Al-Risala · February 1983

معبود کی تلاش

Al-Risala, February 1983, pp. 14–28

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ خالق کی تلاش کا مسئلہ تھا۔ اس کے بعد دوسری چیز جو انسان جاننا چاہتا ہے وہ یہ کہ "میرا معبود کون ہے "ہم اپنی زندگی میں صریح طور پر ایک خلا محسوس کرتے ہیں مگر ہم نہیں جانتے کہ اس خلا کو کیسے یہی خلا کا احساس ہے جس کو میں نے "معبود کی تلاش" سے تعبیر کیا ہے۔ یہ احساس دو پہلوؤں سے ہوتا ہے۔

اپنے وجود اور باہر کی دنیا پر جب ہم غور کرتے ہیں تو دو نہایت شدید جذبے ہمارے اندر پیدا پہلا شکر اور احسان مندی کا اور دوسرا کمزوری اور عجز کا۔

ہم اپنی زندگی کے جس گوشہ میں بھی نظر ڈالتے ہیں ہمیں صاف دکھائی دیتا ہے کہ ہماری زندگی کسی کے احسانات سے ڈھکی ہوئی ہے۔ یہ دیکھ کر دینے والے کے لئے ہمارے اندر بے پناہ جذبہ شکر امنڈتا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اپنی بہترین عقیدتوں کو اپنے محسن پر قربان کر سکیں۔ ہمارے لئے محض ایک فلسفیانہ نوعیت کی چیز نہیں ہے بلکہ ہماری نفسیات سے اس کا گہرا تعلق ہے یہ سوال محض ایک خارجی مسئلہ کو حل کرنے کا سوال نہیں ہے بلکہ یہ ہماری ایک اندرونی طلب ہے اور ہمارا پورا وجود اس سوال کا جواب معلوم کرنا چاہتا ہے۔

غور کیجئے، کیا کوئی شریف آدمی اس حقیقت کو نظر انداز کر سکتا ہے کہ وہ کائنات میں ایک مستقل واقعہ کی حیثیت سے موجود ہے حالانکہ اس میں اس کی اپنی کوششوں کا کوئی دخل نہیں ہے وہ اپنے آپ کو ایک ایسے جسم میں پارہا ہے جس سے بہتر جسم کا وہ تصور نہیں کر سکتا حالانکہ اس جسم کو اس نے خود نہیں بنایا ہے۔ اس کو ایسی عجیب و غریب قسم کی ذہنی قوتیں حاصل ہیں جو کسی بھی دوسرے جاندار کو نہیں دی گئی ہیں حالانکہ ان قوتوں کو حاصل کرنے کے لئے اس نے کچھ بھی نہیں کیا ہے اور نہ وہ کچھ کر سکتا ہے۔ ہمارا وجود ذاتی نہیں ہے بلکہ عطیہ ہے۔ یہ عطیہ کس نے دیا ہے، انسانی فطرت اس سوال کا جواب معلوم کرنا چاہتی ہے تا کہ وہ اپنے اس عظیم محسن کا شکر ادا کر سکے۔

پھر اپنے جسم کے باہر دیکھتے۔ دنیا میں ہم اس حال میں پیدا ہوتے ہیں کہ ہمارے پاس اپنا کچھ بھی نہیں ہوتا، نہ ہم کو کائنات کے اوپر کوئی اختیار حاصل ہے کہ ہم اس کو اپنی ضرورت

کے مطابق ب سکیں ۔ ہماری ہزاروں ضرورتیں ہیں ۔ مگر کسی ایک ضرورت کو بھی ہم خود سے پورا نہیں کر سکتے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں حیرت انگیز طور پر ہماری تمام ضرورتوں کو پورا کرنے کا انتظام کیا گیا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کائنات اپنے تمام ساز وسامان کے ساتھ اس بات کی منتظر ہے کہ انسان پیدا ہو اور وہ اس کی خدمت میں لگ جائے ۔

مثال کے طور پر آواز کو لیجیے جس کے ذریعہ سے ہم اپنا خیال دوسروں تک پہنچاتے ہیں ۔ یہ کیسے ممکن ہوا کہ ہمارے ذہن میں پیدا ہونے والے خیالات زبان کا ارتعاش بن کر دوسرے کے کان تک پہنچیں اور وہ ان کو قابل فہم آوازوں کی صورت میں سن سکے ۔ اس کے لئے ہمارے اندر اور باہر بیشمار انتظامات کئے گئے ہیں جن میں سے ایک وہ درمیانی واسطہ ہے جس کو ہم ہوا کہتے ہم جو الفاظ بولتے ہیں وہ بے آواز لہروں کی صورت میں ہوا پر اسی طرح سفر کرتے ہیں جس طرح پانی کی سطح پر موجیں پیدا ہوتی ہیں اور بڑھتی چلی جاتی ہیں ۔ میرے منھ سے نکلی ہوئی آواز کے آپ تک پہو نچنے کے لئے درمیان میں ہوا کا موجود ہونا ضروری ہے ۔ اگر یہ درمیانی واسطہ نہ ہو تو آپ میرے ہونٹ ہلتے ہوئے دیکھیں گے مگر میری آواز نہ سنیں گے ۔ مثال کے طور پر ایک بند فانوس کے اندر برقی گھنٹی رکھ کر اسے بجایا جائے تو اس کی آواز صاف سنائی دے گی ۔ لیکن اگر فانوس کے اندر کی ہوا کو پوری طرح نکال دیا جائے اور اس کے بعد گھنٹی بجائی جائے تو آپ شیشہ کے اندر گھنٹی کو بجتا ہوا دیکھیں گے مگر اس کی آواز بالکل سنائی نہ دے گی ۔ گھنٹی کے بجنے سے جو ارتعاش پیدا ہوتا ہے اس کو قبول کر کے آپ کے کانوں تک پہو نچانے کے لئے فانوس کے اندر ہوا موجود نہیں ہے ۔

