Al-Risala · January 1984

منیجر الرسالہ

Al-Risala, January 1984, pp. 14–15

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک مشہوار عالم اور قائد نے اپنی خود نوشت سوانح عمری شائع کی ہے۔ اس میں وہ "الغار خلافت کا منحوس اقدام" کے زیر عنوان لکھتے ہیں:

" خلافت ایک دینی منصب اور اس کا قائم رکھنا مسلمانوں کا دینی فریضہ تھا۔ قرون اولیٰ کے مسلمان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ مسلمانوں کی زندگی کا کوئی مختصر سے مختصر وقفہ بھی خلیفۃ المسلمین کی موجودگی کے بغیر گزر سکتا تھا...... لیکن بالآخر جو منصب جلیل وفات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سے کسی نہ کسی شکل میں اس وقت تک چلا آرہا تھا، اور عثمانیوں نے اپنی ساری کمزوریوں اور بہت سی قابل گرفت باتوں کے باوجود اس کی شان و شوکت قائم رکھی تھی اور یورپ کے دل پر اس کی دھاک بٹھا رکھی تھی اور حورمین شریفین کی پاسبان و محافظ تھی۔ 30 مارچ1924 میں اس کا کمال آتاترک کے (جس کا ہندوستانی مسلمان اپنی ناواقفیت کی بنا پر عرصہ تک کلمہ پڑھتے رہے تھے) ہاتھوں بیک گردش قلم و جنبش لب خاتمہ ہوگیا۔ اگر پوچھا جائے کہ عالم اسلام کے لئے آخری صدیوں کی طویل تاریخ میں منحوس ترین دن کون تھا ؟ تو ایک باخبر اور حقیقت پسند مورخ اس کے سوا کوئی جواب نہیں دے سکتا کہ ۳۰ مارچ ۱۹۲۴ کی تاریخ تھی جب ترکی کی مجلس وطنی پارلیمنٹ نے الغار خلافت کا فیصلہ کیا اور مقامات مقدسہ ہی نہیں مسلمانوں کی عزت و آبرو کا وہ مضبوط حصار ٹوٹ گیا جس کو ترکوں نے اپنی قربانیوں فوجی طاقت اور خلافت کے مقدس نام سے تعمیر کیا تھا" ( کاروان حیات صفحہ ۴۷۵)

یہ تاریخ کا بے حد ناقص مطالعہ ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ ایک شخص نے مسلمانان عالم کے سیاسی ادارہ (خلافت) کو ختم کر دیا یا ایک شخص اس کو ختم کر سکتا تھا۔ اس قسم کے واقعات وسیع تر تاریخی عوامل کے تحت ہوتے ہیں نہ کہ کسی فرد واحد کی کارروائی کے تحت۔

مذکورہ عالم اور قائد ایک بہت بڑی اسلامی درس گاہ کے ناظم ہیں۔ اگر وہ کسی دن اعلان کر دیں کہ آج سے یہ درس گاہ ختم کی جاتی ہے تو کیا وہ ختم ہو جائے گی۔ یا وہ اعلان کریں کہ اب یہ اسلامی تعلیم کی درس گاہ نہیں ہوگی بلکہ یہاں ہندو ازم اور بدھ ازم کی تعلیم دی جائے گی تو ان کے اعلان کی بنا پر کیا یہ اسلامی درس گاہ ہندو درس گاہ بن جائے گی۔ ظاہر ہے کہ ایسا ہونا نا ممکن ہے اسی طرح یہ بھی نا ممکن ہے کہ کوئی " اتاترک " خلافت اسلامی کے عالمی ادارہ کو محض اپنے فیصلے سے ختم کر دے۔ حقیقت یہ ہے کہ خلافت اسلامی کا ادارہ اس لئے ختم ہو کہ تاریخی حالات نے اس کو ختم

کر دیا تھا۔ اتاترک نے صرف ایک ہونے والے واقعہ کا اعلان کیا۔

حقیقت یہ ہے کہ ۱۹۲۴ء تک عثمانی خلافت کے ماتحت مسلم ممالک میں قومی تحریکیں زبردست قوت کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔ یہ تحریکیں شدت کے اس درجہ تک پہنچ چکی تھیں کہ ترکی میں بیٹھ کر ان ممالک پر حکومت کرنا نا ممکن ہو گیا تھا۔ گویا تقریبا وہی صورت حال تھی جو موجودہ صدی کے وسط میں برطانیہ کے لئے ہندوستان میں پیدا ہو چکی تھی۔ برطانی وزیر اعظم لارڈ ایٹلی نے ہندوستان کو برطانی غلامی سے آزاد نہیں کیا بلکہ ایک ہونے والے واقعہ کا سیاسی اعتراف کر لیا۔ اسی طرح کمال اتاترک نے حقیقتاً خلافت کو ختم نہیں کیا بلکہ وہ خلافت جس کو اس کے ماتحت مسلم ممالک اپنے قومی جوش کے تحت قبول کرنے سے انکار کر چکے تھے اس کو مان لیا اور ان ملکوں کی خواہش کے مطابق انھیں قومی آزادی دے دی۔ اس زمانہ میں عرب ممالک قومی جذبات سے اس قدر سرشار تھے کہ ان کے درمیان اگر کوئی سمجھ دار آدمی خلافت کو باقی رکھنے کی بات کرتا تو وہ اس کو قومی غدار سمجھ لیتے ۔ ایک بڑے عرب عالم جو خلافت کی مانتی کو باقی رکھنا چاہتے تھے جب ان کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنا پڑا تو انھوں نے کہا : سیعلم قومی ما نحن لا اغنھم ومھما استطال اللیل فالصبح واصل جلد ہی میری قوم جان لے گی کہ میں نے اس کو دھوکا نہیں دیا ہے اور رات کتنی ہی لمبی ہو بہر حال اس کے بعد صبح آتی ہے۔

یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے جولیڈر اٹھے انھوں نے حالات کا تجزیہ کرنے میں کتنی زبردست غلطیاں کیں۔ اور جب تجزیہ غلط ہو تو لازمی طور پر عملی پروگرام بھی غلط اور بے نتیجہ ہو کر رہ جاتا ہے۔

اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ اکثر مسلم لیڈر کسی نہ کسی فرد کو مسلم مصائب کا ذمہ دار قرار دے کر اس کے خلاف طوفان مچاتے رہتے ہیں۔ مگر جب وہ اس فرد کو ختم کر لیتے ہیں یا اس کو سولی پر چڑھا دیتے ہیں تو اس کے بعد بھی مسائل بدستور باقی رہتے ہیں۔ جن لوگوں کے بس میں قتل کرنا ہے وہ قتل کر رہے ہیں۔ پاس قتل کرنے کی طاقت نہیں وہ مفروضہ ذمہ دار شخص کے خلاف الفاظ کا طوفان مچائے

ہمارے مسائل کسی فرد کے پیدا کردہ نہیں ہیں۔ وہ وسیع تر تاریخی اسباب کے پیدا کردہ ہیں ۔ اور جب تک ان تاریخی اسباب کو دور نہ کیا جائے ہمارے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔

Printed page