Al-Risala · December 1983

تنقید

Al-Risala, December 1983, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

برطانیہ میں جون ۱۹۸۳ میں جنرل الیکشن ہوا۔ اس الیکشن میں کنزرویٹو پارٹی کامیاب ہوئی اور اس کی لیڈر کی حیثیت سے مسز مارگریٹ تھیچر دوبارہ برطانیہ کی وزیر اعظم مقرر ہوئیں۔ کے بعد مسز تھیچر نے پہلا کام یہ کیا کہ مسٹر فرانسس پم (Francis Pym) کو حکومت سے علیحدہ کر دیا۔ پم مسز تھیچر کی اپنی پارٹی کے لیڈر تھے اور مسز تھیچر کی کیبنٹ میں وزیر خارجہ کے عہدہ پر تھے۔ مسٹر پم ایک بہت اونچے خاندان کے فرد ہیں۔ ان کو حکومت میں اعلیٰ مناصب حاصل رہے پھر مسز تھیچر نے کیوں ان کو کابینہ سے علیحدہ کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ الیکشن کے زمانہ میں ایک تقریر میں مسٹر پم نے ایک ایسی بات کہہ دی جو مسز تھیچر کو پسند نہیں آئی۔ مسٹر پم نے ایک انتخابی تقریر میں حزب اختلاف (اپوزیشن) کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ کوئی بھی حکومت معیاری حکومت نہیں ہوتی۔ اس لئے اچھی حکومت قائم کرنے کے لئے مضبوط حزب اختلاف لازمی طور پر ضروری ہے جو اس کی اصلاح کرتی رہے:

A strong opposition is an indispensable ingredient of good government. (Because) no government is perfect. مسٹر پم کا یہ بیان مسز تھیچر کے لئے ناقابل برداشت تھا۔ انھوں نے فوراً مسٹر پم کو وزارت سے خارج

انسان کی یہ عام کمزوری ہے کہ وہ تنقید کو برداشت نہیں کرتا۔ اس کمزوری کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ آدمی اچھے ساتھیوں سے محروم ہو جاتا ہے۔

کوئی اعلیٰ کام اعلیٰ قابلیت کے ساتھیوں کی مدد کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اور اعلیٰ قابلیت کے ساتھیوں کو جوڑنے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ ان کی تنقیدوں کو برداشت کیا جائے۔ اعلیٰ ذہن کے لوگ اپنی ذہنی آزادی کو مقید کر کے نہیں رہ سکتے۔ اب اگر سربراہ وسیع ظرف کا آدمی ہے تو وہ اپنے ساتھیوں کی فکری آزادی اور ان کے اختلاف کو برا نہیں مانے گا۔ طرح وہ ایسے تمام لوگوں کو اپنے ساتھ جوڑے رہے گا۔ اس کے برعکس اگر سربراہ تنگ ذہن کا آدمی ہے تو وہ ایسے لوگوں کی قدر نہ کر سکے گا۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اس کی جماعت تیسرے درجہ کے لوگوں کی ٹولی بن کر رہ جائے گی جو نہ کسی اعلیٰ کام کو کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور نہ اس کو سمجھنے کی۔

Printed page