Al-Risala · November 1983

الہامی ہدایت

Al-Risala, November 1983, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

حقیقت یہ ہے کہ مادی دنیا اور انسانی دنیا دونوں کا دین ایک ہے۔ اور وہ قانون قدرت کی پیروی ہے۔ ایک ہی خالق نے دونوں کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جس نے دونوں کے لئے قانون عمل مقرر کیا ہے۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ مادی دنیا اپنا قانون اپنے ساتھ رکھتی ہے۔ مادی دنیا کا قانون عمل خود اس کے اندر اس طرح پیوست ہوتی ہے کہ وہ لازمی طور پر اسی کے تحت عمل کرتی ہے۔ وہ کسی طرح اس سے باہر نہیں جاسکتی۔ مگر انسان ایک صاحب ارادہ مخلوق ہے۔ وہ وہی کرتا ہے جو وہ کرنا چاہے۔ اور وہ نہیں کرتا جو وہ کرنا نہ چاہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ انسان، دوسری چیزوں کی طرح نہیں ہے کہ اس کا قانون اس کے ساتھ ہو۔ انسان کو اپنا قانون عمل عملحدہ سے دریافت کرنا ہے۔ مگر انسان جب بطور خود اپنا قانون عمل دریافت کرنا چاہتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کو دریافت نہیں کر سکتا۔ انسان کی محدودیتیں (Limitations) فیصلہ کن طور پر اس کی راہ میں

انسان کی یہی وہ کمی ہے جو اس کی زندگی کی تعمیر کے لئے ’’خدائی الہام‘‘ کو ضروری ثابت انسان جس قانون علی کا حاجت مند ہے جب وہ اس کو دریافت نہیں کر سکتا تو اس کے بعد دوسری ممکن صورت یہی ہو سکتی ہے کہ وہ اس کو اس کے خالق کی طرف سے دی جائے۔ جو چیز دوسری مخلوقات کو اندرونی طور پر ملی ہوئی ہے وہ انسان کو بیرونی ذریعہ۔ فراہم کی جائے۔

یہ بیرونی ذریعہ وہی ہے جس کو پیغمبر کہا جاتا ہے۔ انسان کی علمی محدودیت اس کو بیرونی ہدایت کا محتاج ثابت کرتی ہے۔ اور پیغمبر کی ہدایت کا عین انسانی طلب کے مطابق ہونا ثابت کرتا ہے کہ یہی وہ بیرونی ہدایت ہے جس کی اسے ناگزیر طور پر ضرورت تھی۔

Printed page