Al-Risala · November 1983

ایک سفر

Al-Risala, November 1983, pp. 34–47

By Maulana Wahiduddin Khan

۱۹ دسمبر ۱۹۸۲ کی صبح کو میں ایئر انڈیا کے جہاز کے ذریعہ دہلی سے طرابلس کے لئے روانہ ہوا۔ پالَم ایئر پورٹ پر ہم لوگ پہنچے تو سفارت خانہ کے فرسٹ سکریٹری محتار محمد الامشتری، الوداع کہنے کے لئے پہلے سے وہاں موجود تھے۔ موصوف پورے معنوں میں ایک عرب نوجوان ہیں۔ آدھ گھنٹہ تک ان سے دینی موضوعات پر گفت گو ہوئی۔ وہ ہندوستان آنے سے پہلے میری عربی کتابیں پڑھ چکے تھے، اس لئے گفتگو کا بڑا حصہ انہیں کتابوں سے متعلق رہا۔ ساتھیوں سے رخصت ہو کر اندر داخل ہوا تو کچھ ہندوستانی مسافر ملکی سیاست کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔ ایک صاحب نے جوش کے ساتھ کہا: ”چرن سنگھ، جگجیون رام، مرار جی ڈیسائی، کوئی بھی سیاست نہیں جانتا سیاست اندرا گاندھی جانتی ہے، وہ تو کھا جائے گی پاکستان کو“ اسی قسم کی باتیں ناموں کی تبدیلی کے ساتھ آپ کو سرحد کی دوسری طرف بھی سننے کو ملیں گی۔ میں دوسرے کی تخریب کا نام سیاست ہے۔ اپنی تعمیر کا نام سیاست ہے، اس کو دونوں میں سے کسی نے ابھی تک نہیں جانا۔

ہمارے جہاز کے بیشتر مسافر یورپ جا رہے تھے۔ ان کی اکثریت غالباً ان ہندوستانیوں پر مشتمل تھی جو یورپ میں مقیم ہیں اور ایشیائی کھیل دیکھنے کے لئے ہندوستان آئے تھے۔ ان کے چہرے بے فکری کی علامت بنے ہوئے تھے۔ وہ زور زور سے آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ بار بار قہقہے میرے دل نے کہا: انسان کی بے خبری بھی کس قدر عجیب ہے۔ لوگ ہنس رہے ہیں حالانکہ بہت جلد وہ روئیں گے۔ لوگ بول رہے ہیں حالانکہ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب کہ ان کے الفاظ ختم ہو جائیں گے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی منزل کی کی طرف بڑھ رہے ہیں حالانکہ بالاخر خندق کے سوا کوئی چیز نہیں جو لوگوں کا انتظار کر رہی ہو۔ یہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے مگر یہی وہ حقیقت ہے جس کا نہ کوئی جاننے والا ہے اور نہ کوئی اس کو

دہلی سے اُڑان کے بعد جہاز تقریباً نو گھنٹے تک چلتا رہا، یہاں تک وہ ساڑھے سات ہزار کلو میٹر کا سفر طے کرکے روم (اٹلی) پہنچا۔ اس درمیان میں جہاز کا اناؤنسر بار بار اعلان کرتا رہا" اب ہم شام کے اوپر سے اُڑ رہے ہیں۔ اب ہم یونان پہنچیں گے۔

اٹلی کی فضا میں داخل ہو گئے " زمینی سواری کے لئے بار بار راستے کی رکاوٹیں حائل ہو جاتی ہیں اتنا طویل سفر مسلسل جاری رکھنا اس کے لئے ممکن نہیں۔ مگر خدا نے فضا کی صورت میں انسان کو ایسی کھلی سڑک دے دی ہے جہاں تمام رکاوٹوں سے بلند ہو کر انسان برابر اپنا سفر جاری رکھ سکتا اس واضح نشانی کے باوجود بہت سے لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ " زمینی " رکاوٹوں میں الجھے رہتے ہیں۔ ان میں یہ حوصلہ پیدا نہیں ہوتا کہ وہ " فضا " میں بلند ہو کر اپنی زندگی کے سفر کے لئے بلا رکاوٹ میدان حاصل کر لیں۔

ہوائی جہاز میں مطالعہ کے لئے رسالے دئے جاتے ہیں جن کو اصطلاح میں اندرونِ پرواز رسالہ (Inflight Magazine) کہا جاتا ہے۔ ایئر انڈیا میں اس قسم کا دو ماہی انگریزی میگزین مسافروں کو فراہم کیا جاتا ہے جس کا نام نمسکار ہے۔ اس کے شمارہ دسمبر ۸۲ جنوری ۸۳ میں فلم " گاندھی " پر ایک مضمون تھا۔ اس کے ساتھ بن کنگسلے (Ben Kingsley) کی کئی تصویریں مہاتما گاندھی کے روپ میں تھیں۔ یہ وہ شخص ہے جس نے مذکورہ فلم میں گاندھی کا کردار ادا کیا ہے۔ یہ خوبصورت میگزین ہانگ کانگ میں ٹامسن پریس نے چھاپا ہے۔ جس جہاز (Boing 747) میں ہم اُڑ رہے وہ امریکہ کا بنا ہوا ہے۔ حتیٰ کہ ملک کے بالو کی فلم بنانے کے لئے موزوں ترین ایکٹر اور ڈائرکٹر بھی مغرب میں ملے ہیں ۔ کیسی عجیب ہے ہندوستان کی ترقی اور کیسی عجیب ہے اس کی پسماندگی۔

ایئر انڈیا کے اس میگزین میں مسٹر آہوجہ کا ایک انٹرویو بھی شامل ہے جو انھوں نے فلم " گاندھی " کے فلم ساز (Sir Richard Attenborough) سے لیا تھا۔ سر رچرڈ آٹن برو نے جو باتیں کہیں ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ کہانی بتاتے ہوئے اس کی ساری بات نہیں فلم گاندھی میں مہاتما کی زندگی کے ابتدائی ۳۰ سال نہیں ہوں گے اور یقیناً فلم میں کچھ ڈرامائی واقعات بھی ہوں گے:

