Al-Risala · November 1983

Your freedom ends where my nose begins

Al-Risala, November 1983, pp. 27–33

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں ارشاد ہوا ہے : تم ناپ اور تول کو پورا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں اصلاح کے بعد فساد نہ کرو (الاعراف ۸۵)

اس آیت کے مطابق خدا کی بنائی ہوئی زمین ایک اصلاح یافتہ زمین ہے۔ یہاں ہر چیز درست طریقہ پر قائم ہے۔ ہر چیز عین وہی کر رہی ہے جو اسے کرنا چاہئے۔ زمین کا یہ نظام انسان کے لئے اپنے معاملات کا معیار اور پیمانہ ہے۔ انسان کو چاہئے کہ اپنے عمل کو اسی قدرتی پیمانے سے ناپے اور اس سے مطابق کر کے اپنے ہر عمل کو درست کرتا رہے ۔ اگر انسان ایسا کرے گا تو اس کی سوسائٹی امن اور انصاف کی سوسائٹی ہوگی۔ اس کے برعکس اگر وہ زمین میں رکھے ہوئے اس پیمانہ سے مطابقت نہیں کرے گا تو انسان کا سماج بگڑ جائے گا۔ وہ اصلاح کی دنیا میں فساد کی دنیا بنانے کے ہم معنی ہوگا۔ فطرت سے یہ مطابقت ہی ہماری تمام کامیابیوں کا راز ہے۔ موجودہ زمانہ کی تکنیکل ترقیوں کو دیکھ کر آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ مگر یہ تکنیکل ترقیاں کیا ہیں۔ وہ فطرت سے مطابقت کا دوسرا نام یہی طریقہ ہم کو انسانی سماج کی اصلاح کے لئے بھی اختیار کرنا ہے۔ مادی ترقیاں فطرت سے مطابقت کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہیں۔ اسی طرح انسانی سوسائٹی بھی بغیرے مطابقت ہی کے ذریعہ درست خدا کی اس دنیا میں اصلاح و ترقی کا ایک ہی یقینی طریقہ ہے، اور وہ فطرت سے مطابقت مادی دنیا کے لئے بھی اور انسانی دنیا کے لئے بھی۔

ستاروں اور سیاروں کی گردش میں جو نظم ہے وہی نظم کائنات کی تمام چیزوں میں کمال درجہ میں پایا جاتا ہے۔ اس دنیا کے تمام واقعات اتنے منظم طور پر ظہور میں آتے ہیں کہ ان کو پیشگی طور پر معلوم کیا جاسکتا کائنات کی ناقابل بیان حد تک حیرت انگیز تنظیم اتنی کامل ہے کہ وہ اپنی فطرت میں قابل پیشینگوئی بن گئی ہے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ کائنات انتہائی حد تک مکمل ہے۔ اس میں ابدیت، معنویت اور حسن کمال طور پر پایا جاتا ہے۔ وہ نقص یا کمی سے اتنا زیادہ خالی ہے کہ اس پر اربوں سال گزر گئے اور اس میں کسی نظر ثانی کی ضرورت پیدا نہیں ہوئی۔

موجودہ زمانے میں سائنس نے اس قانون فطرت کو بہت بڑے پیمانے پر انسانی مقاصد کے لئے استعمال کیا ہے۔ مادی دنیا میں قوانین فطرت کا انطباق کیا گیا تو اس کے حیرت انگیز نتائج

دھات بجلی کی روشنی میں تبدیل ہوگئی۔ جامد مادہ حرکت بن کر دوڑنے لگا، مادہ شاندار تمدن میں ڈھل گیا وغیرہ۔ مگر اسی اصول کو انسان خود اپنی زندگی میں اختیار کرنے کے لئے تیار یہی تضاد انسان کے تمام مسائل کی جڑ ہے۔ انسان جس سائنس (علم فطرت) کو مکینیکل دنیا میں کامیابی کے ساتھ استعمال کر رہا ہے اسی سائنس کو وہ انسانی دنیا میں استعمال کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ضرورت ہے کہ یہی آفاقی اصول انسانی زندگی میں بھی رائج ہوں۔ انسان بھی سوسائٹی کے اندر اسی طرح عمل کرے کہ ہر ایک اپنے دائرہ میں رہے ، کوئی شخص دوسرے کے دائرہ میں داخل نہ ہو۔ انسان اپنی فطرت میں چھپے ہوئے تعمیری امکانات کو واقعہ بنائے۔ وہ اپنی زندگی کو اس طرح منظم کرے کہ وہ قابل پیشینگوئی کردار کا مالک بن جائے جس طرح بقیہ کائنات قابل پیشینگوئی کردار کی مالک بنی ہوئی ہے۔