مگر یہ ذریعہ بھی ناکافی ہے کیونکہ ہوا کے ذریعہ ہماری آواز پانچ سیکنڈ میں صرف ایک میل کا فاصلہ طے کرتی ہے ۔ اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ ہوا کا ذریعہ صرف قریبی ماحول میں گفتگو کے لئے کارآمد ہے، وہ ہماری آواز کو دور تک نہیں پہنچا سکتا ۔ اگر آواز صرف ہوا کے ذریعہ پھیلتی تو اس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا نا ممکن نہ ہوتا۔ مگر قدرت نے اس کے لئے ہمیں ایک اور انتہائی تیز رفتار ذریعہ مہیا کیا ہے ، یہ روشنی یا برقی رو ہے جس کی رفتار ایک سیکنڈ میں ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل ہے ۔ لاسلکی پیغامات میں اسی ذریعہ سے کام لیا جاتا ہے ۔ جب کوئی مقرر ریڈیو اسٹیشن میں لگے ہوئے مائیکروفون کے قریب آواز نکالتا ہے تو مائکرو فون آواز کو جذب کر کے اسے برقی رو میں تبدیل کر دیتا ہے اور تار کے ذریعہ اس کو آلۂ نشر یا ٹرانس میٹر تک بھیج دیتا ہے ۔

آلات نشر آواز کے پہنچتے ہی مرتعش ہو کر فضا میں وہی ارتعاش پیدا کر دیتے ہیں۔ اس طرح پانچ سیکنڈ میں ایک میل چلنے والی آواز برقی لہروں میں تبدیل ہو کر ایک سیکنڈ میں دولاکھ میل کی رفتار حاصل کرلیتی اور دم بھر میں ساری دنیا میں پھیل جاتی ہے ۔ یہی لاسلکی موجیں ہیں جن کو ہمارے ریڈیو سٹ کی آواز گیر مشین قبول کر کے بلند آواز میں ان کا اعادہ کر دیتی ہے اور پھر ہزاروں میل دور بولی ہوئی آواز کو ہم کسی تاخیر کے بغیر سننے لگتے ہیں۔

یہ ان بیشمار انتظامات میں سے ایک ہے جس کو میں نے بیان نہیں کیا ہے بلکہ اس کا صرف نام لیا ہے۔ اگر اس کا اور دوسری چیزوں کا تفصیلی ذکر کیا جائے تو اس کے لئے کروڑوں صفحے درکار ہوں گے اور پھر بھی ان کا بیان ختم نہ ہوگا ۔

یہ عطیات جن سے ہر آن آدمی دوچار ہو رہا ہے اور جن کے بغیر اس زمین پر انسانی زندگی اور تمدن کا کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا، انسان جاننا چاہتا ہے کہ یہ سب کس نے اس کے لئے مہیا کیا ہے ہر آن جب وہ کسی نعمت سے دوچار ہوتا ہے تو اس کے دل میں بے پناہ جذبہ شکر امنڈتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اپنے محسن کو پائے اور اپنے آپ کو اس کے قدموں میں ڈال دے۔ محسن کے احسانات کو ماننا، اس کو اپنے دل کی گہرائیوں میں جگہ دینا اور اس کی خدمت میں اپنے بہترین جذبات کو نذر کرنا یہ انسانی فطرت کا شریف ترین جذبہ ہے۔ ہر آدمی جو اپنی زندگی اور کائنات پر غور کرتا ہے اس کے اندر نہایت شدت سے یہ جذبہ ابھرتا ہے۔ پھر کیا اس جذبہ کا کوئی جواب نہیں۔ کیا انسان اس کائنات کے اندر ایک یتیم بچہ ہے جس کے اندر امنڈتے ہوئے جذبات محبت کی تسکین کے لئے کوئی ہستی موجود نہ ہو۔ کیا یہ ایک ایسی کائنات ہے جہاں احسانات ہیں مگر محسن کا پتہ نہیں جہاں جذبہ ہے مگر جذبہ کی تسکین کا کوئی ذریعہ نہیں۔

یہ معبود کی تلاش کا ایک پہلو ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ انسان کے حالات فطری طور پر تقاضا کرتے ہیں کہ کائنات کے اندر اس کا کوئی سہارا ہو۔ اگر ہم آنکھ کھول کر دیکھیں تو ہم اس دنیا میں ایک انتہائی عاجز اور بے بس مخلوق ہیں۔ ذرا اس خلا کا تصور کیجئے جس میں ہماری یہ زمین سورج کے گرد چکر لگا رہی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ زمین کی گولائی تقریباً ۲۵ ہزار میل ہے۔ وہ ناچتے ہوئے لٹو کے مانند اپنے محور پر مسلسل اس طرح گھوم رہی ہے کہ ہر ۲۴ گھنٹے میں ایک چکر پورا ہو جاتا ہے۔ گویا اس کی رفتار تقریباً ایک ہزار میل فی گھنٹہ ہے۔ اسی کے ساتھ وہ سورج کے چاروں طرف اٹھارہ کروڑ ساٹھ لاکھ میل کے لمبے دائرہ میں نہایت تیزی سے دوڑ رہی ہے۔

خلا کے اندر اس قدر تیز دوڑتی ہوئی زمین پر ہمارا وجود قائم رکھنے کے لئے زمین کی رفتار کو ایک خاص اندازہ کے مطابق رکھا گیا ہے اگر ایسا نہ ہو تو زمین کے اوپر انسان کی حالت ان سنگ ریزوں کی مانند ہو جائے جو کسی متحرک پہیہ پر رکھ دئے گئے ہوں، اسی کے ساتھ مزید انتظام یہ ہے کہ زمین کی کشش ہم کو کھینچے ہوئے ہے اور اوپر سے ہوا کا زبردست دباؤ پڑتا ہے۔ کے ذریعہ جو دباؤ پڑ رہا ہے وہ جسم کے ہر مربع انچ پر پندرہ پونڈ تک معلوم کیا گیا ہے، یعنی ایک اوسط آدمی کے سارے جسم پر تقریباً ۲۸۰ من کا دباؤ۔ ان حیرت انگیز انتظامات نے ہم کو خلا میں مسلسل دوڑتی ہوئی زمین کے چاروں طرف قائم کر رکھا ہے۔

پھر ذرا سورج پر غور کیجئے۔ سورج کی جسامت آٹھ لاکھ ۶۵ ہزار میل ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہماری زمین سے دس لاکھ گنا بڑا ہے۔ یہ سورج آگ کا دہکتا ہوا سمندر ہے جس کے قریب کوئی بھی چیز ٹھوس حالت میں نہیں رہ سکتی۔ زمین اور سورج کے درمیان اس وقت تقریباً ساڑھے نو کروڑ میل کا فاصلہ ہے، اگر اس کے بجائے وہ اس کے نصف فاصلہ پر ہو تو سورج کی گرمی سے چیزیں جلنے لگیں۔ اور اگر وہ چاند کی جگہ یعنی دو لاکھ چالیس ہزار میل کے فاصلہ پر آجائے تو زمین پگھل کر بخارات میں تبدیل ہو جائے۔ یہی سورج ہے جس سے زمین پر زندگی کے تمام مظاہر قائم ہیں۔ اس مقصد کے لئے اس کو ایک خاص فاصلہ پر رکھا گیا ہے۔ اگر وہ دور چلا جائے تو زمین برف کی طرح جم جائے اور اگر قریب آجائے تو ہم سب لوگ جل بھن کر خاک ہو جائیں ۔

