علم کافی یں
Al-Risala, November 1983, pp. 16–24
By Maulana Wahiduddin Khan
"پچاس سونے والے بہہ گئے" یہ خبر ایک مرتبہ اخبار میں چھپی۔ خبر میں ایک مقام پر بارش اور طوفان کی تفصیلات بتائی گئی تھیں اور اس میں کہا گیا تھا کہ پانی ریلوے لائن کے اوپر تک پہنچ گیا اور پچاس سونے والے بہہ گئے۔
خبر کچھ عجیب سی تھی۔ ذہن نے جاننا چاہا کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ انگریزی اخبار دیکھنے پر معلوم ہوا کہ اصل میں خبر تھی " پچاس سلیپر بہہ گئے۔ " یہی لفظ آر دو اخبار میں ترجمہ کی غلطی سے سونے والے بن گیا۔ سلیپر (Sleeper) کے لفظی معنی بے شک سونے والے کے بھی ہیں۔ مگر اس خبر میں ظاہر ہے کہ یہ لفظ ریلوے لائن میں استعمال ہونے والے اس لکڑی کے کندے کے لئے تھا جس کے اوپر لوہے کی پٹریاں بچھائی جاتی ہیں نہ کہ سونے والے آدمی کے لئے۔ اس قسم کی غلطیاں کتنی ہی بار آپ کے سامنے آئی ہوں گی ان غلطیوں کا سبب ہمیشہ علم کی کمی ہوتا ہے۔ اور ان سے بچنے کے لئے اتنا کافی ہے کہ آدمی علم حاصل کرلے۔ مگر غلطیوں کی ایک اور قسم اس سے زیادہ سنگین قسم ہے جس کا تعلق علم سے نہیں معرفت سے ہے۔ اس سے محفوظ رہنے کے لئے صرف صاحب علم ہونا کافی نہیں بلکہ حقیقت آشنا ہونا بھی ضروری ہے۔ جو شخص معرفت کی دولت سے محروم ہو وہ محض علم کی بدولت ان غلطیوں سے مامون نہیں رہ سکتا۔
معرفت کیا چیز ہے اور علم اور معرفت میں کیا فرق ہے، یہ ایک نہایت نازک سوال ہے۔ طور پر ہم میں سے ہر شخص اس فرق کو سمجھتا ہے، مگر تعیین تعریف کرنی ہو تو کسی ایک تعریف پر سب کا اتفاق حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔ تا ہم سادہ لفظوں میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ علم کا مطلب ہے جاننا اور معرفت کا مطلب ہے پہچاننا۔ معرفت علم کی روشنی ہے۔ آنکھ اور روشنی میں جو نسبت ہے وہی نسبت علم اور معرفت میں ہے۔ اگر سرے سے روشنی نہ ہو تو کچھ بھی نظر نہیں گا۔ اور اگر روشنی موجود ہو مگر کم ہو تو اسی کے بقدر کم دکھائی دے گا جتنا روشنی میں کمی ہے۔ اس اعتبار سے معرفت حاصل ہونے اور معرفت حاصل نہ ہونے کے ہزار درجے بن جاتے ہیں۔ چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔ 1- کیڑے مکوڑے (Insects) ہماری ایک جانی بوجھی حقیقت ہیں۔ یہ نہایت کثرت سے انڈے بچے کرتے ہیں اور ان کے اندر بڑھنے کی غیر معمولی صلاحیت ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بھڑ کو اگر مسلسل نہ زندہ رہنے اور نشوونما پانے کا موقع ملے تو وہ شیر کی مانند جسامت حاصل
