Al-Risala · October 1983

حیدر آباد کا سفر

Al-Risala, October 1983, pp. 35–39

By Maulana Wahiduddin Khan

حیدر آباد کا پہلا سفر میں نے ۱۹۴۸ کے شروع میں کیا تھا۔ یہ سفر میرے بڑے بھائی کے کاروبار کے تحت تھا۔ اس وقت ہندوستان آزاد ہو چکا تھا ۔ مگر ابھی پولیس ایکشن (ستمبر ۱۹۴۸) کا واقعہ پیش نہیں آیا تھا اور " حضور نظام " کی کم از کم ظاہری شان و شوکت بدستور باقی تھی ۔ اس چند روزہ قیام میں ایک روز کا واقعہ مجھے یاد ہے ۔ میں شہر کی کسی شاہراہ پر چل رہا تھا ۔ اچانک پولیس کی وردی میں بہت سے لوگ ظاہر ہوئے اور سڑک کے دونوں طرف کھڑے ہو کر سیٹیاں بجانے لگے ۔ وہ شاہراہ پر چلتے ہوئے آدمیوں اور سواریوں کو کنارے کی سڑکوں اور گلیوں میں دھکیل رہے تھے ۔ تھوڑی دیر میں پوری شاہراہ خالی ہو گئی ۔ اس کے بعد ہمارے سامنے سے تین موٹر کاریں درمیان کی کار میں " حضور نظام " بیٹھے ہوئے تھے۔

معلوم ہوا کہ یہ یہاں کا شاہی معمول ہے ۔ نواب حیدر آباد جب اپنے محل سے کسی دوسرے مقام پر جاتے ہیں تو اس وقت پوری سڑک ان کے لئے خالی کر دی جاتی ہے ۔ نواب حیدر آباد اگر اپنے اس انجام کو جانتے جو ان کے اور ان کے وارثوں کے ساتھ چند سال بعد پیش آنے والا تھا۔ تو اس قسم کی چیزیں ان کو فرضی تماشا معلوم ہوتیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی صرف اپنے آج کو جانتا ہے ، اسے اپنے کل کی خبر نہیں ۔ یہ سب سے بڑا فریب ہے جس میں ہر آدمی مبتلا ہے ، خواہ وہ کوئی چھوٹا آدمی ہو یا کوئی بڑا آدمی ۔

میرا دوسرا سفر نومبر، ۱۹۶۶ میں ہوا۔ یہ سفر حیدر آباد میں جماعت اسلامی کے کل ہند اجتماع میں شرکت کے لئے تھا۔ اس سفر کی مفصل رو داد اسی زمانہ میں میں نے لکھی تھی اور وہ الجمعیتہ ویکلی ( یکم دسمبر، ۱۹۶۶) کے صفحات میں شائع ہوئی تھی۔

حیدر آباد کے لئے میرا تیسرا سفر فروری ۱۹۸۱ میں دینی تعلیمی کانفرنس کی دعوت پر ہوا۔ دینی تعلیمی کانفرنس کی کاروائی میں شرکت کے علاوہ میں نے جماعت اسلامی کے کل ہند اجتماع میں بھی شرکت کی جو انہیں دنوں شہر کے باہر وادی ہدیٰ میں ہورہا تھا۔ آخر میں شہر کے تعلیم یافتہ اور باشعور طبقہ کے چند اجتماعات ہوئے جن میں مجھ کو خطاب کرنے کا موقع ملا۔ تا ہم اس سفر کی کوئی تفصیلی روداد بروقت مرتب نہ کی جاسکی ۔

حیدر آباد کا چوتھا سفر (۱۲ - ۱۵ نومبر ۱۹۸۲) تھا جو حلقہ الرسالہ (اسلامی مرکز حیدر آباد) کی دعوت پر ہوا۔ اس سفر کی رو داد اگلے صفحات میں دی جارہی ہے۔