یہی انسان کا سب سے بڑا مقصود ہے اور یہی اصلاً تمام مذاہب کا خلاصہ ہے۔ پھر یہی اسلام کا خلاصہ بھی ہے جو آسمانی مذہب کا صحیح اور مستند ایڈیشن ہے۔ اسلا م حقیقۃً اس بات کی دعوت ہے کہ انسان اپنی زندگی کی تعمیر کے لئے کائناتی نظام کو اپنا ماڈل بنائے۔ وہ اسی طرح زندگی گزارے جس طرح بقیہ وسیع کائنات کے تمام اجزاء کا اپنا اپنا وظیفہ پورا کر رہے ہیں۔ طبیعیاتی مشاہدہ بتاتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز کا ایک قانون ہے اور وہ انتہائی لزوم کے ساتھ اس پر قائم ہے۔ پروفیسر آئن برگ (لندن) کے الفاظ میں :

”کائنات تعجب خیز حد تک یکساں ہے۔ ہم خواہ کسی طور پر بھی اس کو دیکھیں، کائنات کے اجزاء میں وہی ترکیب اسی تناسب سے پائی جاتی ہے۔ زمین پر جو طبیعیاتی قوانین دریافت کئے گئے ہیں وہ کسی اعداد پر مشتمل ہیں، جیسے کسی الیکٹران کی مقدار مادہ کا تناسب ایک پروٹان کے مقدار مادہ سے جو کہ تقریباً بہ کے مقابلہ میں ایک ہوتا ہے۔ یہ تناسب ہر جگہ اور ہر وقت پایا جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ خالق نے تحکمی طور پر انہیں اعداد کا انتخاب کر رکھا ہے۔ کیا کائنات کے وجود کے لئے ان اعداد میں وہی مناسب تقدیر ضروری ہے جو ہم دیکھتے ہیں ( سنڈے ٹائمز، لندن، ۴ دسمبر، ۱۹۷) یہ سائنس کی زبان میں وہی بات ہے جو قرآن کی زبان میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے: خدا نے ہر چیز کو پیدا کیا۔ پھر ہر چیز کا الگ الگ اندازہ مقرر کیا (الفرقان (۲) قرآن میں دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے: کیا وہ خدا کے دین کے سوا اور کوئی دین چاہتے ہیں حالانکہ زمین و آسمان کی تمام چیزیں اسی کی مطیع ہیں، خوشی سے یا ناخوشی سے۔ اور سب کو آخر کار خدا ہی کی طرف لوٹنا ہے۔

جس چیز کو سائنس میں قانونِ قدرت کہا جاتا ہے اسیی کا نام ہی نام دین ہے۔ اللہ کا جو دین عملاً زمین و آسمان کی تمام چیزوں پر قائم ہے۔ وہی دین انسان سے بھی مطلوب ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ بقیہ کائنات اس دین خدا پر جبر کے ذریعہ قائم ہے اور انسان کو یہ دین خود اپنے اختیار سے اپنے اوپر قائم کرنا ہے۔ قرآن میں دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے:

اور خدا نے سورج اور چاند کو مسخر کر دیا۔ ہر ایک معین وقت پر چلتا ہے۔ اللہ معاملہ کی تدبیر کر رہا ہے اور وہ نشانیوں کو بیان کرتا ہے تاکہ تم اپنے رب سے ملاقات کا یقین کرو (الرعد ۲) اس آیت میں تدبیر سے مراد کائنات کا خدائی نظام ہے۔ اور تفصیل آیات سے مراد وہ وحی ہے جو پیغمبروں پر اتری۔ خدا اپنے قانون کو بقیہ دنیا میں براہ راست اپنے نظام کے تحت عملاً قائم کئے اسی قانون کو وہ پیغمبروں کے ذریعہ انسان کے پاس بھیجتا ہے تاکہ انسان اپنی آزاد مرضی سے اسی قانون الہی پر عمل کرے۔ گویا آسمانی کتاب (قرآن) جس حقیقتِ ربانی کا لفظی بیان ہے، کائنات اس کا عملی مظاہرہ ہے۔

