خالق کی تلاش
Al-Risala, February 1983, pp. 9–14
By Maulana Wahiduddin Khan
کائنات کو دیکھتے ہی جو سب سے پہلا سوال ذہن میں آتا ہے وہ یہ کہ اس کا بنانے والا کون ہے اور وہ کون ہے جو اس عظیم کارخانے کو چلا رہا ہے ۔ پچھلے زمانوں میں انسان یہ سمجھتا تھا کہ بہت سی ان دیکھی طاقتیں اس کائنات کی مالک ہیں۔ ایک بڑے خدا کے تحت بہت سے چھوٹے چھوٹے خدا اس کا انتظام کر رہے ہیں۔ اب بھی بہت سے لوگ اس قسم کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ مگر علمی دنیا میں عام طور پر اب یہ نظریہ ترک کیا جا چکا ہے۔ آج یہ ایک مردہ نظریہ ہے نہ کہ زندہ نظریہ۔ موجودہ زمانہ کے وہ لوگ جو اپنے آپ کو ترقی یافتہ کہتے ہیں اور جن کا خیال ہے کہ وہ جدید دور کے وہ شرک کے بجائے الحاد کے قائل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ کائنات کسی ذی شعور ہستی کی کارفرمائی نہیں ہے بلکہ ایک اتفاقی حادثہ کا نتیجہ ہے اور جب کوئی واقعہ وجود میں آجائے
تو اس کے سبب سے کچھ ۲۰سرے واقعات بھی وجود میں آئیں گے۔ اس طرح اسباب و واقعات کا ایک لمبا سلسلہ قائم ہو جاتا ہے اور یہی سلسلہ اسباب ہے جو کائنات کو چلا رہا ہے۔ اس توجیہہ کی بنیاد دو چیزوں پر ہے۔ ایک اتفاق، اور دوسرے قانون علت (Law of Causation)
یہ توجیہ بتاتی ہے کہ اب سے تقریباً دو لاکھ ارب سال، دو نیل سال، پہلے کائنات کا وجود نہ تھا۔ اس وقت ستارے تھے اور نہ سیارے، مگر فضا میں مادہ موجود تھا۔ یہ مادہ اس وقت جمی ہوئی ٹھوس حالت میں نہ تھا، بلکہ اپنے ابتدائی ذرے یعنی برقیے اور پروٹونوں کی شکل میں پوری فضا میں بسط میں یکساں طور پر پھیلا ہوا تھا۔ گویا انتہائی چھوٹے چھوٹے ذرات کا ایک غبار تھا جس نے کائنات بھری اس وقت مادہ بالکل توازن کی حالت میں تھا، اس میں کسی قسم کی حرکت نہ تھی۔ کے نقطہ گاہ سے یہ تو ازن ایسا تھا کہ اگر اس میں کوئی ذرا سا بھی خلل ڈال دے تو پھر یہ قائم نہیں رہ سکتا، یہ خلل بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ اگر اس ابتدائی خلل کو مان لیجئے تو ان لوگوں کا خیال ہے کہ اس کے بعد کے تمام واقعات علم ریاضی کے ذریعہ ثابت ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ ایسا ہوا کہ مادے کے اس بادل میں خفیف سا خلل واقع ہوا جیسے کسی حوض کے پانی کو کوئی ہاتھ ڈال کر ہلا دے۔ پر سکون دنیا میں یہ اضطراب کس نے پیدا کیا ، اس کے بارے میں کچھ نہیں معلوم لیکن خلل ہوا اور یہ خلل بڑھتا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مادہ سمٹ سمٹ کر مختلف جگہوں میں جمع ہونا شروع ہو گیا۔ وہ جمع شدہ مادہ ہے جس کو ہم ستارے، سیارے اور سحابئے کہتے ہیں۔
