Burns never return
Al-Risala, October 1983, pp. 16–19
By Maulana Wahiduddin Khan
یعنی جلا ہوا کبھی نہیں لوٹتا۔ ان ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ میرے ہاتھ کی انگلیوں (خاص طور پر انگوٹھے اور شہادت کی انگلی) کے اعصاب جل چکے ہیں اور اب وہ دوبارہ بننے والے نہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اب بھی اگر میں قلم کا کام جاری رکھنا چاہتا ہوں تو بائیں ہاتھ سے لکھنے کی مشق ایک نوجوان ڈاکٹر اتنے مہربان تھے کہ وہ قلم اور کاغذ لے کر آتے اور مجھ سے بائیں ہاتھ مگر اس وقت میرے جذبات کیا تھے اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ انہیں دنوں میں نے اپنی ڈائری میں اپنے کمزور ہاتھوں سے یہ الفاظ لکھے " انشاء اللہ مجھے پوری امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے معاملہ میں اس قسم کے تمام اندازوں کو غلط ثابت کرے گا۔ یہ عبارت میں اپنے گھر پر ، مارچ ۱۹۸۲ کو لکھ رہا ہوں جب کہ قلم ابھی انگلیوں کی پوری گرفت میں نہیں ہے۔
نرسنگ ہوم کے علاج سے تقریبا مایوس ہو کر میں ۵ مارچ ۱۹۸۴ کی شام کو اپنے گھر واپس اب ڈریسنگ اور اینٹی بایوٹک دواؤں کا وہی سلسلہ گھر پر جاری تھا جو اس سے پہلے نرسنگ ہوم میں چل رہا تھا۔ ڈاکٹر اختر صدیقی از راہ عنایت خود میرے گھر پر آکر ڈریسنگ کرتے رہے۔ سے صرف یہ ہو رہا تھا کہ زخم کے مردہ خلیات نکل رہے تھے اور زخم زیادہ گہرائی کے ساتھ سامنے آتا جا رہا حتیٰ کہ ایک روز جب پٹی کھولی گئی اور صفائی کی گئی تو وتر (Tendon) صاف دکھائی اس وقت میرے دل کی عجیب کیفیت ہوئی۔ گرم گرم آنسوؤں نے آنکھوں سے نکل کر بتایا کہ اس کیفیت کے اظہار کے لئے میرے پاس الفاظ موجود نہیں ہیں۔
گھر آنے کے بعد ۶ مارچ کی شام کو میرے کمرہ کے ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ ریسیور اٹھایا تو میرے بڑے لڑکے ظفر الاسلام خاں لندن سے بول رہے تھے۔ انہوں نے میرا حال دریافت کیا تو میں نے کہا کہ میں بالکل ٹھیک ہوں کوئی پریشانی کی ضرورت نہیں۔ مگر یہ کہتے ہوئے بے اختیار میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ ظفر الاسلام خاں کو پریشانی سے بچانے کے لئے اگرچہ میں یہ الفاظ بول رہا تھا مگر
حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ اگرچہ اب بھی میں خدا سے بہتر امید لگائے ہوئے تھا مگر عملی صورت حال یہ تھی کہ بظاہر اس کمی کوئی امید نظر نہیں آتی تھی کہ میری انگلیاں دوبارہ اس قابل ہو جائیں گی کہ وہ پہلے کی طرح کام کر سکیں۔
