Al-Risala · December 1983

عیسائیت

Al-Risala, December 1983, pp. 35–45

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جن کی امیدوں کا مرکز مذہبی تعلیمات ہیں ان میں ایک تو عیسائیت کو ماننے والے ہیں جو بڑے زور شور کے ساتھ اپنے مذہب کو ان مسائل کے حل کی حیثیت سے پیش کر رہے ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں عیسائی مصنفین کی اچھی خاصی تعداد نے اسی قسم کے مضامین لکھنے کو اپنا مستقل موضوع بنا لیا ہے۔ ان میں بعض چوٹی کے مفکرین بھی شامل ہیں۔ اس مقصد کے لئے اجتماعی کوششیں بھی ہو رہی ہیں۔ مثلاً سوئٹزرلینڈ سے ایک تحریک اٹھی ہے جس کا نام ہے اخلاقی اسلحہ بندی (Moral Re-armament) اس کے بانی ڈاکٹر فرینک بک مین ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ خدا پرستی کے تحت اخلاقی قدروں کو رواج دیا جائے اور لوگوں کے سوچنے کے انداز میں تبدیلی پیدا کی جائے ۔ خاص طور پر ایمانداری، پاکیزگی بے غرضی، باہمی خیر خواہی اور محبت کو پھیلایا جائے۔ اسی طرح امریکہ میں خاص اسی مقصد کیلئے ایک ادارہ (Research Centre in Creative Altruism) کے نام سے ۱۹۲۹ء سے قائم ہے جس کو ایک پبلک فنڈ سے پندرہ ہزار ڈالر سالانہ کی امداد ملتی ہے۔ اس ادارے کے ڈائریکٹر پروفیسر سور و کن (Sorokin) ہیں۔ ۱۹۴۱ء میں انہوں نے پہلی بار اپنے تحقیق و مطالعہ کے نتائج پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس وقت سب سے اہم کام انسان کے اندرون یا اس کے نفس کی اصلاح ہے۔ جس پر تمام تر خود غرضی کا تسلط ہو گیا ہے۔ اور یہ ضروری ہے کہ اس کے برعکس اس میں بے لوث محبت کے اس جذبے کو پیدا کیا جائے اور ابھارا جائے جو آفاقی ہو۔ اصلاح کے بغیر جو انقلاب بھی لایا جائے گا وہ بالکل سطحی ہو گا اور ساری کوششیں رائیگاں موجودہ حالات کا علاج تجویز کرتے ہوئے وہ اپنی کتاب (Crisis of our Age) میں لکھتے ہیں :

