روحانی کثافت
Al-Risala, January 1984, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
مشینی صنعت نے موجودہ زمانہ میں انسان کے لئے ایک نیا مسئلہ پیدا کیا ہے جس کو کثافت (Pollution) کہا جاتا ہے۔ مشینوں اور کارخانوں کی وجہ سے شور میں اضافہ ہوا ہے جس کو (Noise Pollution) کہتے ہیں۔ اسی طرح پانی اور ہوا میں گندگی شامل ہو رہی ہے جس کو (Water Pollution) اور (Air Pollution) کہا جاتا ہے۔
کمیونسٹ ملکوں میں اب ایک نئی اصطلاح وضع ہوئی ہے جس کو روحانی کثافت (Spiritul Pollution) کا نام دیا گیا ہے۔ اس اصطلاح کا آغاز کمیونسٹ چین سے ہوا ہے، سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن کے زمانہ میں امریکہ اور چین کے درمیان جو معاہدہ ہوا اس کے تحت چین اور مغربی دنیا کے درمیان آمد و رفت بڑھ گئی۔ اب مختلف قسم کے مذہبی اور ثقافتی وفد چین جانے چین کے رسائل میں مغربی دنیا کے مضامین چھپنے لگے۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مغربی دنیا کے افکار چین کے اندر پہنچنے لگے۔ جو کمیونسٹ انقلاب کے بعد بالکل انفرادیت پسندی، فکری آزادی اور مذہبی خیالات جو چین میں اب تک ممنوع تھے وہ مغرب کے واسطے سے چین میں در آمد ہونے لگے۔ یہ کمیونسٹ نظریہ کے خلاف زبردست یہ اس نظام فکر کو منہدم کرنے کے ہم معنی تھا جس پر کمیونسٹ چین کا سیاسی ڈھانچہ قائم ہے۔ میں اس " روحانی کثافت " کے خلاف سرکاری سطح پر زبردست مہم شروع ہو گئی ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ اس نئی کثافت سے اپنے ملک کو یکسر پاک کر دے (ٹائم آ ف انڈیا ۹ نومبر ۱۹۸۳) کمیونسٹ حضرات کا دعویٰ ہے کہ ان کا نظریہ تمام نظریات میں سب سے زیادہ صحیح نظریہ ہے۔ انسان کی فکری تلاش اپنے لمبے تجربہ کے بعد جس آخری سچائی پر پہنچی ہے وہ وہی ہے جس کو کمیونزم کہتے ہیں، جب ایسا ہے تو کمیونسٹ نظام غیر کمیونسٹ نظریہ سے خائف کیوں ہے۔ حق کو ناحق سے خطرہ کیوں اعلیٰ نظریہ کمتر نظریہ کے مقابلہ میں اپنے کو دفاعی پوزیشن میں کیوں محسوس
کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جس چیز کو کمیونسٹ مفکرین نے آخری سچائی سمجھا تھا وہ محض ایک احمقانہ فریب تھا۔ ان کا اجالا در حقیقت اندھیرا تھا جس کو انھوں نے غلطی سے اجالا سمجھ لیا۔