میری ڈائری میں ۱۰ مارچ ۱۹۸۴ کی تاریخ کے ساتھ حسب ذیل الفاظ درج ہیں ۔ " بجلی کے حادثہ کو آج ۱۰ دن ہو گئے۔ مگر کلائی پر ابھی تک گہرا زخم ہے اور میری انگلیاں ابھی بڑی حد تک سن ہیں اور کمزور ہیں۔ وہ قلم پکڑنے کے قابل نہیں (یہ سطریں ۱۰ مارچ کی صبح کو میں خود بمشکل لکھ رہا ہوں )
۱۰ مارچ کی شام کو طبیعت پر بڑا اثر تھا، "کیا میری انگلیاں اب دوبارہ پہلے کی طرح قلم پکڑنے کے قابل نہ ہوں گی ۔ " وہ انگلیاں جن سے میں فیضان خداوندی کو کاغذ پر رقم کرتا تھا، کیا اب پھر متحرک نہ ہوں گی۔ رات کو نمازِ عشاء کےبعد میں نے دعا کی کہ خدایا صبح تک کوئی ایسی واضح علامت ظاہر کر دے جس سے مجھے اعتماد ہو جائے کہ میری انگلیاں دوبارہ پہلے کی طرح درست ہو جائیں گی چنانچہ رات کو دو خواب دیکھے۔ پہلا خواب جس کی تفصیل اچھی طرح یاد نہیں یہ تھا کہ میرے ہاتھ کو پوری طرح درست ہونے میں ۴۰ دن لگیں گے۔ یہ خواب اگر چہ پوری طرح یاد نہیں تاہم ۴۰‘‘ دن کا لفظ بخوبی یاد ہے ۔
دوسرا خواب بہت صاف تھا اور مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ وہ یہ کہ میں کنویں پر ہوں اور پانی سے بھرا ہوا گھڑا دونوں ہاتھوں سے کھینچ کر نکال رہا ہوں۔ کنواں کافی بڑا اور پرانا سا ہے۔ دونوں طرف تھونی گاڑ کر اس کے اوپر ایک لمبی لکڑی رکھی ہوئی ہے۔ اس لکڑی کے بیچ میں ایک پہیہ ہے۔ اس پہیہ کے اوپر سے رسی ڈال کر ڈول کنویں میں ڈالی جاتی ہے ۔ اس لیے میں اس کو مشکل سے کھینچ رہا ہوں۔ مگر یہ مشکل ڈول کے غیر معمولی طور پر بڑا ہونے کی وجہ سے ہے، ورنہ میرے ہاتھ کی پکڑ میں کوئی کی نہیں ۔ میرا ہاتھ اس کو اسی طرح پکڑے ہوئے ہے جس طرح حادثہ سے پہلے تندرستی کی حالت میں پکڑتا تھا۔ انگلیوں میں یا کلائی میں کسی قسم کی کمزوری کا احساس نہیں۔ اس کے دو دن بعد پھر خواب دیکھا کہ ہاتھ میں جہاں زخم تھا وہ بالکل چکنا تقریباً پہلے کی طرح ہو گیا ہے۔ البتہ دولال دھاریاں دائیں بائیں نظر آتی ہیں۔ ۱۲ مارچ ۱۹۸۴ کو صاحبزادہ حسن صاحب (مراد آباد) میرے یہاں آئے اور زخم کو دیکھنے کے بعد میری ڈائری میں حسب ذیل سطریں لکھیں :
2 مارچ کو میں نے اپنی آنکھوں سے ہاتھ کے جلے ہوئے حصہ کو دیکھا وہ ہتھیلی سے لیکر کلائی تک تقریباً دو انچ چوڑا اور تین انچ لمبا سرخ گوشت کا لوتھڑا سا تھا۔ بظاہر یہ قابل قیاس نظر نہیں آتا کہ (خواب کے مطابق) مطابق)۴۰ دن میں وہ اپنی پہلی حالت کی طرح صاف ہو جائے گا۔ نرسنگ ہوم میں اگرچہ میری حالت بہتر نہیں ہوئی تھی۔ مگر وہاں سے میں اس لئے چلا آیا کہ گھر پر رہ کر کچھ کام کر سکوں گا۔ چنانچہ اسی حال میں الرسالہ کے کام میں لگ گیا۔ کبھی قلم کو شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی کے درمیان پکڑ کر لکھتا۔ کبھی اپنی لڑکی فریدہ خانم سے املا کراتا۔ ڈائری میں ۲۶؍ مارچ ۱۹۸۲ کی تاریخ کے ساتھ حسب ذیل سطریں درج ہیں :