کر سکتی ہے۔ غور کیجیے کہ اس قسم کے کیڑوں کی ہزاروں صورتیں اگر شیر اور بھیڑئے کی طرح بڑی ہو کر چلنا پھرنا شروع کر دیں تو زمین پر انسان کے لئے زندگی گزارنا کس قدر مشکل ہو جائے۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ کی وجہ یہ ہے کہ یہ کیڑے مکوڑے اس قسم کے پھیپھڑے نہیں رکھتے جیسے کہ آدمی رکھتا ہے۔ وہ خاص طرح کی ہوائی نالیوں (Air Tubes) کے ذریعہ سانس لیتے ہیں۔ جب کیڑے بڑے ہوتے ہیں تو ان کی یہ سانس کی نالیاں ان کے بڑھتے ہوئے جسم کی نسبت سے نہیں بڑھتیں۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی کیڑا، زیادہ بڑا نہیں ہونے پاتا۔ بڑھنے پر یہ حد بندی ان کو شیر اور بھیڑیئے کی جسامت حاصل کرنے سے روک کے رہتی اگر یہ قدرتی روک موجود نہ ہوتا تو زمین پر انسان کے لئے قیام کرنا نا ممکن ہو جاتا۔ اگر دل کے اندر ایمان کی معرفت موجود ہو تو یہ واقعہ خدا کے وجود پر آدمی کے یقین کو بڑھاتا ہے، وہ اس کے لئے خدا کی گواہی بن جاتا ہے۔ چنانچہ ایک عیسائی عالم کریسی ماریسن (Cressy Morrison) اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ عالم فطرت کا یہ نظم و نسق (Economy) ہم کو یہ ماننے پر مجبور کرتا ہے کہ اس کائنات کے پیچھے کوئی اعلیٰ ذہن کام کر رہا ہے، کیوں کہ :
Only infinite wisdom could have foreseen and prepared with such astute husbandry. یعنی صرف لا محدود عقل اتنے زیرک انتظام کو پیشگی تصور میں لا سکتی تھی اور اس کا اہتمام کر سکتی تھی (ریڈرز ڈائجسٹ نومبر ۱۹۶۰ء)
مگر معرفت سے محروم ذہن کے لئے یہی واقعہ بالکل برعکس مفہوم کا حامل بن گیا ۔ (J. Huxley) اس زمانے کا بہت پڑھا لکھا آدمی ہے، اس نے اپنے ایک مضمون میں ارتقاءء کے ذیل میں مذکورہ بالا واقعہ کا ذکر کیا ہے۔ نظریہ ارتقا کے مطابق انسان اور کیڑے مکوڑے کے فرق کو سمجھنے کے لئے کسی ارادہ الہی کو فرض کرنے کی ضرورت نہیں۔ کیڑے اور انسان دونوں ہی بعض سادہ اور ابتدائی جراثومہ حیات کی ترقی یافتہ شکلیں ہیں۔ انسان کو مخصوص اسباب سے زیادہ ترقی کرنے کا اس لئے وہ ذہن و دماغ رکھنے والی ہستی بن گیا ۔ اور کیڑے مکوڑوں کو بعض مانع اسباب نے یہ مواقع فراہم نہیں کئے، اس لئے وہ آگے نہ بڑھ سکے۔ وہ لکھتا ہے :
"کیا چیز تھی جس نے کیڑوں کو ترقی کرنے سے روک دیا۔ اس کا جواب کیڑوں کے سانس لینے کے طریقے (Breathing Mechanism) میں چھپا ہوا ہے۔ زمینی کیڑوں نے سانس لینے کے لئے ہوائی ٹیوب کا طریقہ اپنایا ہے جس کو حیاتیاتی اصطلاح میں (Trachene) کہتے ہیں۔ اندر جا کر اس نالی کی نہایت چھوٹی چھوٹی شاخیں ہو جاتی ہیں جن کو صرف خورد بین کے ذریعہ دیکھا جا سکتا ہے۔
