Al-Risala · December 1983

کتاب محفوظ

Al-Risala, December 1983, pp. 16–19

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک کاتب صاحب کو ایک کتاب کا مسودہ کتابت کے لئے دیا گیا۔ اس مسودہ میں ایک جگہ محدث ابو داود کا نام تھا۔ کاتب صاحب ابو داود سے واقف نہ تھے۔ البتہ وہ ابو داؤد کو جانتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے ابو داود کی جگہ ابو داؤد لکھ دیا۔ اسی طرح ایک مضمون میں ایک جگہ ہیلی کاپٹر کا لفظ تھا ۔ کاتب صاحب اس کو سمجھ نہ سکے۔ انہوں نے اصل لفظ کی جگہ اہلی کا پٹر لکھ دیا۔ اس قسم کی غلطیوں کی مثالیں بہت عام ہیں۔ ایک آدمی کسی مضمون کو پڑھ رہا ہے یا اس کو نقل کر رہا ہے۔ اس درمیان میں ایک ایسا جملہ آتا ہے جس کو وہ سمجھ نہیں پاتا۔ چنانچہ اس کو وہ اپنے ذہن کے مطابق بدل کر کچھ سے کچھ کر دیتا ہے۔ حتیٰ کہ ایسے بھی لوگ ہیں جو کسی ذاتی غرض کے تحت اصل متن میں بالقصد تبدیلی کرتے ہیں اور اپنی طرف سے اس میں ایسی باتیں شامل کر دیتے ہیں جو اصل کتاب میں اس کے مصنف نے شامل نہ کی تھیں۔

پچھلی آسمانی کتابوں میں جو تحریفات ہوئی ہیں ان کی وجہ انسان کی یہی کمزوری ہے۔ میں ہے کہ خدا نے زمین و آسمان کو سات دنوں (ایام) میں پیدا کیا۔ یہی بات بائبل میں اس طرح ہے کہ ساتوں دن کی الگ الگ تفصیل ہے۔ ہر دن کی تخلیقات کا ذکر کرنے کے بعد اس میں یہ فقرہ ملتا ہے " اور شام ہوئی اور صبح ہوئی " ، یہ فقرہ یقینی طور پر مذکورہ بالا ذہن کے تحت انسان کا اضافہ کسی بزرگ نے بطور خود بائبل کے جملہ کو مکمل کرنے کے لئے یہ الفاظ بڑھا دیئے۔ قرآن کے الفاظ میں یہ گنجائش ہے کہ دن کو ر (Period) کے معنی میں لے سکیں۔ مگر بائبل میں مذکورہ فقرہ کے اضافہ نے اس کو دور کے معنی میں لینا نا ممکن بنا دیا۔

بائبل میں اس طرح کی مثالیں بہت ہیں۔ حتیٰ کہ بعض مثالیں نہایت بھونڈی ہیں۔ قرآن میں ہے کہ حضرت موسیٰ کو خدا نے یہ معجزہ دیا کہ وہ اپنا ہاتھ نکالیں تو وہ چمکنے لگے ۔ مگر بائبل میں اس کا ذکر ہے تو وہاں یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں: پھر خدا وند نے موسیٰ سے کہا کہ تو اپنا ہاتھ اپنے سینہ پر رکھ کر ڈھانک لے۔ اس نے اپنا ہاتھ اپنے سینہ پر رکھ کر اسے ڈھانک لیا۔ اور جب اس نے اسے نکال کر دیکھا تو اس کا ہاتھ کوڑھ سے برف کی مانند سفید تھا (خروج بک)، بائبل کے اس فقرہ میں دو کوڑھ سے" یقینی طور پر بعد کے لوگوں کا تشریحی اضافہ ہے۔ قرآن کے الفاظ کے مطابق حضرت موسیٰ کے ہاتھ کا چمکنا خدائی سبب سے معلوم ہوتا ہے اور بائبل کے الفاظ کے مطابق مرض کے سبب سے۔