کائنات کی یہ توجیہ سائنس کی طرف سے پیش کی گئی تھی مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ اس قدر بودی اور کمزور توجیہہ ہے کہ خود سائنس دانوں کو بھی اس پر کبھی شرح صدر حاصل نہ ہو سکا۔ یہ توجیہہ اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ اسے نہیں معلوم کہ کائنات کو پہلی بار کس نے حرکت دی مگر اس کے باوجود اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے کائنات کے محرک اول کو معلوم کر لیا ہے، اور اس محرک اول کا نام اس کے نزدیک اتفاق ہے ۔
سوال یہ ہے کہ جب کائنات میں صرف غیر متحرک مادہ تھا، اس کے سوا کوئی چیز موجود نہ تھی تو یہ عجیب و غریب قسم کا اتفاق کہاں سے وجود میں آگیا جس نے ساری کائنات کو حرکت دے دی۔ واقعہ کے اسباب نہ مادہ کے اندر موجود تھے اور نہ مادہ کے باہر۔ وہ واقعہ وجود میں آیا تو کیسے ۔ توجیہہ کا یہ نہایت دل چسپ تضاد ہے کہ وہ ہر واقعہ سے پہلے ایک واقعہ کا موجود ہونا ضروری قرار دیتی ہے جو بعد کو ظاہر ہونے والے واقعہ کا سبب بن سکے مگر اس توجیہہ کی ابتدا ایک ایسے واقعہ
سے ہوتی ہے جس سے پہلے اس کا سبب موجود نہیں ۔ یہی وہ بے بنیاد مفروضہ ہے جس پر کائنات کی اتفاقی پیدائش کے نظریہ کی پوری عمارت کھڑی کردی گئی ہے۔
پھر یہ کائنات اگر محض اتفاق سے وجود میں آئی ہے تو کیا واقعات لازمی طور پر وہی رخ اختیار کرنے پر مجبور تھے جو انہوں نے اختیار کیا۔ کیا اس کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتا تھا۔ ایسا ممکن نہیں تھا کہ ستارے آپس میں ٹکرا کر تباہ ہو جائیں۔ مادہ میں حرکت پیدا ہونے کے بعد کیا یہ ضروری تھا کہ یہ محض حرکت نہ رہے بلکہ ایک ارتقائی حرکت بن جائے اور حیرت انگیز تسلسل کے ساتھ موجودہ کائنات کو وجود میں لانے کی طرف دوڑنا شروع کر دے۔
آخر وہ کون سی منطق تھی جس نے ستاروں کے وجود میں آتے ہی ان کو لامتناہی خلا میں نہایت باقاعدگی کے ساتھ پھر انا شروع کر دیا۔ پھر وہ کون سی منطق تھی جس نے کائنات کے ایک بعید ترین گوشہ میں نظام شمسی کو وجود دیا۔ پھر وہ کون سی منطق تھی جس سے ہمارے کرۂ زمین پر وہ عجیب و غریب تبدیلیاں ہوئیں جن کی وجہ سے یہاں زندگی کا قیام ممکن ہو سکا اور جن تبدیلیوں کا سراغ آج تک کائنات کی بیشمار دنیاؤں میں سے کسی ایک دنیا میں بھی معلوم نہیں کیا جا سکا پھر وہ کون سی منطق تھی جو ایک خاص مرحلہ پر بے جان مادہ سے جاندار مخلوق پیدا کرنے کا سبب بن گئی۔ کیا اس بات کی کوئی معقول توجیہ کی جاسکتی ہے کہ زمین پر زندگی کس طرح اور کیوں وجود میں آئی اور کس قانون کے تحت مسلسل پیدا ہوتی چلی جارہی ہے۔ پھر وہ کون سی منطق تھی جس نے کائنات کے ایک چھوٹے سے رقبہ میں حیرت انگیز طور پر وہ تمام چیزیں پیدا کر دیں جو ہماری زندگی اور ہمارے تمدن کے لئے درکار تھیں، پھر وہ کون سی منطق ہے جو ان حالات کو ہمارے لئے باقی رکھے ہوئے ہے۔ کیا محض ایک اتفاق کا پیش آ جانا اس بات کی کافی وجہ تھی کہ یہ سارے واقعات اس قدر حسن ترتیب کے ساتھ مسلسل پیش آتے چلے جائیں اور اربوں اور کھربوں سال تک ان کا سلسلہ جاری رہے اور پھر بھی ان میں کوئی فرق نہ آنے پائے۔ کیا اس بات کی کوئی واقعی توجیہ کی جاسکتی ہے کہ محض اتفاق سے پیش آنے والے واقعہ میں لزوم کی صفت کہاں سے آگئی اور اتنے عجیب و غریب طریقہ پر مسلسل ارتقاء کرنے کار جہان اس میں کہاں سے پیدا ہو گیا۔