یہی بات ہے جو حضرت مسیح کی زبان سے انجیل میں ان الفاظ میں نقل کی گئی ہے: پس تم اس طرح دعا کیا کرو کہ اے ہمارے باپ، تو جو آسمان پر ہے، تیرا نام پاک مانا جائے۔ تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی پوری ہو (متی ۶: ۱۰)

اینتون چیخوف (م ۱۹۰۴ء) نے بجا طور پر کہا ہے کہ یہ دنیا بے حد حسین ہے۔ اس میں صرف ایک ہی چیز ہے جو حسین نہیں، اور وہ انسان ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں کوئی چیز کسی چیز کی دشمن نہیں، ایک انسان دوسرے انسان کا دشمن بنتا ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں بارش برستی ہے تاکہ زمین پر فصل اگے، وہاں آدمی آگ برسا تاہے تاکہ فصلیں تباہ ہوں۔ ایک ایسی دنیا جہاں ہر طرف اصلاح کا منظر دکھائی دیتا ہے، وہاں انسان فساد اور بگاڑ پیدا کرتا ہے۔

دودنیاؤں میں اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ بقیہ دنیا پوری طرح خالق کے نقشہ کے مطابق چل رہی ہے، وہ ویسے ہی رہنے کے لئے مجبور ہے جیسا کہ خدا چاہتا ہے کہ وہ رہے۔ مگر انسان کو اللہ کی طرف سے آزادی ملی ہوئی ہے۔ وہ اپنے ارادے کے تحت ایک یا دوسرے راستے پر چلنے کا اختیار رکھتا ہے۔ انسانی دنیا میں بگاڑ کی وجہ تمام تر یہی ہے۔ بقیہ دنیا خدا کے نقشہ کی پابند ہے۔ اس لئے وہ مکمل طور پر درست اس کے برعکس انسان خدا کے نقشے سے انحراف کرتا ہے۔ اس لئے اس کے سارے معاملات میں بگاڑ پایا جارہا ہے۔ ہر برائی جو زمین پر پائی جاتی ہے وہ دراصل انسانی آزادی کا غلط استعمال ہے۔

سائنس کیا ہے؟ سائنس قانون فطرت کا استعمال ہے۔ سائنس مادہ کو تمدن میں تبدیل کرتی اسی طرح مذہب انسانی زندگی کو معیاری سماج میں تبدیل کرنے کا علم ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مذہب (اسلام) زندگی کی سائنس ہے۔ بقیہ چیزوں میں یہ سائنس مادہ کے جبری قانون کے تحت عمل کرتی ہے۔ اور انسان خود اپنے ارادہ سے اپنے آپ کو اس قانون فطرت کا پابند بناتا ہے۔ سائنس کے موضوعات میں سے ایک اہم موضوع وہ ہے جس کو قدرت کی نقل کہتے ہیں۔ مقصد قدرت کے نظاموں کو سمجھ کر ان کی میکینکل نقل کرنا ہے۔ اس سائنسی شاخ کا نام (Bionics) مثلاً کشتی مچھلی کی نقل ہے۔ ہوائی جہاز چڑیا کی نقل ہے۔ کیمرہ آنکھ کی میکینکل نقل ہے۔ انسانی دماغ کی میکینکل نقل ہے وغیرہ وغیرہ۔ قدرت کے ماڈل کو ہم اپنی میکینکل دنیا میں نہایت کامیابی کے ساتھ استعمال کر رہے ہیں۔ اسلام کا پیغام یہ ہے کہ قدرت کے اسی ماڈل کو انسانی زندگی کے نظام میں بھی منطبق کیا جائے ۔ کائنات کا جو علم ہمیں جدید شہروں کی تعمیر کا فن بتاتا ہے وہی علم ہمیں سماجی تعمیر کے اصول بھی دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی زندگی کی تنظیم کے لیے تمام ضروری ماڈل کائنات میں موجود ہیں۔ البتہ چونکہ انسان کو عمل کی آزادی دی گئی ہے اور وہ اس امتحان کی حالت میں ہے کہ وہ اپنی آزادی کو صحیح استعمال کرتا ہے یا غلط۔ اس لیے یہ تمام ماڈل تمثیلی انداز میں قائم کئے گئے ہیں۔ یہاں انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ تمثیل کو واقعے کے روپ میں دیکھے ۔ انسان کو یہ ثبوت دینا ہے کہ وہ کائنات میں خالق کے خاموش کلام کو سن سکتا ہے ۔ وہ قدرت کے اشاروں کو الفاظ کا روپ دے سکتا ہے۔ وہ تمثیلی ماڈل کو سمجھ کر اپنی حقیقی زندگی میں عملاً استعمال کر سکتا ہے۔ انسان کو اپنے آزادانہ ارادہ کے تحت وہی کچھ کرنا ہے جو بقیہ چیزیں مجبورانہ نظام کے تحت کر رہی ہیں۔ 1 - اس سلسلہ میں کائناتی ماڈل کی ایک مثال وہ ہے جس کو ہم نے اوپر نقل کیا ہے۔ کائنات میں بے شمار اجرام (Bodies) ہیں۔ اور سب حرکت کر رہے ہیں۔ مگر سب اپنے اپنے مدار کا پابند ہو کر حرکت کرتے ہیں۔ کوئی اپنے مقرر دائرہ سے باہر نہیں جاتا۔ اسی لئے ان کے درمیان کبھی ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ حتی کہ فلکیات داں کہتے ہیں کہ بعض اوقات ایک پورا کہکشانی نظام اپنے اربوں ستاروں کے ساتھ حرکت کرتے ہوئے دوسرے کہکشانی نظام میں داخل ہوتا ہے اور اس سے گزر کر باہر نکل جاتا ہے بغیر اس کے کہ دونوں کے درمیان کوئی ٹکراؤ ہو۔