حیدر آباد کے لئے میرا پانچواں سفر مدرسہ سراج العلوم، محبوب نگر، حیدر آباد کی دعوت پر ہوا۔ اور چھٹا سفر مئی ۱۹۸۳ میں ہوا۔ یہ مقامی اسلامی مرکز کے بعض انتظامی امور کے تحت تھا ۱۲ نومبر ۱۹۸۲ کو حیدر آباد جانے کے لئے میں پالم ایرپورٹ پہنچا تو وہاں ایک عجیب واقعہ میں اندر سیکورٹی چک میں داخل ہوا تو میرے پاس صرف ایک مختصر سا بیگ تھا۔ میرے ذہن میں یہ تھا کہ میرے پاس کوئی قابل اعتراض چیز نہیں ہے۔ میں نے اپنا بیگ میز پر رکھتے ہوئے انسپکٹر سے کہا ، " کیا اس کو کھولنا ہوگا " میز کے دوسرے طرف ایک سردار جی کھڑے انہوں نے میرا جملہ سن کر بڑے تیکھے انداز میں کہا :

(کیوں نہیں) چنانچہ میں نے فوراً اپنا بیگ کھول دیا۔

سردار جی نے میرا بیگ الٹ پلٹ کر دیکھا تو اس میں صرف ایک جوڑا کپڑا تھا اور تذکیر القرآن کی چار جلدیں ۔ انہوں نے ایک جلد اٹہائی اور اس کو کھول کر کہا ، " یہ قرآن ہے " میں نے کہا وہ اردو جانتے تھے۔ چنانچہ وہ اس کا ترجمہ پڑھنے لگے ۔ کچھ دیر کے بعد انہوں نے کہا کہ میں قرآن کا ترجمہ پڑھنا چاہتا ہوں ۔ مگر اس کا ترجمہ میرے پاس موجود نہیں۔ میں نے کہا کہ اب تو میں حیدر آباد جارہا ہوں ۔ انشاء اللہ واپسی کے بعد میں آپ کو قرآن کا ترجمہ فراہم کردوں گا۔ میں نے ان کو " حیات طیبہ " کا ایک نسخہ دیا ۔ جس میں قرآن کی منتخب آیتوں کے ترجمے مختلف عنوانات کے تحت جمع کئے گئے ہیں ۔

ان کا پتہ لے کر میں آگے بڑھا تو میرے ذہن میں یہ سوال تھا کہ کیا وجہ تھی کہ وہی شخص جو چند لمحہ پہلے مجھ سے خشک اور بیزار لہجہ میں بول رہا تھا ، وہی چند لمحہ بعد شوق اور دلچسپی کے انداز میں بات کرنے لگا۔ اس کی وجہ صرف ایک تھی۔ پہلے میں اس کے لئے " حامل بیگ " تھا ، بعد کو میں اس کے لئے " حامل قرآن " بن گیا۔ " بیگ " لے کر جو لوگ ہوائی اڈہ میں داخل ہوتے ہیں ان میں ھائی جیکر ہوتے ہیں جو بم لیکر چلتے ہیں ۔ ان میں اسمگلر ہوتے ہیں جو خلاف قانون چیزیں لئے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان میں حکومتوں کے باغی ہوتے ہیں جو حکومتوں کا تختہ الٹنے کا

منصوبہ لے کر ایک ملک سے دوسرے ملک میں جاتے ہیں۔ جب میں چک کرنے والے آدمی کے سامنے حامل بیگ کے روپ میں تھا تو گویا میں ہائی جیکر، اسمگلر۔ اور قانون کے باغی کے روپ میں تھا۔ جب میں حامل قرآن کے روپ میں اس کے سامنے آیا تو میں اس کی نظر میں مذکورہ گروہ سے الگ ہو گیا ۔ اب میں ایک ایسا انسان تھا جو خدا کی سچی کتاب اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے تھا۔

یہ واقعہ علامتی طور پر موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی صورت حال کو بتا رہا ہے ۔ تک وہ دنیا کے سامنے " حامل بیگ " بنے ہوئے ہیں اس لئے دنیا ان سے بیزار ہے۔ اگر وہ حامل قرآن کے روپ میں لوگوں کے سامنے آجائیں تو وہ دنیا والوں کے لئے دلچسپی اور محبت کا موضوع بن جائیں گے ، بشرطیکہ قرآن کی خود ساختہ تشریحات سے انہوں نے قرآن کی تصویر لوگوں کی نظر میں بگاڑ نہ دی ہو ۔