یہ اس سوال کا جواب تھا کہ کائنات کیسے پیدا ہوئی۔ اس کے بعد یہ سوال اٹھا کہ اس کا چلانے والا کون ہے ۔ وہ کون ہے جو اس عظیم کارخانے کو اس قدر منظم طریقہ پر حرکت دے
اس توجیہ میں جس کو کائنات کا خالق قرار دیا گیا ہے اسی کو کائنات کا حاکم نہیں قرار دیا جا سکتا۔ یہ توجیہ عین اپنی ساخت کے اعتبار سے دو خدا چاہتی ہے۔ کیوں کہ حرکتِ اول کی توجیہہ کے لئے تو اتفاق کا نام لیا جا سکتا ہے مگر اس کے بعد کی مسلسل حرکت کو کسی حال میں بھی اتفاق نہیں کہا اس کی توجیہہ کے لئے دوسرا خدا تلاش کرنا پڑے گا۔
اس مشکل کو حل کرنے کے لئے اصولِ تعلیل (Principle of Causation) پیش کیا گیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ حرکتِ اول کے بعد کائنات میں علت اور معلول کا ایک ایسا سلسلہ قائم ہو گیا ہے کہ ایک کے بعد ایک تمام واقعات پیش آتے چلے جا رہے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے بچے بہت سی اینٹیں کھڑی کر کے کنارے کی ایک اینٹ گرا دیتے ہیں تو اس کے بعد کی تمام اینٹیں خود بخود گرتی چلی جاتی ہیں۔ جو واقعہ ظہور میں آتا ہے اس کا سبب کائنات کے باہر کہیں موجود نہیں ہے بلکہ ناقابلِ تسخیر قوانین کے تحت حالات ما قبل کا لازمی نتیجہ ہوتا ہے۔ اور یہ سابقہ حالات بھی اپنے سے پہلے واقعات کا لازمی نتیجہ تھے۔ اس طرح کائنات میں علت اور معلول کا ایک لامتناہی سلسلہ قائم ہو گیا ہے۔ حتی کہ جس صورت میں تاریخ عالم کا آغاز ہوا، اس نے آئندہ سلسلۂ واقعات کا قطعی فیصلہ کر دیا ہے۔ جب ابتدائی صورت ایک دفعہ معین ہو گئی تو قدرت صرف ایک ہی طریق سے منزلِ مقصود تک پہنچ سکتی تھی۔ گویا کائنات جس روز پیدا ہوئی اس کی آئندہ تاریخ بھی اسی دن متعین ہو چکی ہے۔
اس اصول کو قدرت کا اساسی قانون مقرر کرنا سترہویں صدی کا ایک بہت بڑا واقعہ تھا۔ چنانچہ یہ تحریک شروع ہوئی کہ تمام کائنات کو ایک مشین ثابت کیا جائے۔ انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں یہ تحریک اپنے پورے عروج پر آگئی۔ یہ زمانہ سائنس داں انجینیروں کا تھا جن کی دلی خواہش تھی کہ قدرت کے مشینی ماڈل بنائے جائیں۔ اسی زمانہ میں ہیلم ہولٹز (Helm Holtz) نے کہا تھا کہ تمام قدرتی سائنسوں کا آخری مقصد اپنے آپ کو میکانکس میں منتقل کر لینا ہے۔ اگرچہ اس اصول کے مطابق کائنات کے تمام مظاہر کی تشریح کرنے میں ابھی سائنسدانوں کو کامیابی نہیں ہوئی تھی مگر ان کا یقین تھا کہ کائنات کی تشریح میکانکی پیرائے میں ہو سکتی ہے وہ سمجھتے تھے کہ صرف تھوڑی سی کوشش کی ضرورت ہےاور بالآخر تمام عالم ایک مکمل چلتی ہوئی مشین ثابت ہو جائے گا۔
