Al-Risala · November 1983

اداکارى

Al-Risala, November 1983, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

رشی کپور ایک مشہور فلم ایکٹر ہے۔ لنس آئی (Lens Eye) نے ایک صحافتی ملاقات میں رشی کپور سے پوچھا کہ کیا آپ اپنے موجودہ پیشہ سے مطمئن ہیں۔ اس کے جواب میں فلم ایکٹر نے کہا: I can't say I'm satisfied. I'm fed up of being the lover boy. And every- one thinks that wretched instrument- the guitar- is a part of my body. I'm tired of being only a dancing-singing-jumping-smiling puppet. میں نہیں کہہ سکتا کہ میں مطمئن ہوں۔ عاشق کا کردار ادا کرتے کرتے میری طبیعت بھر گئی ہے۔ ہر آدمی یہ سمجھتا ہے کہ وہ کم بخت باجا ـــــ ستا ر ـــــ میرے جسم کا ایک حصہ ہے۔ میں اس سے اکتا گیا ہوں کہ میں صرف ناچنے ، گانے ، اچھلنے اور مسکرانے کی کٹھ پتلی بنا رہوں۔ (ٹائمز آف انڈیا ، ۵ جون ۱۹۸۳ ) رشی کپور کے الفاظ اپنی برادری کے تمام لوگوں کے دل کے ترجمان ہیں۔ فلمی کردار سراسر ایک مصنوعی کردار ہے جو دوسرے شخص کی ہدایت کے مطابق انجام دیا جاتا ہے۔ اس قسم کا کٹھ پتلی جیسا کردار انسانی فطرت کے سراسر خلاف ہے۔ انسان ایک خود فکر مخلوق ہے۔ اس کا اندرون تقاضا کرتا ہے کہ وہ خود سوچے اور اپنے ارادہ کے تحت عمل کرے ۔ مگر فلمی کردار اس شرط کو پورا نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ فلم کے اسٹیج پر کام کرنے والے لوگ اندر سے ہمیشہ اپنے بارہ میں غیر مطمئن رہتے ہیں۔

ایسی حالت میں جو لوگ فلم دیکھتے ہیں اور اس سے خوش ہوتے ہیں ، وہ صرف اپنے سطحی ذوق کا ثبوت وہ نہیں جانتے کہ اسٹیج پر جو شخص محبت کا کردار ادا کر رہا ہے وہ اندر سے بیزاری کی نفسیات لئے ہوئے ہے۔ جو شخص خوشی کا چہرہ بنا کر ان کے سامنے آیا ہے اس کے سینہ میں صرف ایک اداس دل چھپا ہوا ہے جس کو دیکھنے والے اس کو قابل رشک نظروں سے دیکھ رہے ہیں وہ خود اپنے بارہ میں بالکل غیر مطمئن ہے۔ اگر وہ ان باتوں کو جان لیں تو وہ سینما بینی سے بیزار ہو جائیں جس کو وہ تفریح سمجھ کر دیکھتے ہیں۔

Printed page