حیدر آباد میں پروگرام کی تفصیل
Al-Risala, October 1983, pp. 40–44
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۲ نومبر ۱۹۸۲ مسجد سلیمہ خاتون میں خطاب ، قبل نماز جمعہ پریس کانفرنس ، ۳ بجے شام معززین شہر اور دانش وروں سے خطاب ، عزیز باغ ، نور خاں بازار ۱۳ نومبر خطاب ، ہنری مارٹن انسٹی ٹیُوٹ ، نامپلی اسٹیشن روڈ خطاب ، مولانا ابوالکلام آزاد انسٹی ٹیُوٹ ، قدیم باغ عام علماء کرام سے خطاب ، مسجد اعظم پورہ ۱۴ نومبر خطاب ، خواجہ کا چلہ ( قرآن ڈسیرت سوسائٹی ) مغل پورہ درس قرآن ، مسجد صحیفه ، اعظم پورہ خطاب ، مدینہ ٹیکنیکل کالج ، نام پلی خطاب ، نرساپور ، حیدر آباد ۱۵ نومبر درس قرآن ، مسجد عامر ہ ، عابد روڈ خواتین سے خطاب ، مولانا ابوالکلام آزاد انسٹی ٹیُوٹ خطاب ، جامع مسجد مشیر آباد حیدر آباد میں ماہنامہ الرسالہ کے ذریعہ ہمارے مشن کا ، کافی تعارف ہو چکا ہے ۔ تعلیم یافتہ طبقہ عام طور پر واقف ہے ۔ چنانچہ مقامی اخبارات میں جب میری آمد کا اعلان کیا گیا تو غیر معمولی طور پر بڑی تعداد میں لوگ میری تقریروں کو سننے کے لئے جمع ہوتے رہے ۔ چار دن کی تقریروں میں جو جگہ بھی اجتماع کے لئے مقرر کی گئی وہ کثرت تعداد کی وجہ سے ناکافی ثابت ہوئی ۔ والوں کا خیال تھا کہ حیدر آباد کے تعلیم یافتہ لوگ اتنی بڑی تعداد میں اس سے پہلے کسی اجتماع میں دیکھے نہیں گئے ۔
حیدر آباد سے واپسی کے بعد وہاں سے جو خطوط ہمارے دفتر کو موصول ہوئے ، ان میں سے ایک خط کے چند فقرے یہ ہیں ۔ " مولانا وحید الدین خان صاحب کے حیدر آباد کے حالیہ دورہ کے موقع پر یہاں کے مسلمانوں نے مولانا کو بڑے شوق اور ذوق سے سنا اور بہت پسند کیا ۔ لوگوں کے فکر نے ایک نئی کروٹ لی ہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ بہت کم ایسا ہوا ہوگا کہ اہل علم اور خواص کا اتنا بڑا مجمع کسی فردِ واحد کو سننے کے لئے جمع ہوا ہو ۔ ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء "
میری تقریروں اور ملاقاتوں کی رپورٹیں مقامی اخبارات میں روزانہ شائع ہوتی رہیں۔ ایک بڑے اخبار کا نمائندہ مستقل طور پر میرے ساتھ تھا تا کہ میری تمام مصروفیات کو کور کر سکے۔ لوگوں نے کثرت سے ہمارے مشن کو سنا اور پڑھا۔ چنانچہ چار دن تک یہاں کے تعلیم یافتہ طبقہ میں عام طور پر اس کا چرچا ہوتا رہا۔
دہلی سے میں اپنے ساتھ کتابوں کا ایک بنڈل (۲۵ کلو) لے گیا تھا۔ یہ کتابیں پہلے ہی دن ختم ہو گئیں۔ اس کے بعد ٹیلی فون کرکے دہلی سے فوری طور پر مزید دگنا تعداد میں کتابیں منگائی گئیں، اس کی صورت یہ ہوئی کہ رات کو دہلی میں الرسالہ کے دفتر کو ٹیلی فون کیا گیا۔ راتوں رات پیک کر کے صبح سویرے کے ہوائی جہاز سے کتابیں روانہ کیں اور ٹیلی فون کے ذریعہ اس کا رسید نمبر ہم کو بتا دیا۔ اس نمبر پر حیدر آباد میں اگلے دن صبح کو کتابیں حاصل کر لی گئیں۔ چنانچہ دوسرے دن اجتماع میں اسٹال پر تمام کتابیں دوبارہ موجود تھیں۔