پھر ذرا اس کائنات کی وسعت کو دیکھئے اور اس قوت کشش پر غور کیجئے جو اس عظیم کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے۔ کائنات ایک بے انتہا وسیع کار خانہ ہے، اس کی وسعت کا اندازہ ماہرین فلکیات کے نزدیک یہ ہے کہ روشنی جس کی رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے اس کو کائنات کے گرد ایک چکر طے کرنے میں کئی ارب برس درکار ہوں گے۔ یہ نظام شمسی جس کے اندر ہماری زمین ہے، بظاہر بہت بڑا معلوم ہوتا ہے مگر پوری کائنات کے مقابلہ میں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ کائنات میں اس سے بہت بڑے بڑے بے شمار ستارے لامحدود وسعتوں میں پھیلے ہوئے ہیں جن میں بہت سے اتنے بڑے ہیں کہ ہمارا پورا نظام شمسی اس کے اوپر رکھا جاسکتا ہے۔ جو قوت کشش ان بیشمار دنیاؤں کو سنبھالے ہوئے ہے ، اس کی عظمت کا تصور اس سے کیجئے کہ سورج جس بے پناہ طاقت سے زمین کو

اپنی طرف کھینچ رہا ہے اور اس کو وسیع ترین فضا میں گر کر برباد ہو جانے سے روکتا ہے، مایہ عبرت کی طاقت اس قدر قوی ہے کہ اگر اس مقصد کے لئے کسی مادی شے سے زمین کو باندھنا پڑتا تو جس طرح گھاس کی پتیاں زمین کو ڈھانکے ہوئے ہیں، اسی طرح دھاتی تاروں سے کرۂ ارض ڈھک

ہماری زندگی بالکلیہ ایسی طاقتوں کے رحم وکرم پر ہے جن پر ہمارا کوئی اختیار نہیں۔ انسان کی زندگی کے لئے دنیا میں جو انتظامات ہیں اور جن کی موجودگی کے بغیر انسانی زندگی کا تصور نہیں کیا جا سکتا، وہ اتنے بلند پیمانہ پرموجود ہیں اور ان کو وجود میں لانے کے لئے اتنی غیر معمولی قوت تصرف درکار ہے کہ انسان خود سے انھیں وجود میں لانے کا تصور نہیں کر سکتا موجودات کے لئے جو طریق عمل مقرر کیا گیا ہے، اس کا مقرر کرنا تو درکنار اس پر کنٹرول کرنا بھی انسان کے بس کی بات نہیں۔ وہ دیکھتا ہے کہ اگر کائنات کی غیر معمولی قوتیں میرے ساتھ ہم آہنگی نہ کریں تو میں زمین پر ٹھہر بھی نہیں سکتا، اس کے اوپر ایک متمدن زندگی کی تعمیر تو بہت دور کی بات ہے۔

ایسی ایک کائنات کے اندر جب انسان اپنے حقیر وجود کو دیکھتا ہے تو وہ اپنے آپ کو اس سے بھی زیادہ بے بس محسوس کرنے لگتا ہے جتنا کہ سمندر کی موجوں کے درمیان ایک چیونٹی اپنے آپ کو بچانے کی جدوجہد کر رہی ہو۔ وہ بے اختیار چاہتا ہے کہ کوئی ہو جو اس اتھاہ کائنات میں اس کا سہارا بن سکے۔ وہ ایک ایسی ہستی کی پناہ ڈھونڈھنا چاہتا ہے جو کائنات کی قوتوں سے بالاتر ہو اور جس کی پناہ میں آ جانے کے بعد وہ اپنے آپ کو محفوظ و مامون تصور کر سکے۔

یہ دو جذبے ہیں جن کو میں نے معبود کی تلاش کا عنوان دیا ہے۔ معبود کی تلاش در اصل ایک فطری جذبہ ہے جس کا مطلب ایک ایسی ہستی کی تلاش ہے جو آدمی کی محبت اور اس کے اعتماد کا مرکز بن سکے۔ موجودہ زمانہ میں قوم، وطن اور ریاست کو انسان کی اس طلب کا جواب بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ جدید تہذیب یہ کہتی ہے کہ اپنی قوم، اپنے وطن اور اپنی ریاست کو یہ مقام دو کہ وہ تمہاری عقیدتوں کا مرکز بنے اور اس سے وابستگی کو اپنا سہارا بناؤ۔ ان چیزوں کو معبود کے نام پر پیش نہیں کیا جاتا مگر زندگی میں ان کو جو مقام دیا گیا ہے وہ تقریباً وہی ہے جو دراصل ایک معبود کا ہونا چاہیے۔ مگر ان چیزوں

کو معبود کی جگہ دینا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی کو ایک رفیق زندگی کی ضرورت ہو تو اس کی خدمت میں آپ پتھر کی ایک سل پیش کر دیں۔ کھلی ہوئی بات ہے کہ انسان کے اندر تلاش کا یہ جذبہ جو ابھرتا ہے اس کے اسباب انسانی نفسیات میں بہت گہرائی تک پھیلے ہوئے ہیں، وہ ایک ایسی ہستی کی تلاش میں ہے جو ساری کائنات پر محیط ہو۔ اس طلب کا جواب کسی جغرافیائی خط میں نہیں مل سکتا۔ یہ چیزیں زیادہ سے زیادہ ایک سماج کی تعمیر میں کچھ مدد دے سکتی ہیں مگر وہ انسان کے تلاش معبود کے جذبے کی تسکین نہیں بن سکتیں، اس کے لئے ایک کائناتی وجود درکار ہے۔ انسان کو اپنی محبتوں کے مرکز کے لئے ایک ایسا وجود چاہئے جس نے زمین و آسمان کو بنایا ہو، اپنے سہارے کے لئے اسے ایک ایسی طاقت کی تلاش ہے جو کائنات کے اوپر حکمراں ہو۔ جب تک انسان ایسے ایک وجود کو نہیں پائے گا اس کا خلا بدستور باقی رہے گا، کوئی دوسری چیز اسے پر کرنے والی نہیں بن سکتی انجام کی تلاش حقیقت کی تلاش کا تیسرا جز مہ اپنے انجام کی تلاش ہے۔ آدمی یہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ کہاں سے آیا ہے اور کہاں جائے گا۔ وہ اپنے اندر بہت سے حوصلے اور تمنائیں پاتا ہے وہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ ان کی تسکین کس طرح ہوگی۔ وہ موجودہ محدود زندگی کے مقابلہ میں ایک طویل تر زندگی چاہتا ہے مگر نہیں جانتا کہ وہ اس کو کہاں پائے گا۔ اس کے اندر بہت سے اخلاقی اور انسانی احساسات ہیں جو دنیا میں بری طرح پامال کئے جا رہے ہیں۔ کے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا وہ اپنی پسندیدہ دنیا کو حاصل نہ کر سکے گا۔ کس طرح انسان کے اندر سے ابلتے ہیں اور کائنات کا مطالعہ کس طرح اس کے ذہن میں یہ سوال پیدا کرتا ہے، اس موقع پر اس کی تھوڑی سی تفصیل مناسب ہوگی۔

