Al-Risala · December 1983

دیوار کی ضرورت

Al-Risala, December 1983, pp. 32–35

By Maulana Wahiduddin Khan

غلط شکل سے میری مراد وہ تجویزیں ہیں جو اس امید میں پیش کی جا رہی ہیں کہ محض اخلاقی اپیلوں کے ذریعہ آدمی کے اندر اس قسم کا احساس پیدا کیا جا سکتا ہے ۔ اس کے علم بردار وہ لوگ ہیں جو مذہب میں عقیدہ نہیں رکھتے مگر اخلاق کی ضرورت بھی تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔ اس لئے چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا طریقہ دریافت ہو جائے کہ مذہب کی دیوار سے مدد لئے بغیر اخلاق کی چھت کھڑی ہو جائے ۔ ہندوستان کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو اسی گروہ کی ایک مثال ہیں ۔

۱۹۵۶ء کا واقعہ ہے ۔ میک گل یونیورسٹی میں سیاسیات کے استاد پروفیسر مائیکل بریچر نے ایک انٹرویو کے دوران ان سے سوال کیا ۔ ”کیا آپ مختصر طور پر مجھے بتائیں گے کہ آپ

کے نزدیک اچھے سماج کے لئے کیا کیا چیزیں ضروری ہیں۔ " وزیر اعظم نے جواب دیا۔ "میں کچھ معیاروں کا قائل ہوں، وہ ہر فرد اور ہر سماجی گروپ کے لئے ضروری ہیں اور اگر وہ معیار باقی نہ رہیں تو تمام مادی ترقی کے باوجود آپ کسی قابلِ قدر نتیجے پر نہیں پہنچ سکتے۔ معلوم کہ ان معیاروں کو کس طرح برقرار رکھا جائے۔ ایک تو مذہبی طریقہ ہے۔ لیکن یہ اپنے تمام رسوم و تقریبات کے ساتھ مجھے تنگ نظر آتا ہے۔ میں اخلاقی اور روحانی قدروں کو مذہب سے علیحدہ رکھ کر بڑی اہمیت دیتا ہوں۔ لیکن میں نہیں جانتا کہ ان کو ماڈرن زندگی میں کس طرح قائم رکھا جا سکتا ہے۔

ان فقروں میں پنڈت نہرو نے اپنے طبقے کے لوگوں کی نہایت صحیح ترجمانی کی ہے۔ مذہب سے الگ رہ کر اخلاقی قدروں کو زندہ کرنا چاہتے ہیں، ان کی مشترک خصوصیت یہ ہے کہ وہ سب کے سب بے یقینی میں مبتلا ہیں ۔ وہ خود اپنے مقدر کی کمزوری تسلیم کرتے وہ ایک چیز کی ضرورت محسوس کرتے ہیں مگر انہیں نہیں معلوم کہ وہ انسانوں سے اسے کس طرح منوائیں ۔ انہیں اپنے خیالات کی کوئی بنیاد نظر نہیں آتی ۔

کھلی ہوئی بات ہے کہ جب ایک شخص کوئی بدعنوانی کرتا ہے تو اس لئے کرتا ہے کہ اس میں اسے اپنی تمنائیں پوری ہوتی ہوئی نظر آتی ہیں وہ اس کو اپنی ترقی اور کامیابی کا ذریعہ اس میں اسے عزت اور دولت پانے کی توقع ہوتی ہے۔ پھر آخر کس لئے وہ اسے چھوڑ دے گا۔ کیا محض اس لئے کہ کچھ لوگ اسے اخلاق اور انسانیت کے خلاف سمجھتے ہیں۔ کیا محض کسی کے ایڈیش کی خاطر کوئی شخص ایسا کر سکتا ہے کہ نفع کے بجائے نقصان کو اپنے لئے قبول کرلے ۔

حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ انسانیت مانوتا) کے نام پر لوگوں کو اخلاقیات کا پابند بنانا چاہتے ہیں وہ ہوا میں عمارت کھڑی کر رہے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ ایسی عمارت کبھی وجود میں نہیں آسکتی ۔