نالیاں گیسوں کو جسم کے اندر نسیج (Tissues) تک لے جاتی ہیں اور واپس لاتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں انسان اور دیگر جانداروں میں دہرا طریقہ پایا جاتا ہے۔ یعنی گیسیں پھیپھڑے سے ہو کر خون کی نالیوں تک پہنچتی ہیں۔ گیسوں کے نفوذ و انتشار کا قانون کچھ ایسا ہے کہ نالیوں کے ذریعہ سانس لینا چھوٹے کیڑوں کے لئے تو بہت آسان رہتا ہے۔ مگر جسامت کے بڑھنے کے ساتھ وہ مشکل ہونے لگتا یہاں تک کہ چوہیا کے بقدر جسامت حاصل کرنے سے پہلے ہی یہ نالی نا قابل استعمال ہو جاتی یہی وجہ ہے کہ کوئی کیڑا کبھی دوسرے ریڑھ دار جانوروں کے لحاظ سے اوسط درجہ کی جسامت بھی حاصل نہ کر سکا ؎ اس کے بعد وہ لکھتا ہے کہ یہی سبب اس بات کا بھی ہے کہ کوئی کیڑا کبھی ذہین نہیں بنا۔ ایک خاص جسامت میں محدود ہونے کی وجہ سے کیڑوں کو بہت کم اعصابی ریشے در کار ہوتے ہیں جبکہ انسانی ذہانت حاصل کرنے کے لئے بہت کثیر مقدار میں اعصابی ریشوں کی موجودگی ضروری ہے۔ اس طرح کے پھیلے ہوئے ریشوں کا نظام ایک خاص درجہ کی جسامت ہی میں پایا جا سکتا ہے۔ کیڑے اس درجہ کی جسامت تک نہیں پہنچتے اس لئے وہ اعلیٰ ذہانت بھی حاصل نہیں کر سکتے۔ ایک ہی واقعہ کا علم ایک شخص کے لئے کائنات میں ایک ذہین تخلیقی ارادے کی موجودگی کا ثبوت بن گیا اور اسی واقعہ سے دوسرے شخص نے یہ پہلو نکال لیا کہ موجودات کی توجیہہ کے لئے کسی تخلیقی ارادے کو ماننے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ اس کے بغیر ہم تمام موجودات کی توجیہہ کر سکتے ہیں۔ علم کی حد تک دونوں شخص یکساں ہیں۔ مگر معرفت کے فرق نے دونوں میں زمین آسمان کا فرق پیدا کر دیا۔ ۲ - انجیل کا ایک فقرہ ہے ؛
تم زمین کے نمک ہو۔ لیکن اگر نمک کا مزہ جاتا رہے تو وہ کس چیز سے نمکین کیا جائے گا۔ پھر وہ کسی کام کا نہیں سوا اس کے باہر پھینکا جائے اور آدمیوں کے پاؤں کے نیچے روند اجائے۔ متی ۵: ۱۳ اس فقرے میں دراصل بنی اسرائیل کے آخری نبی نے یہود کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ تم صاحب کتاب ہونے کی بنا پر اہل دنیا کے لئے روشنی کا ذریعہ تھے۔ تمہاری حیثیت ہادی اور رہنما کی تھی۔ تم نے کتاب الہی کو چھوڑ کر اپنا مقام کھودیا اور اس طرح خود ہی اپنے کو اس کا مستحق بنالیا کہ دوسروں سے تمہیں ذلیل کیا جائے ۔
مگر اس قانون الہی کو نہ جانتے کی وجہ پر ایک امریکی ماہر کیمیا (Elmer W. Maurer) نے اس کی عجیب و غریب تاویل کی ہے۔ وہ ایک کیمیا داں ہے۔ اس لئے اس نے علم کیمیا کی روشنی میں اس کو دیکھا تو اس کا ذہن ایک اور ہی سمت میں چلا گیا۔ وہ لکھتا ہے کہ تحقیق کے بعد میں اصل راز کو پا گیا: "وہ یہ کہ رومی ارضِ مقدس کے رہنے والوں سے نمک بطور محصول وصول کرتے۔ اہل فلسطین کو نمک کی سب سے زیادہ یافت بحیرۂ مردار یا بحیرۂ نمک سے ہوتی۔ یہ محصول اتنے ظالمانہ تھے کہ لوگ نمک میں ریت کی آمیزش کرنے پر مجبور تھے۔ حکومت اس نمک کو پانی کے بڑے بڑے حوضوں میں ڈال دیتی۔ نمک پانی میں گھل جاتا تو نمکین پانی اوپر سے نکال لیا جاتا اور ملاوٹی مادہ ناقابل تحلیل ہونے کی وجہ سے تہ نشیں ہو کر حوض میں رہ جاتا۔ اس طرح نمک نے اپنا ذائقہ کھو دیا تھا۔ وہ اب نمک باقی نہیں رہا تھا، وہ اسی قابل تھا کہ پاوں کے نیچے روندا جائے۔
