May God prosper this undertaking
Al-Risala, February 1983, pp. 33–35
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی کے ساتھ نبی کی آواز کی یہ خصوصیت بھی ہے کہ وہ ان تمام سوالات کی مکمل توجیہ ہے جو انسان معلوم کرنا چاہتا ہے اور جو کائنات کے مطالعہ سے ہمارے ذہنوں میں کائنات کے مطالعہ نے ہمیں اس نتیجہ پر پہنچایا تھا کہ یہ محض اتفاق سے نہیں پیدا ہو سکتی، ضرور اس کا کوئی پیدا کرنے والا ہونا چاہئے۔ اس توجیہ میں اس سوال کا جواب موجود ہے۔ ہم کو نظر آرہا تھا کہ کائنات محض ایک مادی مشین نہیں ہے اس کے پیچھے کوئی غیر معمولی ذہن ہونا چاہئے جو اسے چلا رہا ہو۔ اس تو جیہ میں اس سوال کا جواب بھی موجود ہے۔ ہم کو اپنے محسن کی تلاش تھی اور ایک ایسی ہستی کی تلاش تھی جو ہمارا سہارا اس توجیہ میں اس کا جواب بھی موجود ہے۔ ہم کو یہ بات بہت عجیب معلوم ہورہی تھی کہ انسانی زندگی اتنی مختصر کیوں ہے۔ ہم اس کو لامحدود دیکھنا چاہتے تھے۔ ہم اپنے لئے ایک ایسے وسیع میدان کی تلاش میں تھے جہاں ہماری امنگوں کی تکمیل ہوسکے۔ توجیہ میں اس کا جواب بھی موجود ہے۔ پھر انسانی حالات کا شدید تقاضا تھا کہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا واضح ہو اور اچھے اور برے الگ الگ کر دئے جائیں، ہر ایک کو اس کا صحیح مقام دیا جائے۔ اس سوال کا جواب بھی اس توجیہہ میں غرض زندگی سے متعلق سارے سوالات کا مکمل جواب ہے اور اتنا بہتر جواب ہے کہ اس سے بہتر جواب کا ہم تصور نہیں کر سکتے۔ اس سے وہ سارے سوالات حل ہو جاتے ہیں جو کائنات کے مطالعہ سے ہمارے ذہن میں پیدا ہوئے
اس کی دعوت کی دوسری نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ زندگی کے انجام کے بارہ میں وہ جو نظر یہ پیش کرتا ہے اس کا ایک واقعاتی نمونہ خود اپنی زندگی میں ہمیں دیکھ دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ دنیا اسی طرح ظالم اور مظلوم کو لئے ہوئے ختم نہیں ہو جائیگی
بلکہ اس کے انجام پر کائنات کا رب ظاہر ہوگا اور سچوں اور جھوٹوں کو ایک دوسرے سے الگ الگ کر دے گا، اس دن کے آنے میں جو دیر ہے وہ صرف اس مہلت کار کے ختم ہونے کی ہے جو تمہارے لئے مقدر ہے۔
یہ بات وہ صرف کہہ کر نہیں چھوڑ دیتا ، بلکہ اسی کے ساتھ اس کا دعویٰ یہ بھی ہے کہ میں جو کچھ کہتا ہوں اس کے صحیح ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ اس عدالت کا ایک نمونہ مالک کائنات میرے ذریعہ سے اسی دنیا میں تم کو دکھائے گا۔ میرے ذریعہ سے وہ حق کو غالب اور باطل کو مغلوب کرے گا، اپنے فرماں برداروں کو عزت دے گا اور اپنے نافرمانوں کو ذلیل کرکے انھیں عذاب میں مبتلا کرے گا۔ یہ واقعہ بہر حال ظہور میں آئے گا خواہ دنیا کے لوگ کتنی ہی مخالفت کریں اور ساری طاقت اس کے مٹانے پر لگا دیں جس طرح آخرت کا ہونا قطعی طور پر مقدر ہے اور کوئی اسے روک نہیں سکتا۔ طرح میری زندگی میں اس کا نمونہ دکھایا جانا بھی لازمی ہے، یہ ایک نشان ہوگا آنے والے دن کا اور یہ دلیل ہوگی اس بات کی کہ کائنات کی تعمیر عدل پر ہوئی ہے اور یہ کہ میں جس طاقت کا نمائندہ ہوں وہ ایک ایسی طاقت ہے جس کی طاقت سب پر بالا ہے یہ طاقت ایک روز تم کو اپنے سامنے کھڑا کر کے تمام اگلے پچھلے انسانوں کا فیصلہ کرے گی۔