یہ ایک ماڈل ہے جو بتاتا ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کا سفر اس طرح جاری کرنا چاہئے کہ ایک اور دوسرے کے درمیان مفادات کا ٹکراؤ نہ ہو۔ حتیٰ کہ ایک قوم (انسانوں کا مجموعہ) دوسری قوم

سے ملے اورگزر جائے۔ مگر دونوں کے درمیان ٹکراؤ کی نوبت نہ آئے۔

یہی بات قرآن میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے ۔ ولا تطیعوا امر المسر فین الذین یفسدون فی الارض ولا یصلحون (الشعراء (۱۵۲)

۲ - اسی طرح ایک ماڈل وہ ہے جو شہد کی مکھیوں کے چھتہ کی شکل میں قائم ہے۔ شہد کی مکھیوں کے چھتہ میں نہایت کامیاب قسم کی ایک منظم اسٹیٹ ہوتی ہے۔ اس اسٹیٹ کا نظام ایک ملکہ مکھی کے تحت عمل کرتا ہے۔ تمام مکھیاں حد درجہ محنت اور نظم کے ساتھ اپنی اپنی ڈیوٹی پر لگی رہتی ہیں۔ شہد کی مکھی کے چھتہ کے اندر نہایت معیاری قسم کی (Result-oriented) سرگرمیاں رات دن جاری رہتی ہیں۔ یہ ایک نمونہ ہے جو بتاتا ہے کہ انسانی سماج کی تنظیم کو کن اصولوں پر کام کرنا چاہئے۔ کہ تمام انسان ایک واحد نظام کے تابع ہوں۔ ایک خدا کی فرماں برداری میں ہر آدمی اور بحیثیت مجموعی پورا سماج اپنی اپنی ڈیوٹی کو پوری طرح انجام دے۔ واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا (آل عمران (۱۰۳)

۳- اسی طرح ایک ماڈل وہ ہے جو درخت کی صورت میں قائم ہے۔ انسان سانس لیتا ہے وہ ہر سانس میں ہوا سے آکسیجن لیتا ہے اور کاربن خارج کرتا ہے۔ اسی طرح درخت بھی سانس لیتے ہیں مگر ان کا معاملہ بالکل برعکس ہے۔ وہ فضا سے کاربن لے کر آکسیجن خارج کرتے رہتے ہیں۔ بھی وہی کریں جو انسان کرتا ہے تو ساری فضا کاربن سے بھر جائے اور انسان کے لئے زندہ رہنا مشکل ہو جائے۔