"انسان کی پوری ذہنیت اور اس کے جملہ رجحانات میں اس تبدیلی کی ضرورت ہے

جس کا رخ ان اصولوں کی طرف ہو جس کو پہاڑی کے وعظ میں پیش کیا گیا تھا۔ قسم کی تبدیلی ایک خاص حد تک ہو چکی ہوگی، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ اس نہج پر سیاسی اور اقتصادی شعبوں میں با آسانی تبدیلی ہو سکے۔ لیکن اس تبدیلی کے بغیر کتنی ہی سیاسی اور اقتصادی بہتری اور میکانکی نوعیت کی تعمیر کیوں نہ کی جائے اس سے خاطر خواہ نتائج پیدا نہیں ہوں گے۔ اس قسم کے مذہبی لوگوں میں دوسرا قابل ذکر گروہ جدید ہندو مفکرین کا ہے۔ سی راجگو پال اچاریہ نے خاص اسی موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے دکھایا ہے کہ آج کی Hinduism: Doctrine and Way of Life دنیا کچھ روحانی تہذیبی بنیادوں کی طالب ہے اور وہ اخلاق اور کلچر جس کی جڑیں ویدانت میں اتری ہوئی ہیں، بلاشبہ اس ضرورت کو پوری کر سکتا ہے۔ صنعتی انقلاب نے جو مسائل پیدا کئے ہیں عمل اور اخلاقی قدروں کے درمیان آج جو علیحدگی نظر آتی ہے، سوسائٹی کے خود غرض عناصر جس طرح قانون کے ذریعہ استحصال کی کوشش کر رہے ہیں اور سیاسی اور معاشی میدانوں میں اس کو ناجائز کامیابی کے لئے استعمال کرتے ہیں، متضاد مقاصد کے درمیان انسانی طاقت جس بری طرح ضائع ہو رہی ہے، ان تمام خرابیوں کا ذکر کرنے کے بعد وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا دنیا کو ایک ایسا مذہب پیش کیا جا سکتا ہے جو سائنس کی مخالفت نہ ہو اور عملی زندگی اور ریاستی معاملات کو حق پرستی کی بنیاد پر تعمیر کر سکے ۔ اور اس کے بعد وہی کہتے ہیں کہ "Vedanta is the answer یعنی ویدانت اس سوال کا جواب ہے۔ " واضح لفظوں میں وہ لکھتے ہیں" دعویٰ یہ ہے کہ ایک اخلاقی کوڈ اور اقدار کا ایک نظام ہندو مفکرین نے مذہبی فلسفے سے لے پہاڑی کا وعظ حضرت مسیح علیہ السلام کی ایک خاص تقریر ہے جو انجیل کی پہلی کتاب میں پانچویں چھیٹے اور ساتویں باب میں درج ہے۔ اس میں نہایت مؤثر انداز میں خدا پرستی اور اعلیٰ اخلاقیات کی تعلیم دی گئی ہے۔ راست بازی، رحم دلی، باہم صلح کرانا، صبر کرنا، حق کی روشنی پھیلانا، ناحق خون نہ کرنا، کسی کو تکلیف نہ دینا، لوگوں کے حقوق ادا کرنا، عورت کی عصمت پر حملہ نہ کرنا، جھوٹ نہ بولنا، زیادتی کا جواب نرمی سے دینا، ریا و نمائش سے بچنا، مال کی حرص نہ کرنا، اور عیب جوئی سے بچنا یہ اس کے چند خاص اجزا ہیں۔

تیار کیا ہے جس کو ویدانت کہا جاتا ہے جو نہ صرف یہ کہ سائنس کے مطابق ہے بلکہ ایک بہتر اور مستحکم سماجی تنظیم کی نہایت عمدہ اور موزوں بنیاد بن سکتا ہے جس کی تمام دنیا کے بہترین لوگ تمنا رکھتے ہیں اور اس کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔ ہندو ازم موجودہ ترقی یافتہ سماج کی ضرورتوں کو کس طرح پورا کر سکتا ہے اس کی ایک مثال دیتے ہوئے لکھتے ہیں :۔

بھاگود گیتا میں یہ بات نہایت واضح طریقے پر بیان کر دی گئی ہے کہ آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنا عمل سماجی ذمہ داریوں کو اپنی حیثیت کے مطابق انجام دے ، نہ کہ منافع کی غرض سے ، ہم کو اب سماجی اور اقتصادی مصلحین بتا رہے ہیں کہ اسٹیٹ اس بات کی نگرانی کرے گی کہ مرد اور عورت محض اپنے ذاتی مقاصد کے لئے کام نہ کریں۔ بلکہ اجتماعی مفاد کو بھی سامنے رکھیں۔ یہ بالکل وہی بات ہے جو بھاگود گیتا میں کہی گئی ہے ........ اس میں نہایت واضح طریقے پر بار بار بتایا گیا ہے کہ تمام کام دیانت داری اور بے غرضی کے ساتھ اجتماعی بہبود (لوک سنگرہ) کے لئے کیا جائے نہ کہ شخصی تمناؤں کی تسکین کے لئے ۔ در حقیقت گیتا نے تمام سوشلسٹ اصولوں کو نہایت عمدہ طریقے پر پیش کر دیا ہے۔ ۲۲ - ۲۳ دونوں مذاہب پر تبصرہ عیسائیت اور ہندو ازم کی طرف سے جو دعویٰ کیا گیا ہے اس کو میں بالکل بے بنیاد مگر یقینی طور پر میں اس کو نہایت ناقص حل سمجھتا ہوں۔ یہ صحیح ہے کہ انجیل اور وید میں اخلاق کے اعلیٰ اصول لکھے ہوئے ملتے ہیں۔ مگر انسان کو جس چیز کی ضرورت ہے وہ محض اخلاقیات کی ایک فہرست نہیں ہے۔ اس قسم کی فہرست کا علم انسان کو بہت پہلے سے ہے اور اس سلسلے میں شاید ہم انسانی معلومات میں کوئی خاص اضافہ نہیں کر سکتے۔ آج انسان کو در اصل ایک ایسے محرک کی ضرورت ہے جو ان معلوم اخلاقیات پر عمل کرنے کے لئے ابھارتا ہو۔ اس کے اندر ایسا مضبوط داعیہ پیدا کرے کہ جو کچھ وہ جانتا ہے اس کو وہ کرنے لگے اور اس لحاظ سے دونوں مذاہب تقریباً خالی ہیں۔

