Al-Risala · October 1983

Islam means realism

Al-Risala, October 1983, pp. 44–45

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام نام ہے حقیقت پسندی کا۔ واقعہ یہ ہے کہ اسلام زندگی کی سائنس ہے اور اس سائنس کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ دنیا میں حقیقت پسند بن کر رہو ۔ ہر معاملہ میں وہ رویہ اختیار کرو جو حقیقت واقعہ کے مطابق ہو۔ حقیقت پسندانہ رویہ زندگی کی تمام کامیابیوں کا راز ہے۔ اور حقیقت پسندی سے انحراف تمام ناکامیوں کا واحد سب سے بڑا سبب ہے۔

موجودہ زمانہ میں دو خاص بڑے بڑے شعبے ہیں ۔ جو زندگی کی صورت گری کرتے ہیں ۔

دونوں شعبے ہیں ۔ سائنس اور جرنلزم۔ سائنس کا تعلق زیادہ تر طبیعی دنیا سے ہے اور جرنلزم کا تعلق زیادہ تر انسانی دنیا سے ۔ سائنس اگر کائناتی واقعات کا مطالعہ کرتی ہے تو جرنلزم انسانی واقعات کا۔ مگر عجیب بات ہے کہ دونوں میں سخت تضاد ہے ۔

سائنس مکمل طور پر ریلزم (حقیقت پسندی) کے اصول پر قائم ہے ۔ سائنس اس حقیقت واقعہ کو مان کر چلتی ہے کہ ہمارے باہر ایک دنیا ہے جو کامل طور پر خود اپنے محکم قوانین پر قائم ہے۔ مثلاً پانی کا ایک قانون ہے ۔ خشکی کا ایک قانون ہے ۔ فضا کا ایک قانون ہے ۔ پانی کے قانون سے مطابقت کرنے میں وہ چیز وجود میں آتی ہے جس کا نام پانی کا جہاز ہے۔ زمین کے قوانین سے مطابقت کا نتیجہ موٹر کار ہے اور فضا کے قانون سے مطابقت کا نتیجہ ہوائی جہاز ۔ سائنس کی ہر کامیابی دراصل خارجی دنیا سے اسی مطابقت کامل کا دوسرا نام ہے ۔

مگر جرنلزم (بالفاظ دیگر انسانی دنیا) میں یہ معاملہ بالکل الٹا ہو جاتا ہے ۔ میں نے جرنلزم پر ایک کتاب پڑھی ۔ اس کے ایک باب میں دکھایا گیا تھا کہ اخبار نویس جب خبر مرتب کرتا ہے تو اس کی ترتیب کے وقت اس کے سامنے کیا اصول ہوتا ہے ۔ اس اصول کو بتانے کے لئے جرنلزم میں ایک خاص اصطلاح ہے جس کا نام ہے (Inverted Pyramid) یعنی الٹا اہرام ۔ مثال کے طور پر شہر میں ایک عمارت بنتی ہے جس کی ۲۱ منزلیں ہیں ۔ اب اخبار نویس اس کی خبر بنائے گا تو اس کی خبر کا پہلا جملہ ہو گا ۔ ۲۱ منزلہ عمارت تیار ،، ظاہر ہے عمارت کی ۲۱ ویں منزل سب سے آخر میں بنی۔ پہلے منصوبہ بنایا گیا۔ پھر زمین تیار کی گئی۔ بنیاد کھودی گئی۔ نیچے سے تعمیر کرتے کرتے آخر میں اوپر کی منزل کھڑی ہوئی۔ مگر اخباری ترتیب میں سب سے پہلے جو چیز دکھائی دی وہ عمارت کی ۲۱ ویں منزل تھی۔

گویا سائنس میں اگر ریل ویلو (حقیقی قدر) کی اہمیت ہے تو جرنلزم میں نیوز ویلو (اخباری قدر) کی۔ ہماری زندگی کے دو اہم ترین شعبوں میں اس تضاد نے ہماری زندگی کو بالکل برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ ہم سائنس میں جس اصول کو اپنا کر کامیابی حاصل کرتے ہیں ، زندگی میں اس کے برعکس اصول پر عمل اسی تضاد کا یہ نتیجہ ہے کہ سائنس میں ہم نے جو کامیابی حاصل کی ہے ، زندگی میں ہم وہ کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ سائنس کے ذریعہ ہم ایک اعلیٰ درجہ کا منصوبہ بند شہر بنا لیتے ہیں مگر اسی شہر کے اندر اعلیٰ درجہ کی منصوبہ بند زندگی نہیں بنا پاتے۔ سائنس کے ذریعہ ہم ایسی مشینیں بنا لیتے ہیں جو فنی صحت (Technical Perfection) کی حد تک کام کرتی ہیں۔ مگر انسان کو ایسا نہیں بنا