While telling a story you cannot relate everything. The first 30 years of the Mahatma’s life will not be there, and the film must have some فلم ساز تاریخ میں جو تصرف کرتا ہے وہی اکثر مورخ اور مفکر بھی کرتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ فلم ساز بتاکر کرتا ہے اور مورخ اور مفکر بغیر بتائے ہوئے۔

انگریزی حکومت نے گجرات میں نمک بنانے کی صنعت کو سرکاری قبضہ میں لے لیا۔

گاندھی جی نے مشہور ڈانڈی مارچ کیا۔ مقصد یہ تھا کہ دو ہزار آدمیوں کو لے کر ساحل پر جائیں اور نمک بنا کر سرکاری حکم کی خلاف ورزی کریں۔ اس موقع ایک انگریز افسر نے کہا تھا : Let him make his salt, Mr. Gandhi will have to find a great more than a pinch of salt to bring down the British Empire. ان کو اپنا نمک بنانے دو۔ مسٹر گاندھی کو چٹکی بھر نمک سے بہت زیادہ بڑی چیز درکار ہوگی کہ وہ برطانی شہنشاہیت کو مغلوب کرسکیں۔

اسی طرح گاندھی جی نے جب چر خا چلایا تو ان کا مذاق اڑایا گیا۔ مگر یہ گاندھی کی بہت گہری تدبیر سیاست کی ایک قسم یہ ہے کہ پہلے ہی مرحلہ میں کوئی اتنا بڑا واقعہ کیا جائے کہ حریف غیر ضروری طور پر چوکنّا ہو جائے اور اپنی بھر پور طاقت کو استعمال کر کے تحریک کو کچل ڈالے۔ یہ ہے کہ بظاہر بے ضرر اقدام سے آغاز کیا جائے جو حریف کو اتنا معمولی دکھائی دے کہ وہ اس کو نظر انداز کر دے۔ اس طرح تحریک کو اپنا کام کرنے کا موقع مل جائے۔ وہ دھیرے دھیرے نفوذ کرتی رہے، یہاں تک کہ حریف کو اس کی ناقابل تسخیر طاقت کا اندازہ اس وقت ہو جب کہ معاملہ اس کے قابو سے باہر جا چکا ہو۔ ہندوستان میں اولاً مسلم لیڈروں نے پہلی قسم کی سیاست چلائی اور وہ نا کام رہے۔ اس کے بعد گاندھی جی نے دوسرے قسم کی سیاست چلائی اور وہ کامیاب مہاتما گاندھی کا ”چٹکی بھر نمک “ بالآخر اتنا بڑا پہاڑ بن گیا جس کا بوجھ سنبھالنا برطانی سلطنت کو ناممکن دکھائی دینے لگا اور اس نے ہندوستان کو آزاد کر دیا۔

دہلی سے طرابلس کے لئے میں ۱۹ دسمبر کی صبح کو چلا تھا اور اسی دن شام کو میں طرابلس پہنچ اس تقریباً ۹ ہزار کلومیٹر کے سفر کا آمد و رفت کا کرایہ ۱۳۶۵۸ روپیہ ہے۔ میں ایسے سفر کے لئے اتنی رقم درکار نہیں ہوتی تھی۔ مگر دوسری اس سے بڑی چیز جو درکار ہوتی تھی وہ وقت تھا۔ آج ایک شخص دہلی سے روانہ ہو کر ۱۲ گھنٹے کے اندر طرابلس پہنچ جاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں ایسے سفر کے لئے ۱۲ مہینے بھی یقین نہیں تھے۔ مزید یہ کہ جانے والا اپنے متعلقین کو اس درمیان میں کوئی خبر نہیں بھیج سکتا تھا۔ اس کے متعلقین کو اس کی خبر صرف اس وقت ہوتی تھی جب کہ وہ برسوں کے بعد اپنا سفر پورا کر کے دوبارہ اپنے وطن واپس آئے۔ جب کہ موجودہ زمانے کی امکانیات کا یہ حال ہے کہ یکم جنوری ۱۹۸۳ء کو جب واپسی کے لئے میرا رز رویشن ہوا تو اسی دن ٹیlex کے ذریعہ بھیجی ہوئی خبر دہلی میں میرے دفتر کو پہنچ گئی کہ ۵ جنوری کی صبح

کو میں دہلی پہنچنے والا ہوں۔

ہوائی جہاز کیا ہے، قدرت کی نقل۔ ہوائی جہاز دراصل قدرتی چڑیا کی مشینی نقل ہے۔ قدرت نے ایک چڑیا کے ہوائی سفر کے لئے جو اصول مقرر کئے ہیں اسی کو انسان کے ہوائی سفر میں استعمال کرنے کا نام ہوائی جہاز ہے۔ انسان کا یہ تضاد بھی کیسا عجیب ہے کہ وہ اپنی دنیا کے سفر کے لئے قدرت کی نقل کرنے پر بخوشی آمادہ ہو جاتا ہے۔ مگر آخرت کے سفر کے لئے وہ قدرت کی نقل کرنے پر راضی یں ہوتا۔ مادی معاملات میں وہ جس معبود کا پرستار ہے۔ اسی معبود کی پرستاری روحانی اور اخلاقی معاملات میں اس کو منظور نہیں۔

طرابلس میں ہمارا قیام ہوٹل الکبیر کمرہ نمبر ۴۰۸) میں تھا۔ جب میں اس کمرہ میں داخل ہوا تو یہ کمرہ مجھے بالکل اجنبی معلوم ہوا تھا۔ مگر دو ہفتے بعد ہم جنوری ۱۹۸۳ء کو جب اس کمرہ سے رخصت ہو کر نکلا تو مجھے ایسا لگا جیسے میں اور کمرہ دونوں ایک دوسرے مانوس ہو چکے ہیں۔ یہی انسان کی بنیادی وہ نئی چیز سے بھڑکتا ہے اور جس چیز سے زیادہ عرصہ تک وابستہ رہے اس کو حقیقی سمجھنے لگتا ہے۔ سچائی کو پانے کے لئے آدمی کا یہ مزاج اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ قدیم چیز کو محض انس کی بنا پر پکڑے رہتا ہے، خواہ وہ کتنی ہی بے حقیقت ہو۔ وہ نئی چیز کو صرف عدم انس کی بنا پر اختیار نہیں کر پاتا، خواہ وہ کتنی ہی بڑی سچائی ہو۔ حتیٰ کہ دلائل جب اس کے ذہن کو مفتوح کر لیتے ہیں اس وقت بھی وہ اقدام کرنے سے ہچکچاتا ہے۔ آدمی اکثر حالات میں اپنے مانوس گھروندوں کو حقیقی سمجھ لیتا ہے۔ حالانکہ حقیقت وہ ہے جو دلیل سے ثابت نہ ہو نہ کہ وہ جس سے مانوسیت کی بناپر آدمی متعلق ہو جائے۔