حیدر آباد کی آبادی لگ بھگ ۳۰ لاکھ ہے۔ اس میں مسلمانوں کا تناسب تقریبا چالیس فیصد ہے ۔ اکثر شہروں کی طرح حیدر آباد بھی دو حیدر آباد کا نام ہے۔ حیدر آباد اور دوسرا نیا حیدر آباد ۔ پرانے حیدر آباد میں گھنی آبادی ہے۔ غریب اور جاہل طبقہ بھی اسی علاقہ میں بستا ہے ۔ اس کے برعکس نئے حیدر آباد میں کھلے مکانات ہیں ۔ زیادہ تر تعلیم یافتہ اور خوش حال طبقہ رہتا ہے ۔

حیدر آباد میں اکثر فرقہ وارانہ جھگڑے ہوتے رہتے ہیں ، مگر یہ تمام جھگڑے پرانے حیدر آباد میں ہوتے ہیں ۔ نئے حیدر آباد میں آج تک کوئی فرقہ وارانہ جھگڑا نہیں ہوا ۔ اسی طرح کی تقسیم دوسرے شہروں میں بھی پائی جاتی ہے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فرقہ وارانہ جھگڑوں میں سب سے زیادہ دخل سماجی حالات کا ہے ۔ جو لوگ فسادات کے نام پر " مظلوم مسلمانوں " کے لفظی حامی بنے ہوئے ہیں ۔ انہیں مسلمانوں کی تعلیمی اور اقتصادی حالت درست کرنے کے لئے محنت کرنا چاہئے ۔ کیونکہ مسلمانوں کی تعلیمی اور اقتصادی حالت کو درست کرکے زیادہ بہتر طور پر فسادات کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے ۔

حیدر آباد کی کچھ انفرادی خصوصیات ہیں جو ہندوستان کے کسی دوسرے شہر کو حاصل ان میں سے ایک یہ ہے کہ حیدر آباد میں کم از کم علاقائی سطح پر مسلمانوں کی ایک صحافت ہے ۔ یہاں اردو کے کئی اخبارات نکلتے ہیں جو یہاں کے مسلمانوں میں عام طور پر پڑھے

آپ شام کی ایک خبر کو اگلی صبح تک یہاں کے مسلمانوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ جب کہ ہنستان کے دوسرے شہروں میں یہ چیز مقابلے بہت کم پائی جاتی ہے۔ صحافتی معیار کے اعتبار سے تو مسلمان ساری دنیا میں بے حد پیچھے ہیں۔ مگر صحافت بطور عمومی اطلاع نامہ کے بھی اب تک ان کے یہاں بہت کم استعمال ہو سکی ہے۔

نظام کی حکومت کے زمانہ میں جب کسی کو مستقل جاگیر دی جاتی تو اس پر لکھا جاتا تھا تا قیام شمس و قمر ، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حیدر آباد کے سابق مسلم حکمرانوں کی نفسیات کیا تھی۔ انگریزوں کی ہندوستان میں آمد کے زمانہ میں حیدر آباد کے مسلم نواب نے جو کردار ادا کیا وہ بھی اکثر مورخین کے نزدیک قابل تنقید رہا ہے۔ تا ہم یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان کی ریاستوں میں حیدر آباد جس طرح سب سے بڑی ریاست تھی اسی طرح اس نے تمام ریاستوں میں سب سے زیادہ کام بھی کئے ہیں۔

نواب کے زمانہ میں ریاست کے فنڈ سے ہندو اور مسلم رعایا کو یکساں طور پر امداد دی جاتی رہی ہے۔ اسی طرح اس دور میں مختلف قسم کے اسلامی کام بھی بہت بڑے پیمانے پر مثلاً شعبہ امور مذہبی کا قیام ، جس کے تحت افراد اور اداروں کو مستقل امداد دی جامعہ عثمانیہ کے نام سے اردو یونیورسٹی کا قیام ، دار الترجمہ جس کے تحت بہت بڑے پیمانے پر دو دوسری زبانوں کی علمی کتابیں اردو زبان میں منتقل کی گئیں۔ جس نے کثیر تعداد میں قیمتی عربی کتابوں کو تلاش کر کے شائع کیا۔ وغیرہ وغیرہ ۔ حیدر آباد کی ان اسلامی خدمات کا اعتراف لوگوں نے دل کھول کر کیا ہے۔ بھی اس کی اہمیت سے انکار نہیں ۔ تا ہم ایک سوال اب بھی جواب طلب ہے۔ وہ یہ کہ اتنی بڑی بڑی کوششیں مستقبل کے اعتبار سے بے نتیجہ کیوں ہو گئیں۔