آج صبح کو مجھ پر ایک عجیب تجربہ گزرا۔ میں تذکیر القرآن میں سورہ یونس (آیات ۲۵۔ ۲۶؍) کی تشریح لکھ رہا تھا۔ الیکٹرک برن کی وجہ سے میری کلائی زخمی ہے۔ دائیں ہاتھ کی انگلیاں تقریباً ۵، ۶ میں سن ہیں۔ ہاتھ اتنا کمزور ہے کہ قلم پکڑنے میں نہیں آتا۔ تا ہم اسی حالت میں لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ عین اس وقت مجھ پر ایک لمحاتی تجربہ گزرا۔ مجھے ایسا لگا جیسے میں خدا کو اپنے فرشتوں سے یہ کہتے ہوئے سن رہا ہوں کہ :
” ذرا میرے بندے کو دیکھو ..... “ بے اختیار دل بھر آیا اور آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔
میں اپنے گھر پر اسی حال میں تھا اور روزانہ دو وقت باقاعدہ ڈریسنگ ہوتی تھی، تا ہم سارا معاملہ بالکل غیر یقینی نظر آتا تھا۔ جب پٹی کھولی جاتی تو کافی لمبا چوڑا اور گہرا زخم میری آنکھوں کے سامنے ہوتا۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہ کیسے بھرے گا۔ زخم کی صورت اتنی بھیانک تھی کہ اس کے کھلنے کے وقت میں بیوی بچوں کو اپنے پاس نہیں آنے دیتا تھا۔ یہاں تک کہ ۲ اپریل ۱۹۸۲ کو میں نے اپنا ایک وصیت نامہ لکھ دیا جو میری ڈائری کے صفحہ ۵۹ - ۶۱ پر درج ہے ۔ ہمدرد نرسنگ ہوم کے ڈاکٹروں نے گریٹنگ کا مشورہ دیا تھا۔ میرے لڑکے ثانی اثنین خان نے حادثہ کے بعد اس موضوع پر بہت سی کتابیں پڑھ ڈالیں۔ ثانی اثنین کا کہنا بھی یہی تھا کہ گرافٹنگ مگر مجھے آپریشن کے تصور سے دہشت تھی۔ اس لئے میں راضی نہ ہوا۔ میں اسی خیال میں رہا کہ دوا اور ڈریسنگ سے زخم مندمل ہو جائے ۔ مگر یہ امید پوری ہوتی نظر نہ آئی تھی۔ ایسا ہوا کہ بعض ہمدرد اصرار کر کے مجھے ولنگڈن اسپتال لے گئے۔ وہاں ڈاکٹر آر پکھنڈانی نے خصوصی طور پر دیکھا اور شدت سے یہ مشورہ دیا آپ صفدر جنگ اسپتال میں داخل ہو جائیں
اور اپنے زخم کی گرافٹنگ کرائیں۔ بصورت دیگر، یہ زخم ایسا ہی پڑا رہے گا۔ اور اگر سالوں کے بعد قدرتی طور پر ٹھیک ہوا تو آپ کا ہاتھ مستقل طور پر ٹیڑھا ہو چکا ہوگا۔ انہوں نے صفدر جنگ اسپتال میں برن اور پلاسٹک سرجری کے انچارج ڈاکٹر جے ایل گپتا کے نام ایک ذاتی خط لکھ کر مجھے دیا اور کہا کہ آپ فوراً ان سے ملیں ۔
اگلے دن میں اس خط کو لے کر صفدر جنگ اسپتال پہنچا اور وہاں ڈاکٹر جے ایل گپتا سے ملا۔ وہ اس فن میں ہندوستان کے مشہور ایکسپرٹ ہیں۔ انہوں نے زخم کو کھول کر دیکھا تو فوراً پہلا جملہ یہ کہا کہ آپ نے بہت دیر کر دی :