نماز کو دیکھ کر
Al-Risala, December 1983, p. 3
By Maulana Wahiduddin Khan
ہنری دی کیسٹرو (Henry de Castro) ایک فرانسیسی افسر تھا۔ الجزائر میں فرانسیسی اقتدار کے زمانہ میں وہ ایک بڑے سرکاری عہدہ پر متعیّن ہو کر آیا۔
ہنری دی کیسٹرو ایک روز گھوڑے پر سوار ہو کر کہیں جا رہا تھا۔ اس کے پیچھے ۳۰ عرب سوار بھی تھے جو اس کے ماتحت تھے اور ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ اتنے میں عصر کا وقت آگیا۔ نے اپنے افسر سے کہا لقد حان موعد صلوة العصر (عصر کی نماز کا وقت آگیا) اور افسر کی اجازت کا انتظار کئے بغیر اپنے گھوڑے سے اتر گئے۔ اس کے بعد انھوں نے صحرا میں بلند آواز سے اذان دی اور صف باندھ کر نماز کے لئے کھڑے ہو گئے۔
فرانسیسی افسر کو یہ طرز عمل اپنی ہتک معلوم ہوا۔ تاہم وہ چپ رہا اور اپنا گھوڑا روک کر عربوں کی کارروائی دیکھتا رہا۔ صف بستہ نماز کا منظر اسے بے حد متاثر کر رہا تھا۔ جب وہ لوگ نماز پڑھ چکے تو اس نے ان لوگوں سے نماز کے متعلق سوالات شروع کر دئیے ۔ اور ان کے جوابات کو بغور سنتا رہا۔
ایک طرف عربوں کی جرأت دوسری طرف نماز با جماعت کا منظر، ان چیزوں نے اس کو شدید طور پر متاثر کیا۔ واپس آکر اس نے اسلام کا مطالعہ شروع کر دیا۔ اس نے قرآن کا فرانسیسی عرب میں عرصہ تک سفر کر کے مسلمانوں کو دیکھا۔ اس کا تاثر بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ اس نے اسلام قبول کر لیا۔
اس کے بعد اس نے اپنے اسلام پر فرانسیسی زبان میں ایک کتاب لکھی جس کا عربی ترجمہ مشہور مصری ادیب فتحی زغلول نے کیا۔ یہ کتاب شائع ہو چکی ہے اور اس کا نام ہے ـــــ الاسلام: خواطر وسوانح فرانسیسی افسر نے الجزائریوں کے عمل کو اولاً اکڑ کا معاملہ سمجھا تھا۔ اس لئے اس کے اندر بھی اکڑ کے جذبات پیدا ہو گئے۔ مگر الجزائری جب گھوڑوں سے اتر کر رب العالمین کے آگے جھک گئے تو اس کو معلوم ہوا کہ الجزائریوں نے جو کچھ کیا وہ اکڑ کے لئے نہ تھا۔ بلکہ جھکنے کے لئے تھا۔ اب اس کی فطرت یہ منظر دیکھ کر اس کے اندر بھی خدا کے آگے جھکاؤ کے جذبات پیدا ہو گئے۔ کہ وہ خدا کے دین میں داخل ہو گیا۔