مینیجر الرساله
Al-Risala, November 1983, pp. 25–27
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کی تعلیمات کے بنیادی طور پر دو حصے ہیں ۔ ایک خدا کے متعلق ، اور دوسرا بندوں سے متعلق ۔ پہلی قسم کی تعلیمات کو عبادات کہا جا سکتا ہے اور دوسری قسم کی تعلیمات کو معاملات۔ عبادات سے متعلق اسلام کی جو تعلیمات ہیں وہ ناقابل تغیر ہیں۔ ان میں کسی قسم کی کمی بیشی جائز نہیں جس چیز کو اسلام میں بدعت کہا گیا ہے ( کل بدعة ضلالة وكل ضلالة في النار) اس کا تعلق حقیقتاً انھیں اول الذکر حصہ سے ہے۔
مگر ثانی الذکر احکام (معاملات) کی نوعیت اس سے مختلف ہے۔ اس شعبہ میں ہم کو صرف بنیادی احکام دئے گئے ہیں۔ اس کے بعد ہم کو آزاد چھوڑ دیا گیا ہے کہ ہر دور کے حالات کے مطابق ہم ان احکام کو منطبق کرتے اجتہاد کا تعلق اسی دوسرے حصہ احکام سے ہے ۔ اجتہاد حقیقتاً بدلے ہوئے دنیوی حالات میں اسلام کی بنیادی تعلیمات کا انطباق تلاش کرنے کا دوسرا نام ہے۔
دونوں قسم کی تعلیمات کا یہ فرق حدیث سے واضح ہے۔ چنانچہ عبادات سے متعلق احکام کے بارہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌ جو شخص ہمارے اس دین میں ایسی نئی بات نکالے جو اس میں نہ ہو وہ قابل رد ہے۔
دوسرے حصہ احکام کی مختلف نوعیت تأبیر نخل کے واقعہ سے واضح ہے۔ پیغمبر اسلام ایک بار مدینہ کے باہر کھجوروں کے ایک باغ سے گزرے ۔ وہاں کچھ لوگ درخت کے اوپر چڑھے ہوئے کچھ کر رہے تھے۔ انھوں نے پوچھا کہ تم کیا کر رہے ہو ۔ لوگوں نے بتایا کہ ہم نر کو مادہ پر مار رہے ہیں۔ آپ نے اس کو پسند نہیں فرمایا ۔ چنانچہ وہ لوگ رک گئے ۔ مگر یہ زرخیزی کا معاملہ تھا اور زرخیزی کے بغیر درختوں میں پھل نہیں آتے ۔ چنانچہ اس سال کھجور کی پیداوار بہت کم ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ ویسا ہی کرو جیسا تم پہلے کرتے تھے۔ کیوں کہ تم اپنے دنیوی معاملات کو زیادہ بہتر جانتے ہو ۔ ( انتم اعلم بامور دنیاکم)
ان دونوں روایات سے واضح طور پر ثابت ہے کہ عبادات کے معاملہ میں کوئی اجتہاد نہیں ہے مگر جہاں تک معاملات کا تعلق ہے ان میں اجتہاد اور انطباق کا دروازہ ہمیشہ کے لئے کھلا ہوا ہے۔ مجھے اس مقالہ میں اسلامی احکام سے صرف دوسرے حصہ کے بارے میں گفتگو کرنی ہے۔ دوسرے حصہ کے بھی دو الگ الگ پہلو ہیں۔ اس اعتبار سے زیر بحث موضوع کو دو حصوں میں تقسیم
کیا جاسکتا ہے۔ پہلا حصہ وہ ہے جس کا تعلق انسانی معاملات میں اسلام کے بنیادی نقطہ نظر سے ہے۔ دوسرے حصہ کا تعلق اس بنیادی قانونی ڈھانچہ سے ہے جو اسلامی شریعت انسان کے مسائل کے حل کے لئے پیش کرتی ہے۔ یہاں میں اپنی گفتگو کو موضوع کے پہلے حصہ تک محدود رکھوں گا۔ قرآن میں ہے کہ حق اگر ان کی خواہشوں کی پیروی کرتا تو آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب میں فساد ہو جاتا (المومنون ۷۱)
تخلیق کے بارہ میں خدا کا منصوبہ ایک کامل منصوبہ ہے۔ انسان کے سوا بقیہ کا ئنات ٹھیک ٹھیک اسی خدائی منصوبہ پر چل رہی ہے۔ اس لئے بقیہ کا ئنات نہایت درست ہے، اس میں کہیں کوئی خرابی نہیں (الملک ۳) مگر انسان اپنے عمل کے لئے آزاد ہے۔ وہ حق کو چھوڑ کر اپنی خواہش پر چلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی دنیا میں فساد برپا رہتا ہے۔ انسان کا بگاڑ دراصل انسان کی آزادی کی قیمت ہے۔ انسان کے مسائل کا حل اسلام کے نزدیک وہی ہے جو بقیہ کا ئنات کے مسائل کا حل ہے۔ اپنی خواہش پر چلنے کے بجائے اسی حق پر چلے جس پر کا ئنات کی بقیہ تمام چیزیں چل رہی ہیں۔ ایسا کرتے ہی انسانی سماج میں وہی اصلاح اور ہم آہنگی پیدا ہو جائے گی جو بقیہ کا ئنات میں بروقت موجود ہے۔ حق پر چلنا کیا ہے اور خواہش پر چلنا کیا ۔ اس کی ایک مثال لیجئے جو قرآن میں ہے : سورج کے لئے ممکن نہیں کہ وہ چاند سے ٹکرا جائے اور نہ رات ایسا کر سکتی ہے کہ وہ دن سے آگے بڑھ جائے۔ ہر ایک اپنے مدار میں گردش کرتا ہے (یسین ۴۰)
خدا کے منصوبہ کے مطابق خدا کا قانون ہے کہ ہر ایک اپنے اپنے مدار میں چلے۔ اسی کے مطابق تمام فلکیاتی اجرام حرکت کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے درمیان آپس میں ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ اس حق کا اطلاق انسان پر اس طرح ہو گا کہ آدمی اپنے اپنے دائرہ میں عمل کرے۔ اگر ہر آدمی ایسا کرے تو پورے سماج کا نظام درست رہے گا۔ اس کے برعکس اگر ہر آدمی اپنی خواہش پر چلنے لگے تو لوگوں میں ٹکراؤ ہو گا اور سوسائٹی میں اور بین الاقوامی زندگی میں فساد برپا ہو جائے گا۔
کہا جاتا ہے کہ امریکہ جب بیرونی سیاسی غلبہ سے آزاد ہوا تو ایک امریکی اپنے گھر سے باہر نکلا وہ سڑک پر آزادانہ طور پر چل رہا تھا۔ دوسرے راہ گیروں کا لحاظ کئے بغیر وہ اپنا ہاتھ زور زور سے ہلا رہا تھا۔ اسی اثنا میں اس کا ہاتھ ایک راہ گیر کی ناک سے ٹکرا گیا۔
راہ گیر نے بگڑ کر کہا کہ یہ کیا بدتمیزی ہے۔ تم اس طرح اپنا ہاتھ بے ڈھنگے طور پر ہلاتے ہوئے کیوں چل رہے ہو، امریکی نے جواب دیا کہ اب ہمارے ملک نے آزادی حاصل کر لی ہے۔
آزاد ہوں کہ جو چاہوں کروں اور جس طرح چاہوں چلوں ۔ راہ گیر نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ کہا: جناب ، آپ کی آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے۔