پاتے کہ وہ ٹیکنیکل پرفیکشن کی حد تک صحیح صحیح اپنی ڈیوٹی انجام دینے لگے۔ اخبار کے صفحات میں سب سے زیادہ وہی چیز فلیش کرتی ہے جس کے اندر سب سے زیادہ نیوز سب سے زیادہ کامیاب پریس کانفرنس وہ ہوتی ہے جو کسی بڑے عوامی شو پر بلائی گئی ہو۔ اس صورت حال کو بدلنا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ طبیعی علوم کی دنیا میں جو حقیقت پسندانہ نقطہ نظر اختیار کیا جاتا ہے وہی حقیقت پسندانہ نقطہ نظر انسانی دنیا میں بھی اختیار کیا جائے۔ اسلامی عقیدہ کے مطابق قرآن اسی طرز زندگی کا ہدایت نامہ ہے جو خدا کی طرف سے انسان کے لئے بھیجا گیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو دین ساری کائنات کا دین ہے اسی دین کو انسان بھی اختیار کرے (افغیر دین اللہ یبغون وله اسلم من في السماوات والارض طوعا وکرھا) قرآن اور کائنات میں وہی نسبت ہے جو سائنس میں تھیوری (نظریہ) اور ڈماسٹریشن (مظاہرہ) کی ہوتی ہے۔ کائنات خدا کے جس دین پر عملاً چل رہی ہے ، قرآن اسی دین کا لٹرل اسٹیٹمنٹ (لفظی بیان) ہے۔

قرآن خدا کے وجود کی خبر دیتا ہے اور کائنات اپنی اعلیٰ ڈیزائن کے ساتھ تصدیق کرتی ہے کہ یقیناً یہ خبر صحیح ہے۔ قرآن انسان سے کہتا ہے کہ خدا کے آگے جھک جاؤ اور درخت کا سایہ زمین پر پڑ کر اور پتھر پہاڑ کے اوپر سے نیچے گر کر تمثیلی روپ میں کہتا ہے کہ یہی طریقہ صحیح ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ انسان کو چاہئے کہ وہ خدا کے حکم کا پابند بنے اور کائنات کی ہر چیز قدرت کے قانون کی مکمل پابندی کرکے اعلان کرتی ہے کہ اس کے سوا کوئی دوسرا طریقہ اس دنیا میں ممکن نہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ اپنی تعمیر اس طرح کرو کہ دوسرے کو کوئی نقصان نہ پہنچے اور سورج اور چاند اور تمام اجرام سماوی اپنے اپنے مدار میں گھوم کر بتاتے ہیں کہ یہ مطالبہ کس قدر قرآن کہتا ہے کہ موجودہ دنیا کے بعد ایک اور دنیا ہے جہاں آدمی کو اپنے کئے کا انجام پانا ہے۔ اور کائنات اپنی حد درجہ معنویت کے ساتھ گواہی دیتی ہے کہ زندگی کا خاتمہ اسی موجودہ دنیا پر نہیں ہو سکتا ، ضروری ہے کہ ایک اور دنیا آئے جہاں حق حق کی صورت میں اور باطل باطل کی صورت میں اپنی واقعی جگہ پاسکے ۔

اسلامی مرکز دہلی کا آغاز ۱۹۷۰ میں ہوا۔ یہ ایک خالص تعمیری مرکز ہے۔ اس کا مقصد یہی ہے کہ اسلام کو زندگی کی سائنس کی حیثیت سے لوگوں کے سامنے پیش کرے ۔ انسان کو بھی اسی حقیقت پسندی کے دین پر قائم کر دے جس حقیقت پسندی کے دین پر ساری کائنات ایک لفظ میں ، ہم سائنس کو جبر ملزم بنا دینا چاہتے ہیں اور جبر ملزم

Printed page