The spirit is willing but the flesh is weak.
Al-Risala, October 1983, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
اس جملہ کا مفہوم ہے : روح مستعد ہے پر جسم کمزور ہے۔ مگر کمپیوٹر نے اس کا ترجمہ دوسری زبان میں کیا تو اس کو یوں کر دیا : شراب اچھی ہے مگر گوشت خراب ہے۔ انگریزی میں کمپیوٹر کے ترجمہ کو ان لفظوں میں بتایا گیا ہے: The wine is good but the meat is bad. یہ غلطی کیوں ہوئی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کمپیوٹر کی نام نہاد ذہانت محض مشینی ذہانت ہوتی ہے۔ وہ صرف ایک بتائی ہوئی بات کا اعادہ کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاضیاتی نوعیت کی باتوں کی ترجمانی میں کمپیوٹر کامیاب رہتا ہے۔ مگر جہاں شعور کے استعمال کی ضرورت ہو اور ایک سے زیادہ امکانی چیزوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے وہاں وہ صحیح جواب پیش کرنے میں اکثر نا کام ہو جاتا ہے۔ ہر زبان میں ایسا ہوتا ہے کہ ایک لفظ کے کئی معنی آتے ہیں اور استعمال سے معانی بدلتے رہتے ہیں۔ آدمی کے سامنے جب ایسا مضمون آتا ہے تو وہ اپنی ذہانت سے جان لیتا ہے کہ کسی خاص موقع پر کس لفظ کے کیا معنی ہیں۔ مگر کمپیوٹر چونکہ اس قسم کی انسانی ذہانت سے خالی ہوتا ہے، وہ فیصلہ نہیں کر پاتا اور کچھ کا کچھ ترجمہ کر دیتا ہے۔ مثلاً مذکورہ بالا فقرہ میں کمپیوٹر نے اسپرٹ کو شراب کے معنی میں لے لیا اور لنگ کو خوشگوار کے معنی میں۔ اسی طرح اس نے فلاش کو گوشت کے معنی میں لیا اور ویک کو ناقص کے معنی میں ۔ ان الفاظ کے یہ معانی بھی آتے ہیں۔ مگر مذکورہ فقرہ میں یہ الفاظ ان معنوں میں نہیں ہیں۔
اس قسم کی غلطی صرف کمپیوٹر ہی کی خصوصیت نہیں۔ انسان بھی اس قسم کی بھیا نک غلطیاں کرتا ہے۔ مزید یہ کہ کمپیوٹر اپنی غلطی کی بنیاد پر کوئی ”تحریک“ نہیں چلا سکتا۔ جب کہ انسان اس خوش قسمتی کا مالک ہے کہ اپنی غلطی کو ایک عظیم انقلابی تحریک کی حیثیت دے سکے۔