۲۲ دسمبر ۱۹۸۲ء کی شام کو المجلس العالمي للدعوة الاسلامية کا افتتاحی اجلاس ہوا۔ قرآن کے بعد ضروری کارروائی ہوئی۔ ۲۳ دسمبر کو مجلس کے قواعد و ضوابط مقرر کئے گئے۔ اس میں صرف ہو گیا۔ ۲۴ دسمبر کو دعوتی مسائل پر گفتگو شروع ہوئی۔

ایک عرب نوجوان (الساح علی حسین) نے موجودہ زمانہ میں اسلامی دعوت کے مسائل کے بارہ میں تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ ان کی تقریر کا عنوان تھا : مشكلات الدعوة الاسلامية في العالم آخر میں انھوں نے کہا : آپ کی مجلس اپنے علم اور تجربہ کی بنا پر اس قابل ہے کہ وہ متعین کرے کہ ہم کہاں سے شروع کریں (إن مجلسكم هذا لهو المؤهل لعلمه وخبرته لان يحدد لنا من اين نبدأ) اس سلسلے میں مختلف ممبروں نے اپنے اپنے خیالات پیش کئے۔ میرا نقطہ نظر یہ تھا کہ آج

سب سے پہلا اور بنیادی کام جدید تقاضوں کے لحاظ سے اسلامی لٹریچر کی تیاری اور اس کی اشاعت ہے مجلس عالمی کے اس اجتماع میں تین زبانیں رائج تھیں عربی، انگریزی، فرانسیسی میں نے اپنے خیالات انگریزی زبان میں پیش کئے ۔ مقابل کے صفحہ پر میری تقریر کا متن نقل کیا جا رہا ہے۔

بعض ممبروں کا خیال تھا کہ موجودہ مسلمان دنیا بھر میں کروڑوں کی تعداد میں دشمنان اسلام کے ظلم کا نشانہ بن رہے ہیں۔ پہلے ہم کو انہیں بچانے کی فکر کرنا چاہئےنہ یہ کہ ہم مسلمانوں کی تعداد بڑھانے میں لگ جائیں۔ میں نے کہا کہ دعوت اسلام کا مسئلہ مسلمانوں کی تعداد بڑھانے کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ شہادت کی ذمہ داری ادا کرنے کا مسئلہ ہے۔ حضرت موسیٰ جب مصر میں تشریف لائے تو بنی اسرائیل پر وہاں کی قومی حکومت سخت مظالم کر رہی تھی۔ حضرت موسیٰ نے ایک طرف بنی اسرائیل کو بچانے کی فکر کی ، اسی کے ساتھ عین اسی وقت انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو حق کا پیغام دیا۔ اہم بات جو جاتے کی ہے وہ یہ کہ ختم نبوت کے بعد مسلمان مقام نبوت پر ہیں۔ ان پر خاص طور پر ان کے علماء پر یہ لازم ہے کہ وہ غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ کسی بھی عذر کی بنا پر یہ ذمہ داری ان سے ساقط نہیں ہو سکتی۔

تاہم بحثوں اور گفتگوؤں میں لوگوں کا رخ دعوت سے زیادہ دفاع کی طرف رہا۔ پوری مسلم دنیا میں یہ حال ہے کہ دشمنان اسلام،، کے پیدا کردہ مسائل سے لوگوں کے ذہن اتنا زیادہ متاثر ہیں کہ وہ دعوت کے پہلو پر زیادہ سوچ نہیں پاتے۔ حریف کو مدعو کی نظر سے دیکھنا ان کے لئے مشکل ہوگیا ہے ایک بار اس موضوع پر گفتگو تھی کہ جہاد سے مراد اصلاً جہاد دعوت ہے نہ کہ قتال۔ اس پر ایک صاحب (مبارک قسم اللہ زاید سوڈانی) بولتے ہوئے کافی جذباتی ہو گئے۔ کے نزدیک اس قسم کی باتیں قتال سے فرار کا فلسفیانہ بہانہ تھیں۔ تقریر کے دوران ان کی زبان سے یہ جملہ نکلا : این سیفنا الذی اخفيناه ؟ این روح قتالنا الذی اهملنا ۵ - یہ جملہ کہتے ہوئے وہ بے اختیار روپڑے اور آگے اپنی تقریر جاری نہ رکھ سکے۔

محض لوگوں نے شدت کے ساتھ اس پہلو کی طرف زور دیا کہ ہم لوگ بات کرنے میں بہت مگر عمل کرنے میں اتنا ہی پیچھے ہیں۔ ایک صاحب نے بڑے جوش کے ساتھ کہا: کلنا جيد في النظري وكلنا عاجز في التطبيق میرا نقطہ نظریہ تھا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ابھی خود نظریہ ہی واضح طور پر سامنے نہ آسکا۔ اگر فی الواقع صحیح اور قابل عمل نظریہ لوگوں کے سامنے آجا ئے تو عمل