مگر یہ خالی ہونا اس نوعیت کا نہیں ہے جیسا کہ اوپر ہم نے ”اخلاق کے نام پر اخلاق“ پیدا کرنے والوں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے۔ یہ مذاہب جس طرح اخلاق کے کچھ اصول بتاتے ہیں۔ اسی طرح ان کی تعلیمات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جو ان پر عمل نہیں کریگا

وہ اس کے لازمی نتیجے کے طور پر ایک برے انجام سے دوچار ہوگا ۔ دونوں مذہبوں میں زندگی بعد موت کا تصور موجود ہے اور دونوں مرنے کے بعد کسی نہ کسی شکل میں اچھے یا برے انجام کی خبر دیتے ہیں یہی دراصل وہ چیز ہے جو آدمی کو بدعنوانیوں سے روکنے والی ہے۔ وہاں بھی آدمی کا ہاتھ پکڑلیتا ہے جہاں کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں ہوتا۔ ان مذاہب میں وہ قدرِ بنیادی طور پر موجود ہے جس کو اوپر ہم نے محرک عمل کے لفظ سے تعبیر اس کا ایک کھلا ہوا ثبوت خود ان مذاہب کی تاریخ میں موجود ہے۔ سابق دور میں ان مذاہب کی بنیاد پر جو سوسائٹی بنی تھی وہ اخلاقی اعتبار سے صریح طور پر موجودہ مادہ پرست سوسائٹی سے بہتر تھی۔ مگر ان مذاہب کے ماننے والوں نے اپنے مذہب کو صحیح شکل میں محفوظ نہیں رکھا اور ان کی تعلیمات اب جس شکل میں ہمارے سامنے موجود ہیں وہ اس قدر ناقص اور الجھی ہوئی ہیں کہ کسی وسیع اور پائیدار اصلاح کی بنیاد نہیں بن سکتیں۔ عیسائیت کا حال یہ ہے کہ جس انجیل میں پہاڑی کا وعظ ہے اسی میں مسیحی مذہب کا یہ عقیدہ بھی درج ہے کہ نجات کے لئے کسی عمل کی ضرورت نہیں۔ صرف یسوع مسیح پر ایمان لانا کافی اس نظرئے کے مطابق ساری دنیا خدا کے نزدیک سزا کے لائق ہے۔ کیونکہ سب نے گناہ کیا اور خدا کے جلال سے محروم ہوگئے ۔ اس لئے خدا نے اپنے بیٹے کو دنیا میں بھیجا اور اس کو سولی پر چڑھاکر" اس کے خون کے باعث ایک ایسا کفارہ ٹھہرایا جس کو مان کر دوسرے لوگ اپنے گناہ بخشوالیں ۔ اب نجات کے لئے عمل کی ضرورت نہیں۔ بلکہ صرف ”خدا کے بیٹے کی اس حیثیت کو تسلیم کرنا کافی ہے ۔ کیونکہ " انسان شریعت کے اعمال کے بغیر ایمان کے سبب سے راست باز ٹھہرتا ہے ۔ " (نئے عہد نامے کی چھٹی کتاب باب ۳) ایسی حالت میں کوئی شخص آخر کس لئے عمل کے جھنجھٹ میں پڑے گا۔ کفارہ کا عقیدہ تسلیم کرنے کے بعد وہ کونسا محرک ہے جو آدمی کو نیکی کے لئے اٹھانے اور برائی سے روکنے پر مجبور کرے ۔ انجیل کا یہ تضاد ہمارے نزدیک سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی اصل تعلیم کا تضاد نہیں ہے۔ مگر آج عیسائیت کے نام سے جو چیز موجود ہے وہ قطعی طور پر یہی ہے۔ آں جناب نے تو مذہب کو اس کی صحیح ترین شکل میں پیش کیا تھا ۔ مگر آپ کے ماننے والے آپ کی تعلیمات کو محفوظ نہ رکھ سکے ۔ دوسروں کی تشریح و تعبیر میں شامل ہو کر اصل حقیقت گم ہوگئی ۔ دیکھئے تو ایک طرف اس میں بہترین مؤثر انداز میں آخرت کا ذکر اور اعلیٰ اخلاقیات کی تعلیم