قرآن تمام آسمانی کتابوں میں واحد کتاب ہے جس میں کسی قسم کے تحریف نہ ہوسکی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پچھلی آسمانی کتابوں کی حفاظت کی ذمہ داری خود ان کتابوں کے حامل انسانوں پر ڈالی گئی تھی۔ اسی لئے قرآن میں ان کے لئے استحفاظ کا لفظ آیا ہے۔ یعنی حفاظت چاہنابما استحافظوا من کتاب الله اس کے برعکس قرآن کے بارہ میں حافظ کا لفظ آیا ہے یعنی حفاظت کرنے والا (انا نحن نزلنا الذکر وانا له لحافظون) قرآن میں ایسے بہت سے مواقع تھے جہاں حاملین قرآن کے لئے گنجائش تھی کہ وہ اس میں مذکورہ بالا قسم کی تبدیلیاں کر ڈالیں۔ کثرت سے اس کی مثالیں موجود ہیں کہ انہوں نے عمداً ایسا کیا بھی مگر انہوں نے جو کچھ کیا وہ ” حاشیہ “ کی حد تک محدود رہا۔ ” متن “ میں وہ کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہ حاشیہ اور تفسیر میں چونکہ ان کے ہاتھ بندھے ہوئے نہ تھے ، اس لئے اس میں انہوں نے طرح طرح کی معصومانہ تبدیلیاں کر دیں۔ مگر جہاں تک متن کا تعلق ہے ، اس کو خدا نے براہ راست اپنی نگرانی میں لے رکھا تھا، اس لئے یہاں وہ کسی قسم کا رُدو بدل کرنے سے قاصر ہے۔ اس موقع پر وضاحت کے لئے ہم دو مثالیں دیتے ہیں۔ قرآن کی پہلی نزولی آیت ہے : اقرأ باسم ربک الذی خلق (پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا) اسی طرح دوسرے مقام پر ہے سنقرئک فلا تنسي (ہم تجھ کو پڑھا دیں گے پھر تو نہ بھولے گا)، ان آیات میں اقرأ اور سنقرئ کے الفاظ سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے سامنے کوئی کتاب یا کوئی لکھی ہوئی چیز رکھی گئی اور کہا گیا کہ اس کو پڑھو۔

یہ بات مسلمانوں کے عام عقیدہ کے سراسر خلاف ہے۔ کیونکہ مسلمان ساری دنیا میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آپ اُمّی تھے۔ گویا آیت کے یہ الفاظ اپنے ظاہر کے اعتبار سے مسلمانوں کے عقیدہ میں مانع ہیں اور مخالفین اسلام کو غیر ضروری طور پر یہ کہنے کا موقع دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم امی نہیں تھے بلکہ پڑھے لکھے تھے۔ اس کے باوجود ایسا نہیں ہوا کہ دوسری کتابوں کے متن کی طرح مسلمان قرآن کے ان الفاظ کو بدل دیں۔ یہ قرآن کے محفوظ کتاب ہونے کا ایک واضح داخلی ثبوت ہے۔ ورنہ اگر دوسری کتابوں کی طرح کا معاملہ ہوتا تو قرآن میں ہم کو اقرأ کی جگہ اُسْتُلْ یا تَسْتُّلْ لکھا ہوا اسی طرح لکھنے والوں نے سنقرئكَ کی بجائے سنحفظک لکھ دیا ہوتا۔

اسی طرح ایک مثال سورہ قيامة کی ایک آیت وَقِيلَ مَن راقِ اور کہا جائے گا کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک والا) ہے۔ تمام دنیا کے مسلمان جب اس آیت کو پڑھتے ہیں تو وہ مِنْ پر وقف کرتے ہیں۔ یعنی من کے بعد کسی قدر رک کر سر اق کہتے ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ

ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے والے اصحاب نے بیان کیا کہ آپ نے جب یہ آیت پڑھی تو آپ نے حرف من پر وقفہ کیا۔ ورنہ نحو و صرف کے فن کے اعتبار سے اس کی کوئی بھی وجہ نہیں ہے کہ یہاں یہ وقفہ کیوں کیا جائے۔ اگر قرآن کے ساتھ اس کے حاملین وہ معاملہ کر سکتے جو دوسری کتابوں کے ساتھ اس کے حاملین نے کیا تو لازماً ایسا ہوتا کہ یہ وقفہ باقی نہ رہتا۔ ایسی حالت میں مسلمان اس کو وقيل من راق پڑھتے نہ کہ وقيل من (سکتہ) راق ۔

اسی طرح قرآن میں ہے: يا ايها النبي اذا طلقتم النساء (اے نبی جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو) یہ جملہ نحو و صرف کے عام قاعدہ کے خلاف ہے۔ اس میں واحد سے خطاب کر کے جمع کی ضمیر لائی عام لکھنے اور بولنے والے کبھی ایسا نہیں کرتے۔ اگر قرآن کا وہ معاملہ ہوتا جو دوسری آسمانی کتابوں کا ہے تو یقیناً طور پر ایسا ہوتا کہ کچھ مسلمان اس آیت کے الفاظ کو ءبدل کر اس طرح لکھ چکے ہوتے : يا ايها النبي اذا طلقت النساء ، يا يا ايها الرسل اذا طلقتم النساء ۔

