Al-Risala · March 1984

حقیقت پسندی

Al-Risala, March 1984, pp. 23–25

By Maulana Wahiduddin Khan

باغ لگانے کا کام ”باغ کانفرنس“ سے شروع نہیں ہوتا۔ بلکہ اس طرح شروع ہوتا ہے کہ ایک ایک پودے کو وہ حالات فراہم کئے جائیں جن میں وہ اپنی ذاتی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے اور درخت کی صورت میں ترقی کر کے باغ کے مجموعہ کا جزوبن جائے۔

یہی طریقہ ملت کی تعمیر کا بھی ہے۔ ملت کی تعمیر دراصل افراد کی تعمیر کا نام ہے۔ فرد کو باشعور بنانا ، ایک ایک فرد کی چھپی ہوئی فطری صلاحیتوں کو بیدار کر کے اس کو حقیقی انسان کے درجہ پر پہنچانا ، ایک ایک فرد کے اندر یہ احساس پیدا کرنا کہ وہ دوسرے بھائیوں کے لئے مصلے بنے بغیر اپنے ترقیاتی امکانات کو ظہور میں لانے کی جدوجہد کرے۔ اسی قسم کے عمل کا نام ملت کی تعمیر ہے۔ کے سوا جو کچھ ہے وہ بے فائدہ شور و غل ہے۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

یہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے۔ یہاں کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ آدمی کے لئے رو ک ٹوک مواقع کھلے ہوئے ہوں اور میدان میں اس کا کوئی حریف موجود نہ ہو۔ ایسا نہ کبھی اس زمین پر کسی کے لئے ہوا اور نہ آج کسی کے لئے ایسا ہو سکتا ہے۔ زندگی حقیقۃً رکاوٹوں کے درمیان سے اپنے لئے راستہ نکالنے کا نام ہے نہ کہ رکاوٹوں کی غیر موجودگی میں بے خوف و خطر دوڑنے کا۔

تاریخ کا مطالعہ جس طرح یہ بتاتا ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کا آغاز ہمیشہ رکاوٹوں اور مشکلوں کے درمیان کرنا پڑتا ہے ، اسی طرح تاریخ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ رکاوٹیں خواہ کتنی ہی زیادہ ہوں، ہمیشہ آدمی کے لئے کوئی نہ کوئی راستہ کھلا ہوتا ہے جس سے چل کر وہ اپنی منزل پر پہنچ سکے۔ مگر یہ راستہ انہیں لوگوں کے لئے ہے جو راستہ کے بند مقامات پر سر نہ ٹکرائیں بلکہ دوسرے گوشوں میں اپنے لئے کوئی ”درہ“ تلاش کر کے آگے بڑھ جائیں۔

پھر تاریخ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ حادثہ خواہ کتنا ہی بڑا ہو؛ اس کی تلافی کی صورت بھی انسان کے لئے ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ اس دنیا میں کوئی بھی آفت یا حادثہ انسان کے لئے اس امکان کو ختم نہیں کرتا کہ وہ دوبارہ زیادہ بہتر منصوبہ کے ساتھ اپنے عمل کا آغاز کرے اور کھوئی ہوئی چیز کو دوبارہ نئے انداز سے حاصل کرلے۔

جو کچھ کسی دوسرے انسان کے پاس ہے وہی آپ بھی حاصل کر سکتے ہیں بشرطیکہ آپ اس راز کو جان لیں کہ اس دنیا میں جو کچھ کسی کو ملتا ہے حقیقت پسندانہ جد و جہد سے ملتا ہے نہ تمناؤں اور خوش خیالیوں سے۔

نماز کی ادائیگی میں کوتاہ ہونا بے عملی ہے اور نماز کے حکم کو بدلنا سرکشی نماز کا اصل مقصد اللہ کی یاد ہے۔ مگر اس کا نظام اتنی حکمت کے ساتھ بنایا گیا ہے کہ زندگی کے تمام تقاضے نہایت جامعیت کے ساتھ اس میں شامل ہو گئے ہیں۔ نماز اتحاد اور اجتماعیت کا سبق ہے۔ کو اپنے رب سے جوڑتی ہے۔ وہ ہمارے اندر ذمہ داری کا احساس پیدا کرتی ہے۔ وہ ہمارے اوقات کو منظم کرتی ہے۔ وہ ہلکی جسمانی ورزش کا فائدہ دیتی ہے۔ وہ بار بار ہماری صفائی کرتی رہتی ہے، وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ نماز ہر قسم کی روحانی اور جسمانی برکتوں کا مجموعہ ہے۔ مسلمان اگر حقیقی شعور کے ساتھ نماز پر قائم ہو جائیں تو ان کی دنیا بدل جائے اور وہی ان کے تمام مسائل کے حل کے لئے کافی ہو جائے۔ فرض نمازوں کا پانچ ہونا روایات سے تواتر ثابت ہے۔ بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی اور دوسری کتب حدیث میں کثرت سے ایسی روایات ہیں جن میں الصلوات الخمس کے الفاظ آئے ہیں۔ اس سے صراحتہً یہ ثابت ہوتا ہے کہ فرض نمازیں پانچ ہیں جو مخصوص اوقات میں مقرر کی گئی ہیں۔ تاہم قرآن میں نماز کی بے حد تاکید کے باوجود ”پانچ“ کا لفظ نہیں آیا ہے۔ اس سے کچھ لوگوں کو یہ کہنے کا موقع مل گیا ہے کہ فرض نمازوں کی تعداد پانچ نہیں ہے بلکہ تین یا اس سے کم ہے۔ وہ اولاً حدیث کی حجیت کا انکار کر دیتے ہیں اور اس کے بعد کہتے ہیں کہ قرآن کے مطابق پانچ وقت نماز ادا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ مگر یہ محض دھوکا ہے۔ اگر کوئی شخص سنجیدہ ہو اور فی الواقع مسئلہ کو سمجھنا چاہتا ہو تو قرآن سے بھی بلا اشتباہ یہی ثابت ہوتا ہے کہ فرض نمازیں پانچ ہیں اور مقررہ وقت پر ان کی ادائیگی ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے۔

