مذہب پر سائنسی استدلال
Al-Risala, January 1984, pp. 12–13
By Maulana Wahiduddin Khan
قدیم زمانہ میں پانی کو صرف پانی سمجھا جاتا تھا۔ انیسویں صدی میں خورد بین ایجاد ہوئی۔ سے جب پانی کو دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ پانی صرف پانی نہیں ہے۔ اس میں بے شمار زندہ بیکٹیریا بھی موجود اسی طرح آسمان پر جو ستارے نظر آتے ہیں، آدمی نے سمجھا کہ وہ تعداد میں اتنے ہی ہیں جتنا کہ بظاہر ننگی آنکھ سے دکھائی دیتے ہیں۔ مگر موجودہ زمانہ میں جب آسمان کا مشاہدہ دور بین سے کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ستارے اس سے بہت زیادہ تعداد میں ہیں جو بظاہر خالی آنکھ سے نظر آتے ہیں۔ یہ ایک سادہ سی مثال ہے جس سے قدیم زمانہ اور جدید زمانہ کے فرق کو سمجھا جا سکتا ہے۔ زمانہ کے یہ مشاہدات یقینی طور پر بتا رہے تھے کہ حقائق اس سے بہت زیادہ ہیں جو انسان نے اپنے سادہ مشاہدہ کے دائرے میں اس سے پہلے سمجھ رکھا تھا۔ مگر جو لوگ ان نئے مشاہدات کو سامنے لارہے تھے وہ اپنی دریافتوں کی بنا پر اتنے زیادہ جوش میں تھے کہ انھوں نے ایک اور دعویٰ کر دیا۔ کہا کہ حقیقت وہی ہے جو براہ راست ہمارے مشاہدے میں آئے۔ جو چیز ہمارے براہ راست مشاہدہ اور تجربہ میں نہ آئے وہ محض مفروضہ ہے، اس کا کوئی وجود نہیں۔
انیسویں صدی میں یہ دعویٰ بہت زور شور کے ساتھ کیا گیا۔ اس دعویٰ کی زد سب سے زیادہ مذہب پر پڑتی تھی۔ مذہب جن اعتقادات کا مبلغ ہے وہ سب غیبی اعتقادات ہیں، یعنی وہ براہ راست ہمارے تجربہ اور مشاہدہ میں نہیں آتے۔ اس بنا پر بہت سے لوگوں نے سمجھ لیا کہ مذہب ایک فرضی چیز ہے، اس کا کوئی حقیقی وجود نہیں۔
مگر بیسویں صدی کی تحقیقات نے اس صورت حال کو بالکل بدل دیا ہے۔ مزید مطالعہ کے بعد انسان کو یہ معلوم ہوا کہ حقائق صرف اتنے ہی نہیں ہیں جو براہ راست ہمارے مشاہدہ میں آتے ہیں بلکہ ان مشاہدات کے ماورا بھی بہت سی حقیقتیں ہیں۔ بلکہ تمام بڑی بڑی حقیقتیں مشاہدات کے ماورا ہی پائی جاتی ہیں۔
برٹرینڈ رسل کے الفاظ میں علم کی دو قسمیں ہیں، چیزوں کا علم (Knowledge of things) اور صداقتوں کا علم (Knowledge of Truths)، ہم براہ راست طور پر صرف "چیزوں" کو دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے بعد جو "صداقتیں" ہیں، وہ صرف بالواسطہ مشاہدہ، بالفاظ دیگر صرف استنباط (Inference) کے ذریعہ جانی جاسکتی ہیں، مثال کے طور پر روشنی (Light)، کشش (Gravity) مقناطیسیت
(Magnetism) جوہری طاقت (Nuclear Energy) وغیرہ۔ یہ سب بلا شبہ کائنات کی مسلمہ حقیقتیں ہیں، مگر انسان ان کو براہ راست طور پر نہیں دیکھتا۔ وہ صرف ان کے اثرات (Effects) کے ذریعہ ان کو جانتا ہے۔ انسان کے تجربہ میں کچھ "چیزیں" آتی ہیں جن سے وہ مستنبط کرتا ہے کہ فلاں فلاں فلاں’’صداقتیں‘‘ یہاں پائی جارہی ہیں۔
بیسویں صدی میں علم کی اس تبدیلی نے بنیادی طور پر سارے معاملے کو بدل دیا۔ ہوگیا کہ وہ ایسی چیزوں کے وجود کا اعتراف کرے جن کو وہ براہ راست نہیں دیکھتا۔ تجربات بتاتے ہیں فلاں قسم کی حقیقت یہاں موجود ہونی چاہئے۔ علم کی اس تبدیلی نے تاریخ میں پہلی بار یہ کیا کہ مشاہداتی حقیقت اور غیبی حقیقت کے فرق کو ختم کر دیا۔ اب نہ دیکھی جانے والی چیز بھی اتنی ہی اہم بن گئی جتنی کہ دیکھی جانے والی چیز۔ انسان مجبور ہوگیا کہ یہ مانے کہ بالواسطہ استدلال یا استنباطی استدلال (Inferential Argument) بھی علمی طور پر اتنا ہی معقول (Valid) ہے جتنا کہ براہ راست استدلال (Direct Argument)
علم میں اس تبدیلی نے موجودہ زمانہ میں الہیاتی استدلال کو عین سائنٹفک استدلال بنا دیا ہے۔ مثلاً خدا کے وجود پر علمائے الہیات کا سب سے بڑا استدلال وہ ہے جس کو فلاسفہ نظم سے استدلال (Argument from Design) کہتے ہیں۔ یہ استدلال انیسویں صدی کے پرجوش علماء نے نہیں مانا۔ انھوں نے کہا کہ یہ استنباطی استدلال ہے اور استنباطی استدلال علمی طور پر معقول نہیں۔ زمانہ میں اس اعتراض کی بنیاد ختم ہو چکی ہے۔ آج کا انسان مجبور ہے کہ وہ نظم کائنات سے ناظم کائنات پر استدلال کو اتنا ہی علمی اور معقول مانے جتنا کہ وہ مشین کے پہیہ کی حرکت سے Flow of electron کے نظریہ کو معقول سمجھتا ہے۔