جس کو پڑھ کر آدمی کی روح بیدار ہوتی ہے اور اس کے اندر عمل کا جذبہ پیدا ہوتا ہے مگر اس کے بعد جب وہ اگلے صفحات میں سینٹ پال کا فلسفہ پڑھتا ہے تو اس کو یہ تمام چیزیں بے ضرورت معلوم ہونے لگتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کفارہ کے عقیدے نے عیسائی مذہب میں عمل کی بنیاد کو اسی طرح کمزور کر دیا ہے جیسے کسی ملک کے دستور میں یہ لکھ دیا جائے کہ اگر چہ یہاں پولیس اور عدالت کا نظام قائم رہے گا مگر کسی کو اس کی غلط روی پر سزا نہیں دی جائے گی۔ کیونکہ آدمی پاک باز رہنے پر قادر نہیں ہے۔ ہندو مذہب کا معاملہ بھی تقریبا یہی ہے ۔ بظاہر وہ صرف اخلاقی اپیل نہیں کرتا بلکہ سزا اور انعام کا بھی ایک نظریہ اپنے پاس رکھتا ہے جس کو "کرم" کہتے ہیں، یعنی اپنے کئے کا پھل پانا ۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ نظریہ بھی اپنی ابتدائی شکل میں ایک صحیح نظریہ ہو گا ۔ مگر اب تو وہ نہایت ناقص صورت میں ہمارے سامنے ہے ۔ ہندو مذہب پر فلسفہ کا جو لمبا دور گزرا ہے ۔ غالباً اس زمانے میں لوگوں کی ذہنی موشگافیوں نے اس کی ہیئت بدل دی ۔ اور ایک صحیح چیز نے غلط شکل اختیار کر لی ۔ اب یہ نظریہ جس صورت میں ہمارے سامنے ہے اس کو آواگون یا پنز جنم کہتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جیسا عمل کرتا ہے اسی کے لحاظ سے وہ اگلے جنموں میں اچھے یا برے جسم میں پیدا ہوتا ہے اور پیدائش کا یہ چکر برابر چلتا رہتا ہے ۔ اس عقیدے کی رو سے آج جو وجود انسان ، حیوان ، پرند، ، درخت ، سبزی گھاس یا کیڑے مکوڑے کی شکل میں نظر آ رہا ہے وہ سب پچھلے اعمال کے نتیجے میں ہے۔ کا یہ نظریہ معمولی اختلاف کے ساتھ ہندو مذہب کی تمام شاخوں میں تسلیم کیا جاتا ہے ۔

