Al-Risala · October 1983

جنّت میں مکان

Al-Risala, October 1983, p. 34

By Maulana Wahiduddin Khan

انازعيم ببيت فى ربض الجنة لمن ترك المراء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنْت کے وان كان محقّا وبيت فى وسط الجنة لمن كنارے ایک گھر کی ذمہ داری لیتا ہوں اس ترك الكذب وان كان ما زاحا وبيت شخص کے لئے جو جھگڑے کو چھوڑ دے خواہ وہ فى اعلى الجنة لمن حسن خلقه (الحدیث) حق پر ہو۔ اور جنْت کے بیچ میں ایک گھر کی اس شخص کے لئے جو جھوٹ کو ترک کر دے خواہ وہ مذاق کر رہا ہو۔ اور جنْت کے اعلیٰ درجہ میں ایک گھر اس شخص کے لئے جس کا اخلاق

دو آدمی میں جھگڑا ہو تو دیکھنے کا ایک پہلو یہ ہے کہ کون حق پر ہے اور کون ناحق پر۔ پہلو یہ ہے کہ اگر دونوں اپنے موقف پر اڑے رہیں تو جھگڑا بڑھتا ہے۔ جان و مال کی تباہی پیدا اس لئے اللہ سے ڈرنے والے کو یک طرفہ طور پر جھگڑے سے الگ ہو جانا چاہئے۔ ایسا کرنے کے لئے اپنے نفس کو کچلنا ہوتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کا بہت بڑا اجر

ہنسی مذاق کے وقت اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی سنجیدگی کو بھول جاتا ہے اور جھوٹ بولنے میں کوئی ہرج نہیں سمجھتا۔ مگر جنتی انسان وہ ہے جو سچ اور جھوٹ کے معاملہ میں اتنا حساس ہو کہ غفلت کے اوقات میں بھی اس کی زبان جھوٹ بولنے سے بچی رہے۔ حسن اخلاق در اصل حسن ایمان کا نتیجہ ہے۔ جس شخص کا ایمان اس کو خدا سے ڈرنے والا بنا دے وہ بندوں کے معاملہ میں اس کو بے حد محتاط بنا دیتا ہے۔ اس کی زبان کسی کی بے آبروئی کے لئے نہیں کھلتی۔ اس کا ہاتھ کسی کو تکلیف دینے کے لئے نہیں اٹھتا۔ کے پاؤں کسی کی بدخواہی کے لئے نہیں چلتے۔ یہی حسن اخلاق ہے اور یہ حسن اخلاق جس کے اندر پیدا ہو جائے وہ یقیناً جنْت میں اعلیٰ مقام پاتا ہے۔ اعلیٰ اخلاق سے آدمی کو اعلیٰ جنّت اسی طرح ملتی ہے جس طرح اعلیٰ بیج سے اعلیٰ پھل والا درخت ۔

Printed page