وہ مزید لکھتا ہے:
"یہی ایک طریقہ نہیں تھا جس سے نمک اپنا ذائقہ کھو دیتا۔ بحیرۂ مردار (Dead Sea) کی سطح کا پانی دیگر اجزاء کےساتھ ۳۱ فی صد سوڈیم کلورائڈ، ۱۳ فی صد کیلشیم کلورائڈ اور ۴۸ فیصد میگنیشیم کلورائڈ رکھتا کیلشیم اور میگنیشیم کلورائڈ ہوا سے پانی جذب کرنے کی خاصیت رکھتے ہیں اور اس بنا پر جب نمک کے ساتھ شامل ہوتے ہیں تو اسے تحلیل کر دیتے ہیں۔ اس طرح ایک ناخوشگوار آمیزہ تیار ہو جاتا ہے۔ رواج نہ تھا کہ لوگ اس قسم کے نمک کے بڑے بڑے ذخائر ان گھروں میں محفوظ کر لیتے جن کا فرش مٹی کا ہوتا۔ بعض اوقات زمین کے ساتھ نمک کی جو تہیں بیٹھ جاتیں، وہ نمی کی وجہ سے خراب ہو جاتیں۔ چونکہ یہ ذخیرہ نمک ملا ہو ا ہونے کی وجہ سے زرخیز زمینوں کے لئے مفسر ہوتا تھا اس لئے کوئی شخص بھی اسے کھیت میں پھینکنے کی اجازت نہ دیتا، اس بنا پر اسے صرف گلیوں ہی میں پھینکا جاتا جہاں چلنے والے لوگ اسے اپنے پاؤں کے نیچے روندتے۔
The Evidence of God in an Expanding Universe Edited by John Clover Monsma (N. Y. 1958) p. 205 انجیل کے فقرے کی یہ توجیہہ ظاہر ہے کہ لال بجھکڑ کی روایتی کہانیوں سے زیادہ اہمیت نہیں وہ نہ تو بجائے خود صحیح ہے اور نہ وہ متعلقہ فقرے سے کسی طرح منطبق ہوتی۔ مگر ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص نے ایسی بچکانہ غلطی کا ارتکاب صرف اس لئے کیا کہ اس نے سائنس کا علم تو حاصل کیا تھا مگر دین کی حقیقتوں سے وہ نا آشنا تھا۔ وہ اس نمک سے واقف تھا جو علم کیمیا میں زیر بحث آتا ہے۔
اور لیبارٹری میں جس کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ ’’نمک‘‘ کی ایک اور قسم ہے جس سے دل و دماغ کو چاشنی حاصل ہوتی ہے۔ جس سے زندگی میں خدا پرستی کا ذائقہ پیدا ہوتا ہے ’’نمک‘‘ کا لفظ دیکھ کر اس کا ذہن کیمیائی نمک کی طرف چلا گیا اور اپنے معروف نمک کے مطابق اس نے اس کی ایک تشریح کر ڈالی اس کے باوجود اس کیمیا داں کو اپنے تصور پر اس قدر یقین ہے کہ اس کے بعد وہ لکھتا ہے: ’’ یہ صرف ایک نمونہ ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بائبل اپنی جزئی تفصیلات تک میں سائنسی طور پر بالکل صحیح ہے‘‘ (صفحہ ۳۰۵)
ایک صاحب جو پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھتے ہیں، انھوں نے ریسرچ میں اپنے مقالہ کے لئے اسلام کے معاشی نظریات (The Economic Doctrines of Islam) کا عنوان لیا۔ ان کا ذہن یہ تھا کہ مسلمانوں کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہر قسم کی اقتصادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ اپنے مقالے کے ایک حصے کو پر کرنے کے لئے انہیں یہ معلوم کرنا تھا کہ اسلام نے پیدائش دولت کے کن وسائل کی طرف اپنے پیروؤں کو متوجہ کیا ہے۔ اس مقصد سے انھوں نے قرآن کا مطالعہ کیا تو ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب انھوں نے دیکھا کہ یہاں تو بالکل لا یغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ الا احصاھا کا پیدائش دولت کا کوئی ذریعہ ایسا نہیں تھا جس کی طرف انھیں کتاب الہیٰ میں ’’اشارہ‘‘ نہ مل گیا ہو۔