اس نظریے کے اوپر بھی ہماری تنقید وہی ہے جو عیسائیت کے سلسلے میں ہم لکھ چکے ہیں۔ یعنی اس کے اندر جو محرک ہے وہ نہایت ناقص اور محدود ہے ۔ وہ آدمی کے اندر کوئی ایسا زور دار داعیہ پیدا نہیں کرتا جس کی رغبت سے وہ اچھائی کی طرف لپکے اور جس کا ڈر اسے برائیوں سے روکنے پر مجبور کرے ۔ فرض کیجئے ایک شخص کو ایک غلط کام کے لئے بتیس ہزار روپے رشوت میں مل رہے ہیں ۔ کیا صرف اس لئے کہ وہ ملتے ہوئے فائدے کو چھوڑ دے گا کہ مرنے کے بعد جب اس کا دوسرا جنم ہوگا تو اس میں وہ مچھر مکھی ہو جائے گا یا آم اور ببول کی شکل میں پیدا ہو گا ۔ اینٹی کرپشن قانون کے تحت ملنے والی سزا کا خوف

اگر اس کو اس عمل سے نہیں روکتا تو اگلے جنم میں کیڑا مکوڑا یا درخت بن جانے میں وہ کون سی ہولناکی ہے جو آدمی کو لرزادے اور اس کو جرم سے باز رکھے۔ اس نظریے کے مطابق وحشیانہ جرائم کی ایک بہت بڑی سزا جو منو سمرتی میں بتائی گئی ہے وہ یہ کہ ایسا آدمی دوسرے جنم میں چنڈال کے گھر میں پیدا ہوگا۔ چنڈال سے مراد پاسی، ملاح، دھوبی، ڈوم، چمار ممکن ہے کہ کسی زمانے میں ان قوموں کی یہ حالت رہی ہو۔ مگر اب تو ان کا لقب ہریجن (خدا والے) ہے۔ ان کو وقت کے دستور میں دوسرے انسانوں کے برابر درجہ حاصل ہے۔ اور ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو بنگلوں اور کاروں میں زندگی حتیٰ کہ ایک اچھوت لیڈر اگر الیکشن میں جیت جائے تو وہ وزارت کا عہدہ حاصل کرکے برہمن آبادی کے اوپر حکومت کرتا ہے اور ان کے لئے قانون بناتا ہے۔ آخر اس طرح کے انجام میں وہ کون سا بھیانک پن ہے جو کسی کو جرم سے روکنے کا سبب بن سکے۔

اور بالفرض اگر اس سزا کی کوئی ایسی تعبیر کی جائے جس میں وہ بھیانک نظر آنے لگے تو اس کے بعد بھی اس کے اندر ایک ایسا خلا باقی رہتا ہے جو آدمی کے جذبات کو سرد کرنے کے لئے کافی ہے۔ اگر آپ ایک تباہ حال آدمی کو لیں اور اس سے پوچھیں کہ تم نے اپنے پچھلے جنم میں کیا کیا تھا جس کے نتیجے میں یہ انجام بھگت رہے ہو تو وہ کچھ نہ بتا سکے گا حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے کسی کو یہ بھی نہیں معلوم کہ ہم اس سے پہلے دنیا میں آئے بھی تھے یا نہیں۔ پر جنم کے عقیدے کے مطابق انسان کو اس کے عمل کا بدلہ دینے کا معاملہ بالکل بے خبری میں انجام پاتا ہے اور یہ بے خبری پر جنم کی تمام شکلوں میں موجود ہوتی ہے۔ رکھنے والے ایک وجود نے اپنی زندگی میں ایک کام کیا تھا۔ اس کو جب اپنے اس عمل کا انجام ملتا ہے تو وہ اپنے پچھلے وجود کو بھول چکا ہوتا ہے۔ کیا ایسے ایک واقعہ کو سزا کہا یہ تو بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے بے ہوشی کا انجکشن دے کر کسی کی چیر پھاڑ بلکہ زیادہ ٹھیک لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے آج کے عمل کا بدلہ کل دوسرے شخص کو ملے گا اور میری آج کی بداعمالیوں کی سزا کل کسی اور کو بھگتنی پڑے گی۔ کے بعد جب میں اپنے موجودہ شعور اور موجودہ احساسات کے ساتھ ختم ہو جاؤں گا تو اس کے بعد کی پیدائش کو میری پیدائش کیوں کہا جائے۔ پھر جس عمل کا انجام میرے بعد

