دانش مندی کے ذریعہ
Al-Risala, March 1984, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
کیا یہ ممکن ہے کہ زندہ شیر کا مطالعہ کھلے جنگل میں عین اس کے قریب بیٹھ کر کیا جائے۔ اس طرح کہ آدمی اس کو چھوئے اور اس کے جسم کے اعضا کی صحیح پیمائش کر سکے۔ بظاہر یہ ایک ناممکن سی بات نظر آتی ہے۔ مگر خدا نے انسان کو جو عقل دی ہے وہ ایسی عجیب و غریب ہے کہ وہ ہر ناممکن کو ممکن بنا سکتی ہے، بشرطیکہ اس کو صحیح طور پر استعمال کیا جائے۔
امریکہ کے ایک ماہر حیوانات جارج بی شیلر نے اس ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ شیلر کو شیر ہر کی عادات و خصوصیات پر ایک کتاب لکھنی تھی۔ چنانچہ اس نے دو سال تک کھلے جنگل میں زندہ شیروں کے بالکل قریب جا کر ان کا مطالعہ کیا۔ اس نے اس قریبی مطالعہ کے ذریعہ جنگل کے بادشاہ کے بارہ میں عجیب عجیب حقائق دریافت کئے۔ مثلاً یہ کہ شیر بہنهایت سست اور کاہل درندہ ہے۔ شیروں کے اکثر بچے بھوکے مر جاتے ہیں کیوں کہ ان کے ماں باپ اپنی سستی کی وجہ سے اپنے بچوں کے لئے خوراک مہیا نہیں
مسٹر شیلر کو کیسے یہ موقع ملا کہ وہ کھلے جنگل میں زندہ شیر کے بالکل پاس جاکر شیر کا مطالعہ کریں۔ جواب یہ ہے عقل کے ذریعہ مسٹر شیلر نے ایسے کارتوس تیار کئے جن میں گولی کے بجائے بے ہوش کرنے والی دوا بھری ہوتی تھی۔ اس بے ہوشی کے کارتوس کو مخصوص بندوق میں رکھ کر وہ داغتے تو وہ شیر کے پاس پہنچ کر منٹوں میں اس کو غافل اور بے ہوش کر دیتی تھی۔ انھوں نے اس طریقہ کے ذریعہ تقریباً ایک سو شیروں کو بے ہوشی کی دواؤں کا نشانہ بنا کر بے حس کر دیا۔ اور جب وہ بے حس ہو کر زمین پر گرپڑے تو ان کے قریب جا کر ان کی ہر چیز دیکھی اور غور کے ساتھ ان کا مکمل مطالعہ کیا۔ انسان جس طرح جنگل کے خونخوار درندوں کو قبضہ میں کر لیتا ہے، اسی طرح وہ انسانی بستی کے مردم نما بھیڑیوں پر بھی قابو پا سکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ انسانی بھیڑیوں پر بھی خدا کی دی ہوئی عقل کو اسی طرح استعمال کیا جائے جس طرح اسے جنگل کے بھیڑیوں پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک شخص آپ سے کسی اعتبار سے بڑا ہے اور آپ سے اپنی بڑائی منوانا چاہتا ہے تو آپ اس کی بڑائی مان کر اسے "بے ہوش" کر دیجئے اور پھر اپنی خاموش تعمیر میں لگ جائیے۔ آپ ایسا کریں تو بالآخر وہ وقت آ جائے گا کہ خود اس کو وہ واقعہ ماننا پڑے جس کا مطالبہ اس سے پہلے وہ آپ سے کر رہا تھا۔