محرک کی ضرورت
Al-Risala, December 1983, pp. 30–32
By Maulana Wahiduddin Khan
اس سے معلوم ہوا کہ انسانی بہتری کے لئے آج جس چیز کی ضرورت ہے وہ کوئی قانونی ڈھانچہ یا مادی سازو سامان نہیں ہے بلکہ ایک ایسا نظریہ ہے جو ذمہ داری کا احساس پیدا کرے جو آدمی کے اندر یہ جذبہ ابھارے کہ وہ اپنی اندرونی تحریک سے صحیح کام کرنے پر مجبور ہو اور غلط سمت میں جانے سے بچے۔ یہ کام صرف مذہب کے ذریعہ ہو سکتا ہے۔ چند سو برس پہلے بڑے جوش سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ زندگی گزارنے کے سلسلے میں انسان کو مذہب کی ضرورت نہیں۔ حرام دھلاں کے کچھ اصول دیتا ہے، وہ ہم اپنے قانون ساز ادارے کے ذریعہ حاصل کرسکتے ہیں۔ مذہب دوسری دنیا کی سزا سے ڈراتا ہے تاکہ لوگوں کے اندر عمل کا جذبہ پیدا ہو اس کے لئے ہمارا عدالتی نظام اور ہماری جیلیں کافی ہیں۔ مذہب یہ ترغیب دلاتا ہے کہ ہمارے حکموں کو مانو تو تمہاری اگلی زندگی خوش گوار ہوگی۔ اس کے لئے بھی ہم کو موت کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔ اپنی مادی ترقیوں کے ذریعہ ہم اسی دنیا کی زندگی کو جنت بنا سکتے ہیں۔ مگر یہ تمام امیدیں واقعات
کی چٹان سے ٹکرا کر پاش پاش ہوچکی ہیں۔ اوراب انسان دوبارہ اس مقام پر کھڑا ہے جہاں سے اس نے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔ لمبی مدت تک ٹھوکریں کھانے کے بعد اب انسان کی سمجھ میں یہ بات آئی ہے کہ صرف کاغذی نقشے اور مادی ذرائع و وسائل کافی نہیں ہیں۔ کے سوا ایک اور چیز ہے جس کی انسان کو ضرورت ہے۔ وہ ہے خود انسان کا اپنا جذبہ۔ اندر ایک ایسا ارادہ جو اصلاحات کی خارجی کوششوں سے ہم آہنگ ہونے کے لئے تیار ہو۔ دوسرے لفظوں میں ایک ایسا محرک جو اندر سے آدمی کو عمل پر اکسائے، جو آدمی کو ایک دوسرے کے حقوق پہچاننے پر مجبور کرے ۔
یہی اندرونی محرک تمام اصلاحات کی جان ہے۔ اگر یہ موجود نہ ہو تو ساری ترقیوں کے باوجود آپس میں اس قدر چھین جھپٹ ہوگی کہ زندگی سکون سے محروم ہو جائے گی اور بہترین قسم کے معاشی منصوبے صرف ٹھیکیداروں اور انجینئروں کے لئے لوٹ کھسوٹ کا موقع ثابت ہوں گے۔
مگر تمام نظریات میں صرف مذہب ہی کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ آدمی کے اندر اس قسم کا اندرونی محرک پیدا کر سکے۔ انسانی قانون بد عنوانی سے روکنے کے لئے زیادہ سے زیادہ کسی عدالت میں پیشی کا حوالہ دے سکتا ہے جس کے متعلق معلوم ہے کہ جھوٹے بیانات اور غلط شہاد توں کے ذریعہ بہت آسانی سے اس کو گمراہ کیا جا سکتا ہے۔ جب کہ مذہب قادر مطلق کی عدالت میں حاضر ہونے سے ڈراتا ہے جس سے بچنا کسی حال میں ممکن نہیں ہے۔ اس لئے انسانی ساخت کا نظام کبھی بھی کوئی بہتر سوسائٹی تعمیر نہیں کر سکتا ۔ یہ صرف مذہب ہی کے ذریعہ ممکن ہے۔ لینن نے مذہب کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے نزدیک آسمان پر جنت تعمیر کرنے سے زیادہ اہم کام زمین پر جنت تعمیر کرنا ہے۔ مگر تجربے نے ثابت کر دیا کہ زمین پر وہی لوگ جنت تعمیر کر سکتے ہیں جو آسمان پر جنت تعمیر کرنے کا مقصد اپنے سامنے رکھتے ہوں ۔ اور جن کے پیش نظر آسمان پر جنت کی تعمیر نہ ہو وہ زمین و آسمان دونوں جگہ صرف دوزخ کی تعمیر کریں گے۔ مذہب کے بارے میں یہ تصور محض ایک ذہنی اپج یا خوش عقیدگی نہیں ہے بلکہ یہ ایک تاریخی حقیقت کو تسلیم کرنا ہے۔ پچھلی صدیوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ کروڑوں انسان اس امید میں نیکی کی راہ چلے ہیں کہ انہیں اس کا بدلہ آنے والی زندگی میں ملے گا۔ اور بے شمار لوگ محض اس خوف سے بدی سے بچتے رہے ہیں کہ کہیں ان کی بداعمالیاں انہیں عذاب دائمی کے
حوالے نہ کر دیں ۔ مگر مادی دور میں اس قسم کی مثال پیش نہیں کی جاسکتی ۔ آج اگر کوئی انسانی بھلائی کی راہ پر چلتا ہوا نظر آتا ہے تو وہ بھی دراصل پرانے مذہبی تصورات ہی کا اثر ہے۔ ورنہ جہاں تک مادی تہذیب کا تعلق ہے وہ تو انسان کو خود غرض اور غیر ذمہ دار بنانے کے سوا اور کوئی صلاحیت نہیں رکھتی ۔
اس صورت حال نے تمام دنیا کے سنجیدہ انسانوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے ۔ اب یہ حقیقت لوگوں کی سمجھ میں آنے لگی ہے کہ اصل مسئلہ انسان کا ذہن بدلنا ہے نہ کہ قانون اور معیار زندگی کو بدلنا ۔ خواہ مالک جو مادیتا، کا گڑھ ہیں وہاں بھی ایسے لوگ اٹھ رہے ہیں جو بڑی شدت کے ساتھ اس ضرورت کو محسوس کرتے ہیں ۔ چنانچہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد مغربی ملکوں سے جو کتابیں شائع ہو رہی ہیں ان میں بار بار اس قسم کے فقرے دہرائے جا رہے ہیں کہ ” اگر نوع انسان اپنی خیریت چاہتی ہے تو اس کو لازماً کلچر کے ایک روحانی استحکام کی طرف پلٹنا ہوگا“۔ ”آب اخلاقی انضباط کا دوبارہ حصول، اور روحانی نظام کی طرف واپسی انسانی بقا کے لئے ناگزیر شرط کی حیثیت اختیار کر چکی ہے“۔ آج ایک نئی روحانی شیرازہ بندی کی ضرورت ہے۔ جس کے ذریعہ اخلاق اور کلچر کے درمیان وہ مرکزی تعلق بحال ہو جائے جو انسانی ارتقاء کی ہر سطح پر اور ہر دور میں موجود رہا ہے ۔ (ڈاکٹر سٹوفورڈ سن) ۔ ان باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسان کو اصل ضرورت کا احساس ہو چکا ہے مگر اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے عام طور پر جن عملی شکلوں کا ذکر کیا جاتا ہے وہ یا تو غلط ہیں یا ناقص ہیں۔