دوسرے انسان کو ملنے والا ہے اس لئے آخر میں کیوں کوشش کروں اور جس بدعملی کی سزا دوسرے وجود کو بھگتنی ہے اس سے میں کیوں ڈروں۔ پر جنم میں روح کے قالب بدلنے کو جس شکل میں پیش کیا گیا ہے ممکن ہے اس کو منطقی استدلال اور فلسفیانہ بحثوں کے ذریعہ ایک انسان کا مختلف جنم قرار دیا جاسکے مگر قطعی طور پر یہ ایک لفظی استدلال ہوگا ۔ حقیقت کے اعتبار سے یہ بات بالکل ناقابل فہم ہے کہ اس طرح کے مختلف جنموں کو ایک انسان کا جنم کس بنا پر کہا جاتا ہے۔

اسی طرح اس نظریے کے اندر انسانی کامیابی کا جو تصور دیا گیا ہے، اس میں بھی ہمارے لئے کوئی کشش نہیں ہوسکتی۔ پر جنم کے مطابق انسان کی کامیابی یہ ہے کہ اس کی روح مختلف قالبوں میں پیدا ہوکر ارتقاء کرتی رہے یہاں تک کہ بالآخر خدا یا پرما تما کے وجود میں گم ہو جائے جس کو نجات یا نروان کہا جاتا ہے ۔ یہاں مجھے اس نظریے کے علمی اور فلسفیانہ پہلوؤں سے بحث نہیں ہے ۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس طرح کے ایک نظریے میں وہ کون سی کشش ہے جس کے لئے آدمی دنیا کے دکھ جھیلے اور زندگی بھر خواہ مخواہ ذمہ داریاں پوری کرنے اور حقوق ادا کرنے کا کھر اگ اپنے سر مول لے۔ کامیابی میں انسان کو کیا ملا ۔ اس کو زیادہ سے زیادہ پر ماتما کی اپنی تکمیل کہا جاسکتا ہے نہ کہ کسی انسان کا ارتقاء ۔ پھر جس عمل کا فائدہ تمام تر دوسرے کو ملنے والا ہو اس میں آدمی کیوں محنت کرے ۔ ممکن ہے کچھ مخصوص قسم کے فلسفیانہ ذوق رکھنے والے لوگوں کو اس طرح کے نامعلوم ارتقاء سے دلچسپی ہو۔ مگر عام انسان جن جذبات اور جن تمناؤں کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے اس کے لئے اس میں کوئی کشش نہیں ہوسکتی اور صرف یہ واقعہ فلسفہ نروان کے خلاف فطرت اور خلاف واقعہ ہونے کا کافی ثبوت ہے۔ اس مختصر جائزے کے بعد اب ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں یہ فیصلہ کرنا آسان ہے کہ نوع انسانی کی فلاح و بہبود کے لئے کون سا دھرم سب سے بہتر ہے۔ جواب اسلام کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ وہ تمام خصوصیات اس کے اندر مکمل ترین شکل میں موجود ہیں جو ایسے ایک دھرم میں ہونا ضروری ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اسلام کی طرف سے میں کسی ایسی چیز کا انکشاف کرنے والا ہوں جس کی