Mr. Chairman and the members of the World Council, It is really a great pleasure to be with you Muslim brethren from all over the world to discuss matters of Islamic Dawa. Islamic Dawa is, without doubt, the most impor- tant issue upon which we can get together. I congratulate Brother Dr. M.A. Sharif and the other authorities of Jamiat Al-Dawa on having provided us with this rare This international Islamic gathering symbolizes two great Islamic causes: firstly, united effort and secondly, orientation in the right direction. We can only achieve success by united effort, and Dawa is the only direction in which we should organize our struggle if it is to result in fruitful ends. I pray God to be with you and bestow His help upon you, so that Islam may regain its former glory. Now some words on the point of discussion. Brother Said Ali Hussain has rightly pointed out that the basic question is: from where to begin? The answer is: we should begin from literature. Producing literature is the principal task of Islamic At this time, the field of Dawa is open all over the world. But Dawa literature, in the real sense, exists nowhere. The most urgent need of our time is to prepare Islamic literature and to publish it in all the important languages. As our Japanese brother has pointed out, the lack of Islamic literature is the most acute problem of Islamic Dawa at present. This is the same same method as was followed by the Islamic movement in the early period of its history. It is a well-known fact that the first revelation of the Quran was the verse, "Recite! Your Lord is the Most Bountiful One, who by the pen taught man what he did not know." (Quran, 96:3-4) This means that the teaching of God started through the pen, or in other words, through literature, which is the product of the pen. One might say that there is so much Islamic literature. That is true, but it is still not sufficient. Either it is not prepared in contemporary style, or it is not meant as an introduction to Islam, but only as a defence of Islam. Firstly, we need good and correct translations of Quran and Hadith in all the languages of the world, just as the Christians' Holy Book is found in all the prevailing languages of the world. Then we need a set of books in which Islam is presented simply and scientifically. Also we need some journals and periodicals in which Dawa issues all over the world are discussed regularly, and news concerning Islamic Dawa published. So, the basic task ahead is to produce Dawa literature in every language. Islamic Dawa started from here in the beginning, and it should start from here again.

کرنے والوں کی کمی نہ ہوگی۔

موجودہ ۳۶ رکنی عالمی کونسل میں دنیا کے مختلف ملکوں کے لوگ آئے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک علی آبی وہ جاپان سے آئے ہیں۔ وہ نومسلم ہیں۔ پہلے وہ سرکاری افسر تھے اب خود اپنا ایک قانونی ادارہ چلا رہے ہیں۔

علی آبی نے بتایا کہ ایک صاحب کسی عرب ملک کی طرف سے مبعوث ہوکر جاپان میں تبلیغ کے تین سال تک وہ تبلیغ کرتے رہے۔ مگر کسی نے اسلام قبول نہیں کیا۔ اس کے بعد ایک روز ایسا ہوا کہ انھوں نے کچھ جاپانیوں کے سامنے تقریر کی اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بیان کی۔ حدیث یہ تھی۔

عن ابی ھریرة ، قال جاء رجل الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال یا رسول اللہ من احق الناس بحسن صحابتی قال امك۔ قال ثم من قال امك۔ قال ثم من قال امك۔ قال ثم من قال البوك (متفق علیہ) اس سادہ گفتگو کا اتنا اثر ہوا کہ اسی مجلس میں دس جاپانی مسلمان ہوگئے۔ انھوں نے بتایا کہ جاپانی قوم بنیادی طور پر مادری محبت (Mother-loving) والی قوم ہے اس لئے یہ حدیث اس کے ذہن میں بیٹھ گئی۔ مزید انھوں نے بتایا کہ جاپانی قوم حقیقت پسند اور سنجیدہ مزاج قوم ہے۔ کو عملی باتیں اور مختصر باتیں زیادہ پسند آتی ہیں۔ اس لئے جاپان میں تبلیغ کرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں بہت زیادہ موزوں ہیں۔ مگر جاپانی زبان میں احادیث کا ترجمہ موجود صرف ایک کتاب چھاپی گئی ہے مگر اس میں نکاح و طلاق کے مسائل تک ساری چیزیں درج انھوں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ موجودہ مرحلہ میں اگر اخلاقی اور روحانی حدیثوں کا ایک مجموعہ صرف سادہ ترجمہ کے ساتھ جاپانی زبان میں چھاپا جائے تو وہ جاپانیوں پر تبلیغ کے لئے بہت مؤثر ہوگا۔ میں نے ان سے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جاپانی قوم دنیا کی سب سے زیادہ ذہین قوم ہے۔ نے کہا ایسا نہیں۔ البتہ جاپانی قوم بے حد محنتی قوم ہے۔ ایک جاپانی کارکن دفتر یا کارخانہ میں کام کر رہا ہے۔ اس کا مقررہ وقت ختم ہوجاتا ہے مگر کام ختم نہیں ہوتا تو وہ کام چھوڑ کر گھر جانا پسند نہیں وہ مزید دو گھنٹے محنت کرکے اپنا کام پورا کرے گا۔ انھوں نے بتایا کہ اس سے پہلے جب میں سرکاری ملازم تھا تو اکثر ایسا ہوا کہ میں نے ہفتہ میں اپنی دو دن کی چھٹی استعمال نہیں کی اور چھٹی کے دونوں دن دفتر جاکر اپنا کام مکمل کیا۔

علی آبی نے کہا جاپانی لوگ بالقوہ مسلمان ہیں :

مگر ہمارے یہاں جو باہر کے مسلمان آ رہے وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑتے ہیں۔ جاپانی کھانا کھاتے ہوئے بائیں ہاتھ کو استعمال کرتا ہے، اس پر یہ لوگ سخت اعتراض کرتے ہیں وغیرہ یہ چیز جاپانیوں کے عمومی اسلام کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ جاپانی بنیادی طور پر سادہ، حقیقت پسند اور الفاظ سے زیادہ معانی پر دھیان دینے والا ہوتا ہے۔ اس لئے فطری اسلام اس کو بہت زیادہ اپیل کرتا ہے۔ مگر امام اور واعظین جس اسلام کی نمائندگی کرتے ہیں وہ جاپانیوں کے لئے قابل قبول ہو سکے گا۔