یہ چیلنج وہ اس وقت دیتا ہے جب کہ وہ تنہا ہے، پوری قوم اس کی دشمن ہوگئی ہے، خود اپنا ملک اس کو جگہ دینے کے لئے تیار نہیں، اس کے قریب ترین اعزاء نے بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیا ہے، اس کے پاس مادی وسائل و ذرائع میں سے کچھ بھی نہیں۔ ایسا ایک شخص پورے یقین کے ساتھ اعلان کرتا ہے کہ میں غالب ہوں گا اور میرے ذریعہ سے خدا کی عدالت زمین پر قائم ہوگی۔ سننے والے اس کا مذاق اڑاتے ہیں مگر وہ نہایت سنجیدگی کے ساتھ اپنا کام کرتا چلا جا رہا ہے ملک کی اکثریت اس کے قتل کا فیصلہ کرتی ہے، اس کی معاشیات تباہ کر دیتی ہے، اس کو جلا وطنی پر مجبور کرتی ہے۔ اس کو مٹانے پر اپنا سارا زور صرف کر دیتی ہے، مگر اس کے مقابلہ میں یہ سب کچھ بے اثر ثابت ہوتا ہے۔ اگر چہ بہت تھوڑے لوگ اس کا ساتھ دیتے ہیں، ایک طرف معمولی اقلیت ہوتی ہے اور دوسری طرف زبردست
اکثریت ایک طرف ساز و سامان ہوتا ہے اور دوسری طرف بے سروسامانی۔ ایک طرف ملکی باشندوں اور ہمسایہ قوموں کی حمایت ہوتی ہے اور دوسری طرف اپنوں اور غیروں کی حالات کی انتہائی ناسازگاری سے اس کے ساتھی اکثر گھبرا اٹھتے ہیں مگر وہ ہر بار یہی کہتا ہے کہ انتظار کرو خدا کا فیصلہ آکر رہے گا ، اس کو کوئی طاقت روک نہیں
اس کے چیلنج پر چوتھائی صدی بھی گز رنے نہیں پاتی کہ وہ مکمل شکل میں پورا ہو جاتا ہے اور تاریخ میں اپنی نوعیت کا واحد واقعہ ظہور میں آتا ہے کہ ایک شخص نے جن دعووں کے ساتھ اپنے کام کا آغاز کیا تھا ٹھیک اسی شکل میں اس کا دعوی پورا ہوا اور اس کے مخالفین اس میں کوئی کمی بیشی نہ کر سکے۔ حق اور باطل الگ الگ خدا کے فرماں برداروں کو عزت اور غلبہ حاصل ہوا، اور خدا کے نافرمانوں کا زور توڑ کر انھیں محکوم بنا دیا گیا۔
اس طرح اس دعوت نے انسانوں کے لئے جس انجام کی خبر دی تھی اس کا ایک نمونہ دنیا میں قائم کر دیا گیا جو قیامت تک کے لئے عبرت کا نشان ہے، اس نمونہ کی تکمیل آخرت میں ہو گی جب سارے انسانوں کو خدا کی عدالت میں حاضر کر کے ان کا آخری فیصلہ کیا جائے گا۔
اس شخص کے دعوے کے برحق ہونے کا تیسرا ثبوت وہ کلام ہے جس کو وہ کلام الہی کہہ کر پیش کرتا ہے۔ اس کلام کے اوپر کتنی ہی صدیاں گزر چکی ہیں مگر اس کی عظمت، اس کی سچائی اور حقیقت کے بارہ میں اس کے بیان کا ایک حرف بھی غلط ثابت نہ ہو سکا جب کہ کوئی بھی انسانی کتاب ایسی نہیں ہے جو ان نقائص سے پاک ہو۔
دوسرے لفظوں میں قرآن بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خدا کی کتاب ہے، اس کے بہت سے پہلو ہیں مگر میں یہاں صرف تین پہلوؤں کا ذکر کروں گا، ایک اس کا غیر معمولی انداز بیان، دوسرے اس کے معانی کا تضاد سے پاک ہونا، تیسرے اس کی ابدیت۔