Al-Risala · December 1983

Her fathers built it

Al-Risala, December 1983, p. 5

By Maulana Wahiduddin Khan

اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں جو بڑے بڑے مسلم لیڈر مختلف ملکوں میں اٹھے وہ کس چیز سے سب سے زیادہ متاثر تھے۔ وہ دراصل اپنے کھوئے ہوئے ماضی کے لئے بچین تھے اور اس کو واپس لانے کے لئے کوشش کر رہے تھے۔ انھوں نے اپنی تحریکوں کو اگر چہ احیاء اسلام کا عنوان دیا۔ مگر ان کی تحریک کا نشانہ ان کا سیاسی ماضی تھا نہ کہ حقیقۃً احیاء اسلام موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈروں کی یہی نفسیات تھی جس کی وجہ سے وہ کوئی دور رس تعمیری کام نہ کر سکے۔ مثلاً دہلی میں " گزرے ہوئے دور " کی بنی ہوئی کم از کم ایک سو نہایت بڑی مسجدیں تھیں۔ جن میں سے اکثر نیم آباد یا غیر آباد پڑی ہوئی تھیں۔ ان مسجدوں میں اکثر کے پاس بڑی بڑی ملحق زمینیں بھی تھیں۔ یہ لیڈر ان مسجدوں کو مرکز بنا کر زبردست دعوتی اور تعمیری کام کر سکتے تھے۔ وہ مسلمانوں کے سیاسی ماضی کو واپس لانے کے لئے بے فائدہ قربانیاں دیتے رہے اور اس قسم کے تعمیری امکانات غیر استعمال شدہ پڑے رہ گئے۔

ایک مسلمان جو قومی ذہن رکھتا ہو وہ دہلی کی جامع مسجد اور لال قلعہ کو دیکھ کر صرف اپنے سیاسی ماضی کو یاد کرے گا۔ مگر جو مسلمان دعوت و تبلیغ کا ذہن رکھتا ہو وہ جب اس قسم کی عمارتوں کو دیکھے گا تو اس کے اندر یہ جذبہ بھڑک اٹھے گا کہ یہاں دوسری قوموں تک خدا کے دین کا پیغام پہنچانے کا مرکز قائم کیا جائے ۔

Printed page