۲۶ دسمبر ۱۹۸۲ کو ندوۃ السیرۃ النبویۃ کے نام سے ایک اجتماع یہاں کی ایک بڑی مسجد میں ہوا جو جمعیتہ الدعوۃ کی مسجد کے نام سے مشہور ہے۔ اس اجتماع میں سیرت کے مختلف پہلوؤں کے بارہ میں مقالات پڑھے گئے اور ان پر سوال و جواب ہوا۔ یہ سیرت کے عام جلسوں کے برعکس ایک خالص علمی اجتماع تھا۔ اکثر اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ اس میں شریک تھے۔ مگر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ لوگوں نے زیادہ محنت کر کے مقالات نہیں لکھے۔ متعلقہ موضوع سے متعلق جس کے دماغ میں جو کچھ تھا اس کو اس نے لکھ لیا اور یہاں آکر پڑھ نہ دیا۔ سیرت کے موضوع پر بے شمار کتابیں ہیں اور مقالات لکھے جاچکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سیرت پر ابھی بہت کچھ لکھنا باقی ہے۔ مگر سیرت کے بقیہ پہلو سی وقت کہے جا سکتے ہیں جب کہ اس کے لئے کافی محنت کی جائے۔

یہاں دنیا بھر سے مختلف ملکوں کے لوگ آئے ہوئے ہیں۔ تقریبا ہر جگہ کے لوگوں نے بتایا کہ غیر مسلموں میں دین کی اشاعت کے کافی امکانات ہیں۔ امریکہ کے ایک صاحب نے بتایا کہ امریکہ کے لوگ بے حد غیر جانبدارانہ انداز سے چیزوں کو دیکھتے ہیں اور جب کسی چیز کو پکڑ لیتے ہیں تو پھر اس کو چھوڑتے نہیں۔ یہ امریکی قوم کا مزاج ہے۔ اس لئے امریکہ میں اگر اسلام پھیلایا جائے تو یہ ہمارے لئے بہت زیادہ تقویت کا باعث ہو۔ مگر ہر جگہ کے لوگوں کی یہ مشترک شکایت تھی کہ جدید ضرورتوں کے لحاظ سے ہمارے پاس اسلامی لٹریچر موجود نہیں۔

امریکہ کے ایک نوجوان جو اس اجتماع میں شریک تھے، ان سے اکثر ملی امور پر باتیں ہوتی ان کا ذہن دعوتی سے زیادہ قومی تھا۔ ان سے میں نے کہا کہ آپ دوسری قوموں کو ظالم اور مسلمان کو مظلوم بتاتے ہیں۔ مگر میرا خیال یہ ہے کہ صورت حال اس کے برعکس ہے۔ یہ ہے کہ مسلمان ظالم ہیں اور دوسری قومیں مظلوم۔ دوسری قومیں ہم سے اگر ہماری دنیا چھین

رہی ہیں توہم دوسری قوموں ان کی آخرت چھین رہے ہیں۔

میں نے محسوس کیا کہ میرا دعوتی نقطہ نظر ان کے ذہن میں کچھ زیادہ بیٹھ نہیں رہا ہے۔ چنانچہ اس کے بعد ایسا ہوا کہ جب وہ کوئی بات چھیڑتے تو اکثر میں مسکرا دیتا۔ ۲ جنوری ۱۹۸۳ کو امریکہ جانے کے لئے وہ مجھ سے رخصت ہوئے۔ چونکہ یہ طے ہوا تھا کہ اسی سال کے آخر تک دوسرا اجتماع کیا جائے۔ کے پس منظر میں انھوں نے مصافحہ کرتے ہوئے کہا کہ اب میں کچھ دنوں کے بعد آپ کا مسکراتا ہوا چہرہ دیکھ سکوں گا :

It will be several months before I see your smiling face again ۲۵ دسمبر ۱۹۸۲ کو طرابلس ریڈیو سے میری ایک تقریر نشر کی گئی۔ یہ تقریر ۲۰ منٹ کی تھی۔ انھوں نے اگرچہ وقت کی تحدید نہیں کی تھی۔ تاہم میں نے ۲۰ منٹ میں اپنی تقریر ختم کر دی۔ کی مناسبت سے میں نے سیرت پر کچھ خیالات پیش کئے۔ یہ تقریر زبانی تھی۔ اس لئے اس کا متن تحریری صورت میں ہمارے پاس برائے اشاعت موجود نہیں ہے۔

۳۰ دسمبر کو طرابلس ریڈیو پر میرا دوسرا پروگرام تھا۔ یہ سوال و جواب کی صورت میں تھا۔ سوالات کرتا رہا اور میں جوابات دیتا رہا۔ دوسرے عام سوالات کے علاوہ یہ سوال بھی تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کا کیا حال ہے ، کیوں کہ ہم سنتے ہیں کہ وہاں اکثر فرقہ وارانہ فسادات ہوتے رہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ ہندوستان بہت بڑا ملک ہے۔ وہ ایک براعظم کی مانند ہے۔ اس کی آبادی بھی بہت زیادہ ہے۔ نیز یہ کہ ملک کی اکثریت ابھی تک جاہل ہے۔ ایسی حالت میں کبھی کبھی جھگڑے سے لڑائی کا ہو جانا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ البتہ اہم بات یہ ہے کہ ان حالات کے باوجود ہندوستان کے مسلمان برابر ترقی کر رہے ہیں۔ ان کے درمیان اقتصادی اور تعلیمی سرگرمیوں میں واضح اضافہ ہوا نیز یہ کہ خود اکثریتی فرقہ میں قابل لحاظ تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اسلام کا مطالعہ کر رہے ہیں اور ان میں سے ہزاروں افراد حالیہ برسوں میں اسلام قبول کر چکے ہیں۔

اس ضمن میں انٹرویو کا دوسرا سوال یہ تھا کہ ۱۹۸۳ میں آپ کے نزدیک کرنے کا اہم کام کیا ہے۔ میں نے کہا کہ ابھی اسی سفر میں میں نے ریڈرز ڈائجسٹ (جولائی ۱۹۷۹) کا ایک مضمون پڑھا جس کا عنوان تھا : Islam on the March اس مضمون میں دکھایا گیا ہے کہ موجودہ زمانہ میں اسلام دوبارہ زندہ ہورہا ہے اور نئی طاقت پکڑ اسلام کے اس سفر کو ۱۹۸۳ میں ہمیں مزید شدت کے ساتھ جاری رکھنا چاہئے۔