یہ ماڈل انسانی زندگی میں اس طرح مطلوب ہے کہ انسان کو دوسرے کی طرف سے شکایت پہنچے تو وہ اس کو برداشت کرے ، وہ تلخ کلمہ سن کر میٹھے الفاظ میں اس کا جواب دے۔ سلوک کا تجربہ کرنے کے بعد اچھے سلوک میں اس کا رد عمل ظاہر کرے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ جو مجھ سے کٹے میں اس سے جڑوں ، جو مجھے محروم کرے میں اسے دوں، جو مجھ پر ظلم کرے میں اسے معاف کر دوں۔

اسی چیز کو پیغمبر اسلام نے دوسرے موقع پر ان لفظوں میں بیان فرمایا : تخلقوا باخلاق اللہ (خدا کی اخلاقیات کو اختیار کرو) خدا کی اخلاقیات وہی ہیں۔ جو اس نے اپنی مخلوقات کی دنیا میں عملاً قائم کر رکھا ہے۔ اسی خدا کی اخلاقیات کو انسان کو بھی اختیار کرنا ہے۔ جو اخلاقیات بقیہ دنیا میں خدا کے اپنے زور پر قائم ہیں، اسی اخلاقیات کو انسانی دنیا میں خود انسان کے اپنے ارادہ

سے قائم کرنا ہے ۔ یہی خدا کا اتارا ہوا مذہب ہے اور یہی اسلام ہے اور اسی میں انسانیت کے تمام مسائل کا حل چھپا ہوا ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ حکمت اور معنویت کا جو واقعہ وسیع تر کائنات میں خدا اپنے براہِ راست کنٹرول کے تحت ظہور میں لا رہا ہے ، وہی واقعہ انسان کو اپنی ذاتی زندگی میں ذاتی کنٹرول کے تحت وجود میں لانا ہے۔ جو واقعہ خدا نے بقیہ دنیا میں مادی سطح پر قائم کر رکھا ہے ۔ اسی کو انسانی دنیا میں انسان کی سطح پر قائم کرنا ہے ۔

کائناتی سطح پر جو چیز لوہا کی شکل میں پائی جاتی ہے وہ انسانی سطح پر پختہ کرداری کی صورت میں کائناتی سطح پر جو چیز پتھریلی زمین سے چشمہ کی صورت میں بہہ نکلتی ہے وہ انسان سے نرم مزاجی کی صورت میں مطلوب ہے ۔ کائناتی سطح پر جو چیز قابل پیشین گوئی کردار کی صورت میں پائی جاتی ہے وہ انسانی سطح پر ایفائے عہد (وعدہ پورا کرنا) کی صورت میں مطلوب ہے۔ سطح پر جو چیز مہک اور رنگ کی صورت میں پائی جاتی ہے وہ انسانی سطح پر اچھے سلوک اور خوش معاملگی کی صورت میں مطلوب ہے۔ درخت خراب ہوا (کاربن) کو لے لیتا ہے اور اس کے بدلے اچھی ہوا (آکسیجن) ہماری طرف لوٹا دیتا ہے۔ یہی بات انسانی سطح پر اس اصول کی صورت میں مطلوب ہے کہ جو تمھارے ساتھ برا سلوک کرے اس کے ساتھ تم اچھا سلوک کرو، کائنات میں کوئی چیز کسی دوسرے کی کاٹ میں لگی ہوئی نہیں ہے۔ ہر ایک پوری یکسوئی کے ساتھ اپنا اپنا حصہ ادا کرنے میں مصروف ہے۔ انسانی سطح پر اس طرح مطلوب ہے کہ وہ ہمیشہ مثبت جدوجہد کرے، منفی نوعیت کی کارروائیوں سے وہ مکمل طور پر پر ہیز کرے۔ کائنات میں (Recycle) اور (Decompose) کا اصول کارفرما ہے۔ فضلات دوبارہ استعمال ہونے کے لئے گیس میں تبدیل کر دئے جاتے ہیں۔ پتی درخت سے گر کر ضائع نہیں ہوتی بلکہ کھاد بن جاتی ہے۔ یہی چیز انسانی زندگی میں اس طرح مطلوب ہے کہ انسان کی خرچ کی ہوئی دولت دوبارہ انسان کے لئے مفید بنے ۔ کی چھڑی ہوئی جدوجہد دوسرے انسانوں کو اچھے پھل کا تحفہ دے۔ کائنات میں عظیم الشان سطح پر بے شمار کام ہو رہے ہیں۔ ہر جزو انتہائی صحت اور پابندی کے ساتھ اپنی ڈیوٹی کی انجام دہی میں لگا ہوا ہے۔ مگر کسی کو یہاں کوئی ظاہری بدلہ نہیں ملتا۔ مگر یہی چیز انسان سے اس طرح مطلوب ہے کہ وہ مکمل طور پر اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں لگا رہے، بغیر اس کے کہ دنیا میں اس کو اس کے عمل کا کوئی معاوضہ ملنے والا ہو۔ اونچا پہاڑ اور تمام کھڑی ہوئی چیزیں اپنا سایہ زمین پر ڈال دیتی ہیں۔

