اسلامی طریقہ
Al-Risala, December 1983, pp. 7–8
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث اور سیرت کی کتابوں میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ بتوں کو توڑ مثلاً مسند احمد کی ایک روایت حسب ذیل ہے:
عن ابی محمد الھذلی عن علی قال کان ابو محمد ھذلی علی بن ابی طالب سے روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی جنازة کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازہ میں فقال ایکم ينطلق إلى المدينة فلا تھے۔ آپ نے کہا تم میں سے کون ہے جو مدینہ يدع بها وثنا الا کسره ولا قبرا الا سواه جائے اور وہاں کوئی بت نہ چھوڑے جس کو اس ولا صورة الا لطخها نے توڑ نہ دیا ہو۔ اور کوئی قبر نہ چھوڑے جس کو اس نے برابر نہ کر دیا ہو۔ اور کوئی تصویر نہ چھوڑے جس کو اس نے مٹا نہ دیا ہو۔
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ اور طائف اور دوسرے مقامات کے بتوں اور مجسموں مگر اس عمل کا تعلق صرف عرب سے تھا۔ عرب کو چونکہ خدا کے حکم کے مطابق شرک اور آثار شرک سے پاک کرنا تھا۔ اس لئے وہاں کے لئے آپ نے یہ طریقہ اختیار فرمایا۔ تاہم اس قسم کی تمام کارروائیاں فتح کے بعد ہوئیں، نہ کہ فتح سے پہلے۔
عرب کے علاوہ دوسرے مقامات کے لئے یہ اصول نہ تھا کہ وہاں کے بتوں اور مجسموں کو دوسرے ملکوں میں صرف تبلیغ کے اصول پر عمل کیا گیا اور سر کاری طور پر بتوں کو توڑنے کے بجائے اس کا انتظام کیا گیا کہ غیر مسلم اقوام مسلمان ہو جائیں اور اس کے بعد اپنے آپ ان کے بتوں کا خاتمہ ہو جائے حضرت عمر بن خطاب کی خلافت کے زمانہ میں بہت سے عیسائی علاقے مسلمانوں کے قبضہ میں مگر ان کے بتوں کو توڑنے کی کبھی کوشش نہیں کی گئی۔ مسلمان ایسے مکان یا عبادت گاہ میں داخل ہونے سے بچتے تھے۔ وہ ایسے لوگوں پر تبلیغ و دعوت کا کام کرتے تھے مگر اقتدار کے باوجود انہوں نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ ان کے بتوں کو توڑنے لگیں۔ ایک روایت میں آتا ہے: قال عمر رضي الله عنه انا لا ندخل كنائسكم حضرت عمر نے عیسائیوں سے کہا کہ ہم تمہارے عبادت من اجل التماثيل التى فيها الصور (بخاری خانوں میں اس لئے داخل نہیں ہوتے کہ ان میں
کتاب الصلوۃ )
تصویری مجسمے ہیں۔
۱۴ھ میں حضرت سعد بن وقاص کی سرکردگی میں مدائن فتح ہوا۔ مدائن قدیم ایرانی شہنشاہوں کا دارالسلطنت تھا۔ یہیں ان کا مشہور قصر ابیض (سفید محل) تھا۔ آخری ایرانی حکمراں یزدجرد محل چھوڑ کر بھاگاتو حضرت سعد بن وقاص مدائن کے فاتح کی حیثیت سے قصر ابیض میں داخل ہوئے۔ اس وقت آپ کی زبان پر سورہ دخان کی آیات ۲۵-۲۸ تھیں۔
یہ جمعہ کا دن تھا۔ قصر ابیض میں جس جگہ شہنشاہ کا تخت ہوتا تھا وہاں منبر رکھا گیا آپ نے اس منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور جمعہ ادا کیا۔ یہ پہلا جمعہ تھا جو قدیم ایران کے دارالسلطنت میں ادا کیا گیا۔ فتح مدائن کے جو واقعات تاریخ کی کتابوں میں آئے ہیں ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ شاہی محل میں جتنی بھی تصویریں اور مجسمے تھے سب بدستور باقی رکھے گئے۔ حضرت سعد بن وقاص نے نہ ان کو توڑا اور نہ ان کو وہاں سے جدا کیا۔ اس سلسلے میں یہاں تاریخ کے دو حوالے نقل کئے جاتے ہیں: ثم انتھیٰ الى ايوان كسرى وصلى فيه صلوة سعد بن ابی وقاص ایوان کسریٰ پہنچے۔ الفتح ولا صلى جماعة فصلى ثمانية ركعات کے اندر فتح کی نماز پڑھی۔ اور جماعت نہیں کی۔ لا يفصل بينهن واتخذه مسجداً وفيه انھوں نے آٹھ رکعتیں پڑھیں، ان کے درمیان تماثيل الجص رجال وفيل ولم يمتنع و فصل نہیں کیا (ایک سلام سے آٹھ رکعتیں) لا المسلمون لذالك وتركوها علی حالها اور اس کو مسجد بنایا حالانکہ اس میں انسان اور (تاريخ الطبرى ، جلد ۴) واتخذ سعد گھوڑے کے مجسمے موجود تھے۔ اور نہ سعد بن ابی ایوان کسرى مصلى ولم يغير ما فيه من وقاص نے اور نہ مسلمانوں نے اس سے تعرض کیا التماثيل ( الكامل في التاريخ جلد ۲ ) اور ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ اور سعد بن ابی وقاص نے کسریٰ کے ایوان کو مسجد بنایا اور اس میں جو مجسمے تھے ان میں کوئی تبدیلی نہ کی۔
صحابہ کرام نے جو کچھ کیا اس کی وجہ ان کا داعیانہ مزاج تھا۔ وہ اس قسم کے معاملات کو ہمیشہ دعوتی نقطہ نظر سے دیکھتے تھے۔ ان کا داعیانہ مزاج سب سے زیادہ اہمیت کے ساتھ جو چیزان کے سامنے لاتا تھا وہ غیر مسلم اقوام کو دعوت حق کا مخاطب بنانا تھا۔ بقیہ تمام چیزیں ان کی نظر میں ثانوی تھیں۔ وہ یقین رکھتے تھے کہ اسلام میں اپنی زبردست فکری قوت ہے کہ غیر مسلم اقوام اس کے آگے مسخر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتیں۔ اور جب قومیں مسخر ہو جائیں تو بقیہ تمام مقاصد اپنے آپ حاصل ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد شرک بھی مٹ جاتا ہے اور شرک کے تمام آثار اور علامات بھی۔