اس سلسلے میں قرآن کی حسب ذیل آیت پر غور کیجئے ۔

حافظوا على الصلوات والصلوة الوسطى (بقره ۲۳۸) پابندی کرو نمازوں کی اور پابندی کرو بیچ کی نماز کی جملہ کی ترکیب بتا رہی ہے کہ اس آیت میں صلوٰۃ وسطی کا لفظ جس نماز کے لئے آیا ہے وہ صلوات سے علیحدہ یعنی یہ کہا گیا ہے کہ ”نمازوں کی پابندی کرو اور اسی کے ساتھ اُس نماز کی جس کا وقت ”نمازوں“ کے بیچ میں آتا ہے۔ صلوات جمع کا لفظ ہے جو عربی قواعد کے مطابق کم از کم تین نمازوں کے لئے ہے۔ مگر استعمال بتاتا ہے

کہ یہاں اس سے تین سے زیادہ نمازیں مراد لینا ضروری ہے۔ کیوں کہ تین کے عدد میں کوئی چو تھی چیز رکھی جائے تو وہ اس کا بیچ‘‘ نہیں بن سکتی۔ کم سے کم عدد جو یہاں صلوٰات سے مراد ہو سکتا ہے وہ چار ہے۔ چار کا عدد لینے کی صورت ہی میں یہ ممکن ہے کہ ایک اور نماز اُس میں اِس طرح شامل کی جائے کہ وہ اُس کا بیچ بن جائے۔ گویا صلوٰۃ وسطیٰ وہ بیچ کی نماز ہے جس کے دونوں طرف دو دو نمازیں ہیں۔ باعتبار مفہوم آیت کا ترجمہ یہ ہوگا ـ ”بیچ کی نماز کی پابندی کرو۔ اور بیچ کی نماز سے پہلے دو نمازوں کی اور بیچ کی نماز کے بعد دو نمازوں کی اس سے صاف طور پر یہ نظام معلوم ہوتا ہے کہ رات میں دو نمازیں مقرر کی گئی ہیں اور پھر دن میں دو نمازیں ۔ اور ان کے بیچ میں ایک نماز ہے۔ رات کی دو نمازوں سے مراد مغرب اور عشاء کی نمازیں ہیں۔ دن کی دو نمازوں سے مراد فجر اور ظہر اور بیچ کی نماز سے مراد عصر کی نماز ہے۔ اس طرح کل پانچ نمازیں ہو جاتی ہیں۔ ملاحظہ ہو نقشہ ذیل : دن کی دو نمازیں ( صلوٰة وسطیٰ )

رات کی دو نمازیں فجر ظہر عصر مغرب عشاء پابندی کرو نمازوں کی اور پابندی کرو اس نماز کی جو نمازوں کے بیچ میں ہے (متفر آن ) پھر یہ بات بھی قرآن میں بالکل واضح ہے کہ نماز اہل ایمان پر معین اوقات کے ساتھ فرض کی گئی ہے (ان الصلوٰة كانت علی المومنین کتابا موقوتا ، نساء ۱۰۳) اس سلسلے میں جو پانچ اوقات حدیث سے معلوم ہوتے ہیں، ٹھیک وہی اوقات خود قرآن سے بھی ثابت ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر مندرجہ ذیل مقامات ملاحظہ ہوں : سورج نکلنے سے پہلے (قبل طلوع الشمس ، طہ ۱۳۰) فجر دوپہر ڈھلنے کے وقت (لدلوک الشمس ، بنی اسرائیل ۷۸) ظہر غروب آفتاب سے پہلے (وقيل غروبها ، طہ ۱۳۰) عصر جب شام ہوتی ہے حین تمسون ، روم ۱۷ ) مغرب جب رات تاریک ہو جائے (الی غسق الليل ، بنی اسرائیل ۷۸) عشاء اس طرح قرآن سے پانچ نمازیں مع تعیین اوقات ثابت ہو جاتی ہیں۔

او پر جو باتیں عرض کی گئیں ، وہ ایسے شخص کے لئے بالکل کافی ہیں جو حقیقۃً بات کو سمجھنا چاہتا ہو اور اس بات کی تمنا رکھتا ہو کہ جب وہ اللہ کے یہاں پہنچے تو اللہ اس سے راضی ہو جائے۔ مگر جو لوگ بحث و جدال کی سطح پر ہیں ان کو کسی بھی دلیل سے چپ نہیں کیا جا سکتا۔ وہ اسی وقت چپ ہوں گے جب کہ اللہ اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہو جائے اور ان سے بولنے کی مہلت چھین لے۔

Printed page