ماہرین حیاتیات کا خیال ہے کہ انسان اپنی موجودہ شکل میں تین لاکھ برس سے زمین پر موجود ہے۔ اس کے مقابلہ میں کائنات کی عمر بہت زیادہ ہے یعنی دو لاکھ ارب سال (۲۰ نیل سال) اس سے پہلے کائنات برقی ذرات کے ایک غبار کی شکل میں تھی، پھر اس میں حرکت ہوئی اور مادہ سمٹ سمٹ کر مختلف جگہوں میں جمع ہونا شروع ہو گیا۔ یہی وہ جمع شدہ مادہ ہے جس کو ہم ستارے، سیارےیا سحابئے کہتے ہیں۔ یہ مادی ٹکڑے گیس کے

مہیب گولے کی شکل میں نامعلوم مدت تک فضا میں گردش کرتے رہے۔ تقریبا دو ارب سال پہلے ایسا ہوا کہ کائنات کا کوئی بڑا ستارہ فضا میں سفر کرتا ہوا آفتاب کے قریب آنکلا جو اس وقت اب سے بہت بڑا تھا۔ جس طرح چاند کی کشش سے سمندر میں اونچی اونچی لہریں اٹھتی ہیں اسی طرح اس دوسرے ستارے کی کشش سے ہمارے آفتاب پر ایک عظیم طوفان برپا ہوا،زبردست زبردست لہریں پیدا ہوئیں جو رفتہ رفتہ نہایت بلند ہوئیں اور قبل اس کے کہ وہ ستارہ آفتاب سے دور ہٹنا شروع ہو، اس کی قوت کشش اتنی زیادہ بڑھ گئی کہ آفتاب کی ان زبردست گیسی لہروں کے کچھ حصے ٹوٹ کر ایک جھٹکے کے ساتھ دور فضا میں نکل گئے. یہی بعد کو ٹھنڈے ہو کر نظام شمسی کے توابع بنے۔ اس وقت یہ سب ٹکڑے آفتاب کے گرد گھوم رہے ہیں اور ان ہی میں سے ایک ہماری زمین ہے۔

زمین ابتدا میں ایک شعلہ کی حالت میں سورج کے گرد گھوم رہی تھی، مگر پھر فضا میں مسلسل حرارت خارج کرنے کی وجہ سے ٹھنڈی ہونا شروع ہوئی، یہ عمل کروڑوں برس ہوتا رہا یہاں تک کہ وہ بالکل سرد ہوگئی۔ مگر سورج کی گرمی اب بھی اس پر پڑرہی تھی جس کی وجہ سے بخارات اٹھنا شروع ہوئے اور گھٹاؤں کی شکل میں اس کی فضا کے اوپر چھا گئے۔ پھر یہ بادل برسنا شروع ہوئے اور ساری زمین پانی سے بھر گئی۔ زمین کا اوپری حصہ اگرچہ ٹھنڈا ہو گیا تھا مگر اس کا اندرونی حصہ اب بھی گرم تھا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ زمین سکڑنے لگی۔ اس کی وجہ سے زمین کے اندر کی گرم گیسوں پر دباؤ پڑا اور وہ باہر نکلنے کے لئے بے قرار ہوگئیں، تھوڑے تھوڑے عرصے کے بعد زمین پھٹنے لگی۔ جگہ جگہ بڑے بڑے شگاف پڑگئے اس طرح بحری طوفانوں، خوفناک زلزلوں اور آتش فشاں دھماکوں میں ہزاروں سال گزر گئے۔ ہی زلزلوں سے زمین کا کچھ حصہ اوپر ابھر آیا اور کچھ حصہ دب گیا۔ دبے ہوئے حصوں میں پانی بھر گیا اور وہ سمندر کہلائے اور ابھرے ہوئے حصوں نے براعظم کی صورت اختیار کی بعض اوقات یہ ابھار اس طرح واقع ہوا کہ بڑی بڑی اونچی باڑھیاں سی بن گئیں، یہ دنیا کے پہلے پہاڑ تھے۔

ماہرین ارضیات کا خیال ہے کہ ایک ارب ۲۳ کروڑ سال ہوئے، جب پہلی بار زمین پر زندگی پیدا ہوئی ۔ یہ چھوٹے چھوٹے کیڑے تھے جو پانی کے کنارے وجود میں آئے۔ کے بعد مختلف قسم کے جانور پیدا ہوتے اور مرتے رہے۔ کئی ہزار سال تک زمین پر صرف

اس کے بعد سمندری پودے نمودار ہوئے اور خشکی پر بھی گھاس اگنا شروع ہوئی۔ اس طرح لمبی مدت تک بے شمار واقعات ظہور میں آتے رہے، یہاں تک کہ انسانی زندگی کے لئے حالات سازگار ہوئے اور زمین پر انسان پیدا ہوا۔

