The dance starts where the gymnastics end.
Al-Risala, March 1984, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
نیلیما دیوی کا کہنا ہے کہ وہ رقص کا کام بطور پیشہ کے نہیں کرتی۔ یہ میرے لئے ایک طریق زندگی انٹرویو لینے والے کے الفاظ میں، جب وہ رقص نہیں کرتی تو وہ اپنے آپ کو خالی محسوس کرتی ہے۔ ایسے لمحات میں اس کے پاس کوئی نقطۂ ارتکاز نہیں ہوتا جس میں وہ اپنی زندگی کو مرتکز کر سکے: She says when she is not dancing she feels empty. There is no focal point in her life at such moments. رقاصہ نے جس چیز کو طریق زندگی (Way of life) کہا، اسی کا دوسرا نام پرستش ہے۔ اوپر کے اقتباس سے معلوم ہوتا ہے کہ فن کی پرستش ایک رقاصہ کے اندر پیدا ہو جائے تو وہ اس کے اندر گہرے جذبات پیدا کر دیتی ہے ۔ وہ رقص کو اس کے لئے زندگی بنا دیتی ہے۔ کے اندر جذبات کا ایسا طوفان برپا ہوتا ہے جس کے اظہار سے وہ اپنے کو عاجز محسوس کرنے لگتی ہے۔ کو محسوس ہوتا ہے کہ اپنے رقص کے ذریعہ وہ جو کچھ کہہ سکی ہے وہ اس سے بہت کم ہے جو وہ کہنا چاہتی ہے۔ اس کے بغیر اس کی زندگی خالی ہو جاتی ہے۔ اس سے الگ ہو کر وہ محسوس کرتی ہے کہ اس کے لئے کوئی ایسا مرکزی نقطہ باقی نہیں رہا جہاں وہ اپنے وجود کو سمیٹ سکے۔
خدا کی پرستش کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ وہ ایک خدائی رقص ہے۔ جب کوئی بندہ اپنے رب کو پاتا ہے تو یہ اس کے لئے اتنا عظیم واقعہ ہوتا ہے کہ وہ رقص کراٹھتا ہے۔ اس کا وہی حال ہو جاتا ہے جو مذکورہ مثال میں فن کے پرستار کا نظر آتا ہے ـــــــ خدا اس کے تمام وجود کا مرکزی نقطہ بن جاتا ہے۔ خدا سے الگ اس کی اپنی کوئی زندگی نہیں ہوتی۔ خدا کے بارہ میں اس کے اندر ایسے گہرے جذبات اٹھتے ہیں جن کو بیان کرنے کے لئے وہ الفاظ نہ پا سکے۔