اس حیرت انگیز انکشاف کی بنیاد کیا تھی، اس کو ایک مثال سے سمجھیے۔ قرآن میں موسیٰ اور فرعون کی کش مکش کے جو واقعات ہیں، ان میں سے ایک واقعہ وہ ہے جب فرعون نے اپنے وزیر ہامان سے کہا: فاو قد لي يا هامان علی الطين فاجعل لي صرحا اے ہامان! مٹی کے گارے کو جلا اور میرے لئے لعلي اطلع الى الہ موسٰی (قصص) ایک بلند عمارت بناتا کہ میں اس پر چڑھ کر موسیٰ کے خدا
اس آیت کو پڑھتے ہی موصوف اچھل پڑے۔ انھوں نے کہا، یہ تو ترابیاتی صنعت (Ceramic Industries) کی تعلیم ہے۔ حالانکہ ظاہر ہے کہ اس فقرے کا تر ابیاتی صنعتوں کے قائم کرنے یا نہ کرنے سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ تو صرف فرعون کے تمرد کو بتا رہا ہے جو اس نے خدا کے نبی کے سامنے ظاہر کیا۔
اسی طرح جہاں کہیں کوئی ایک لفظ مل گیا، خواہ وہ جس سیاق میں بھی آیا ہو، انھوں نے فوراً
اس سے ایک معاشی مفہوم نکال لیا۔ وما من دابة فی الارض ولا طائر یطیر بجناحیہ (انعام) ان کے نزدیک مرغبانی اور پرند پروری کی تعلیم دینے والی آیت تھی، واوسٰی ربک الى النحل(نحل) (نحل) شہد کی مکھیاں پالنے اور شہد کی تجارت کرنے کے ہم معنیٰ تھا، ویلبسہم منھا حریر میں کرم پروری اور سلک انڈسٹری کی طرف اشارہ تھا، ویصنع الفلک (ہود) جہاز سازی کا کارخانہ۔ قائم کرنے کا پیغام تھا، وحلو ا اساور من فضة (دہر) میں زیور سازی کی صنعت کی ہمت افزائی کی گئی تھی ۔ اسی طرح محض سرسری فہرست بندی میں انہوں نے ... اسے بھی زائد ایسی مصنوعات کا پتہ لگایا تھا جن کی طرف قرآن میں " اشارے " کئے گئے ہیں۔ حتیٰ کہ اُس جوش میں وہ یہ بھی بھول گئے کہ قرآن سے جن صنعتی کاموں کی فہرست وہ بنا رہے ہیں، ان میں اصنام، تماثيل، خمار اور صوامع جیسی چیزیں بھی شامل ہیں ۔
مختلف قسم کی صنعتوں کو قائم کرنے اور ان کو فروغ دینے کے بارے میں اس قرآنی استدلال کے متعلق یہی کہا جا سکتا ہے کہ موصوف کو عربی الفاظ کے معانی کا علم تو تھا مگر قرآن کی حکمت سے وہ آشنا نہیں اس لئے انہیں محسوس نہیں ہوا کہ جن آیات کے حوالے سے وہ اپنا استدلال کھڑا کر رہے ہیں ، ان آیات کا صنعت و تجارت کے مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں۔ بلکہ یہ استدلال صریح طور پر قرآن کی رُوح کو مجروح کر رہا ہے۔
آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ ایک مخصوص حلقہ میں اس کتاب کو کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔ یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات کے ایک پروفیسر نے اس کو عظیم تصنیف (Great Work) سے تعبیر کیا۔ اور کیمبرج یونیورسٹی کے انگریز پروفیسر (Mr Krenkow) نے لکھا :
The work is a diligent and scientific study. یعنی یہ تصنیف محنت اور علمی مطالعہ کا ایک نمونہ ہے۔
۴- مشہور حدیث جبریل کا ایک فقرہ ہے:
الاحسان ان تعبد اللہ کا نك تراه فإن لم تكن تراه فانه يراك ۔
کئی سال پہلے کی بات ہے کہ ایک شخص نے مجھ سے اس فقرہ کے بارے میں دریافت کیا۔ انہوں کے کہا، یہی ہی مفہوم بعض دوسری روایات میں ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے :
ان تخشى الله كانك تراہ تم الله سے اس طرح ڈرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو ، ( فتح الباری جلد اول)۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس میں کسی قسم کی رویت کا ذکر نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ خدا کی بندگی یہ سمجھ کر کی جائے کہ خدا جو علیم و بصیر ہے، وہ یقیناً ہم کو دیکھ رہا ہوگا۔ وہ اس کا ترجمہ یوں
احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، کیوں کہ اگر تم اسے دیکھ نہیں رہے ہو تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔
”جو لوگ حدیث کا یہ مطلب بتاتے ہیں، انہوں نے خدا کو نہیں دیکھا، اگر وہ دیکھتے تو ایسا ترجمہ نہ کرتے“___ یہ میرا جواب تھا۔ یہ صحیح ہے کہ اس دنیا میں کوئی شخص خدا کا عینی مشاہدہ نہیں کر سکتا۔ قسم کا مشاہدہ صرف آخرت میں ممکن ہے۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ بندہ جب خدا کی یاد اور اس سے خوف و محبت کے جذبات میں غرق ہوتا ہے تو اس پر شبہہ رویت کی سی ایک کیفیت طاری ہوتی ہے۔ اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے۔
ہمارے اور خدا کے درمیان محض ایک نظریاتی نسبت نہیں ہے بلکہ ایک گہرا فطری اور نفسیاتی ربط عام انسانوں میں یہ ربط چھپا رہتا ہے۔ مگر جو لوگ اپنے آپ کو خدا کے لئے وقف کر دیتے ہیں، ان کا یہ ربط اسی طرح ابھر آتا ہے جیسے دوسری فطری صلاحیتیں نکاس کا راستہ پانے کے بعد ظاہر ہو جاتی ہیں۔ نہ ہو تو دبی پڑی رہتی ہیں۔ بندہ جب اپنے آپ کو بالکل خدا کی طرف متوجہ کر دیتا ہے تو خدا بھی اس کے انتہائی قریب آ جاتا ہے۔ خالق اور مخلوق کے درمیان جو امکانی ربط ہے وہ بالفعل قائم ہو جاتا ہے۔ اس وقت خدا کا تصور آدمی کی فکر و نظر میں اس طرح سما جاتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اس کو خدا کی یاد دلانے والی بن جاتی ہے۔ اس پر ایسے لمحات گزرتے ہیں جب خدا کے سوا اور کوئی چیز اس کے سامنے نہیں ہوتی۔ وہ شوق واشتیاق کے شدید جذبات کے ساتھ خدا کی طرف لپکنے لگتا ہے اس کو ایسی کیفیت سے بھری ہوئی دعائیں نصیب ہوتی ہیں جیسے کہ وہ عین اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوا ہے اور اس سے گڑگڑا کر مانگ رہا ہے۔ اس کو ایسے سجدے نصیب ہوتے ہیں جب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس نے اپنا سر اپنے رب کے قدموں میں ڈال دیا ہے اور اس کے آگے زمین پر پڑا ہوا ہے، اس کو ایسے اعمال کی توفیق ملتی ہے گویا کہ وہ عین خدا کے حضور میں ہے اور اس کی خوشنودی کے لئے سرگرم ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب بندگی اپنے انتہائی عروج پر پہنچ جاتی ہے۔ اس وقت بندہ جسمانی اعتبار سے خدا سے دور ہونے کے باوجود، اپنے احساس کے اعتبار سے خدا کے قریب ہو جاتا ہے، منہ دیکھنے کے باوجود وہ خدا کو دیکھنے لگتا ہے۔
حقیقت یہ رہے کہ اس حدیث میں عبادت کے دو درجے بتائے گئے ہیں۔ پہلا اور اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ بندے کے قلب و روح پر خدا کا خیال اس طرح چھاجائے کہ اس پر حضوری کی کیفیت طاری ہونے اور دوسرا درجہ یہ ہے کہ وہ اپنے ذہن میں اس تصور کو جمائے کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے اور اسی تصور کے تحت خدا کی عبادت کرے۔ اسی لئے حدیث کے پہلے ٹکڑے میں "رویت" کی نسبت بندے کی طرف کی گئی ہے اور دوسرے ٹکڑے میں رویت کی نسبت خدا کی طرف۔ اس اعتبار سے فقرے کا صحیح ترجمہ وہ ہے جو شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے کیا ہے۔ انہوں نے اس حدیث میں عبادت کے دو "مراتب" مراد لئے ہیں۔ ایک "اعلیٰ" اور دوسرا اس سے "فروتر" مرتبہ۔ اعلیٰ یہ کہ بندہ ــــــــــــ در مشاہدہ معبود و حضور ذات اقدس وے مستغرق باشد"، اور اس سے فروتر مرتبہ "آگاہ بودن است از نظر الہی و علم وے تعالی بحال بندہ "، اس کے بعد انہوں نے اس کا ترجمہ ان الفاظ میں کیا ہے:
احسان عبادت کردن است خدا تعالی را چنان کہ احسان کا مطلب خدا کی عبادت اس طرح کرنا ہے گویا گو یا می بینی اورا ، پس اگر نیستی تو بایں حال کہ گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے۔ پس اگر تمھاری یہ کیفیت نہ ہو می بینی اورا، عبادت کن اورا بایں صفت کہ حاضر کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، تو تم اس طرح عبادت کرو باشی ازیں کہ می بیند وے ترا دریں صورت کہ یہ خیال تمھارے ذہن میں موجود ہے کہ خدا تم کو شععة اللمعات، جلداول ، صفحه ۲ عبادت کرتے ہوئے دیکھ رہا ہے۔
حافظ ابن حجر لکھتے ہیں:
اشار فی الجواب الی حالتی : ارفعهم ان يغلب "احسان کیا ہے " کے سوال کا جواب جو نبی صلی اللہ علیہ عليه مشاهدة الحق بقلبه حتى كأنه يراه بعينه وسلم نے دیا ہے اس میں دو حالتوں کی طرف اشارہ فرمایا والثانية ان يستحضر ان الحق مطلع عليه ان میں بلند حالت یہ ہے کہ عابد کے دل پر مشاہدہ حق کا اس قدر غلبہ ہو گیا کہ وہ اپنی آنکھوں سے خدا کو دیکھ رہا ہے يرى كل ما يعمل فتح الباری جلداول ، صفحہ ۱۱۱ دوسری حالت یہ ہے کہ اس خیال کو اپنے ذہن میں مستحضر رکھے کہ خدا اس سے باخبر ہے اور وہ اس کے تمام اعمال کو دیکھ رہا ہے۔