اس نظریہ کے مطابق انسان کی ابتدا اچھے تین لاکھ سال سے ہوئی ہے۔ یہ مدت بہت ہی کم ہے۔ وقت کے جو فاصلے کائنات نے طے کئے ہیں ان کے مقابلہ میں انسانی تاریخ چشم زدن سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ پھر اگر انسانیت کی اکائی کو لیجئے تو معلوم ہوگا کہ ایک انسان کی عمر کا اوسط سوسال سے بھی کم ہے۔ ایک طرف اس واقعہ کو سامنے رکھئے اور پھر اس حقیقت پر غور کیجئے کہ کائنات میں انسان سے بہتر کوئی وجود معلوم نہیں کیا جاسکا ہے۔ و آسمان کی اربوں اور کھربوں سال کی گردش کے بعد جو بہترین مخلوق اس کائنات کے اندر وجود میں آئی ہے وہ انسان ہے۔ مگر یہ حیرت انگیز انسان جو ساری دنیا پر فوقیت رکھتا ہے، جو تمام موجودات میں سب سے افضل ہے اس کی زندگی چند سال سے زیادہ نہیں۔ وجود جن مادی اجزاء سے مرکب ہے ان کی عمر تو اربوں اور کھربوں سال ہو اور وہ ہمارے مرنے کے بعد بھی باقی رہ جائیں مگر ان مادی اجزاء کی یکجائی سے جو اعلیٰ ترین وجود بنتا ہے وہ صرف سو برس زندہ رہے ۔ جو کائنات کا حاصل ہے وہ کائنات سے بھی کم عمر رکھتا ہے تاریخ کے طویل ترین دور میں بے شمار واقعات کیا صرف اس لئے جمع ہوئے تھے کہ ایک انسان کو چند دنوں کے لئے پیدا کرکے ختم ہو جائیں۔

زمین پر آج جتنے انسان پائے جاتے ہیں اگر ان میں کا ہر آدمی چھ فٹ لمبا، ڈھائی فٹ چوڑا اور ایک فٹ موٹا ہو تو اس پوری آبادی کو بہ آسانی ایک ایسے صندوق میں بند کیا جاسکتا ہے جو طول و عرض اور بلندی میں ایک میل ہو۔ بات کچھ عجیب سی معلوم ہوتی ہے مگر حقیقت یہی ہے۔ پھر اگر اس صندوق کو کسی سمندر کے کنارے لے جاکر ایک ہلکا سا دھکا دے دیں تو یہ صندوق پانی کی گہرائی میں جاگرے گا۔ صدیاں گزر جائیں گی، نسل انسانی اپنے کفن میں لپٹی ہوئی ہمیشہ کے لئے پڑی رہے گی، دنیا کے ذہن سے یہ بھی محو ہو جائے گا کہ یہاں کبھی انسان کی قسم کی کوئی نسل آباد تھی ۔ سمندر کی سطح پر اسی طرح بدستور طوفان آتے رہیں گے، سورج اسی طرح چمکتا رہے گا، کرہ ارض اپنے محور پر بدستور چکر کرتا رہے گا، کائنات کی لامحدود پہنائیوں میں پھیلی ہوئی بے شمار دنیا ئیں اتنے بڑے

حادثہ کو ایک معمولی واقعہ سے زیادہ اہمیت نہ دیں گی۔ کئی صدیوں کے بعد ایک اونچا سا مٹی کا ڈھیر زبان حال سے بتائے گا کہ یہ نسل انسانی کی قبر ہے جہاں وہ صدیوں پہلے ایک چھوٹے سے صندوق میں دفن کی گئی تھی۔

کیا انسان کی قیمت بس اسی قدرہے، مادہ کو کوٹیے، پیٹیے، جلائیے، کچھ بھی کیجیے، مادہ ختم نہیں ہوتا، وہ ہر حال میں اپنے وجود کو باقی رکھتا ہے مگر انسان جو مادہ سے برتر مخلوق ہے کیا اس کے لئے بقا نہیں. یہ زندگی جو ساری کائنات کا خلاصہ ہے، کیا وہ اتنی بے حقیقت ہے کہ اتنی آسانی سے اسے ختم کیا جاسکتا ہے۔ کیا انسانی زندگی کا منتہا بس یہی ہے کہ وہ کائنات میں اپنے ننھے سے وطن پر چند دنوں کے لئے پیدا ہو اور پھر فنا ہوکر رہ جائے تمام انسانی علم اور ہماری کامرانیوں کے سارے واقعات ہمارے ساتھ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائیں اور کائنات اس طرح باقی رہ جائےگویا نسل انسانی کی اس کے نزدیک کوئی حقیقت ہی نہیں تھی۔

اس سلسلہ میں دوسری چیز جو صریح طور پر محسوس ہوتی ہے وہ یہ کہ اگر زندگی بس اسی دنیا کی زندگی ہے تو یہ ایک ایسی زندگی ہے جس میں ہماری امنگوں کی تکمیل نہیں ہر انسان لامحدود مدت تک زندہ رہنا چاہتا ہے، کسی کو بھی موت پسند نہیں، مگر اس دنیا میں ہر پیدا ہونے والا جانتا ہے کہ وہ ایسی زندگی سے محروم ہے۔ آدمی خوشی حاصل کرنا چاہتا ہے، ہر آدمی کی یہ خواہش ہے کہ وہ دکھ درد اور ہر قسم کی تکلیفوں سے محفوظ رہ کر زندگی گزارے، مگر حقیقی معنوں میں کیا کوئی شخص بھی ایسی زندگی حاصل کرسکتا ہے۔ ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ اس کو اپنے حوصلوں کی تکمیل کا آخری حد تک موقع ملے، وہ اپنی ساری تمناؤں کو عمل کی صورت میں دیکھنا چاہتا ہے مگر اس محدود دنیا میں وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ ہم جو کچھ چاہتے ہیں، یہ کائنات اس کے لئے بالکل ناسازگار معلوم ہوتی ہے وہ ہر چند قدم کے بعد ہمارا راستہ روک کر کھڑی ہو جاتی ہے، کائنات صرف ایک حد تک ہمارا ساتھ دیتی ہے، اس کے بعد ہم کو مایوس اور ناکام لوٹا دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا انسانی زندگی محض غلطی سے ایک ایسی کائنات میں بھٹک آئی ہے جو در اصل اس کے لئے نہیں بنائی گئی تھی اور جو بظاہر زندگی اور اس کے متعلقات سے بالکل بے پروا ہے۔ کیا ہمارے تمام جذبات و خیالات اور ہماری تمام