انسانی زندگی میں اس طرح مطلوب ہے کہ ہر آدمی تواضع اختیار کرے ۔ کوئی کسی کے اوپر فخر نہ کرے ۔ دوسرے کے مقابلے میں اپنے کو بڑا نہ سمجھے۔

اب سوال یہ ہے کہ انسان سے یہ ربانی اخلاقیات کیوں مطلوب ہیں، اور کیوں ایسا ہوا ہے کہ اس کے لئے خدا نے اپنی کتاب (قرآن) بھیجی اور کائنات میں بہت بڑے پیمانے پر اس کے عملی مظاہرہ کا انتظام کیا تا کہ آدمی خدا کی کتاب میں جس چیز کو پڑھے اس کو عملی نمونہ کی صورت میں اپنے با ہر دیکھ لے اور اس پر عمل کرنا اس کے لئے آسان ہو جائے۔ اس کو سمجھنے کے لئے خدا کی اسکیم کو سمجھنا پڑے گا جس کی خاطر یہ ساری دنیا بنائی گئی ہے۔

خدا نے انسان کے لئے ایک ابدی جنت بنائی جو ہر قسم کی محدودیتوں اور کمیوں سے خالی جہاں انسان کو یہ موقع ملے گا کہ وہ ہر قسم کے دکھ اور تکلیف سے آزاد ہو کر ، ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندگی مذکورہ اخلاقیات در اصل اسی جنت کے باسیوں کی اخلاقیات ہیں ، جو لوگ ان اعلیٰ اخلاقیات کا ثبوت دیں گے وہی اس قابل ٹھہریں گے کہ ان کو جنت کے اعلیٰ ماحول میں بسایا جائے۔ ہر انسان ایک بہتر دنیا کی تلاش میں ہے ، ایک ایسی دنیا جہاں وہ اپنی کمیوں کی تلافی کر سکے جہاں وہ ہر قسم کی خوشیوں اور لذتوں کو ابدی طور پر حاصل کر سکے۔ یہ ہر انسان کا مطلوب ہے۔ ہر انسان اپنے مطلوب کو غلط مقام پر تلاش کر رہا ہے۔ جو چیز موت کے بعد کی زندگی میں رکھی گئی ہے اس کو وہ موت سے پہلے کی زندگی میں حاصل کرنا چاہتا ہے۔

ایک کسان اگر اپنے لئے کوئی فصل اگانا چاہتا ہے تو وہ کائنات کے انتظام سے مطابقت کر کے ہی ایسا کر سکتا ہے۔ ایک انجینئر اگر ایک کارخانہ بنانا چاہتا ہے تو وہ اپنے منصوبے میں اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب کہ وہ قوانین فطرت کو جان کر اسے استعمال کرے۔ ایسا ہی معاملہ انسانی زندگی کی تعمیر کا بھی ہے۔ انسان اگر اپنے لئے ایک پر مسرت اور کامیاب زندگی حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کو وہ خدائی اسکیم سے مطابقت کر کے ہی اپنے لئے پا سکتا ہے۔ خدا کی اسکیم یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں آدمی جنتی کردار کا ثبوت دے تا کہ اس کو مستقل طور پر جنت کی حسین اور لذیذ دنیا میں بسایا جائے۔ جو چیز آج ہے وہ کل نہیں مل سکتی ۔ اور جو چیز کل ملنے والی ہے اس کو آج پانے کی کوشش کرنا بے سود انھیں دو لفظوں میں زندگی کا سارا راز چھپا ہوا ہے۔

نوٹ : یہ اس انگریزی مقالہ کا اردو ترجمہ ہے جو کریم بین اسلامک کانفرنس ( بار بیڈوز ) میں ۲ اپریل ۱۹۸۳ کو پڑھا گیا۔

Printed page