قانون کی ناکامی
Al-Risala, December 1983, pp. 26–28
By Maulana Wahiduddin Khan
پچھلے سماج میں مذہب جو کام کر رہا تھا وہ یہ تھا کہ صدیوں کے دوران میں مختلف بزرگوں کی تعلیم و تلقین کی وجہ سے کچھ خاص تصورات لوگوں کے ذہنوں میں رچ بس گئے تھے۔ اور ان کے خلاف سوچنا یا عمل کرنا گناہ سمجھا جاتا تھا ۔ مذہب کی منسوخی کے بعد جب یہ گرفت ایسا نہیں ہے کہ اس دوران میں مذہب کا بالکل خاتمہ ہو گیا ہو۔ زندگی کے دھارے کے نیچے وہ ہمیشہ باقی رہا اور آج بھی باقی ہے۔ البتہ زندگی کی سرگرمیوں میں پہلے جو مقام اسے حاصل تھا وہ بعد کو اسے حاصل نہیں رہا۔
ڈھیلی ہو گئی تو اس کی جگہ لینے کے لئے اصلاحی قسم کے قوانین وجود میں آئے۔ میں خدا کی اطاعت گزاری کی جگہ قانون کی حکمرانی نے لے لی۔ قانون اس متعین ضابطے کو کہتے ہیں جس کو کسی سماج میں لازمی طور پر قابل تسلیم قرار دیا گیا ہو اور جس کی خلاف ورزی پر آدمی کو سزا دی جاسکتی ہو۔ اس قسم کے قوانین ہر ملک میں نہایت وسیع پیمانے پر بنائے گئے ۔ طرح گویا زندگی کے تمام پہلوؤں کے بارے میں ریاست کی طرف سے حکماً بتایا گیا کہ وہ صحیح ترین رویہ کیا ہے جسے آدمی کو اختیار کرنا چاہئے۔ مگر ان قوانین کا فائدہ صرف یہ ہوا ہے کہ جو برائی پہلے سیدھے طریقے سے ہوتی تھی وہ ہیر پھیر کے ذریعہ ہونے لگی۔ قانون نے صرف برائی کی شکلوں کو بدلا ہے اصل برائی کو روکنے میں وہ بالکل ناکام ثابت ہوا ہے۔
حکومت دیکھتی ہے کہ کاروباری لوگ چیزوں میں ملاوٹ کر رہے ہیں، ناجائز اسٹاک رکھتے ہیں اور مختلف طریقوں سے عام پبلک کو پریشان کرتے ہیں۔ اس کو روکنے کے لئے وہ ایک قانون بناتی ہے اور اس کے نفاذ کے لئے مارکٹنگ انسپکٹروں کی ایک فوج مقرر کر دیتی ہے جو قانون کی دفعات لے کر ایک ایک دکان کو جانچنا شروع کرتے ہیں ۔ مگر عملاً یہ ہوتا ہے کہ دکان دار انہیں رشوت دے کر لوٹنا دیتے ہیں ۔ اب حکومت اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کو حرکت میں لاتی ہے۔ کا نتیجہ بھی صرف یہ نکلتا ہے کہ جو رشوت پہلے صرف مارکٹنگ انسپکٹر لے رہے تھے اس میں ایک اور محکمہ کے لوگ حصے دار بن جاتے ہیں۔ اسی طرح جب بھی حکومت کے علم میں کوئی برائی آتی ہے تو وہ اس کے خلاف ایک قانون بنادیتی ہے یا ایک آرڈر جاری کر دیتی ہے۔ مگر اس کا فائدہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا کہ چلنے والے اپنا راستہ بدل کر چلنے لگتے ہیں۔ اگر کسی چیز کی درآمد برآمد پر پابندی لگائی جاتی ہے تو اسمگلنگ شروع ہو جاتی ہے ۔ اگر ٹیکس بڑھائے جاتے ہیں تو جعلی حسابات کے رجسٹر تیار ہو جاتے ہیں۔ کسی چیز کی کمی کے پیش نظر اس کے خرچ کو مقرر حد میں رکھنے کے لئے اس پر کنٹرول کیا جاتا ہے تو بلیک مارکٹنگ اور جعلی پرمٹ کا کاروبار جاری ہو جاتا ہے۔ کاروبار کو قومی ملکیت میں لیا جاتا ہے تو سرکاری افسر اس قدر لوٹ مچاتے ہیں کہ نفع کے بجائے اس میں حکومت کو گھاٹا اٹھانا پڑتا ہے ۔ اس طوفان بے تمیزی میں اگر کوئی پکڑا جائے اور معاملہ عدالت تک پہنچنے کی نوبت آئے تو وہاں بھی غلط کاروائیاں اور جھوٹی شہادتیں اس کو بچانے کے لئے موجود ہیں ۔
غرض قانون اور حقیقت کے درمیان ایک طرح کی آنکھ مچولی ہو رہی ہے جس
میں ناکامی تمام تر قانون کے حصے میں آئی ہے۔