خواہشیں غیر حقیقی ہیں جن کا واقعی دنیا سے کوئی تعلق نہیں۔ ہمارے تمام بہترین تخیلات کائنات کے راستے سے ہٹے ہوئے ہیں اور ہمارے ذہنوں میں بالکل الٹ ٹپ طریقے سے پیدا ہو گئے ہیں. وہ تمام احساسات جن کو لے کر انسانی نسل پچھلے ہزاروں سال سے پیدا ہو رہی ہے اور جن کو اپنے سینہ میں لئے ہوئے وہ اس حال میں دفن ہو جاتی ہے کہ وہ انہیں حاصل نہ کر سکی، کیا ان احساسات کی کوئی منزل نہیں۔ کیا وہ انسانوں کے ذہن میں بس یونہی پیدا ہو رہے ہیں جن کے لئے نہ تو ماضی میں کوئی بنیاد موجود ہے اور نہ مستقبل میں ان کا کوئی مقام ہے۔

ساری کائنات میں صرف انسان ایک ایسا وجود ہے جو کل (Tomorrow) کا تصور رکھتا ہے۔ یہ صرف انسان کی خصوصیت ہے کہ وہ مستقبل کے بارہ میں سوچتا ہے اور اپنے آئندہ حالات کو بہتر بنانا چاہتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ بعض جانور مثلاً چونٹیاں خوراک جمع کرتی ہیں یا بيا گھونسلے بناتا ہے۔ مگر ان کا یہ عمل غیر شعوری طور پر محض عادتاً ہوتا ہے۔ ان کی عقل اس کا فیصلہ نہیں کرتی کہ انہیں خوراک جمع کر کے رکھنا چاہئے تاکہ کل ان کے کام آسکے یا ایسا گھر بنا نا چاہئے جو موسموں کے رد و بدل میں تکلیف سے بچائے۔ انسان اور دوسری مخلوقات کا یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ انسان کو تمام دوسری چیزوں سے زیادہ موقع ملنا چاہئے، جانوروں کے لئے زندگی صرف آج کی زندگی ہے، وہ زندگی کا کوئی کل نہیں رکھتے، کیا اسی طرح انسانی زندگی کا بھی کوئی کل نہیں ہے۔ ایسا ہونا فطرت کے خلاف ہے، فردا کا تصور جو انسان میں پایا جاتا ہے اس کا صریح تقاضا ہے کہ انسان کی زندگی اس سے کہیں زیادہ بڑی ہو جتنی آج اسے حاصل ہے انسان "کل" چاہتا ہے مگر اس کو صرف "آج" دیا گیا ہے !

اسی طرح جب ہم سماجی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم کو ایک خلا کا زبردست احساس ہوتا ہے۔ ایک طرف مادی دنیا ہے جو اپنی جگہ پر بالکل مکمل نظر آتی ہے۔ ایک متعین قانون میں جکڑی ہوئی ہے اور اس کی ہر چیز اپنے مقرر راستہ پر چلی جا رہی ہے ۔ دوسرے لفظوں میں مادی دنیا ویسی ہی ہے جیسی کہ اسے ہونا چاہئے مگر انسانی دنیا کا حال اس سے مختلف ہے۔ یہاں صورت حال اس کے برعکس ہے جیسا کہ اسے ہونا چاہئے تھا۔

ہم صریح طور پر دیکھتے ہیں کہ ایک انسان دوسرے انسان پر ظلم کرتا ہے اور دونوں اس حال میں مرجاتے ہیں کہ ایک ظالم ہوتا ہے اور دوسرا مظلوم کیا ظالم کو اس کے ظلم کی سزا اور مظلوم کو اس کی مظلومیت کا بدلہ دیے بغیر دونوں کی زندگی کو مکمل کہا جا سکتا ہے۔ ایک شخص سچ بولتا ہے اور حق داروں کو ان کے حقوق ادا کرتا ہے جس کے نتیجہ میں اس کی زندگی مشکل کی زندگی بن جاتی ہے، دوسرا شخص جھوٹ اور فریب سے کام لیتا ہے اور جس کی جو چیز پاتا ہے ہڑپ کرلیتا ہے جس کے نتیجہ میں اس کی زندگی نہایت عیش و عشرت کی زندگی بن جاتی ہے۔ اگر یہ دنیا اسی حال میں ختم ہو جائے تو کیا دونوں انسانوں کے اس مختلف انجام کی کوئی توجیہ کی جاسکتی ہے۔ ایک قوم دوسری قوم پر ڈاکہ ڈالتی ہے اور اس کے وسائل و ذرائع پر قبضہ کر لیتی ہے مگر اس کے باوجود دنیا میں وہی نیک نام رہتی ہے کیونکہ اس کے پاس نشر و اشاعت کے ذرائع ہیں اور دبی ہوئی قوم کی حالت سے دنیا نا واقف رہتی ہے کیونکہ اس کی آہ کے دنیا کے کانوں تک پہو نچنے کا کوئی ذریعہ نہیں، کیا ان دونوں کی صحیح حیثیت کبھی ظاہر نہیں دو اشخاص یا دو قوموں میں ایک مسئلہ پر اختلاف ہوتا ہے اور زبردست کش مکش تک نوبت پہو نچ جاتی ہے۔ دونوں اپنے آپ کو بر سر حق کہتے ہیں اور ایک دوسرے کو انتہائی برا ثابت کرتے ہیں مگر دنیا میں ان کے مقدمہ کا فیصلہ نہیں ہوتا، کیا ایسی کوئی عدالت نہیں ہے جو ان کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرسکے۔ موجودہ دور کو ایٹمی دور کہا جاتا ہے لیکن اگر اس کو دوسری کا دور کہیں تو زیادہ صحیح ہوگا۔ آج کا انسان صرف اپنی رائے اور خواہش پر چلنا چاہتا ہے خواہ اس کی رائے اور خواہش کتنی ہی غلط کیوں نہ ہو ۔ ہر شخص غلط کار ہے مگر ہر شخص گلے کی پوری قوت کے ساتھ اپنے کو صحیح ثابت کر رہا ہے۔ لیڈروں اور حکمرانوں کے بیانات دیکھئے، ہر ایک انتہائی دیدہ دلیری کے ساتھ اپنے ظلم کو عین انصاف اور اپنی غلط کاریوں کو عین حق ثابت کرتا ہوا نظر آئے گا۔ کیا اس فریب کا پردہ کبھی چاک ہونے والا نہیں ہے۔

یہ صورت حال صریح طور پر ظاہر کر رہی ہے کہ یہ دنیا نا مکمل ہے۔ تکمیل کے لئے ایک ایسی دنیا چاہئے جہاں ہر ایک کو اس کا صحیح مقام مل سکے۔