ضروری ہیں مگر ان کی حیثیت روح کے ساتھ جسم کی سی ہے ۔ روح کے ظاہر ہونے کے لئے ایک جسم کا ہونا ضروری ہے۔ مگر کسی انسانی وجود میں اصل چیز اس کی روح ہوتی ہے نہ کہ جسم ۔ اگر یہ روح نہ ہو تو جسم خواہ کتنی ہی مکمل حالت میں موجود ہو ہم اس سے انسان کا کام نہیں لے سکتے ۔ اس طرح بہتر زندگی کی تعمیر کے سلسلے میں جو چیز سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ انسان کی اپنی اصلاح ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو زندگی کی پوری اسکیم میں فیصلہ کن عنصر کی حیثیت حاصل ہے ۔ یہ موجود ہو تو دوسری تمام چیزیں ٹھیک ٹھیک کام کریں گی اور اگر یہ نہ ہو تو کوئی بھی خارجی نقشہ ہمارے مسائل کو حل نہیں کر سکتا۔ زندگی کے اس اہم ترین سوال کا جواب اسلام کے اندر انتہائی مکمل اور صحیح شکل میں موجود ہے ۔ اسلام سب سے پہلے یہ بتاتا ہے کہ یہ کائنات کوئی آل ٹاپ جگہ نہیں ہے بلکہ اس کا ایک خدا ہے جو اپنی زبردست طاقت کے ذریعہ پوری دنیا پر فرماں روائی کر رہا ہے ۔ اس طرح وہ انسان کے اندر ایک ایسی طاقت کا عقیدہ پیدا کرتا ہے جس کی پکڑ سے انسان اپنے آپ کو نہیں بچا سکتا ۔ اور نہ اس سے بھاگ کر کہیں جا سکتا ۔ وہ زندگی کے بارے میں یہ تصور دیتا ہے کہ وہ دو مرحلوں میں بٹی ہوئی ہے ۔ اور موجودہ مرحلہ اگلے مرحلے کی تیاری کے لئے ہے ۔ ہم آج جو کچھ کریں گے اس کا اچھا یا برا بدلہ اگلی زندگی میں پائیں گے ۔ اس طرح آدمی کے اندر آئندہ زندگی میں کامیاب بننے کی طلب پیدا ہوتی ہے اور دنیا کی حرص جو تمام خرابیوں کی جڑ ہے اس کا جذبہ کمزور پڑ جاتا ہے ۔ جب ٹرین سامنے کھڑی ہو تو کوئی شخص پلیٹ فارم کی بنچ پر جگہ حاصل کرنے کے لئے جھگڑا نہیں کر سکتا۔ اسی طرح جو شخص دنیا کی بے ثباتی اور اگلی زندگی کی اہمیت کو سمجھ جائے اس کے لئے ناممکن ہے کہ دنیوی منافع کے لئے لوگوں سے چھین جھپٹ کرے ۔ آج چمبل کی وادی (ضلع آگرہ) میں ۲۵ ہزار پولیس گھیر ڈاے پڑی ہے مگر ڈاکوؤں کا گروہ اس کے قابو میں نہیں آتا ۔ اسلام فرشتوں کی ایک ایسی پولس کا تصور دیتا ہے جو ہر انسان کے دونوں کندھوں پر بیٹھی ہوئی ہے اور اس کے تمام اعمال کا ریکارڈ تیار کر رہی جو مرنے کے بعد خدا کی عدالت میں پیش کیا جائے گا ۔ یہ خیال آدمی کو اپنے تمام کھلے اور چھپے معاملات میں چوکس کر دیتا ہے ۔ وہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ وہ مستقل طور پر ایسی پولس کے پہرے میں ہے جس سے پیچھا چھڑانے کی کوئی سبیل نہیں ۔

دوسری دنیا کے بارے میں اسلام یہ تصور دیتا ہے کہ وہاں جنت اور جہنم ہے ۔ جنت انتہائی عیش کی جگہ ہے اور جہنم بدترین عذاب کا مقام ۔ وہ تمام لذیذ اور بہترین چیزیں جن کی انسان تمنا کرسکتا ہے اسلام ایک ایک کا نام لے کر بتاتا ہے کہ وہ نہایت اعلی شکل میں جنت میں موجود ہوں گی ۔ اور سخت ترین عذاب کی تمام صورتیں جن سے انسان آشنا ہے ، ان کے متعلق بتاتا ہے کہ وہ جہنم میں جانے والے شخص کو بھگتنا پڑیں گی ۔ ہر وہ انسان جو پیدا ہوا ہے اس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ان میں سے کسی ایک میں رہنا یہ چیز آدمی کو بے قرار کردیتی ہے اور وہ اپنے ایک ایک لمحے کو فضولیات سے بچا کر صحیح ترین کام میں لگانا شروع کردیتا ہے۔ پھر اسلام یہ بتاتا ہے کہ جس خدا کی عدالت میں تمہارا معاملہ جانے والا ہے اس پر نہ کسی کا زور ہے اور نہ کوئی سفارش وہاں سنی جانے والی ہے ۔ کسی کی مجال نہیں کہ اس کے حضور اپنی زبان کھول سکے ۔ یہ چیز اس کو بتاتی ہے کہ جھوٹے سہاروں پر تکیہ کرنا چھوڑ دے ۔ اور صرف خدا سے اپنا تمام تعلق قائم پھر یہ کہ یہ سب کچھ اس طرح پیش آئے گا کہ ہم اپنے موجودہ احساسات کے ساتھ اپنی زندگی کا شعور رکھتے ہوں گے ۔ اپنی پچھلی زندگی ہر شخص کو اچھی طرح یاد ہوگی بلکہ اس کے سامنے ہوگی ۔ موت اس کے لئے محض نیند کی طرح کا ایک درمیانی وقفہ ہوگا اور وہ دوسری زندگی کو اسی طرح اپنی زندگی سمجھے گا جس طرح سو کر اٹھنے والا کوئی شخص سمجھتا ہے ۔ ہر آدمی دوسرے کو اسی طرح پہچانے گا جس طرح وہ آج پہچانتا غرض آج ہمارا جو وجود ہے ، اسی وجود کے ساتھ ہم اپنی جزا یا سزا پائیں گے ۔

