جنت بھی اور جہنم بھی
Al-Risala, October 1983, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان العبد لیتکلم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ اللہ کی رضا بالکلمة من مرضوان اللہ لا یلقی لها میں ایک بات کہتا ہے اور اس کو کوئی اہمیت بالا يرفع الله بها درجات وان العبد نہیں دیتا مگر اللہ اس کی وجہ سے اس کے لیت کلم بالکلمة من سخط الله درجے بہت بڑھا دیتا ہے۔ اسی طرح کوئی لا يلقي لها بالالهوى بها فی النار بندہ اللہ کی ناراضگی کی ایک بات کہتا ہے اور ابعد ما بين المشرق والمغرب - اس کو کوئی اہمیت نہیں دیتا مگر اس کی وجہ سے وہ ایسی آگ میں ڈال دیا جاتا ہے جس کا فاصلہ مشرق و مغرب سے زیادہ ہو۔
وہ کون سی بات ہے جو کہنے میں تو بظاہر صرف ایک معمولی بات ہوتی ہے مگر اخروی نتیجہ کے اعتبار سے وہ اتنی سنگین ہوتی ہے کہ آدمی کو یا تو جنت میں پہنچادیتی ہے یا جہنم میں۔ وہ ہے جب کہ آدمی صرف اللہ کی خاطر ایک شخص کے بارہ میں حق کا کلمہ کہے۔ یا اللہ سے بے خوف ہونے کی وجہ سے کسی کے بارہ میں ناحق بات بولے ۔
زندگی میں بار بار ایسے نازک مواقع آتے ہیں جب کہ آدمی کی زبان سے نکلا ہوا جملہ دوسرے شخص کے لئے نہایت اہم بن جاتا ہے۔ کبھی ایک جملہ کسی کی واقعی حیثیت کا اعتراف کرنے والا ہوتا ہے اور دوسرا جملہ اس کی حیثیت پر پردہ ڈالنے والا۔ کبھی ایک جملہ دوسرے کی عزت کو بچانے والا ہوتا ہے اور دوسرا جملہ اس کو بے عزت کر دینے والا۔ جملہ حسد میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے اور کبھی ایک جملہ خیر خواہی میں نہایا ہوا۔ ایسے مواقع پر خدا سے ڈرنے والا آدمی اپنے منہ سے وہ ذمہ دارانہ لفظ نکالے گا جو خدا کو خوش کرنے والا ہو اور اس بنا پر وہ خدا کی جنت کا مستحق بن جائے گا۔ اور جو شخص خدا سے بے خوف ہے وہ ایسے غیر ذمہ دارانہ الفاظ بولے گا جس میں اس کا اپنا نفس لذت پارہا ہو اور اس کی وجہ سے وہ جہنم کی آگ میں پھینک دیا جائے گا۔