اوپر جو چند مثالیں میں نے دیں ، ان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ علم کے ساتھ معرفت کس قدر اگر معرفت یا دوسرے لفظوں میں اشیاء کی پہچان نہ پیدا ہوئی ہو اور آدمی کو ان حقیقتوں سے آشنا ہونے کا موقع نہ ملا ہو تو محض علم کافی نہیں ہو سکتا۔ ظاہری معلومات رکھنے کے باوجود آدمی
طرح طرح کی بے خبری میں مبتلا رہتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے، مگر نہیں دیکھتا، وہ پڑھتا ہے مگر نہیں سمجھتا۔ علم حقیقت میں وہی علم ہے جس کے ساتھ معرفت کی گہرائیاں شامل ہوں۔ جس نے غم کا لفظ ڈکشنری میں دیکھا ہو، مگر اس کو تڑپنا نصیب نہیں ہوا، وہ غم کا مطلب نہیں جانتا، ایسا شخص بس ترجمہ کرنے والی مشین ہے جو ایک زبان کا لفظ دوسری زبان میں دہرادیتی ہے، مگر نہیں جانتی کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ جس نے کتاب الہی میں لو انزلنا ھذا القرآن علی جبل لرأيته خاشعا متصدعا من خشية الله پڑھا، مگر قرآن نے خود اس کے اوپر نازل ہو کر اس کے ٹکڑے نہیں کئے، وہ نہیں جانتا کہ اس آیت میں کون سی حقیقت بتائی گئی ہے۔ جس نے اسلام کے معاشی قوانین پر عبور حاصل کر لیا، مگر اس پر ابھی ایسا معاشی واقعہ نہیں گزرا کہ وہ ایک صاحب حاجت کو اپنی جیب کے پیسے دے اور دوسری طرف اس کی ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں میں والذین یوتون ما تو و قلوبہم وجلۃ کی تفسیر جھلک رہی ہو، اس وقت تک وہ اسلام کی معاشیات سے بے خبر ہے۔ جس شخص نے نماز کے مسائل جان لئے مگر نماز سے اس کی آنکھیں ٹھنڈی نہیں ہوئیں، نماز اس کے لئے خدا سے سرگوشی نہیں بنی، وہ ابھی نماز سے نا آشنا جس نے حدیث کی کتابیں ختم کر ڈالیں، مگر اس کے آنسوؤں نے کتاب کے اوراق نم نہیں کئے ، وہ حدیث کی حقیقت سے نا واقف ہے۔ جس کو دنیا نے اسلام کے مقرر کا خطاب دیا ہو، اس کی تقریر اس وقت تک اسلامی تقریر نہیں بنتی جب تک وہ خدا سے دعاؤں اور التجاؤں کے نتیجے میں نہ ملی ہو۔ جس کو لوگ اسلام کے مصنف کی حیثیت سے جانتے ہوں، اس کی تصنیف اس وقت تک اسلامی تصنیف نہیں ہے جب تک اس پر یہ حالت نہ گزری ہوکہ وہ بے قرار ہو کر سجدے میں سر رکھ دے اور کہے کہ تو میرا قلم بن جا جس سے میں لکھوں، تو میرا دماغ بن جا جس سے میں سوچوں۔ جانو، کیوں کہ تم ابھی نہیں جانتے، پڑھنے والو! پڑھو، کیوں کہ تم نے ابھی نہیں پڑھا۔ ماہنامہ الالرسالہ کے پچھلے شمارے برائے فروخت دفتر رسالہ میں موجود ہیں۔ شائقین طلب فرمائیں۔ مکمل فائل کی قیمت ۲۴ روپیہ فی سال (بغیر کمیشن) ہوگی۔ جلد کی قیمت علیحدہ چارج کی جائے گی۔ متفرق شماروں پر کمیشن ۲۵ فی صد۔