پیغمبر کی صداقت
Al-Risala, February 1983, pp. 32–33
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کی پہلی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ انسانی نفسیات کے عین مطابق ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ انسان کی پیدائش جس فطرت پر ہوئی ہے وہی فطرت اس توجیہ کی بھی ہے۔ اس توجیہ کی بنیاد ایک خدا کے وجود پر رکھی گئی ہے، اور ایک خدا کا شعور انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ اس کے دو نہایت مضبوط قرینے ہیں۔ ایک یہ کہ انسانی تاریخ کے تمام معلوم زمانوں میں انسانوں کی اکثریت بلکہ تقریباً ان کی تمام تعداد نے خدا کے وجود کو تسلیم کیا ہے۔ انسان پر کبھی بھی ایسا کوئی دور نہیں گزر رہا ہے جب اس کی اکثریت خدا کے شعور سے خالی رہی ہو۔ قدیم ترين زمانوں سے لے کر آج تک انسانی تاریخ کی متفقہ شہادت یہی ہے کہ خدا کا شعور انسانی فطرت کا نہایت طاقت ور شعور رہے۔ دوسرا قرینہ یہ ہے کہ انسان پر جب کوئی نازک وقت آتا ہے تو اس کا دل بے اختیار خدا کو پکار اٹھتا ہے، جہاں کوئی سہارا نظر نہیں آتا، وہاں وہ خدا کا سہارا ڈھونڈتا ہے۔ جاہل ہو یا عالم ۔ خدا پرست ہو یا ملحد، روشن خیال ہو یا تاریک خیال جب بھی اس پر کوئی ایسا وقت گزرتا ہے جہاں عام انسانی قوتیں جواب دیتی ہوئی نظر آتی ہیں تو وہ ایک ایسی ہستی کو پکارتا ہے جو تمام طاقتوں سے بڑھ کر طاقتور ہے اور جو تمام طاقتوں کا خزانہ ہے۔ انسان اپنے نازک ترین لمحات میں خدا کو یاد کرنے پر مجبور ہے۔ اس کی ایک دلچسپ مثال ہمیں سٹالن کی زندگی میں ملتی ہے جس کا ذکر مسٹر چرچل نے دوسری جنگ عظیم کے حالات کے متعلق اپنی کتاب کی چوتھی جلد صفحہ ۴۳۳ میں کیا ہے۔ حالات میں جب کہ ہٹلر سارے یورپ کے لئے خطرہ بنا ہوا تھا، چرچل نے ماسکو کا
سفر کیا تھا، اس موقع پر چرچل نے سٹالن کو اتحادی فوجی کارروائی کے متعلق اپنی اسکیم کی چرچل کا بیان ہے کہ اسکیم کی تشریح کے ایک خاص مرحلہ پر جب کہ سٹالن کی دلچسپیاں اس سے بہت بڑھ چکی تھیں، اس کی زبان سے نکلا خدا اس مہم کو کامیاب کرے۔