اب بھی وہی صورت ہوئی جو پچھلے دن پیش آئی تھی، یعنی تمام کتابیں، " ہاٹ کیک " کی طرح بک گئیں۔ اب رات کے وقت دوبارہ ٹیلی فون کیا گیا اور دوبارہ مذکورہ طریقہ پر دھلی کے دفتر سے کتابیں روانہ کی گئیں۔ اور اگلی صبح کو اسی طرح حیدر آباد کے ہوائی اڈہ پر وصول کر لی مگر اس بار بھی تمام کتابیں ایک ہی دن میں فروخت ہو گئیں۔ چونکہ لوگوں کا اشتیاق برابر جاری تھا اس لئے اب یہ کیا گیا کہ مقامی طور پر حیدر آباد میں جن لوگوں کے پاس الرسالہ کے پرانے پرچے یا مکتبہ الرسالہ کی چھپی ہوئی کتابوں کے ذخیرے تھے ان کو ان کے گھروں پر جا کر حاصل کیا گیا ۔ ان میں ایسے بھی تھے جن کے اوراق پھٹے ہوئے تھے۔ ٹائٹل پر لوگوں نے اپنا نام وغیرہ لکھ رکھا تھا۔ مگر ان کا بھی یہ حال ہوا کہ جب ان کو اجتماع کے موقع پر اسٹال پر رکھا گیا تو لوگوں نے پوری قیمت پر انہیں خرید لیا۔ مجموعی طور پر ایک سو کلو وزن سے زیادہ کی کتابیں فروخت ہو ئیں۔
۱۵ نومبر کی شام کو نواب اکبر علی خاں (سابق گورنر یوپی) نے اپنے یہاں کچھ اعلی تعلیم یافتہ اصحاب کو جمع کیا۔ اس موقع پر ان لوگوں سے تقریباً ایک گھنٹہ کی ملاقات رہی جناب اکبر علی خاں نے مولانا محمد علی کی زندگی اور کام سے متعلق اپنی ایک کتاب مجھے ہدیہ یہ کتاب انہوں نے حال میں شائع کی ہے۔ اس مناسبت سے میں نے اپنی مختصر گفتگو میں بتایا کہ ہمارا مشن کیا ہے ، آپ اس کو یوں سمجھ سکتے ہیں کہ جہاں محمد علی نے اپنا سفر ختم کیا
تھا وہاں سے ہم نے اپنا سفر شروع کیا ہے۔
میں نے مولانا محمد علی کی زندگی کے کچھ واقعات بیان کرتے ہوئے کہا کہ آخر عمر میں مولانا محمد علی اپنی سیاست سے مایوس ہو گئے تھے اور چاہتے تھے کہ یورپ جا کر اسلام کی تبلیغ کا وہ یقیناً اس کام کے اہل تھے۔ مگر ان کی عمر نے وفا نہ کی۔ اپنے ارادہ کی تکمیل سے پہلے وہ اس دنیا سے چلے گئے۔ میں نے کہا کہ تبلیغ و دعوت کا کام جس کو مولانا محمد علی نے آخر عمر میں کرنا یہی دراصل کرنے کا اصل کام ہے۔ ہم امت کو اسی خاص کام کے لئے اٹھانا چاہتے اور اسی مقصد کے لئے ہم نے اسلامی مرکز قائم کیا ہے۔ ۱۲ نومبر کو ۳ بجے شام کے وقت حمایت نگر کے ایک ہال میں پریس کانفرنس ہوئی۔ انگریزی اور تلگو اخبارات کے نمائندے شریک ہوئے۔ پہلے میں نے ایک تقریر کی۔ زیر نظر شمارہ میں الگ سے شائع کی جا رہی ہے۔ تقریر کے بعد اخباری نمائندوں نے سوالات کئے جن کے جوابات دئے گئے۔