زمانہ میں اسلامی دعوت کے زبردست امکانات پیدا ہو گئے میںں۔ ان امکانات سے بھر پور فائدہ اٹھانا وہ سب سے اہم کام ہے جس پر ہمیں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت

عام عرب کتابی عربی سے ایک ہندوستانی عالم سے کم واقف ہوتا ہے۔ چنانچہ ایک بار میں نے گفتگو کے دوران بالقوۃ“ کا لفظ استعمال کیا تو عرب انٹرویو ر اس کی سمجھ نہ سکا۔ اس کے بعد میں نے انگریزی لفظ Potential کہا تو وہ اس کی سمجھ میں آگیا۔

طرابلس میں بڑی تعداد میں غیر عرب مسلمان مقیم ہیں۔ ان مسلمانوں کے کئی اجتماعات ہوئے جن میں میری تقریر ہوئی لوگوں نے نہایت غور سے باتیں سنیں اور دینی جذبات کا اظہار کیا۔ میرٹھ کا فرقہ وارانہ فساد ابھی حال ہی ہوا تھا اس لئے کچھ لوگوں نے میرٹھ کے مسلمانوں کا حال میں نے کہا کہ میرٹھ کے مسلمان جس حال میں ہیں ٹھیک ہیں۔ آپ تو اپنی فکر کیجئے۔ کیونکہ ہر آدمی پر ایک روز میرٹھ گزرنے والا ہے۔ موت اور موت کے بعد قیامت ، یہ سب سے بڑا ”میرٹھ“ لوگ دوسروں کے ”میرٹھ کو جانتے ہیں۔ مگر اپنے ”میرٹھ کو کسی کو خبر نہیں۔ ہمارے جو رہنما بیرونی ملکوں میں جاتے ہیں اور وہاں سے کامیاب ہو کر لوٹتے ہیں وہ اکثر ملت کی بربادی کے نام پر یہ کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ اگر آپ لوگوں کے سامنے مسلمانوں کی مظلومیت کو بڑھا چڑھا کر بیان کریں۔ جذباتی انداز میں تقریریں کر کے لوگوں کو اکسائیں تو آپ کو کثرت سے ایسے لوگ ملیں گے جو پر جوش انداز میں آپ کا تعاون کریں۔ لیکن اگر آپ دعوت دین کے لئے لوگوں کو ابھار نا چاہیں تو ایسا معلوم ہوگا گویا آپ اسٹیچو کی بستی میں بول رہے ہیں جو نازک ترین بات پر بھی سننے اور تڑپنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

یہ صورت حال تمام عالم اسلام میں ہے۔ آپ قوم کی بربادی کے نام پر لوگوں سے بڑا بڑا تعاون حاصل کر سکتے ہیں۔ مگر دین حق کی پیغام رسانی کے لئے کہتے تو ان کے اندر اس کام میں حصہ لینے کے لئے کوئی جذبہ نہیں بھڑکتا۔ قومی مصائب کے لئے پر جوش ہو نا در دین کی دعوت کے معاملہ میں بے حس بنا رہنا اسلام نہیں ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان آج جس مذہب پر قائم ہیں وہ قومی مذہب ہے نہ کہ خدائی مذہب۔ پھر قومی مذہب پر ہم کو وہ انعامات کیسے مل سکتے ہیں جو صرف خدائی مذہب اختیار کرنے پر مقدر کئے گئے ہیں۔

۳۱ دسمبر کی شام کو ایک صاحب کے گھر پر نشست ہوئی۔ تعلیم یافتہ لوگ جمع تھے۔

قرآن کے بارہ میں تقریباً ایک گھنٹہ تقریر کی۔ اس کا موضوع یہ تھا کہ قرآن کو کس طرح پڑھنا چاہئے۔ مختلف مثالیں دے کر میں نے واضح کیا کہ قرآن کا صرف پڑھنا کافی نہیں ہے۔ بلکہ ضروری ہے کہ اس کو صحیح ذہن کے ساتھ پڑھا جائے ۔ اکثر لوگ قرآن کو اپنے خیالات کی تصدیق کے لئے پڑھتے ہیں۔ مگر قرآن کو وہی پائے گا جو قرآن کو اپنے خیالات کی تصحیح کے لئے پڑھے۔

مثلاً ایک غیر مسلم قوم سے آپ کو نفرت ہے اور آپ کے ذہن میں یہ بھرا ہوا ہے کہ اس سے ”جہاد“ اب آپ قرآن کو پڑھیں تو آپ کو قرآن میں صرف یہ لکھا ہوا نظر آئے گا کہ ”کافروں سے لڑو“۔ کے برعکس اگر آپ خالی الذہن ہو کر قرآن کو پڑھیں تو آپ دیکھیں گے کہ قرآن یہ کہہ رہا ہے کہ ان قوموں تک خدا کی دعوت پہنچاؤ۔ پہلا مطالعہ آپ کو دیگر اقوام سے بیزاری کا سبق دے گا اور دوسرا مطالعہ آپ کو دیگر اقوام سے محبت پر ابھارے گا۔ پہلے مطالعہ کے مطابق آپ کے اور دوسری قوموں کے درمیان حریف اور رقیب کا رشتہ قائم ہو گا اور دوسرے مطالعہ کے مطابق داعی اور مدعو کا۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے یضل به کثیراً و یھدی به کثیراً طرابلس میں بہت سے عرب نوجوانوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ کبھی ایک دو کی صورت میں اور کبھی ایسا بھی ہوا کہ کئی کئی نوجوان اکٹھے ملنے کے لئے آئے۔ میں نے ان لوگوں سے گفتگو میں خاص طور پر جس پر زور دیا وہ یہ تھا کہ اسلام کا طریقہ کھلے ہوئے دائروں میں کام کرنے کا ہے نہ کہ بند دائروں میں سر عرب دنیا میں بہت بڑے پیمانہ پر نوجوانوں میں اسلام کے لئے کام کرنے کا جذبہ بھرا ہے۔ مگر ان کی اکثریت اسلام کی سیاسی تفسیر سے متاثر ہے اور حکمرانوں سے ٹکراؤ کو کام سمجھتی ہے۔ میں نے صفائی کے ساتھ کہا کہ میں اس قسم کی سیاست کو اسلامی سیاست نہیں سمجھتا۔ یہ یقینی طور پر اسلام سے انحراف ہے۔ اور مزید یہ کہ یہ اپنے وقت اور قوت کو ایسے میدان میں لگانے نام ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ میں نے مزید کہا کہ یہ بات میں کسی مصلحت کی بنا پر نہیں کہتا۔ بلکہ یہی میرا مستقل نظریہ ہے اور میں ۲۰ سال سے مسلسل تقریر اور تحریر کے ذریعہ اسی کی اشاعت کر رہا ہوں۔