ایک مثال لیجئے ۔ ہندوستانی ریلوں پر ہر ہیں مسافروں میں سے ایک آدمی بلینکٹ سفر کرتا ہے اور اس طرح مرکزی خزانے کو تقریباً پانچ کروڑ روپے سالانہ کا مسلسل نقصان اس وبا کی روک تھام کے لئے ملک بھر میں بارہ ہزار سات سو اشخاص ملازم ہیں جن پر ہر سال دو کروڑ انیس لاکھ ر وپے صرف ہوتے ہیں۔ جب ہزاروں آدمیوں کا یہ عملہ

اور سالانہ سواد و کروڑ روپے کا خرچ بلائکٹ سفر کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوا تو حکومت نے ایک اخلاقی تدبیر سوچی۔ حکومت کی طرف سے ایک خاص پوسٹر چھپوا کر تمام اسٹیشنوں پر لگا دیا گیا۔ جس پر لکھا ہوا تھا۔ Ticketless travel is a social evil یعنی بے ٹکٹ سفر کرنا سماجی گناہ ہے۔ مگر اس کا حاصل اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوا کہ کرایہ وصول نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کو جو کچھ نقصان ہو رہا تھا اس میں اس پروپیگنڈے کے اخراجات کا مزید اضافہ اصل صورت حال بدستور اپنی جگہ باقی رہی۔

اس طرح کی بے شمار مثالیں ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نقطہ نظر بار بار کے تجربے میں قطعی طور پر ناکام ثابت ہو چکا ہے۔ مگر کس قدر حیرت کی بات ہے کہ اس کے باوجود ساری دنیا میں اخلاق کی اسی خیالی بنیاد پر تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے۔ آج جو منصوبے بن رہے ہیں، جو سیاسی اور سماجی ڈھانچے کھڑے کیے جا رہے ہیں۔ وہ سب اس مفروضے پر مبنی ہیں کہ افراد اور سرکاری عملہ اس کی تکمیل میں اپنا حصہ صحیح طور پر ادا کریں گے۔ اس کے بغیر کسی اسکیم کی کامیابی کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ مگر حالات پکار رہے ہیں کہ یہ امیدیں بالکل فرضی ہیں۔ اس کے لئے کالج کے طلبہ کی مثال کافی ہوگی۔ کالجوں میں جو لوگ پڑھتے ہیں ان کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ وہ آج کے شہری اور کل کے سرکاری لوگ ہیں۔ ان کی زندگی میں ہم بیک وقت دونوں کردار دیکھ سکتے ہیں۔ ان طلبہ کو اخلاق اور تہذیب سکھانے کے لئے کروڑوں روپے صرف کئے جا رہے ہیں مگر ان کا حال یہ ہے کہ سال بھر کھیل کود میں گزارتے ہیں اور جب امتحان آتا ہے تو پرنسپل کو پستول دکھا کر پرچہ آوٹ کر لیتے ہیں۔ ان کی آزادی بلکہ آوارگی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ ناچ گانے کی ایک تقریب میں شرکت کے لئے اگر انہیں رعایتی پاس نہ ملے تو وہ اس قدر او دھم مچاتے ہیں کہ پولیس کو گولی چلانی پڑتی ہے اور سارے شہر میں کرفیو نافذ ہو

کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کے بل پر ہمارے سیاسی لیڈروں نے بڑی بڑی اسکیمیں بنائی ہیں اور اس کے لئے اربوں روپے کے ٹیکس ملک کے اوپر لا د رہے ہیں۔ ہے کہ موجودہ سماج اور موجودہ سرکاری مشینری دونوں کسی قومی ذمہ داری کو اٹھانے کے بالکل نااہل ہو چکے ہیں۔ سڑکوں پر سے مین ہوں کے ڈھکن کا غائب ہو جانا سماج کی طرف سے اس بات کا انتہائی اعلان ہے کہ وہ آپ کی کسی اسکیم کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار نہیں۔

کے اندر رشوت اور ناکردگی کی بڑھتی ہوئی وباصاف بتا رہی ہے کہ جن ہاتھوں سے کام لیا جانے والا ہے وہ ہاتھ مفلوج ہو چکے ہیں۔ آج کے انسان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ صرف اس چیز کو مانتا ہے جس کی صداقت تجربے سے ثابت ہو گئی ہو۔ مگر یہی انسان ایک ایسے عمل پر اب تک اصرار کئے چلا جا رہا ہے جس کو تجربہ رد کر چکا ہے اور جس کے حق میں نظری استدلال تو کبھی موجود ہی نہیں تھا۔

Printed page