کلیسا کی مثال
Al-Risala, November 1983, pp. 3–5
By Maulana Wahiduddin Khan
گلیلیو (۱۶۴۲-۱۵۶۴) اٹلی کا بہت بڑا سائنس داں تھا۔ اس نے پہلی بار دوربین تیار کی اور علم الافلاک میں بہت سی اہم چیزیں دریافت کیں۔ ساڑھے تین سو سال پہلے اس نے ایک کتاب شائع کی جس کا نام تھا، " دو بڑے نظام ہائے عالم پر گفتگو"، اس کتاب میںگلیلیو نے زمین اور شمسی نظام کے مسئلہ پر بحث کی۔ اس نے کوپرنیکس کے اس نظریہ کی تائید کی کہ زمین چپٹی نہیں ہے بلکہ گول ہے اور یہ کہ سورج زمین کے گرد نہیں گھوم رہا ہے بلکہ زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ رومی کلیسا نے اس نظریہ کو مسیحی عقائد کے خلاف قرار دیا۔ کتاب مقدس (تورات اور انجیل)، میں اگرچہ یہ مسئلہ درج نہ تھا۔ تاہم مسیحی بزرگوں نے بطور خود اپنے عقیدہ کی جو تفصیلات مرتب کیں ان میں انہوں نے اس نظریہ کو درج کر دیا۔ کلیسا یہ عقیدہ رکھتا تھا کہ کتاب کے متن کی طرح اس کے حواشی بھی مقدس ہیں جو اس کے بزرگوں نے لکھ رکھے ہیں ، اس لئے اس نے ان حواشی کو عین دین سمجھا اور اس نے گلیلیو کو بے دین قرار دے دیا۔ اس زمانہ میں کلیسا کو مسیحی دنیاپر زبردست اقتدار حاصل حتی کہ یورپ کے کئی ملکوں (اسپین، اٹلی وغیرہ میں اس کی منہوازی مذہبی عدالتیں قائم تھیں ۔ ان عدالتوں کے ذریعہ کلیسا براہ راست خود اپنے اختیار سے ہر قسم کی سزائیں دے سکتا تھا۔
جب گلیلیو نے اپنی غلطی نہیں مانی تو اس کا مقدمہ رومی کلیسا کی مذہبی عدالت میں پیش ہوا۔ اور اس نے اس کو عمر قید کی سزا دے دی۔ اس کے بعد دو سو سال سے زیادہ عرصہ تک کے لئے اٹلی میں علمی تحقیق کا کام رک گیا ۔ _______ خدائی متن کے ساتھ بزرگوں کی تشریحات کو مقدس سمجھنے کا یہ بھیانک انجام تھا جو اٹلی کو بھگتنا پڑا۔
کلیسا نے اپنے دائرہ اختیار میں کچھ اہل علم کا خاتمہ کر دیا۔ مگر خود علم کا خاتمہ کر دینا اس کے لئے ممکن نہ تھا۔ کلیسا کا دائرہ اختیار بہرحال محدود تھا۔ جب کہ علم کا کائناتی بنیادوں پر قائم ہے، علم وہ چیز ہے جس کی جڑیں سارے زمین و آسمان میں پھیلی ہوئی ہیں۔ چنانچہ کلیسا کے مخالفانہ رویہ کے باوجود علم بڑھتا یہاں تک کہ وہ نوبت آگئی کہ علم کو عمومی بالا دستی حاصل ہوگئی ۔ کلیسا کا اختیار ماضی کا افسانہ بن کر رہ گیا۔
اب کلیسا کے لئے اس کے سوا کوئی صورت باقی نہیں رہی تھی کہ وہ نئی صورت حال کو تسلیم جس گیلیلیو کو وہ اپنے یہاں مرتد اور قابل سزا کے خانہ میں لکھے ہوئے تھا وہ باہر کی پوری علمی
دنیا میں ہیرو کا مقام حاصل کر چکا تھا۔ یہ واقعہ اب کلیسا کی تاریخ میں ایک شرمناک واقعہ بن گیا۔ وہ کلیسا کی غیر علمی روش کے لئے ایک علامتی مثال کی حیثیت رکھتا تھا۔ حتیٰ کہ جو چیز پہلے گلیلیو کا مسئلہ تھی وہ اب خود کلیسا کا مسئلہ بن گئی۔ کیوں کہ گلیلیو کی علمی حیثیت کا اعتراف کئے بغیر کلیسا اپنے اعتماد کو بحال نہیں کر سکتا تھا۔
۱۹۸۰ء میں کلیسا نے اس مسئلہ پر نظر ثانی کے لئے آٹھ افراد پر مشتمل ایک خصوصی کمیشن مقرر کیا۔ اس کے ارکان میں مورخ ، ریاضی داں مسیحی علماء شامل تھے۔ کمیشن طویل غور و خوض اور بحث و مطالعہ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ علم نے آخری طور پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے اور اس معاملہ میں یقینی طور پر گلیلیو حق پر تھا۔
اس کے بعد مئی ۱۹۸۳ء میں ویٹیکن میں ایک خاص اجلاس ہوا جس میں مورخین ، مسیحی علماء اور سائنس دانوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ پوپ جان پال ثانی خود بھی اس تاریخی اجتماع میں موجود تھے۔ نے تمام لوگوں کے سامنے اس معاملہ میں کلیسا کی غلطی کا اعتراف کیا اور گلیلیو کے برحق ہونے کا اعلان انہوں نے کہا:
The Church's experience, during the Galileo affair and after it, has led to a more mature attitude and to a more accurate grasp of the authority proper to her. گلیلیو کے زمانہ میں اور اس کے بعد کلیسا کے تجربہ نے اس کو زیادہ پختہ نقطہ نظر اور اختیار کے زیادہ صحیح اور ادراک تک پہنچایا ہے. جو اس کے لئے مناسب ہے (گارڈین ۲۹ مئی ۱۹۸۳ء) یہ تضاد کیوں کلیسا نے کیوں سترہویں صدی عیسوی میں گلیلیو کا انکار کیا تھا اور بیسویں صدی میں کیوں اس نے گلیلیو کا اقرار کر لیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ستر ھویں صدی عیسوی میں گلیلیو کی شخصیت ایک متنازعہ (Controversial) شخصیت تھی۔ جب کہ بیسویں صدی عیسوی میں وہ ایک تسلیم شدہ شخصیت بن چکی ہے۔
ٹھیک یہی معاملہ کلیسا کا ایک اور شخصیت کے ساتھ پیش آیا۔ یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت ہے۔ مسیحی کلیسا نے ساتویں صدی عیسوی میں حضرت محمد کا انکار کیا۔ اس انکار کی وجہ یہ تھی کہ ساتویں صدی میں حضرت محمد کی شخصیت ایک متنازعہ شخصیت تھی۔ اب دوبارہ یہ ہوا ہے کہ بیسویں صدی میں پہنچ کر حضرت محمد کی شخصیت ایک ثابت شدہ شخصیت بن چکی ہے۔ آج علم اور تاریخ کے
اتنے شواہد آپ کی نبوت کی تصدیق پر جمع ہو چکے ہیں کہ اب باعتبار حقیقت کسی کے لئے اس پر شبہ کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہی تقابل کے لئے ملاحظہ ہو ڈاکٹر موریس بوکیل کی مندرجہ ذیل کتاب بائبل ، قرآن اور سائنس :
(The Bible, The Quran, and Science)
پھر کیا وجہ ہے کہ جن اسباب کی بنا پر کلیسا نے گلیلیو کو مان لیا، انہیں اسباب کی موجودگی میں وہ حضرت محمد کو نہیں مانتا۔ وہ بدستور آپ کو بناوٹی نبی (False Prophet) کے خانہ میں ڈالے ہوئے اس کی وجہ وہ فرق ہے جو باعتبار نوعیت دونوں شخصیتوں کے درمیان پایا جاتا ہے۔ گلیلیو کو ماننا صرف ایک فنی غلطی کا اعتراف ہے۔ جب کہ حضرت محمد کو ماننا اپنے پورے وجود کی نفی کے ہم معنی ہے۔
گلیلیو ایک فلکیات داں تھا۔ اس کا کیس فلکیاتی علم کا کیس تھا۔ جب کہ حضرت محمد ایک پیغمبر تھے اور آپ کا کیس خدا کی پیغمبری کا کیس۔ یہ فرق دونوں کے معاملہ کو نوئی طور پر ایک کو دوسرے سے جدا کر گلیلیو کو ماننا صرف ایک علمی سچائی (Scientific truth) کو ماننا ہے۔ اس کے برعکس حضرت محمد کو ماننا ایک مذہبی سچائی (Religious truth) کو ماننا۔ گلیلیو کو ماننا کلیسا کے لئے ایک ایسے خارجی واقعہ کو ماننا تھا جس سے اس کے اپنے اوپر کوئی زد نہیں پڑتی تھی۔ اس کا اپنا مخصوص ڈھانچہ اس کے بعد بھی بدستور برقرار رہتا تھا۔ اس کے برعکس حضرت محمد کو ماننا ایک ایسے واقعہ کو ماننا تھا جس کا براہ راست تعلق اس کے اپنے ڈھانچہ سے تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت محمد کو مانتے ہی پا پائیت اپنے وجود کا جواز کھو دیتی ہے۔ اس کے بعد کلیسا کا پورا محل اچانک زمین پر گر پڑتا ہے۔
حضرت محمد نے توحید کی تعلیم دی جب کہ موجودہ کلیسا کا سارا ڈھانچہ تثلیث کے عقیدہ پر حضرت محمد نے حضرت مسیح کو خدا کا پیغمبر بتایا جب کہ کلیسا حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا قرار دے کر اپنا مذہبی قلعہ تعمیر کئے ہوئے ہے۔ حضرت محمد نے ذاتی عمل کو نجات کی بنیاد قرار دیا، جب کہ کلیسا کا سارا مذہبی ڈھانچہ کفارہ کے عقیدہ پر قائم ہے ، وغیرہ۔ ایسی حالت میں کلیسا کیسے حضرت محمد کو مان لے ۔ گلیلیو کا اقرار کرنے کے بعد بھی کلیسا کی حیثیت بدستور باقی رہتی تھی۔ جب کہ حضرت محمد کا اقرار کلیسا کے لئے خود اپنے انکار کے ہم معنیٰ ہے۔ اور بلاشبہ دنیا میں ایسے لوگ سب سے زیادہ کم پائے جاتے ہیں جو اس قسم کی جرأت کا ثبوت دے سکیں۔ کلیسا صرف اپنی نفی کی قیمت پر حضرت محمد کو مان سکتا ہے۔ اور اس دنیا میں کون ہے جو اپنی نفی کی قیمت پر کسی سچائی کو ماننے کے لئے تیار ہو جائے۔