ہوٹل الکبیر میں ایک روز میری ملاقات ایک افغانی نوجوان سے ہوئی ۔ وہ ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ اب اس کے والدین سوئزرلینڈ میں رہتے ہیں اور یہ نوجوان وہیں پر تعلیم حاصل کر رہا ہے۔

اس نوجوان کا نام نجیب اللہ طیبی ہے۔ اس کی عمر ۲۱ سال ہے۔ وہ صرف انگریزی یا فرنچ بول سکتا ہے۔ اس خوبصورت افغانی نوجوان سے میں نے پوچھا کہ آپ کی قوم اگر روسیوں سے لڑنے

کے لئے آپ کو افغانستان بلائے تو کیا آپ وہاں جاکر لڑنا پسند کریں گے۔ اس نے فوراً کہا ہاں۔ میں نے کہا کیا آپ کے والدین آپ کو افغانستان جانے کی اجازت دیں گے۔ جب کہ موجودہ حالات میں وہاں جانا گویا اپنے آپ کو موت کے حوالے کرنا ہے۔ اس نے جواب دیا، میں اپنے والدین کی اجازت کے بغیر وہاں جاؤں گا۔

بات چیت کے دوران میں میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کی یہ جنگ قوم کے لئے ہے یا خدا کے اس نے کہا دونوں کے لئے۔ اس کے بعد کچھ دیر سوچ کر بولا۔

I was born in my country and I want to die in my country میں اپنے ملک میں پیدا ہوا اور اپنے ملک ہی میں مرنا چاہتا ہوں۔

ایک روز میں ہوٹل کی کسی منزل پر لفٹ کے انتظار میں کھڑا تھا۔ لفٹ کا دروازہ کھلا تو اس کے اندر سے کئی عورتیں برآمد ہوئیں۔ سب کی سب خالص مغربی لباس میں تھیں۔ میں نے سمجھا کہ یہ مغرب کی وہ آپس میں باتیں کر رہی تھیں ۔ ایک خاتون کی آواز کان میں آئی: مافش فائدہ (اس میں کچھ فائدہ نہیں)، اس جملہ کو سن کر میں نے سمجھا کہ وہ عرب خواتین ہیں۔ اس قسم کی خواتین یہاں مصری یا لبنانی ہوتی ہیں جو کام کے تحت یہاں مقیم ہیں۔

ایک روز میں نے اپنے کمرہ کا ٹیلی وژن کھولا تو فلم "الرسالہ" آرہی تھی۔ یہ وہ مشہور فلم ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں بنائی گئی ہے۔ اسی طرح لیبیا کے مشہور مجاہد آزادی عمر مختار کی فلم دیکھنے کا اتفاق ہوا جس کا نام "اسد الصحراء" ہے۔ اسد الصحراء نہایت کامیاب فلم ہے۔ بلکہ فلموں کا دوسری طرف "الرسالہ" ایک غیر مؤثر فلم نظر آئی۔ سیرت کا مطالعہ کرنے والے کو پیغمبر اسلام کی زندگی جتنی عظیم نظر آتی ہے، فلم کی تصویر کشی میں وہ بہت کم ہو گئی ہے۔ خالص فنی اعتبار سے غالباً اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس میں وہی ہستی کہیں نظر نہیں آتی جو کہانی کی اصل ہیرو ہے۔ مخصوص اسباب سے چوں کہ فلم ساز نہ اس میں پیغمبر اسلام کی شخصیت کو پیش کر سکا ہے اور نہ آپ کی آواز کو، اس لئے فلم گو یا بے فلم ہو کر رہ گئی ہے۔

اس کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ جو بات فلم "الرسالہ" میں جائز طور پر ہے وہی پوری تاریخ میں ناجائز طور پر پائی جاتی ہے۔ حضرت نوح سے لے کر حضرت مسیح تک دنیا میں ہزاروں پیغمبر مگر انسانی تاریخ میں پیغمبروں اور ان کے کارناموں کا کوئی ذکر نہیں۔ انسان کی مدون تاریخ پیغمبروں کے ذکر سے خالی ہے۔ حتی کہ انسان نے موجودہ زمانہ میں عالم فطرت کی جو کہانی لکھی ہے

اس میں ہر چیز کا ذکر ہے مگر خدا کا کوئی ذکر نہیں۔ ـــــ وہ کہانی بھی کیسی عجیب کہانی ہے جس سے اس کے ہیرو کو حذف کر دیا گیا۔

یہاں نماز کے وقت ٹیلی وژن سے اذان نشر ہوتی ہے۔ ایک روز میں نے مغرب کے قریب کمرہ کا ٹیلی وژن کھولا تو نہایت عمدہ عربی آواز میں اذان کی آواز آنے لگی۔ اذان کے وقت ٹیلی وژن اسکرین پر مؤذن کی تصویر نہیں آ رہی تھی۔ بلکہ قدرت کے مختلف مناظر ایک کے بعد ایک دکھائے جا رہے