مادی دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں کوئی خلا ہے اس کو پر کرنے کے اسباب موجود ہیں۔ مادی دنیا میں کہیں کوئی کمی نظر نہیں آتی۔ اس کے برعکس انسانی دنیا میں ایک زبردست جس قدرت نے مادی دنیا کو مکمل حالت میں ترقی دی ہے کیا اس کے پاس انسانی دنیا کا خلا پر کرنے کا کوئی سامان نہیں۔ ہمارا احساس بعض افعال کو اچھا اور بعض کو برا سمجھتا ہے۔ ہم کچھ باتوں کے متعلق چاہتے ہیں کہ وہ ہوں اور کچھ باتوں کو چاہتے ہیں کہ وہ نہ ہوں۔ مگر ہماری فطری خواہش کے علی الرغم وہ سب کچھ اں ہو رہا ہے جس کو انسانی فطرت برا سمجھتی ہے، انسان کے اندر اس طرح کے احساس کی موجودگی معنی رکھتی ہے کہ کائنات کی تعمیر حق پر ہوئی ہے۔ کے بجائے حق کو غالب آنا چاہئے۔ پھر کیا حق ظاہر نہیں ہو گا۔ جو چیز مادی دنیا میں پوری ہو رہی ہے کیا وہ انسانی دنیا میں پوری نہیں ہوگی۔

یہی وہ سوالات ہیں جن کے مجموعہ کو میں نے اوپر "انسانیت کے انجام کی تلاش" ایک شخص جب ان حالات کو دیکھتا ہے تو وہ سخت بے چینی میں مبتلا ہو اس کے اندر نہایت شدت سے یہ احساس ابھرتا ہے کہ زندگی اگر یہی ہے جو اس وقت نظر آرہی ہے تو یہ کس قدر لغوزندگی ہے۔ وہ ایک طرف دیکھتا ہے کہ انسانی زندگی کے لئے کائنات میں اس قدر اہتمام کیا گیا ہے گویا یہ سب کچھ صرف اُسی کے لئے ہے، دوسری طرف انسان کی زندگی اس قدر مختصر اور اتنی ناکام ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کو کس لئے پیدا کیا گیا ہے۔

اس سوال کے سلسلہ میں آج لوگوں کا رجحان عام طور پر یہ ہے کہ اس قسم کے جھنجھٹ میں پڑنا فضول ہے۔ یہ سب فلسفیانہ سوالات ہیں، اور حقیقت پسندی یہ ہے کہ زندگی کا جو لمحہ تمہیں حاصل ہے اس کو پر مسرت بنانے کی کوشش کرو۔ آئندہ کیا ہوگا یا جو کچھ ہو رہا ہے وہ صحیح ہے یا غلط ، اس کی فکر میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ اس جواب کے بارہ میں کم از کم بات جو کہی جا سکتی ہے وہ یہ کہ جو لوگ اس انداز میں سوچتے ہیں انھوں نے ابھی انسانیت کے مقام کو نہیں پہچانا ، وہ مجاز کو حقیقت سمجھ لینا چاہتے ہیں۔ واقعات انھیں ابدی زندگی کا راز معلوم کرنے کی دعوت دے رہے ہیں مگر وہ چند روزہ زندگی پر قانع ہو گئے ہیں۔ انسانی نفسیات کا تقاضا ہے

کہ اپنی امنگوں اور حوصلوں کی تکمیل کے لئے ایک وسیع تر دنیا کی تلاش کرو مگر یہ نادان روشنی کے بجائے اس کے سایہ کو کافی سمجھ رہے ہیں۔ کائنات پکار رہی ہے کہ یہ دنیا تمہارے لئے نامکمل ہے، دوسری مکمل دنیا کا کھوج لگاؤ۔ مگر ہمارا فیصلہ ہے کہ ہم اسی نامکمل دنیا میں اپنی زندگی کی عمارت تعمیر کریں گے، ہم کو مکمل دنیا کی ضرورت حالات کا صریح اشارہ ہے کہ زندگی کا ایک انجام آنا چاہئے، مگر یہ لوگ صرف آغاز کو لے کر بیٹھ گئے ہیں اور انجام کی طرف سے آنکھیں بند کر لی ہیں۔ حالانکہ یہ اسی قسم کی ایک حماقت ہے جو شتر مرغ کے متعلق مشہور ہے۔ اگر فی الواقع زندگی کا کوئی انجام ہے تو وہ آکر رہے گا اور کسی کا اس سے غافل ہونا اس کو روکنے کا سبب نہیں بن سکتا ۔ البتہ ایسے لوگوں کے حق میں وہ ناکامی کا فیصلہ ضرور کر سکتا ہے ۔ یہ ہے کہ موجودہ زندگی کو کل زندگی سمجھنا اور صرف آج کو پر مسرت بنانے کی کوشش کو اپنا مقصد بنا لینا بڑی کم ہمتی اور بے عقلی کی بات ہے۔ آدمی اگر اپنی زندگی اور کائنات پر تھوڑا سا بھی غور کرے تو اس نقطہ نظر کی لغویت فورا واضح ہو جاتی ہے ایسا فیصلہ وہی کر سکتا ہے جو حقیقتوں کی طرف سے آنکھیں بند کرے اور بالکل بے سمجھی بوجھی زندگی گزارنا شروع کر دے۔

یہ ہیں وہ چند سوالات جو کائنات کو دیکھتے ہی نہایت شدت کے ساتھ ہمارے ذہن میں ابھرتے ہیں۔ اس کائنات کا ایک خالق ہونا چاہئے، مگر اس کے متعلق ہمیں کچھ نہیں معلوم۔ اس کا ایک چلانے والا اور اس کو سنبھالنے والا ہونا چاہئے ، مگر ہم نہیں جانتے کہ وہ کون ہے۔ ہم کسی کے احسانات سے ڈھکے ہوئے ہیں اور مجسم شکر و سپاس بن کر اس ہستی کو ڈھونڈھنا چاہتے ہیں جس کے آگے اپنے عقیدت کے جذبات کو نثار کر سکیں، مگر ایسا کوئی وجود ہمیں نظر نہیں آتا۔ کائنات کے اندر انتہائی عجز اور بے بسی کے عالم میں ہیں، ہم کو ایک ایسی پناہ کی تلاش ہے جہاں پہنچ کر ہم اپنے آپ کو محفوظ تصور کر سکیں، مگر ایسی کوئی پناہ ہماری آنکھوں کے سامنے موجود نہیں ہے۔ پھر جب ہم اپنی زندگی اور اپنی عمر کو دیکھتے ہیں تو کائنات کا یہ تضاد ہم کو ناقابل فہم معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کی عمر تو کھربوں سال ہو اور انسان جو کائنات کا خلاصہ ہے اس کی عمر