اگلی صبح کو سب اخبارات میں اس کی رپورٹ شائع ہوئی۔ لوگوں کے بیان کے مطابق سب سے عمدہ اور جامع رپورٹ روزنامہ آندھرا پر بھا (تلگو) کی تھی۔ اس تلگو اخبار کے اسسٹنٹ ایڈیٹر مسٹر پی این سوامی دوبارہ انٹرویو لینے کے لئے میری قیام گاہ (حمایت نگر) پر آئے۔ انگریزی اخبار (دکن کرانیکل) میں پریس کانفرنس کی جو رپورٹ چھپی تھی اس کی نقل یہاں درج کی جا رہی ہے۔
ISLAMIC SCHOLAR IN CITY Hyderabad, Nov. 13, 1982. Maulana Wahiduddin Khan, an eminent Islamic scholar, regretted that a powerful ‘opinion-building’ media like the Press had resorted to sensational news-mongering that was more like an ‘inverted pyramid’—where news rested on the smallest sensational part. The Maulana, who is also the Editor of AL-RISALA-a religious monthly magazine - told newsmen yesterday that instead of clashing with the Government, the media should strive for changing the personality of an individual and the society. Such collective efforts would compel Governments to work for the good of its people whether they liked it or not, he declared. He urged people not to resort to revolutions and break traditions. Maulana Wahiduddin Khan is on a four-day mission to the city, propagating the ‘true tenets’ of Islam. The Islamic method of change, he says is evolutionary rather than revolutionary. Deccan Chronicle (Hyderabad), Sunday, November 14, 1982.
پریس کا نفرنس سے خطاب (حیدر آباد ۱۲ نومبر ۱۹۸۲)
ہماری یہ پریس کانفرنس معروف معنوں میں کوئی پریس کانفرنس نہیں ہے۔ عام طور پر عوامی ایشوز پر ہوتی ہے۔ اور آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے پاس اس قسم کا کوئی اشو موجود یہ دراصل ایک قسم کی صحافتی ملاقات ہے ۔ اسلامی مرکز کے تعمیری مشن کے تحت ہم ہر طبقہ کے لوگوں تک اپنا پیغام پہنچاتے ہیں ۔ ہمارے ساتھیوں کو خیال ہوا کہ یہاں کی صحافی برادری تک بھی اسے پہنچایا جائے ۔ کیونکہ موجودہ زمانہ میں صحافت گویا عوام کی آنکھ ہے جس سے وہ دیکھتے ہیں ۔ عوام کا دماغ ہے جس سے وہ سوچتے ہیں ۔
صحافت ہمارے ملک میں اگرچہ زیادہ ترقی یافتہ نہیں ، تا ہم اصولی طور پر صحافت موجودہ زمانہ کی سب سے بڑی قوت ہے ۔ مغربی ملکوں میں صحافت کا یہ حال ہے کہ وہ حکومت کے متوازی ایک مستقل قوت بن چکی ہے۔ ان ملکوں میں صحافت اگر کسی صدر حکومت یا وزیر اعظم کی مخالف ہو جائے تو وہ اس کی مخالفت کو نظر انداز کر کے نہیں رہ سکتا ۔ مغرب میں صحافت کی قوت کی ایک مثال سابق صدر امریکہ مسٹرچر ڈنکسن کے سیاسی زوال (۱۹۷۳ء) کی صورت میں ہم دیکھ چکے ہیں ۔ مگر مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ صحافت کی قوت ابھی تک صحیح رخ پر استعمال نہیں ہو سکی یہ قوت اگرچہ آج پوری طرح انسان کے ہاتھ میں آچکی ہے ۔ مگر ابھی تک اس کو انسان کی اصلاح کے لئے موثر طور پر کام میں نہ لایا جا سکا۔ اس بات کی وضاحت کے لئے ایک مثال لیجئے : میں جس ہوائی جہاز پر دہلی سے حیدر آباد آیا ہوں ، فرض کیجئے کہ وہ اسرائیل یا امریکہ کا جہاز ہوتا اور میں اس کو ہائی جیک کرکے حیدر آباد میں اتارتا اور پھر میری پریس کانفرنس کا اعلان کیا جاتا تو یقیناً موجودہ کانفرنس سے بہت زیادہ بڑی کانفرنس کا منظر یہاں دکھائی دیتا۔ حتی کہ بیرونی ملکوں کے اخباری نمائندے تیزی سے روانہ ہو کر دہلی سے حیدر آباد پہنچتے تاکہ اس کا نفرنس کو Cover کر سکیں۔ حالانکہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہائی جیکنگ سے زیادہ بے فائدہ کام اور کوئی نہیں ۔ مگر آج اسی کا نام صحافت ہے ۔ حقیقت کی دنیا میں جو چیز بالکل غیر اہم ہے ، وہ پریس کی دنیا میں سب سے زیادہ اہم بن جاتی ہے۔ کیوں ، اس لئے کہ اس کے اندر وہ چیز ہے جس کو اخباری اصطلاح میں نیوز ویلو (News Value) کہا جاتا ہے ۔
حال میں ایک سفر کے دوران میرا کچھ وقت یوگنڈا کے ہوائی اڈہ انٹے بی پر گزرا ۔ اس کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ یہی وہ مقام ہے جہاں ۱۹۷۶ میں فلسطینیوں نے اسرائیل کا ایک ہوائی جہاز ہائی جیک کرکے اتارا تھا۔ چند دن تک یہ واقعہ اخبارات کے صفحہ اول کی سرخیوں میں جگہ پا تا رہا۔ اور اس کے بعد فلسطینیوں کو اس کی قیمت دینی پڑی وہ آپ سب کو معلوم
اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جدید صحافت میں کس طرح ایسا ہورہا ہے کہ ایک چیز جو حقیقت کے اعتبار سے بالکل بے قیمت ہو وہ اخبار کے صفحہ میں بہت زیادہ با قیمت بنا کر دکھائی جانے لگے ۔
ہم صحافت سے کیا چاہتے ہیں ، ایک لفظ میں یہ کہ صحافت حقیقی قیمت (Real Value) کو اہمیت دے نہ کہ اخباری قیمت (News Value) کو۔ ریل ویلو کو اہمیت دینے سے آدمی کے اندر حقیقت پسندی آتی ہے اور حقیقت پسندی تمام انسانی خوبیوں کی اصل ہے۔ اس کے بر عکس نیوز ویلو کو اہمیت دینے سے غیر سنجیدگی (Insincerity) پیدا ہوتی ہے۔ اور غیر سنجیدگی بلا شبہ تمام انسانی خرابیوں کی جڑ ہے ۔
اسلام جو سنجیدہ اور تعمیری سماج بنانا چاہتا ہے، اس میں صحافت اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ مگر موجودہ حالت میں صحافت اس مقصد کے بالکل بر عکس سمت میں جارہی ہے۔ چیزوں کو اہمیت دینے والا مزاج بنانا چاہتا ہے اور موجودہ زمانہ میں صحافت کا کمال یہ بن گیا ہے کہ وہ غیر حقیقی چیزوں کو سب سے زیادہ نمایاں کرے ۔
ایک سفر میں میری ملاقات کناڈا کے ایک صاحب سے ہوئی۔ انہوں نے پوچھا کہ اسلام کا مطلب کیا ہے ۔ میں نے جواب دیا :