عمدہ تصویر میں چیزیں اصل سے زیادہ حسین نظر آتی ہیں۔ چنانچہ رنگین ٹیلی وژن پر فطرت کے مناظر عجیب پر کیف معلوم ہورہے تھے۔ آبشار کا بہنا، سبزہ کا لہلہانا، دریا کی روانی، چڑیوں کا چہکنا، پہاڑ کی بلندی، پھولوں کی قطاریں، غرض مختلف قسم کے مناظر فطرت بے حد مسحور کن انداز میں سامنے آرہے تھے۔ اس کے بعد جب موذن نے کہا حی علی الفلاح (آؤ کامیابی کی طرف) تو ایسا معلوم ہوا جیسے جنت کی ایک جھلک دکھا کر کہا جا رہا ہو، کہ یہ ہے خدا پرستی کا بدلہ۔ خدا کے سچے پرستار بن جاؤ اور خدا کی حسین جنت میں اپنے لئے جگہ حاصل کر لو۔

۲۶ دسمبر کی دوپہر کو میجر جلود سے ملاقات تھی۔ قصر الشعب کے خصوصی کمرہ میں ملاقات کا انتظام کیا گیا تھا۔ انھوں نے عربی زبان میں ایک مفصل تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کا اصل کام دعوت اسلامی کا کام ہے۔ اور ہم نے خالص دعوتی کام کے لئے یہ تنظیم قائم کی ہے۔ اس سے مقصود کوئی سیاست وہاں سے واپسی میں کچھ تاخیر ہوئی۔ میں اپنے ہوٹل کے کمرہ میں واپس پہنچا تو کمرہ کی چھوٹی میز میں ہدایتی بلب جل بجھ رہا تھا۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ میرے نام کوئی پیغام استقبالیہ کے دفتر میں موجو د ہے۔ میں نیچے گیا تو انھوں نے ایک نوٹ میرے حوالے کیا، اس میں لکھا تھا: The Indian Ambassador has telephoned and wants to see you (طرابلس میں ہندوستان کے سفیر نے آپ کو ٹیلی فون کیا ہے اور وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں) اس بعد میں نے ٹیلی فون پر سفیر ہند (مسٹر ارجن اسرانی) سے بات کی۔ اگلے دن موصوف کی طرف سے دوسرا ٹیلی فون ملا کہ وہ اپنی رہائش گاہ پر میرے لئے شام کے کھانے کا انتظام کر رہے ہیں۔ تاہم یہاں میرے پروگرام کچھ اس قسم کے تھے کہ میں سفیر موصوف کے لئے مزید کوئی وقت نہ نکال سکا اور اس احساس کے ساتھ واپسی ہوگئی کہ میں موصوف کی دلچسپ باتیں سننے سے محروم رہا۔

دو عربوں سے باتیں کرتے ہوئے ایک بار میں نے نضج (پختگی) کا لفظ استعمال کیا۔

بالآخر میں نے یہ لفظ کاغذ پر لکھا۔ اس کو دیکھ کر انہوں نے کہا اچھا ٹھیک ہے۔ یہ لوگ نفیج کا تلفظ ندگ تلفظ میں اس قسم کے فرق کی وجہ سے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ غیر عرب کی بات عرب کی سمجھ میں پوری طرح نہیں آتی اور اس طرح عرب کی بات غیر عرب سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔

عربوں میں یہ عجیب ذوق نظر آتا ہے کہ روزمرہ کی زندگی میں ان کے یہاں اسلامی الفاظ کے بجائے عام قسم کے معاشرتی الفاظ رائج ہو گئے ہیں۔ مثلاً جزاک اللہ کی جگہ شکراً، السلام علیکم کی جگہ صباح الخیر وغیرہ۔ موجودہ الفاظ بھی اگر چہ اچھے الفاظ ہیں۔ مگر اسلام کے دعائیہ الفاظ میں جو معنویت ہے وہ کسی اور لفظ میں نہیں ہو سکتی۔

۴ جنوری کو واپس ہوتے ہوئے میں طرابلس کے ہوائی اڈہ (مطار) پر پہنچا تو ظہر کا وقت ہو چکا تھا۔ وہاں میں نے سمت قبلہ دریافت کی تو مجھے بتایا گیا کہ یہاں مسجد موجود ہے۔ آپ مسجد میں جاکر نماز ادا کر لیں۔ ہدایت کے مطابق میں آگے بڑھا تو ایک خوبصورت بورڈ پر ”مسجد“ لکھا ہوا اندر داخل ہوا تو وہاں ایک بڑا کمرہ تھا جس میں مسجد کی تمام ضروریات کا انتظام تھا۔ لوگ پہلے سے نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے بھی اطمینان سے نماز ادا کی اور اس کے بعد طرابلس سے روم جانے والا جہاز پکڑنے کے لئے باہر آیا۔

۵ جنوری ۱۹۸۳ء کو میں دہلی واپس آیا۔ واپسی میں ہوائی جہاز میں میری سیٹ کے بغل میں ایک مستشرق تھے، وہ روم سے ہندوستان جانے کے لئے سوار ہوئے۔ کھانے کا وقت آیا تو میں نے ”ویجیٹیرین“ مذکورہ مستشرق نے بھی ویجیٹیرین کی فرمائش کی۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ تو یورپ کے رہنے والے ہیں اور یورپ میں عام طور پر گوشت پسند کیا جاتا ہے۔ پھر آپ نے ویجیٹیرین کی فرمائش کیوں کی۔ Dr. J. Uacek, Oriental Department انہوں نے کہا کہ میں انڈین کلچر پر ریسرچ کر رہا ہوں اور اس وقت اسی سلسلے میں ہندوستان جا رہا ہوں۔ نے انڈین کلچر پر ریسرچ کا فیصلہ کیا تو اسی کے ساتھ میں نے یہ بھی ارادہ کیا کہ میں اپنے آپ کو انڈین طریقہ کا عادی بناؤں اور اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ اس کے قریب کروں تاکہ بخوبی طور پر اس کو سمجھ سکوں۔ اسی وقت سے میں گوشت چھوڑ کر سبزی کھانے لگا ہوں۔ چوں کہ ہمارے یہاں سبزی ملنا نسبتاً مشکل ہوتا ہے اس لئے میری بیوی میرے گھر کے کمپاؤنڈ میں سبزی اگاتی ہیں اور میرے لئے الگ سے سبزی پکاتی اسی کے ساتھ میں نے سنسکرت زبان بھی سیکھی۔

Printed page