یہی معاملہ طرز تحریر کا ہے۔ عربی فن خطاطی نے بعد کے زمانہ میں بہت ترقی کی۔ جبکہ قرآن اس وقت لکھا گیا جب کہ فن خطاطی نے ابھی اتنی ترقی نہیں کی تھی۔ چنانچہ قرآن کے طرز کتابت میں اور عام خطاطوں کے طرز کتابت میں بہت سے مقامات پر فرق ہے۔ مثلاً قرآن میں مالک کو ملك لکھا ہوا ہے۔ حتی کہ اس طرز کتابت کی وجہ سے آیت کے دو تلفظ بن گئے ہیں۔ کوئی اس کو مالك يوم الدين پڑھتا ہے اور کوئی اس کو ملك يوم الدين پڑھتا ہے۔ اس کے باوجود کسی کے لئے یہ ممکن نہ ہوا کہ آیت کا املا بدل کر اس کو مالك يوم الدين بنا دے۔ قرآن کے حاشیہ میں بعد کے لوگوں نے جو تبدیلیاں کی ہیں۔ ان میں سے ایک مثال قرآن کی یہ آیت ہے: اني جاعل في الارض خليفة (میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں) بعد کے متعدد مفسرین نے اس آیت میں خلیفہ کے لفظ کو خلیفة الله کے ہم معنی بنا دیا اور اس کی تشریح ان الفاظ میں کی کہ ــــــــ خدا نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں اپنا ایک خلیفہ مقرر کرنے والا ہوں ۔ حالانکہ اپنا کا لفظ یہاں سراسر اضافہ ہے۔ ان حضرات نے حاشیہ میں تو اس قسم کے اضافے خوب کئے مگر متن میں اضافہ کرنا ان کے لئے ممکن نہ ہوسکا۔ اگر قرآن کے متن پر خدا کا پہرہ نہ ہوتا تو غالباً وہ آیت کے الفاظ کو نا کافی سمجھ کر اس کو اس طرح لکھ دیتے :

انى جاعل في الارض خليفتي یا انی جاعل في الارض خليفة منی دوسری آسمانی کتابوں میں سے ہر کتاب میں یہ ہوا ہے کہ ان کتابوں کے ماننے والے اپنے

طور پر جو کچھ چاہتے تھے وہ سب انھوں نے خدا کی کتاب میں کہیں نہ کہیں داخل کر دیا۔ مثال کے طور پر یوحنا کی موجودہ انجیل میں ہم کو یہ فقرہ ملتا ہے:

’’دوسرے دن اس نے یسوع کو اپنی طرف آتے دیکھ کر کہا، دیکھو یہ خدا کا برہ ہے جو دنیا کا گناہ اٹھائے جاتا ہے۔ یہ وہی ہے جس کی بابت میں نے کہا تھا کہ ایک شخص میرے بعد آتا ہے جو مجھ سے مقدم ٹھہرا ہے کیونکہ وہ مجھ سے پہلے تھا، (یوحنا ۱)

انجیل یوحنا کا یہ فقرہ حضرت یحییٰ کی زبان سے حضرت مسیح کے بارہ میں ہے۔ حضرت یحییٰ کی یہ تقریر بقیہ تینوں انجیلوں میں بھی ہے مگر ان میں ’’جو دنیا کا گناہ اٹھائے جاتا ہے‘‘ موجود نہیں۔ یہ الفاظ یقینی طور پر بعد کو اصل تقریر میں اس لئے بڑھائے گئے تاکہ ان سے کفارہ کا عقیدہ نکالا جا سکے۔ بعد کے مسیحیوں کا پسندیدہ عقیدہ (کفارہ) کو انجیل سے ثابت کرنے کے لئے حضرت یحییٰ کی مذکورہ تقریر میں یہ جملہ بڑھا

یہی بات قرآن میں بھی ہو سکتی تھی۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے بہت سے انتہائی محبوب عقیدے بھی قرآن کے متن کے اندر موجود نہیں۔ مثال کے طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا افضل الانبیاء ہونا اور خدا کے یہاں آپ کا شفیع المذنبین ہونا مسلمانوں کے محبوب ترین عقائد ہیں۔ مگر قرآن میں کسی مقام پر وہ واضح طور پر موجود نہیں ہیں۔ مسلمان یہ تو کر سکے کہ اپنے ان عقائد کو بعض آیات سے بطریق استنباط نکالیں۔ ان کو متن قرآن میں داخل نہ کر سکے۔ اگر مسلمانوں کو متن میں تصرف کی قدرت حاصل ہوتی تو یقیناً آج ہم قرآن میں کوئی ایسی آیت پڑھتے جس کے الفاظ یہ ہوتے:

يا محمد انت افضل الانبياء و انت شفيع المذنبين يوم القيامة یہ چند مادہ قسم کی داخلی مثالیں ہیں۔ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن آج بھی اسی ابتدائی حالت میں موجود ہے جس حالت میں اس کے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے زمانہ میں لکھوایا تھا۔ اس میں کسی قسم کا معمولی تغیر بھی نہ ہو سکا۔

اب ظاہر ہے کہ قرآن جب واحد آسمانی کتاب ہے جس کا متن پوری طرح محفوظ ہے تو اسی کا حق ہے کہ وہ ان تمام لوگوں کے لئے واحد رہنما کتاب بنے جو وحی الہی کو مانتے ہیں اور خدا کی ہدایت کے مطابق زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ محفوظ اور غیر محفوظ دونوں قسم کی کتابوں کی موجودگی میں یقینی طور پر محفوظ کتاب کی پیروی کی جائے گی۔ نہ کہ غیر محفوظ اور تبدیل شدہ کتاب کی۔

Printed page