صرف چند سال۔ فطرت ہم کو بے شمار امنگوں اور حوصلوں سے معمور کرے مگر دنیا کے اندر اس کی تسکین کا سامان فراہم نہ کرے۔

پھر سب سے زیادہ سنگین تضاد وہ ہے جو مادی دنیا اور انسانی دنیا میں پایا جاتا ہے۔ مادی دنیا انتہائی طور پر مکمل ہے، اس میں کہیں خلا نظر نہیں آتا، مگر انسانی زندگی میں زبردست خلا ہے۔ اشرف المخلوقات کی حالت ساری مخلوق سے بدتر نظر آتی ہے۔ بدقسمتی کی انتہا یہ ہے کہ اگر پٹرول کا کوئی نیا چشمہ دریافت ہو یا بھیڑ بکریوں کی نسل بڑھے تو اس سے انسان خوش ہوتا ہے، مگر انسانی نسل کا اضافہ ہمارے لیے گوارہ نہیں۔ اپنی مشکلوں سے اس قدر پریشان ہیں کہ انسان کی پیدائش کو روک دینا چاہتے ہیں۔ انسان کی نارسائی یہ سوالات ہم کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں، وہ اندر سے بھی اہل رہے ہیں اور باہر سے بھی ہمیں گھیرے ہوئے ہیں، مگر ہمیں نہیں معلوم کہ ان کا جواب کیا ہے۔ زندگی کی حقیقت معلوم کرنے کا سوال ہے، مگر کس قدر عجیب بات ہے کہ ہمیں زندگی تو مل گئی مگر اس کی حقیقت ہمیں نہیں بتائی گئی۔

اس حقیقت کی دریافت کے لیے جب ہم اپنی عقل اور اپنے تجربات کی طرف دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا صحیح اور قطعی جواب معلوم کرنا ہماری عقل اور ہمارے تجربہ کے بس سے باہر ہے۔ اس سلسلہ میں اب تک ہم نے جو رائیں قائم کی ہیں وہ اٹکل سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتیں۔ جس طرح ہماری نظر کا دائرہ محدود ہے اور ہم ایک مخصوص جسامت سے چھوٹی چیز کا مشاہدہ نہیں کر سکتے اور ایک مخصوص فاصلے سے آگے کے اجسام کو نہیں دیکھ سکتے، اسی طرح کائنات کے متعلق ہمارا علم بھی ایک تنگ دائرہ میں محدود ہے جس کے آگے یا پیچھے کی ہمیں کوئی خبر نہیں۔ نامکمل ہے، ہمارے حواس خمسہ ناقص ہیں۔ ہم حقیقت کو نہیں دیکھ سکتے۔ کالک کو اگر ملایا جائے تو بھورے خاکستری رنگ کا ایک سفوف سا بن جاتا ہے، لیکن اس سفون کا باریک کیٹ اجو سفون کے ذروں ہی کے برابر ہوتا ہے اور صرف خوردبین کی مدد سے دیکھا جا سکتا ہے وہ اس کو کچھ سیاہ اور کچھ سفید رنگ کی چٹان سمجھتا ہے

اس کے مشاہدہ کے پیمانہ میں خاکستری سفوف کوئی چیز ہمیں۔

نوعِ انسانی کی زندگی اس زمانہ کے مقابلہ میں جب کہ یہ کرہ ارض وجود میں آیا اس قدر مختصر ہے کہ کسی شمار میں نہیں آتی ، اور خود کرۂ ارض کائنات کے اتھاہ سمندر میں ایک قطرہ کے برابر بھی نہیں۔ ایسی صورت میں انسان کائنات کی حقیقت کے بارہ میں جو خیال آرائی کرتا ہے ، اس کو اندھیرے میں ٹٹولنے سے زیادہ اور کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ہماری انتہائی لاعلمی فوراً ظاہر ہوجاتی ہے جب ہم کائنات کی وسعت کا تصور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اگر آپ اس بات کو سامنے رکھیں کہ آفتاب اسی کھرب سال سے موجود ہے اس زمین کی عمر جس پر ہم بستے ہیں دو ارب سال ہے ، اور زمین پر زندگی کے آثار نمایاں ہوئے تین کرور سال گذر چلے ہیں مگر اس کے مقابلہ میں زمین پر ذی عقل انسان کی تاریخ چند ہزار سال سے زیادہ نہیں تو یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ چند ہزار سال کا زمانہ جس میں انسان نے اپنی معلومات فراہم کی ہیں ، اس طویل زمانہ کا ایک بہت حقیر جز ر ہے جو کہ دراصل کائنات کے اسرار کو معلوم کرنے کے لئے درکار ہے۔ کے بے حد طویل ماضی اور نامعلوم مستقبل کے درمیان انسانی زندگی محض ایک لمحہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہمارا وجود ایک نہایت حقیر قسم کا درمیانی وجود ہے جس کے آگے اور پیچھے کی ہمیں کوئی خبر نہیں۔ ہماری عقل کو عاجزی کے ساتھ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ اس کائنات کی وسعت لامحدود ہے اور اس کو سمجھنے کے لئے ہماری عقل اور ہمارا تجربہ بالکل ناکافی ہیں، ہم اپنی محدود صلاحیتوں کے ذریعہ کبھی بھی اس کو سمجھ نہیں سکتے۔ کی کوششوں کی ناکامی اس کو ثابت کرنے کے لئے بالکل کافی ہے۔

اس طرح ہمارا علم اور ہمارا مطالعہ ہم کو ایک ایسے مقام پر لاکر چھوڑ دیتے ہیں۔ جہاں ہمارے سامنے بہت سے سوالات ہیں ، ایسے سوالات جو لازمی طور پر اپنا جواب جن کے بغیر انسانی زندگی بالکل لغو اور بے کار نظر آتی ہے۔ مگر جب ہم ان پر سوچنے بیٹھتے ہیں تو ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ ہم اپنے ذہن سے ان کا جواب معلوم نہیں ہم کو وہ آنکھ ہی نہیں ملی جس سے حقیقت کا مشاہدہ کیا جا سکے۔ اور وہ ذہن نہیں حاصل نہیں ہے جو براہ راست حقیقت کا ادراک کر سکے۔

Printed page