مسلمانوں کا مسئلہ
Al-Risala, November 1983, pp. 6–7
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۵ مئی ۱۹۸۳ کو میں مراد آباد میں تھا۔ وہاں میری دو تقریریں ہوئیں۔ موضوع تھا، دینی تقاضے۔ اور دوسری کا موضوع تھا، تعمیر ملت۔ تعمیر ملت کے موضوع پر جب تقریر ختم ہوئی تو ایک صاحب اٹھے جو نہایت سنجیدہ اور پڑھے لکھے آدمی معلوم ہوتے انھوں نے دو سوالات کئے پہلا یہ کہ آپ نے تعمیر ملت کے موضوع پر جو کچھ کہا ہے وہ سب اسباب کی باتیں ہیں مگر مراد آباد کا تجربہ اس سے مختلف ہے۔ مراد آباد کے فساد (۱۹۸۰) کے آخری مرحلہ میں مسلمان اس طرح گھر گئے کہ ان کے سامنے کوئی راستہ باقی نہ رہا۔ انھوں نے سوچا کہ اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ دعا کی جائے۔ چنانچہ مسلمانوں نے مل کر دعا کی اور اس کے بعد اچانک صورت حال بدل گئی اور شہر میں امن قائم ہو گیا ۔ دوسرا سوال یہ کہ اگر سارا معاملہ اسباب کا ہے تو اس میں مسلمان اور غیر مسلمان سب برابر ہیں، پھر مسلمان کا وہ امتیاز کیا ہے جو خیر امت کی حیثیت سے انھیں دیا گیا ہے۔
پہلے سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ میں نے جو بات کہی اس کا تعلق قانون عام (الرعد۱۱) سے ہے اور آپ نے جو بات کہی اس کا تعلق قانون اضطرار (النمل ۶۲) سے۔ اس میں شک نہیں کہ کوئی شخص یا کوئی گروہ جب ایسے حالات میں گھر جائے جہاں بظاہر اس کے نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہو اور وہ دل سے خدا کو پکارے تو خدا اس کی مدد کرتا ہے (یونس ۲۳۔ ۲۲) مگر جیسا کہ قرآن میں صراحت ہے، حالت اضطرار میں مدد کا تعلق ہر ایک سے ہے، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر کسی اضطراری واقعہ سے عمومی قانون اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
میں نے جو بات کہی وہ فساد سے پہلے کی ہے۔ اور آپ جو بات کہہ رہے ہیں وہ فساد کے بعد فساد کے بعد جب ہنگامی حالت پیدا ہو چکی ہو، اس وقت کیا کرنا ہے، یہ ایک الگ مگر فساد ہونے سے پہلے حالات کو معتدل رکھنے کے لئے کیا کیا جائے، یہ بالکل مختلف مسئلہ ہے۔ مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں برداشت کو کھو دیا ہے۔ وہ ذرا سی بات پر بھڑک یہی عدم برداشت کا مزاج تمام فسادات کا اصل سبب ہے۔ جب تک کہ اس مزاج کو دور نہ کیا جائے، کسی بھی دوسری تدبیر سے فسادات کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ مسلمان پچھلے ۲۵ سال
سے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کو اقلیتی کردار دینے کی لڑائی لڑ رہے تھے۔ یہ لڑائی حکومت اور حکمراں پارٹی سے تھی۔ بالآخر ۱۹۸۲ میں ان کو نئے ایکٹ کے تحت اقلیتی کردار دے دیا گیا۔ کی لڑائی بدستور جاری ہے۔ فرق یہ ہے کہ پہلے اس لڑائی کا نشانہ نئی دہلی تھا، اب اس لڑائی کا نشانہ خود ان کا مسلمان وائس چانسلر ہے اس سے پہلے ہندوستان کے بیشتر مسلمانوں نے تقسیم ملک کی مانگ کی۔ اس مانگ کے لئے ان کی سب سے بڑی دلیل یہ تھی کہ مشترک ہندوستان میں ملک کا اکثریتی فرقہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے۔ اس مطالبہ کے مطابق ان کو پاکستان دے دیا گیا۔ مگر ان کے شکایتی ذہن نے اپنی شکایت کے لئے نیا نشانہ تلاش کر لیا۔ اب مشرقی پاکستان کو یہ شکایت ہوگی کہ مغربی پاکستان اس کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے۔ دوبارہ خود اپنے درمیان ایک بھیانک لڑائی ہوئی جو اس پر ختم ہوئی کہ مشرقی پاکستان نے مغربی پاکستان سے علیحدگی اختیار کرلی۔ تا ہم ۱۹۸۳ کے واقعات بتاتے ہیں کہ اصل مسئلہ بدستور باقی ہے۔ اب سندھ کے مسلمانوں کو پنجاب کے مسلمانوں سے شکایت ہے کہ وہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہیں۔ یہ لڑائی جاری ہے اور کچھ نہیں معلوم کہ وہ کہاں جا کر ختم ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ ہر بات میں ان کا بے برداشت ہو جانا ہے۔ وہ اپنے اس مزاج کو ختم نہ کریں، ان کے لئے زمین تنگ رہے گی، خواہ وہ ایک ملک کا معاملہ ہو یا دوسرے ملک کا۔ دوسرے سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ مسلمان اپنے تقرر کے اعتبار سے بلا شبہ خیر امت ہیں اور اس حیثیت سے ان کے ساتھ خدا کا ایک امتیازی معاملہ ہے۔ خدا نے مسلمانوں کے لئے اپنی ایک خصوصی مدد مقدر کی ہے جو اس نے دوسروں کے لئے مقدر نہیں کی۔ مگر اس خصوصی مدد کا استحقاق خیر امت کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری انجام دینے پر ہے نہ کہ صرف کسی مسلم نسل سے تعلق ہونے کی بنا پر۔
یہ ذمہ داری دعوت و تبلیغ کی ذمہ داری ہے۔ دعوت و تبلیغ سے مراد مسلمانوں کے درمیان اصلاحی کام نہیں ہے۔ بلکہ غیر مسلموں تک خدا کا سچا دین پہنچانا ہے۔ مسلمانوں کی اصلاح بھی ایک کرنے کا کام ہے اور اس کو ضرور کیا جانا چاہئے۔ مگر غیر مسلموں کے مقابلہ میں مسلمانوں کی مدد کا وعدہ کبھی بھی مسلمانوں کے درمیان اصلاحی کام کرنے سے پورا نہیں ہوسکتا۔ یہ وعدہ صرف اس وقت پورا ہوگا جب کہ غیر مسلموں کے درمیان دعوت الی اللہ کا کام کیا جائے اور اس کو اس کے تمام آداب و شرائط کے ساتھ انجام دیتے ہوئے اتمام حجت کی حد تک پہنچایا جائے۔