He who likes to generalize generally lies.
Al-Risala, March 1984, pp. 11–13
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک تنہا واقعہ کو اگر آپ عمومی انداز میں بیان کریں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ استثناء کو عموم کی حیثیت دے رہے ہیں۔ ایک حادثہ جو کسی اتفاقی سبب سے پیش آیا ہے اس کو سماج کی عام حالت قرار دے رہے ہیں۔ ایسا آدمی ہمیشہ جھوٹ کی فضا میں رہتا ہے۔ وہ نہ ککبھی سچائی کو پاتا اور نہ معاملہ کے سچے حل کو۔
ہمارے بہت سے اخبارات ہیں جن میں آپ کو اس قسم کی سرخیاں پڑھنے کو ملیں گے۔ میں فرقہ وارانہ فساد، علی گڑھ میں فرقہ وارانہ فساد، حیدر آباد میں فرقہ وارانہ فساد۔ اس قسم کی خبریں صحیح ہونے کے باوجود ہمیشہ غلط ہوتی ہیں۔ وہ آدھی سچائی ہوتی ہیں نہ کہ پوری سچائی۔ کیوں کہ کوئی فساد بھی پورے ملک یا پورے شہر میں نہیں ہوتا۔ مگر ہمارے لکھنے اور بولنے والے ایسی زبان استعمال کرتے ہیں جس سے بظاہر یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ پورا ملک یا پورا شہر فرقہ وارانہ فساد کی زد میں آگیا ہے۔ جب بھی کہیں فرقہ وارانہ فساد ہوتا ہے تو وہ نہ سارے ہندوستان میں ہوتا اور نہ کسی پورے شہر مثلاً اس قسم کے فساد تقریباً سب کے سب ہندوستان کے شمالی حصہ میں ہوتے ہیں۔ جنوبی حصہ ہمیشہ اس سے محفوظ رہتا ہے۔ اسی طرح مثلاً علی گڑھ میں فساد ہوا تو وہ پرانے شہر میں ہوا۔ لائن کے علاقہ میں کوئی فساد نہیں ہوا۔ اسی طرح حیدر آباد کا فساد قدیم حیدر آباد کے علاقہ میں ہوا۔ حیدر آباد اس سے بچارہا۔
حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ بالا قسم کی خبریں ہمیشہ "جھوٹ" ہوتی ہیں۔ اور یہی سب سے بڑی وجہ ہے کہ ہمارے قائدین آج تک اس مسئلہ کا سچا حل دریافت نہ کر سکے۔ چونکہ اپنے ذہن کے مطابق وہ "پورے" ملک یا "پورے" شہر میں فساد فرض کئے ہوئے ہیں اس لئے ان کو وہ غیر فساد زدہ حصہ نظر نہیں آتا جہاں فساد نہ ہوئے۔ کے اسباب کی تحقیق کر کے وہ اس کے مطابق فساد زدہ حصہ کو فساد سے بچانے کی تدبیر کر سکیں۔
ایک ہی شہر کے ایک حصہ میں فساد ہو اور اسی شہر کے دوسرے حصہ میں فساد نہ ہو تو یقیناً
یہ سوچنے کی بات ہے کہ یہ فرق کیسے واقع ہوا۔ اس فرق کا راز دریافت کر کے ایسا کیا جا سکتا ہے کہ محفوظ حصہ کے تجربہ کو غیر محفوظ حصہ میں دہرایا جائے۔ جس طرح ایک حصہ فساد سے بچا ہے اسی طرح دوسرے حصہ کو بھی فساد سے بچایا جائے۔
ہمارے تمام قائدین تعمیم (Generalization) کے جھوٹ میں مبتلا ہیں۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے کہ وہ اس نازک مسئلہ کا سچاحل دریافت نہ کر سکے۔
تعمیم سے بچ کر خالص حقیقت پسندانہ نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہندوستان دو ہندوستان کا نام ہے۔ اسی طرح علی گڑھ بھی دو علی گڑھ ہے اور حیدر آباد بھی دو حیدر آباد۔ ایک ملک دو ملک کیسے بنا اور ایک شہر دو شہر کیوں کر ہوگیا۔ اسی سوال کے جواب میں یہ راز چھپا ہوا ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات کیسے ہوتے ہیں اور کس طرح ان کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
ایک مقام کے ایک حصہ میں فساد ہو اور عین اسی زمانہ میں اس مقام کا دوسرا حصہ فساد سے بچا رہے تو ہم کو چاہئے کہ فساد کے مسئلہ کو سمجھنے کے لئے فساد نہ ہونے والے حصہ کا مطالعہ کریں اور وہاں فساد نہ ہونے کے اسباب کو جان کر اسی کو اس دوسرے حصہ میں رائج کریں جہاں فساد ہوا ہے۔ میں یہی فساد کے مسئلہ کے مطالعہ کا فطری طریقہ ہے اور یہی اس مسئلہ کے حل کی آسان ترین تدبیر بھی۔ شمالی ہندوستان اور جنوبی ہندوستان میں کیا فرق ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ " دو قومی " سیاست سب سے زیادہ شمالی ہندوستان میں چلائی گئی۔ جب کہ جنوبی ہندوستان کا علاقہ اس قسم کی تفریقی سیاست سے بڑی حد تک محفوظ رہا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ شمالی ہندوستان میں فرقہ وارانہ کش کش کی فضا پائی جاتی ہے۔ جب کہ جنوبی ہندوستان میں اس قسم کی فضا تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی طرح علی گڑھ کے شہری علاقہ اور سول لائن کے علاقہ میں کیا فرق ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ شہری علاقہ میں جاہلوں کی اکثریت ہے اور سول لائن میں تمام کے تمام پڑھے لکھے لوگ ہیں۔ قدیم حیدر آباد اور جدید حیدر آباد میں کیا فرق ہے۔ یہ ہے کہ جدید حیدر آباد میں سب کے سب خوش حال لوگ بستے ہیں اور قدیم حیدر آباد میں کثرت سے غریب لوگ آباد ہیں۔
اس مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ کس قسم کے حالات میں فرقہ وارانہ فساد ہوتا ہے اور کس قسم کے حالات میں وہ نہیں ہوتا۔ اب فسادات کو ختم کرنے کی آزمودہ تدبیر یہ ہے کہ شمالی ہند میں جنوبی ہند کے مانند حالات پیدا کئے جائیں۔ مسلمان اپنی طرف سے ان تمام اسباب کو ختم کر دیں جو دونوں فرقوں میں کش کش اور تناؤ کی فضا پیدا کرتے ہیں۔ مثلاً حقوق کے مطالبے ، احتجاجی سیاست اور مسجد اور مندر
کے جھگڑے کھڑے کرنا وغیرہ ۔ اسی طرح یہ کیا جائے کہ "قدیم شہر" میں "جدید شہر" کے حالات پیدا کئے یعنی اقلیتی فرقہ کے افراد کو زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ بنایا جائے ان کی اقتصادیات کو بہتر بنانے کی کوششیں کی جائیں ۔ ایسی چیزوں نے ملک کے ایک حصہ میں فساد کو روک رکھا ہے اور یہی چیزیں ملک کے دوسرے حصہ میں بھی فساد کو روک سکتی ہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات کو ختم کرنے کے لئے ہمیں کوئی نیا حل تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ۔ ہمیں صرف یہ کرنا ہے کہ اسی آزمودہ تد بیر کو فساد زدہ علاقہ میں بھی استعمال کریں جو غیر فساد زدہ علاقہ میں آج بھی فرقہ وارانہ فساد کے خلاف ڈاٹ بنی ہوئی ہے ۔ دہلی کے ایک مسلم محلہ میں ایک اردو پو سٹر نظر سے گذرا ۔ سرخی یہ تھی :
” آگ اور خون میں نہائے ہوئے ہندوستانی سلمان سوال کرتے ہیں “ یورپ کے سفر میں ایک مقام پر میں نے دیکھا کہ ایک پر جوش نو جوان عربی اور انگریزی میں چھپا ہوا ایک کتا بچہ تقسیم کررہے ہیں ۔ اس کے صفحہ اول پر یہ الفاظ درج تھے :
” ہندوستان جو مسلمانوں کے لئے عظیم مذبح بن چکا ہے “ ہندوستان میں جزئی طور پر ضرور ایسے بعض واقعات ہوئے ہیں جن پر مذکورہ بالا الفاظ صادق آتے ہیں مگر پورے ملک کے بارہ میں اس قسم کے الفاظ بولنا سرا سر خلاف واقعہ ہے۔ اور جو لوگ خلاف واقعہ بات پر اپنی عمارت کھڑی کرنا چاہیں وہ یقینی طور پر خدا کی مدد نہیں پا سکتے ۔ اس طرح سوچنے اور بولنے میں ایک نقصان یہ ہے کہ آدمی کبھی مسئلہ کے صحیح حل تک نہیں پہنچتا۔ " مسئلہ کا حل کیا ہے " اس سوال کا جواب معلوم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی یہ جانے کہ " مسئلہ کی نوعیت کیا ہے ؟ مسئلہ کی نوعیت کو جانے بغیر مسئلہ کا حل متعین نہیں کیا جاسکتا ۔ مذکورہ طرز پر سوچنے والے اس بات کا ثبوت دے رہے ہیں کہ وہ مسئلہ کی نوعیت دریافت نہ کر سکے۔ میں کیسے ممکن ہے کہ وہ مسئلہ کا حل پاسکیں ۔
دوسرا نقصان یہ ہے کہ یہ طرز کلام آدمی سے حقیقت پسندی چھین لیتا ہے ۔ دنیا کا نظام اس کے پیدا کرنے والے نے کامل حقیقت پسندی کی بنیاد پر قائم کیا ہے ۔ یہاں کوئی نتیجہ پیدا کرنے کے لئے اصول فطرت سے کلی مٹا بقست ضروری ہے ۔ ایسی حالت میں جو لوگ دوسروں پر جھوٹا الزام دینے کو اپنا طریقِ کار بنائیں وہ یقینی طور پر حقیقت پسندی سے محروم ہو جاتے ہیں ، ایسے لوگوں کا انجام اس کے سوا اور کیا ہے کہ نہ حقیقت رہی نہ دنیا رہی ، بے حقیقت ہو کر رہ جائیں ا ۔