ان باتوں کا انسانی زندگی سے تعلق صاف ظاہر تھا۔ اصولِ تعلیل کی ہر تو سیع اور قدرت
کی ہر کامیاب میکانکی تشریح نے اختیار انسانی پر یقین کرنا محال بنا دیا، کیوں کہ اگر یہ اصول تمام قدرت پر حاوی ہے تو زندگی اس سے کیوں مستثنیٰ ہو سکتی ہے۔ اس طرز فکر کے نتیجہ میں ستر ھویں اور اٹھارھویں صدی کے میکانکی فلسفے وجود میں آئے جب یہ دریافت ہوا کہ (Living Cell) جاندار خلیہ بھی بے جان مادہ کی طرح محض کیمیاوی جوہروں سے بنا ہے تو فوراً سوال پیدا ہوا کہ وہ خاص اجزاء جن سے ہمارے جسم ودماغ بنے ہوئے ہیں کیوں کر اصول تعلیل کے دائرہ سے باہر ہو سکتے ہیں چنانچہ گمان کیا گیا بلکہ بڑے جوش کے ساتھ دعویٰ کر دیا گیا کہ زندگی بھی ایک خالص مشین ہے یہاں تک کہا گیا کہ نیوٹن، باخ (Bach) اور مائیکل اینجلو (Michel Angelo) کے دماغ کسی پرنٹنگ مشین سے صرف پیچیدگی میں مختلف تھے اور ان کا کام صرف یہ تھا کہ بیرونی محرکات کا مکمل
مگر سائنس اس سخت اور غیر معتدل قسم کے اصول علیت کی اب قائل ہمیں ہے۔ اضافیت اصول تعلیل کو دھوکے (Elusion) کے لفظ سے یاد کرتا ہے۔ انیسویں صدی کے آخر ہی میں سائنس پر یہ واضح ہو گیا تھا کہ کائنات کے بہت سے مظاہر، بالخصوص روشنی اور قوت کشش، میکانکی تشریح کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیتے ہیں۔ یہ بحث ابھی جاری تھی کہ کیا ایسی مشین بنائی جا سکتی ہے جو نیوٹن کے افکار، باخ کے جذبات اور مائیکل اینجلو کے خیالات کا اعادہ کر سکے مگر سائنس دانوں کو بڑی تیزی سے یقین ہوتا جا رہا تھا کہ شمع کی روشنی اور سیب کا گرنا کوئی مشین نہیں دہرا قدیم سائنس نے بڑے وثوق سے اعلان کیا تھا کہ قدرت صرف ایک ہی راستہ اختیار کر سکتی ہے جو ازل روز سے علت اور معلول کی مسلسل کڑی کے مطابق ابد تک کے لئے معین ہو چکا ہے۔ مگر بالآخر سائنس کو خود یہ تسلیم کرنا پڑا کہ کائنات کا ماضی اس قدر اٹل طور پر اس کے مستقبل کا سبب نہیں ہے جیسا کہ پہلے خیال کیا جاتا تھا۔ موجودہ معلومات کی روشنی میں سائنس دانوں کی ایک بڑی اکثریت کا اب اس بات پر اتفاق ہے کہ علم کا دریا نہیں ایک غیر میکانکی حقیقت (Non-mechanical Reality) کی طرف لے جا رہا ہے۔
کائنات کی پیدائش اور اس کی حرکت کے بارہ میں یہ دونوں نظریے جو سائنسی ترقیوں کے ساتھ وجود میں آئے تھے اب تک یقین کی دولت سے محروم ہیں۔ جدید تحقیقات ان کی بنیاد کو مضبوط نہیں بناتی بلکہ اور کمزور کر دیتی ہے۔ اس طرح گویا سائنس خود ہی اس نظریہ کی تردید کر رہی ہے، اب انسان دوبارہ اسی منزل پر پہنچ گیا ہے جس کو چھوڑ کر اس نے اپنا
نیا سفر شروع کیا تھا۔