاتھ کی قیمت نہیں ہو سکتی جو آپ نے مجھے دیا تھا۔

ہمدرد نرسنگ ہوم میں ایک ڈاکٹر عبد القدوس صاحب تھے۔ وہ کافی تجربہ کار ڈاکٹر تھے۔ نے ایک روز انگریزی کی یہ مثل سنائی :

Printed page