اس طرح اسلام کا آخرت کا تصور ایک ایسا تصور ہے جو آدمی کو ہلا دینے کے لئے کافی ہے ۔ اس نظریے میں اس بات کی مکمل صلاحیت ہے کہ وہ سماج کی ضرورت کے مطابق نہایت فرض شناس اور دیانت دار شہری پیدا کرے اگر اس نظریے کو کسی آبادی میں وسیع پیمانے پر پھیلایا جائے اور لوگوں کے ذہنوں میں اس کو اچھی طرح بٹھا دیا جائے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگ حساس اور ذمے دار بن جائیں گے ۔ جب ایک شخص کو منتخب کر کے کسی کام پر لگا دیا جائے گا تو وہ اس احساس کے تحت اپنی ڈیوٹی کو ٹھیک ٹھیک انجام دے گا کہ اس کا جواب اسے مالک کائنات کو دینا ہے جو اس

کی تمام سرگرمیوں سے باخبر ہے، جس کی نگاہ سے اس کا کوئی چھوٹا یا بڑا کارنامہ چھپ

مدینے کے ایک باشندے ابو مسعود انصاری کا واقعہ ہے، وہ اپنے غلام کو مار رہے تھے، اتنے میں انہوں نے پیچھے سے ایک آواز سنی ـــــــــــ اعلم ابا مسعود للہ اقدر عليك منك (ابو مسعود! یاد رکھو اس غلام کے اوپر تم کو جتنا اختیار ہے تمہارا خدا اس سے زیادہ تمہارے اوپر اختیار رکھتا ہے) دیکھ تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ فقرہ سنتے ہی ان کا حال بدل گیا۔ انہوں نے فوراً اپنا ہاتھ روک لیا اور بولے کہ اے خدا کے رسول! میں اس غلام کو خدا کی راہ میں آزاد کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم ایسا نہ کرتے تو جہنم کی آگ تمہیں پکڑ لیتی۔ (مسلم) اس طرح اسلام ایک ایسا نظریہ عطا کرتا ہے جس کے ذریعہ آپ کسی بھی شخص کو کسی بھی مقام پر ٹوک سکتے ہیں اور وہ خود اپنے فائدے کی خاطر مجبور ہوگا کہ اس کی تنبیہ پر غور کرے ۔ جبکہ موجودہ نظام میں کسی کو بد عنوانی سے روکنے کے لئے صرف پولیس کے دفتر میں اس کی رپورٹ درج کرائی جاسکتی ہے ، ایک ایسا دفتر جو رشوت لے کر اپنا ریکارڈ جلا سکتا ہے۔ اور اگر عدالت میں بھی جانا ہوا تو ملزم کو خوب معلوم ہے کہ ایک قابل وکیل کو فیس ادا کرنے کی صلاحیت ہونا کسی بھی مقدمے کو جیتنے کی کافی ضمانت ہے۔

Printed page