اس سوال کا جواب صرف ایک ہے۔ یہ سب کام حقیقتاً قومی کام تھے نہ کہ اسلامی اس میں شک نہیں کہ یہ تمام کام اسلام کے نام پر انجام دئے گئے۔ مگر اس سے اصل حقیقت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کوئی مسلم قوم جب بھی کوئی کام کرے گی وہ اسلام ہی کے نام پر کرے گی۔ خواہ وہ کام شخصی اور قومی محرکات کے تحت کیوں نہ وجود میں آیا ہو۔ قومی محرک کے تحت کیا ہوا کام خواہ وہ کتنے ہی بڑے پیمانہ پر انجام پائے کبھی نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا۔ مسلمان اگر قومی محرک کے تحت کام کریں تو انہیں یقینی طور پر صرف ایک ہی

انجام کا انتظار کرنا چاہیے اور وہ یہ کہ ان کا کام حَبِطَتْ اعمالھم کا مصداق بن کر رہ جائے۔ انہیں ان کی قربانیوں کا کوئی نتیجہ نہ ملے۔

اس کے برعکس حقیقی اسلامی محرک کے تحت کیا ہوا کام ہمیشہ نتیجہ خیز ہوتا ہے۔ محرک عین اندرونی تقاضے کے تحت آدمی کو نتیجہ خیز رخ کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ قدیم حیدر آباد کی اسلامی سرگرمیاں اگر صحیح اسلامی محرک کے تحت ہوتیں تو لازمی طور پر اس کا یہ نتیجہ نکلتا کہ اس کے عمل کا رخ دعوت الی اللہ اور فکر آخرت کی طرف ہوتا۔ اور یہ دونوں چیزیں وہ ہیں جن کا نتیجہ خیز ہونا بالکل یقینی ہے۔ دعوت الی اللہ کا کام اسلام کی توسیع کرکے اس کو مستقل طاقت عطا کرتا ہے۔ اسی طرح اگر حیدر آباد میں آخرت پسندی کا ذہن ہوتا تو "قاسم رضوی" جیسی تحریکیں کبھی نہ بنتیں جن کا نقصان اتنا زیادہ ہے کہ ان کا شمار کرنا ممکن نہیں۔

۱۹۶۰ء میں جب میں حیدر آباد گیا تھا تو وہاں ایک اندوہناک منظر یہ نظر آیا کہ رکشا کھینچنے والے بیشتر مسلمان تھے۔ جہاں تک یاد ہے اس زمانہ میں ۲۵ ہزار رکشا کھینچنے والے تھے جن میں تقریباً بیس ہزار مسلمان تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ریاست کے زمانہ میں مسلمان زیادہ تر ملازمت کرتے تھے ۔ جب ریاست ختم ہوئی تو اس کے بہت سے شعبے بھی ختم ہو گئے۔ بہت بڑی تعداد میں مسلمان بے روزگار ہو گئے۔ ان میں تعلیم بہت کم تھی، تجارت میں وہ تقریباً نہیں کے برابر تھے۔ اب ان کے لئے جو کام رہ گیا تھا وہ جسمانی محنت کا کام تھا جس میں رکشا چلانا بھی شامل تھا۔

مگر اب پندرہ سال بعد صورت حال بالکل بدل چکی ہے۔ اب حیدر آباد کے مسلمانوں میں تعلیم بہت بڑھ چکی ہے۔ تجارتوں میں بھی وہ کافی داخل ہو چکے ہیں۔ بہت سے خاندانوں کے افراد خلیجی ممالک میں ہیں۔ اس طرح انہوں نے اپنے معاشی نقصان کی تلافی کر لی ہے۔ یہاں بھی میرے جیسے آدمی کے لئے بہت زیادہ خوشی کا موقع نہیں۔ کیونکہ دوسرے مقامات کی طرح ، یہاں کے مسلمانوں کی آمدنی کا بڑا حصہ صرف دو مدوں میں ضائع ہو رہا ہے نمائشِی اخراجات اور آپس کے جھگڑے ۔

حیدر آباد میں میرا قیام چار دن رہا۔ ان چار دنوں میں عام ملاقاتوں اور گفتگو کے علاوہ جو باضابطہ پروگرام ہوئے، ان کی تفصیل یہاں درج کی جاتی ہے :

Printed page